تازہ ترین : 1
Wazir e Azam Or Army Chief Ka Dora e Quetta

وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف کا دورہ کوئٹہ

دہشتگردی کے 53 مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیج دیئے گئے۔۔۔۔ کوئٹہ کے روایتی کی بحالی کیلئے 5 ارب روپے کے پیکیج سمیت کئی ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

عدن جی:
وزیراعظم نواز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف کا دورہ کوئٹہ کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل رہا ۔ دو دن کوئٹہ بند رہا کہ سکیورٹی کے باعث وزیراعلیٰ ہاوٴس اور گورنر ہاں کو جانے والی اور تمام ملحقہ سٹرکیں بند ہونے سے ٹریک جام رہا۔اور عام شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا رہا۔
وزیراعظم کے اس دورے کے کئی پہلو تھے۔سب سے اہم پہلو جوسینٹ الیکشن کے حوالے سے جو ڑ توڑ تھا۔
چونکہ بلوچستان میں ڈاکٹر مالک کی نیشنل پارٹی اور محمود اچکزئی کی پشتو نخواہ میپ کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کی مخلوط حکومت ہے اور اس پورے دورے میں مسلم لیگ(ن) تو مسلسل ناراض رہی اور روٹھے انداز میں وزیراعلیٰ پر مختلف الزامات لگاتی رہی۔ اب جوسینٹ حوالے سے نشستوں کی تقسیم کی بات ہوئی تو مسلم لیگ (ن) نے سینٹ کے لئے6 امیدواروں کو ٹکٹ دے رہے ہیں جن میں3 جنرل ایک خواتین اور ٹیکنو کویٹس کی نشست کے علاوہ اقلیت کی ایک اہم نشست بھی ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ اقلیت کی نشست کے لئے تینوں امیدواروں کو ٹکٹ دئیے ہیں۔
ہارس ٹریڈنگ روکنے کی بات بہت زیادہ ہوئی کہ بلوچستان کے حوالے سے ہمیشہ یہ بات ہوتی ہے تاہم پارٹی کی صوبائی قیادت نے سینٹ کے لئے اتحادیوں کو دینے سے معذرت کر لی ہے اب ایک کمیٹی فیصلہ کرے گی۔ جبکہ صوبے میں ٹاور ز اڑانے گیس کی تنصیبات کر اُڑانے والے بھی بہت دیدی اغوا کی وارداتیں کار وبار بن گئیں۔ پجگور میں فورسز کی کارروائی میں 3 شرپسند ہلاک ہوئے تاہم بی ٹی سی ایل کے 5 مغویوں کو رہا کروالیا گیا بھاری مقدار میں اسلحہ بھی برآمد ہوا۔

وزیراعظم نے اپیلکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی جبکہ انہیں صوبے میں پکڑے جانے والے دہشت گردوں کی فہرست پیش کی گئی۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے حوالے سے 53 مقدمات فوجی عدالتوں کو ریفر کئے گئے اورملٹری کورٹس میں بھیج کر مقدمات کا جائزہ بھی لیا گیا۔
وزیراعظم نے چیف آف آرمی سٹاف کے ہمراہ کوئٹہ کینٹ میں کورہیڈ کواٹر کا بھی دورہ کیا اور اس موقع پر عسکری قیادت بھی ان کے ہمراہ تھی۔
انہوں نے کہا کہ عسکری اور سیاسی قیادت ایک پیج پر ہے۔
مگر یہ بھی ایک اتفاق ہو شاید کہ چیف آف آرمی سٹاف اور وزیراعظم کوئٹہ روانہ ہونے کے بعد اسلام آباد میں امام بارگاہ میں نامعلوم افراد نے حملہ کر دیا اور ایک اہم شخصیت کے گھرمیں چوری ہوگی تاہم وزیراعظم نے انسداد دہشت گردی فورس کی پاسنگ آوٴٹ پریڈ کا عملی مظاہرہ بھی دیکھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی سے جلد آزاد ہوگا۔
جس قوم میں جانباز سپاہی ہوں انہیں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔
اب صوبے کی ترقی کا پہلو دیکھیں تو وزیراعظم نے مختلف وفود سے ملاقاتیں کیں جن میں جان جمالی جن کی بیٹی سینٹ کی امیداور ہے لشکری رئیسانی اور دیگر وفود شامل ہے۔ وزیراعظم نے ان مسائل ومعاملات کوغور سے سنااور موقع پر احکامات دئیے بعد ازاں سبی برنائی سیکشن بحال کرنے کے لئے ریلوے کو ہدایات دیں۔

کوئٹہ کا روایتی حسن بحال کرنے کرنے کیلئے وزیراعظم نے 5 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا ۔ یہ رقم سکولوں کو تعمیر ، نکاسی آب سمیت سڑکوں کی تعمیر کے لئے خرچ کی جائے گی۔ اس کے علاوہ بھی صوبے کے کئی ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی۔
وزیراعظم نے جلال اکبر بگٹی سے ان کی والدہ کی تعزیت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بگٹی مہاجرین کی آبادکاری کے لئے حکومت اقدامات کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبے میں کالعدم تنظیم کو ودوبارہ سرگرم ہونے سے روکا جائے اور سزائے موت کے جن قیدیوں کی رہائی کی اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں ان کی سزاوٴں پر عملدرآمد کیا جائے۔
مگر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے کوئٹہ کی ترقی کے لئے جو 5 ارب کا اعلان کیا ہے پہلے تو اس رقم کا اجرا کیا جائے جس کا اعتراف بلوچستان حکومت ہمیشہ کرتی ہے۔
دوسرے اس رقم کا شفاف استعمال بہت اہم ہے کیونکہ سابق صدر مشرف نے کوئٹہ میں صاف پانی کیلئے8 ارب روپے دئیے تھے مگر آج تک کوئٹہ میں پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ اور 8 ارب روپے کہاں گئے کوئی نہیں جانتا ۔ بلوچستان میں تو تاریخ گواہ ہے سیلاب یا زلزلے کے متاثرین کی رقم بھی مستحقین تک انہیں پہنچتی۔ نہ صوبائی ترقیاتی پیکج کا حساب ہوتا ہے بلکہ امدادی سامان بازار میں فروخت ہو جاتا ہے اوربلوچستان کے عوام دعا کرتے ہیں ہمیں بھی وزیراعلیٰ پنجاب نصیب ہو جائے تو کم از کم کوئٹہ کی حالت سنور جائے۔
بہر طور اب تو طے شدہ معاہدے معاہدہ مری کے تحت اگلے اڑھائی سال صوبے میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت کا اعتراف اعلیٰ سطح پر کیا گیا ہے۔ کہ اڑھائی سال مخلوط حکومت کے ہوں گے۔
وقت اشاعت : 2015-03-03

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں