تازہ ترین : 1
Zameen Per Afra Tafri K Baad Jahaz Bhi Gair Mehfooz

زمین پر افراتفری کے بعد جہاز بھی غیر محفوط

ابتدائی تحقیقات کے مطابق طیارہ پر فائرنگ سب مشین گن (اے کے47 یا کلوشنکوف) سے اس وقت کی گئی جب وہ رن وے پراترنے کیلئے بہت نیچے اتر آیا تھا۔ مجموعی طور پر طیارہ کو 10 گولیاں لگیں

ایم ریاض:
شمالی وزیرستان ایجنسی میں جاری آپریشن ضرب عضب کے نتیجہ میں کرفیو کے چھ روز کے اندر چار لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کرچکے ہیں اور مجموعی طور پراپنے گھر بار چھوڑ کر شمالی وزیرستان سے ملحقہ ضلع بنوں اور صوبہ کے دیگر جنوبی اضلاع کو نقل مکانی کرنے والے قبائلیوں کی تعداد تقریباً پانچ لاکھ تک جاپہنچی ہے۔جن میں ساڑھے تین لاکھ سے چار لاکھ خواتین اور بچے شامل ہیں۔
صوبہ کے ان جنوبی اضلاع میں شدید گرمی کے موسم میں اس بڑی تعداد میں بے گھر لوگوں کیلئے رہائش، خوراک اور دیگر سہولیات کی فراہمی اکیلے کسی بھی حکومت کے بس کی بات نہیں اور اس میں پوری قوم کو آگے آنا ہوگا لیکن اس کاکیا کیا جائے کہ پہلے لاہور کے واقعہ اور اس کے بعد ڈاکٹر طاہرالقادری کی آمد پر ہنگاموں کی مسلسل اور لائیو کوریج میں کسی کو شمالی وزیرستان آپریشن اور اس کے نتیجہ میں بے گھر ہونے والوں کی حالت زار کی طرف متوجہ ہونے کا موقع ہی نہیں ملا۔
خدا خدا کرکے یہ معاملات نمٹ گئے تو اس کی امید پیدا ہو چلی کہ ذرائع ابلاغ اب 5لاکھ افراد کے بے گھر ہونے کے اس انسانی المیہ سے بھی قوم کو باخبر رکھیں گے لیکن منگل کی شب پشاور ائرپورٹ پر ریاض سے آنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 756 پر فائرنگ کا لرزہ خیز واقعہ رونما ہوا سعودی دارالحکومت سے آنے والی اس پرواز کے زیادہ تر مسافر محنت مزدوری کیلئے ریاض جانے والے افراد ہوتے ہیں۔
جو کئی کئی سالوں کے وقفہ سے اس طیارہ کے ذریعہ چھٹیاں منانے اپنے گھروں کوآتے ہیں۔ منگل کی شب اس ائربس میں178 مسافر سوار تھے پشاورکی فضاؤں میں پہنچنے پر پائلٹ نے پبلک ایڈریس سسٹم پر مسافروں سے سیٹ بیلٹ باندھنے ٹرے وغیرہ بندکرنے اور نشست کی پشت سیدھی کرنے کی درخواست کی تو مسافروں میں کئی سال بعد وطن واپس آنے والوں کا اپنے اہل خانہ سے ملنے کی خواہش بے تابی میں بدل گئی۔
باڑہ روڈکی جانب سے طیارہ رن وے پر اترنے کیلئے نیچے آنا شروع ہوا اور ابھی ائرپورٹ کی چاردیواری سے ڈیڑھ دو کلو میٹرکے فاصلہ پر تھا کہ اسی دوران ہلکی آوازوں کے ساتھ طیارہ کی آہنی چادر کو چیرتی ہوئی گولیاں ایک خاتون مسافر اور عملہ کے دو ارکان کے جسموں میں پیوست ہو گئیں۔ مقنون بیگم نامی55 سالہ خاتون موقع پر ہی دم توڑ گئیں جب کہ جہازکے سٹیورڈز اعجاز آفریدی اور واجدخان شدید زخمی ہوئے اور یوں پورے جہاز میں افراتفری مچ گئی تاہم تمام ہنگامہ کے باوجود طیارہ کے کپتان طارق چودھری طیارہ کو بحفاظت اتارنے میں کامیاب ہو گئے جاں بحق ہونے والے والی خاتون مقنون بیگم کا تعلق وزیراعلی پرویزخٹک کے آبائی ضلع نوشہرہ سے ہے جو اپنے بیٹوں سے ملنے ریاض گئی تھیں اور وطن واپس آ رہی تھیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق طیارہ پر فائرنگ سب مشین گن (اے کے47 یا کلوشنکوف) سے اس وقت کی گئی جب وہ رن وے پراترنے کیلئے بہت نیچے اتر آیا تھا۔ مجموعی طور پر طیارہ کو 10 گولیاں لگیں۔ پشاور ائر پورٹ اور اس سے ملحقہ تنصیبات پر دسمبر 2012 میں ایک بڑا حملہ کیا گیا تھا اور وقتاً فوقتاً پشاور ائرپورٹ کو اندھے میزائل اور راکٹ حملوں کا بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے تاہم فضا میں محو پرواز کسی مسافر طیارہ پر زمین سے فائرنگ کا یہ پہلا واقعہ ہے جس کی تاحال کسی تنظیم یا گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن صوبائی حکومت کے ذمہ داران کے اس موقف کو بھی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی کہ چونکہ ائرپورٹ اور باڑہ روڈ پر رن وے سے ملحقہ اس علاقہ میں شادی بیاہ اور خوشی کی تقاریب میں ہوائی فائرنگ معمول کی بات ہے اس لئے ہو سکتا ہے کہ یہ طیارہ ایسی ہی کسی فائرنگ کی زد میں آیا ہو۔
عوامی حلقوں کے مطابق ہوائی فائرنگ قطعی طور پر غیر قانونی اقدام ہے اور گذشتہ ایک سال کے دوران پشاور اور اس کے گردونواح میں پولیس ہوائی فائرنگ پر قابو پانے میں بری طرح ناکام رہی ہے آخری اطلاعات تک پولیس تھانوں کی حدود کو جواز بنا کر طیارہ حملہ کی اس واردات کی ایف آئی آر درج کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔ اگر اس وقعہ میں پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج کرنے میں اتنا وقت لیا جا رہا ہے تو اس واردات کی تفتیش اور ملزمان کی گرفتاری میں بھی پولیس کی دلچسپی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے اس انتخابی بیان کہ تحریک انصاف حکومت کے قیام کے بعد دوسرے ممالک سے لوگ روزگارکیلئے پاکستان آئیں گے خیبر پی کے میں تحریک انصاف حکومت کے قیام کے باوجود صوبہ اور خصوصاً دارالحکومت پشاور میں امن وامان کی صورتحال اس خرابی تک آ پہنچی کہ بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان کے خدشات کی وجہ سے صوبہ اور پشاور کے سینکڑوں کاروباری افراد اور سرمایہ کار دوسرے صوبوں کو منتقل ہو چکے تھے۔
لیکن صوبہ اور پشاور میں زمین پر قتل وغارت گری کے بعد اس کی فضائیں بھی غیر محفوظ ہو گئی ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے 4 حلقوں پر انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق نہ کئے جانے کی صورت میں صوبہ خیبرپی کے اسمبلی کی تحلیل کی دھمکی پر بدھ کی صبح خیبرپی کے اسمبلی میں اپوزیشن نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے موقف اختیارکیا کہ صوبائی اسمبلی صوبہ کے عوام کا منتخب ادارہ ہے یہ کسی خان کی جاگیر نہیں عمران خان میدان چھوڑ کر جانے کی بجائے صوبہ کی حکومت کے ذریعہ عوام سے کئے گئے وعدے پورے کریں اور اگر انہیں استعفی دینے کا اتنا ہی شوق ہے تو وہ قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوں اپوزیشن کے اس احتجاج پر ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔
وقت اشاعت : 2014-06-27

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں