تازہ ترین : 1
Zalzala Zadgan Phat Pare

طبی امداد کے جھوٹے دعوے‘زلزلہ زدگان پھٹ پڑے

لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں ادویات سمیت دیگر اشیاء بازارسے لانے پر مجبور۔۔۔۔ صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال میں انجکشن لگانا چوکیداروں کے فرائض میں شامل

اسراربخاری:
لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں زلزلہ متاثرین کی آمد کے موقع پر پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کی آمد متاثرین کے تیمارداروں رشتہ داروں کی جانب سے اگرچہ بلاول زرداری کے خلاف گوبلاول گو“ کے نعروں کاباداالنظر میں کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ بلاول زرداری کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں ہے بغور جائزہ لیاجائے تو یہ دراصل اس پریشان کن صورتحال کااظہار ہے،دوسرے بلاول زرداری کی آمد پر ہسپتال کے راستے بند کردئیے گئے اس پر مریضوں اور دیگر افراد کی جانب سے ناراضگی کااظہارکیا گیا ویسے حکومتی شخصیات ہوں یانمایاں سیاستدان ایسے مواقع پر ان کی ہسپتالوں میں آمد صرف سیاسی نمر گیمز کاحصہ اور فوٹوسیشن سے سواکچھ نہیں ہوتا بلکہ ان کی آمد سے مریضوں کافائدہ کی بجائے یہ نقصان ہوتاہے کہ ہسپتال کاعملہ ان کے استقبال میں مصروف ہوجاتاہے۔
سیکورٹی کے نام پر راستے بند کردئیے جاتے ہیں اس لئے بہتر ہے یہ حضرات ہسپتالوں کادورہ نہ ہی کیاکریں مگر اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ ایک تومخالف سیاسی لیڈر اس پر سیاست کرتے ہیں دوسرے عوام کوبھی اس کاشعور نہیں ہے اور خاص طورپر وزیراعظم یاوزراؤغیرہ اگر ہسپتالوں میں تڑپ رہے ہیں اور وزیراعظم اور زراء آرام سے اپنے ”عشرت کدوں“ میں بیٹھے ہیں لہٰذا اس تنقیدسے بچنے کے لئے بھی انہیں ہسپتالوں کادورہ کرنا پڑتا ہے جہاں تک عمران خان کے خلاف گوعمران گو“ کے نعروں کاتعلق ہے اس کاکچھ نہ کچھ جو اڑاس لئے ہے کہ صوبہ خیبرپی کے میں عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف کی حکومت ہے اور جو متاثرین کوعلاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے ویسے ایک الیکٹرانک میڈیارپورٹ میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں زلزلہ متاثرین کے ساتھ سلوک کی جوجھلک دکھائی گئی ہے۔
زلزلہ متاثرہ افراد اور دیگر زیر علاج مریضوں کے تیماردار جس طرح علاج معالجے کے حوالے سے خود پر بیتنے والی دلخراش داستان سنا رہے تھے اگر یہ عمران کانیا پاکستان ہے تو پھر ”پرانے پاکستان“ سے ذرابھی مختلف نہیں ہے اس ہسپتال کے حوالے سے بہت دلچسپ حقیقت یہ سامنے آئی عمران خان جودوسروں کواقرباپروری کے طعنے دیتے ہیں۔اس ہسپتال کاسربراہ اپنے کزن (غالباََ خالہ زاد) ڈاکٹر فرخ جاوید کی کومقرر کررکھا ہے مزید دلچسپ یہ کہ ڈاکٹر فرخ جاوید کی مستقل راہائش امریکہ میں رکھتے ہیں اور چندماہ کے بعد چندروز کے لئے پشاور آکر ہسپتال میں قدم رنجہ فرماتے ہیں۔
ہسپتال کے ڈائریکٹرڈاکٹر عامر غفور ہر سوال کاجواب انگریزی میں دے رہے تھے حتیٰ کہ مریضوں کے تیمارداروں کی موجودگی میں بھی جویہ سب سمجھنے سے قاصر تھے شاید مقصد بھی یہی تھا۔انہوں نے انگلش زبان میں دعویٰ کہ مریضوں اور بالخصوص زلزلہ متاثرین کامفت سی ٹی سکین کیاجارہا ہے اور تمام ادویات مفت فراہم کی جارہی ہیں جب نزدیک کھڑے ایک تیماردار سے پوچھا گیا تو اس نے ڈاکٹر عامر غفور کی موجودگی میں کہا یہاں بُراحال ہے تمام ادویات باہر سے خرید کرلارہے ہیں اور سی ٹی سکین بھی باہر سے چودہ سوروپے میں ہوتا ہے۔
ہسپتال کی مشینیں خراب ہیں اور ہسپتال کے اندر ایک ٹھیکدار بیٹھا ہے جوکہتا ہے ہے اس کے پاس موجود سی ٹی سکین کی مشین ہسپتال کی نہیں بلکہ ذاتی ہے اور وہ تیرہ سے چودہ سوروپے وصول کرتا ہے جب ڈاکٹر عامر غفور اور ان کے ساتھ موجود ہسپتال کے ایم ایس سے کہا گیا آپ کے دعوے کے برعکس لوگ تو باہر سے ادویات لارہے ہیں تو انہوں نے کہاکہ ان کو ری فنڈ کردیا جائے گا مگر وہ یہ واضح نہ کرسکے کہ ری فنڈ کرنے کاطریقہ کارکیا ہے۔
جہاں تک مریضوں کاتعلق ہے وہ صرف پشاور سے نہیں بلکہ دیر،چترال،کوہستان سوات مالاکنڈ،صوابی اور دیگر شہروں سے بھیان میں اکثر یت زلزلہ متاثرین کی ہے ان کی دوردراز علاقوں سے پشاور آمد اس حقیقت کاثبوت ہے کہ ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں انہیں علاج کی سہولت نہیں مل سکی اور یہاں آکر بھی ادویات خود خریدنی پڑرہی ہیں۔ایک تیماردار نے کہا کہ دو روپے کی سرنج تک خریدنی پڑتی ہے ڈاکٹر عامر غفور نے ایک مریض کے بیڈپر رکھے ایکسرے کی جانب اشارہ کرکے انگریزی زبان میں کہا کہ یہ دیکھو یہ ایکسرے وغیرہ ہسپتال سے مفت کرائے گئے ہیں مریض کا نزدیک کھڑاتیماردار اگرا ن کی بات سمجھ جاتا تو شاید ڈاکٹر صاحب کے رعب میں خاموش رہتا مگر پوچھنے پر اس نے صاف بتایا کہ وہ ایکسرے 16سوروپے میں باہر سے کروا کر لایاہے۔
ایک شخص بتایا کہ ہسپتال کامین گیٹ بند کردیاگیا ہے اور اب دوسرے گیٹ سے لمبا چکر کاٹ کراور کافی چڑھائی چڑھ کرجانا پڑتا ہے۔باربار اصرار پروہ گیٹ بند کرنے کی وجہ نہیں بتارہا تھا۔ایک شخص نے بتایا کہ گیٹ بند ہونے کی وجہ سے اب لوگ دوسرے گیٹ کی جانب واقع میڈیکل سٹور سے ادویات خریدنے پر مجبور ہیں۔ایک شخص نے بتایا کہ یہ ساری صورتحال کے پی کے حکومت کے وزیر صحت کے نوٹس میں لائی گئی جب وہ ہسپتال کادورہ کرکے فوٹو سیشن کرانے آئے مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
صورتحال جوں کی توں ہے۔ایک شخص نے بتایا کہ اس نے اپنے بھائی کے علاج کے لئے گائے فروخت کردی ہے اور اسی ہزار روپے قرض بھی لیا ہے مگر ایک ماہ سے زائد ہوگیا صحیح طرح علاج نہیں کیا جارہا ہے۔ایک بیس اکیس سالہ نوجوان زلزلہ میں دیوار گرنے سے جس کے سر میں شدید چوٹ آئی کھڑاہونے پر چکراکرگرپڑتا ہے۔ایم ایس نے بتایا کہ اسے صحت یاب ہونے میں کم ازکم 6ہفتے لگیں گے مگر اسے اسی حالت میں ہسپتال سے ڈسچارج کرنے کی پرچی تھمادی گئی ہے جس سے اس کے تیماردار سخت پریشان نظر آئے۔
اس ہسپتال میں ”ٹیلنٹ“ کایہ عالم ہے کہ مریضوں کوانجکشن لگانے کاکام چوکیدار انجام دیتے نظر آتے ہیں یہ صورتحال صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال کی ہے جس کی براہ راست نگرانی( اگرچہ دیارغیر سے) عمران خان کے کزن کرتے ہیں۔جو وزیراعلیٰ ہاؤس سے چند منٹوں کے فاصلے پر ہے اگر وزیر صحت اس ہسپتال کے احوال سے بھی بے خبر ہیں تو پھر ظاہر ہے دوسرے اور بالخصوص دور دراز علاقوں کے ڈسٹرکٹ ہسپتالوں اور دیہی صحت مراکز کی صورتحال ان کے علم میں کیسے آسکتی ہے۔
یہ صورتحال عمران خان کے دعویٰ کی نفی ہی نہیں صوبائی حکومت کی گورننس کے لئے بھی سوالیہ نشان ہے اور یہ بہت دلچسپ ہے کہ پلڈاٹ کے ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ چاروں صوبوں میں عوامی رائے کے مطابق خیبرپختو نخواہ حکومت کی کارکردگی سب سے بہتر ہے۔لگتا ہے کہ پلڈاٹ کے اس سروے میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی صورتحال شامل نہیں ہے۔عمران خان کے یہی خواہ ایک مدت سے انہیں متوجہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ دھرنوں اور احتجاجوں کی سیاست تیاگ کرا اگر صرف خیبرپی کے میں عوام کے لئے اطمینان بخش صورتحال پیدا کردیں تو2018ء کے انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔

جہاں تک زلزلہ میں ہلاکتوں کی سرکاری طور پر تصدیق کاتعلق ہے 275تک کی گئی ہے جن میں خیبرپی کے میں سب سے زیادہ225ء پنجاب میں پانچ افراد جاں بحق اور98زخمی ہوئے۔متاثرہ علاقوں سے آمدہ اطلاعات کے مطابق متاثرین کو خوراک کی شدید قلت کاسامنا اس ل ئے ہے کہ شدید سردی کے پیش نظر لوگ گھروں میں جواشیائے خوردو نوش جمع کر کے رکھتے ہیں وہ بلے تلے دب کرخراب ہوگئی ہیں اور درجہ حرارت تیزی سے کررہا ہے۔ایسے میں بہت سے لوگ کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ وفاتی اور صوبائی حکومت اس معاملے میں سیاست بازی نہ کریں بلکہ اہل وطن کی اس دردناک صورتحال کے پیش نظر ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔
وقت اشاعت : 2015-11-12

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں