تازہ ترین : 1
Zalzala Mutasareen Barfbari Main Khemoon Main Rehne Per Majbooor

زلزلہ متاثرین برفباری میں خیموں میں رہنے پر مجبور

26 اکتوبر کے خوفناک زلزلے میں بے گھر ہونے والے متاثرین کی حالت سب سے زیادہ قابل رحم ہے جو شدید بارش اور برفباری کے دوران سر کی چھت سے محروم ہو کر خیموں میں رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں

اقبال عاصی:
گلگت بلتستان کے تمام ضلع رواں سال قبل از وقت ہی شدید سردی کی لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں جبکہ بالائی علاقوں میں نومبر کے اوائل سے ہی بارشوں کے ساتھ برفباری کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے 26 اکتوبر کے خوفناک زلزلے میں بے گھر ہونے والے متاثرین کی حالت سب سے زیادہ قابل رحم ہے جو شدید بارش اور برفباری کے دوران سر کی چھت سے محروم ہو کر خیموں میں رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
حالیہ زلزلے سے گلگت بلتستان کا ضلع غذر جو افغانستان اور چترال کے قریب واقع ہے کہ بلائی علاقے پھنڈر، ٹیرو اور گوپس کے کئی گاوٴں متاثر ہوئے جہاں سینکڑوں مکانات زمیں بوس ہو گے اور جو مکان زمیں پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں ان میں بھی دراڑیں پڑ چکی ہیں جو کسی بھی وقت انسانی جانوں کے نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ لیکن لوگ سر چھپانے کے لیے ان میں رہنے پر مجبور ہیں جبکہ ان متاثرہ علاقوں میں چار اکتوبر سے شدید برفباری کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے اسی طرح ضلع دیا مر کے وادی داریل اور وادی تانگیر میں بھی حالیہ زلزلے سے سینکڑوں مکانات کو صفہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا ہے۔
صوبائی حکومت نے متاثرین زلزلہ کو ریلیف کے نام پر محدود تعدا میں ٹینٹ فراہم کر دیے ہیں لیکن موسم کی موجودہ صورتحال اور دسمبر ،جنوری کی جاں لیوا سردی میں کوئی انسان ان خیموں میں ایک رات بھی گزارنے کی متحمل نہیں ہو سکتا ۔ صوبائی حکومت کی بھی زلزلہ متاثرین کی بحالی اور موسم کی شدت سے بچاوٴ کے لیے حکمت عملی واضح طور پرنظر نہیں آرہی ہے البتہ گزشتہ ہفتے صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران حکومتی اراکین اور اپوزیشن ارکان نے کمال اتفاق سے اپنی ماہانہ تنخواہ میں تین سو فیصد اضافے کا بل منظور کر لیا ہے۔
صوبائی حکومت کے مطابق وفاق نے زلزلہ زدگان کے لیے ریلیف کی رقم صوبائی حکومت کو ادا کر دی ہے اور سروے کے بعد متاثرین کو ادائیگی کی دی جائے گی لیکن مسئلہ یہ ہے حکومتی سروے مکمل ہونے تک کہیں متاثرین نام کے لوگ اس سرد وسم شکار ہی نہ ہو جائیں۔ اس لیے حکومت کو جو کچھ کرنا ہے وہ مہینوں اور ہفتوں میں نہیں بلکہ دنوں میں کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسری طرف ضلع دیا مر کے ہیڈ کوارٹر چلاس میں دوماہ قبل ایک معصوم بچے کی گمشدگی کو جس کا الزام جنات پر لگا دیا گیا تھا اور دو ہفتے کے بعد اس ننھے فرشتے کی تشددزدہ نعش ایک کھائی سے دریافت ہو گی تھی کو عالمی میڈیا پر کوریج ملی تھی کے واقعے کے بعد گزشتہ ہفتے پھر ضلع کے حدود میں دو افراد کی گمشدگی کی واقعہ معمہ بنا ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق گلگت بلتستان میں ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہلوت فراہم کرنے والے ادارے سپیشل کمونیکیشن (SCO) کے دو انجینئرز جو وادی داریل اور تانگیر کو سروس فراہم کرنے والے ایک ٹاور پرکام کر رہے تھے کہ گزشتہ ہفتے مبینہ طور پر نقاب پوش افراد نے اغوا کر لیا جن کی بازیابی کے لیے مقامی جرگہ کی مدد حاصل کر نے کے باوجود پولیس نا کام رہی اور فورسز کے زریعے داریل تانگیر کے ساتھ گزشتہ روز ضلعی ہیڈ کوارٹر چلاس میں بھی سرچ آپریشن کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اس دوران گزشتہ روز چلاس میں فائرنگ کے واقعے میں فورسز کا ایک جوان زخمی ہو گیا۔
اس واقعے کی رپورٹ چلاس تھانے میں تین مبینہ ملزمان خالد منڈیلا، محمد عطاالرحمٰن اور راجی رحمت کے خلاف انسدادہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کر دی گی ہے۔ سرچ آپریشن کے دوران ایک درجن سے زائد افرادکو حراست میں بھی لیا گیا تاہم تادہم تحریک مغوی انجینئروں کا سراغ نہیں لگا یا جا سکا ہے ۔اس واقعے نے ایک بار پھر گلگت بلتستان بھی میں شاہرہ قراقرم پر محفوظ سفر کے حوالے سے سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
وقت اشاعت : 2015-11-13

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں