بند کریں
اتوار مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
وزیر اعظم کی آئی ایم ایف سے بیزاری
سابق وزیرا عظم نے اعتراف کیا، بجلی،گیس کے نرخ آئی ایم ایف کی شرائط پر بڑھائے جاتے ہیں آئی ایم ایف کا شکنجہ توڑنے کیلئے حکومت کو اقتصادی ایمر جنسی کا نفاذ کرنا ہوگا

احمد جمال نظامی:
وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے جان چھڑا لی، اللہ کرے ہماری جان بھی آئی ایم ایف سے چھوٹے، معاملات لٹکانے کی بجائے فیصلے کرنا ہوں گے۔ آئی ایم ایف کے نرغے میں جانا غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے، ماضی کی حکومت کی غلط پالیسیوں سے توانائی بحران پیدا ہوا۔ توانائی بحران کا خاتمہ اور معیشت کی بحالی اولین ترجیح ہے۔

90ء کے عشرے میں ہم آئی ایم ایف کے چنگل سے نکل آئے تھے۔ میاں محمد نوازشریف جس طرح آئی ایم ایف کے چنگل سے پہلے نکلے تھے اگر وہ اب بھی نکلنا چاہیں تو زیادہ مشکل کام نہیں بس جرات رند پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں انہیں ذرا چند معروضیات کی ورق گردانی کر لینی چاہیے، جن کا وقت رواں میں بڑی حد تک تعلق امریکہ اور اس کی نام نہاد دہشت گردی کی جنگ سے ہے۔
اس وقت بھی امریکہ نام نہاد دہشت گردی کی جنگ پاکستان کے کاندھوں پر بندوق رکھ کر لڑ رہا ہے اور عالمی سیاسی تعلقات کا مضمون واضح کرتا ہے کہ جدید دور کی سامراجی طاقتیں آئی ایم ایف وغیرہ کے اداروں کے ذریعے ترقی پذیر ممالک پر حاوی ہوتی ہیں۔ وزارت خزانہ کی اپنی رپورٹ کے مطابق سال 2004ء سے اب تک ملک کو دہشت گردی کی نام نہاد جنگ کی آڑ میں 100ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے اور اس جنگ کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بھی بجٹ بڑھانا پڑ رہا ہے جس کے نتیجہ میں ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر، سرمایہ کاری اور معیشت کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے جبکہ سرمایہ کار جہاں ڈر گئے ہیں وہاں سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہا ہے اور بیرونی سرمایہ کاری کا رجحان بالکل ختم ہو رہا ہے۔
سٹیٹ بینک کی طرف سے مانیٹری پالیسی کو سخت کرنے کا اقدام آئی ایم ایف کی شرط قرار دیا جا رہا ہے اور ایسا ممکن بھی ہے کیونکہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی انہی شرائط سے ان کے ممبر ممالک خائف ہوتے ہیں۔ ان ہی تحفظات کی روشنی میں تشویش اور احتجاج کیا جا رہا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل نہ کرے تو کیا کرے۔بیلنس آف پیمنٹس کو کیسے پورا کرے اس مقصد کے لئے حکومت ملک کے سرمایہ کاروں کو اعتماد میں لے اور ملک سے لوٹی گئی رقم کو احتساب کا عمل شفاف بنا کر بہت کچھ کر سکتی ہے۔
حکومت کو ایسا جذبہ اور حالات پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی حکومت کو آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دینے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض اپنی شرائط پر حاصل کر رہے ہیں لیکن ایسا کبھی ممکن نہیں۔ وزارت خزانہ کے حوالے سے اعدادوشمار پر مبنی سامنے آنے والے حقائق خود اس کی نفی کر رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی حکومت کے دور میں بھی جب آئی ایم ایف سے ابتدائی طور پر سات ارب 60کروڑ ڈالر کا قرضہ لیا گیا اس بارے میں کہا جا رہا تھا کہ آئی ایم ایف سے 7.60ارب ڈالر کے قرضے کا جو معاہدہ طے پایا ہے اس میں 3.51 سے 4.51 فیصد شرح سود پر ملے گا اور اس قرض کی واپسی 2011ء سے شروع ہو گی اور تمام تر قرضہ 2015ء تک ادا کر دیا جائے گا لیکن آئی ایم ایف کی شرائط کا پاس رکھا جاتا رہا۔
خود سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو ایک موقع پر اعتراف کرنا پڑا کہ ان کی حکومت کو آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ سابقہ حکومت نے جب آئی ایم ایف کے در پر دستک دی تو اپنی حکومت کے قیام کے پہلے سال ہی یعنی 2008ء میں اکتوبر کے آخری ہفتے میں آئی ایم ایف کی طرف سے وفاقی حکومت کو 180پوائنٹس پر مبنی 16شرائط پیش کی گئی تھیں اس بارے میں پاکستان اور آئی ایم ایف کی دوبئی میں متعدد میٹنگ ہوئیں۔
پاکستان نے آئی ایم ایف کو زرعی شعبہ میں سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی 8 سے 18فیصد، جنرل سیلز ٹیکس کی جگہ لاگو کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی تھی۔ 60فیصد فنڈ جو پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لئے جاری کرنے کا عندیہ دیا گیا تھا اس میں 45فیصد کمی کی شرط طے کی گئی۔ ایسے نکات کی حکومت کی طرف سے نفی کی جانے کے باوجود حالات چیخ چیخ کر ثابت کرتے رہے کہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ہماری معیشت کو مزید مفلوج کر رہی ہے۔
دراصل 2008ء میں امریکی انٹیلی جنس نے ایک انتہائی حساس اور خفیہ رپورٹ پیش کی تھی کہ عالمی مالیاتی بحران نے اگر مزید طوالت اختیار کی تو پاکستان اور مشرقی وسطیٰ کی مغرب نواز حکومتیں ختم ہو سکتی ہیں، انہی حالات کے پیش نظر امریکہ بہادر بھی پاکستان کو آئی ایم ایف کے در پر لے جاتا ہے۔ ایسے میں کم از کم موجودہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو کچھ بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے لیکن تمام تر سنجیدگی کا موجودہ حکومت کی صفوں میں بھی فقدان نظر آتا ہے۔
ہماری بدقسمتی ہے کہ پرویزمشرف کے بعد یہ تیسری حکومت معرض وجود میں آ چکی ہے لیکن تاحال کوئی معاشی و اقتصادی ایجنڈا ڈکلیئر نہیں کیا جا سکا اور وہ ملک اور قوم جو کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اس کو آئی ایم ایف سے قرضے لے کر گروی رکھا گیا ہے۔ کیا کبھی وزیراعظم جب آئی ایم ایف کی شرائط کا گلہ کرتے ہیں انہوں نے سوچا ہے کہ ملکی معیشت کس طرف جاتی چلی جا رہی ہے۔
حالات تو ثابت کر رہے ہیں کہ شاید کبھی نہیں سوچا گیا اسی لئے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی تشویش کے باوجود وزارت خزانہ آئی ایم ایف کی شرائط اور قرضہ اقساط جاری کرنے پر ضرورت سے زیادہ اترا رہی ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے ہمارا تجربہ کبھی بھی اچھا نہیں رہا۔ یہ ہمیں تعاون فراہم کر کے مزید بحرانوں میں مبتلا کرتے ہیں لہٰذا آئی ایم ایف سے قرضوں کے حصول کے خلاف احتجاج جائز ہے۔
آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک 1944ء میں Bretton woods ایگریمنٹ کے تحت قائم ہوا جس کا مقصد اپنے ممبر ممالک کی معیشت کو سپورٹ کرنا اور فنانشل تعاون فراہم کرنا ہے۔ آئی ایم ایف بنیادی طور پر میکرو اکنامک سے ہے یعنی قرضوں کے ذریعے غربت کا خاتمہ، بیلنس آف پے منٹس ایڈجسٹمنٹ وغیرہ جبکہ ورلڈبینک پرائیویٹائزیشن، گورننس، سول سروس، فنانشل سیکٹر اور ہیومن ڈویلپمنٹ پر کام کرتا ہے۔
یہ اداریمعاشی کی بجائے سیاسی کردار ادا کرتے ہوئے اپنی کڑی شرائط کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کیلئے مزید مسائل اور بحران پیدا کرتے ہیں۔ یہ شرائط زیادہ تر معیشت کو مزید کمزور کرنے کا باعث بن رہی ہیں جس کا عملی تجربہ پاکستان میں موجود ہے۔ پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جو ان اداروں کے کردار کے خلاف ہے۔ ایک طرف آئی ایم ایف اور ورلڈبینک پاکستان کو غربت کے خاتمے کا کہتا ہے اور اس کی وجہ بیروزگاری قرار دیتا ہے جبکہ ورلڈبینک پرائیویٹائزیشن کے حق میں ہے۔
ماہرین معیشت ورلڈبینک کی اس دوغلی روش کو واشنگٹن کا ایجنڈا قرار دیتے ہیں۔ پاکستان میں فنانشل معاملات اور پالیسی رائے دہی کے سلسلے میں ان اداروں نے نصف صدی سے زائد کے عرصہ سے بہت مداخلت کی ہے۔ 1990ء میں Debt Crisis کے لئے ورلڈبینک اور آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دی گئی جس کے نتیجے میں 1988ء کے بعد ان اداروں کی ہماری اکنامک ریفارمز اور دیگر معاملات میں بے جا مداخلت رہی۔
ورلڈبینک کی دو ایجنسیاں انٹرنیشنل بینک ری کنسٹرکشن اور ڈویلپمنٹ اینڈ دی ڈویلپمنٹ ایجنسی نے پاکستان کے لئے 84قرضے 119، Credits منظور کئے جو کہ 6.97بلین ڈالر اور 7.7بلین ڈالر کے تھے۔ ورلڈبینک کے اس کے علاوہ 1.23بلین ڈالر کے 15 مین پراجیکٹس کے لئے فنڈ تھے لیکن اس کے باوجود کڑی شرائط کی وجہ سے ڈاوٴن سائزنگ کے نتیجہ میں غربت جاری رہی اور تاحال جاری ہے۔
1988ء میں آئی ایم ایف اور پاکستان کے تعلقات اچھے نہیں جا رہے تھے۔ کئی معاہدے کئی وجوہات کی بناء پر ناکام ہوئے جس پر آئی ایم ایف نے قرضے جاری کرنے سے انکار کر دیا جس کے نتیجہ میں 1990ء میں پاکستان اور پاکستانی عوام نے بہت نقصان اٹھایا اور یہ معیشت کے لئے Lost Decade قرار دیا گیا۔ 1997ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے کرپشن سے آئی ایم ایف اور ورلڈبینک کے پاکستان سے تعلقات مزید خراب ہوئے جس کے بعد مسلم لیگ کی حکومت میں وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے دوراقتدار میں ہمارے آئی ایم ایف سے تعلقات بہتر ہوئے اور دسمبر 1996ء میں آئی ایم ایف نے روکا ہوا قرضہ جاری کر دیا۔
جس سے قرضے 600ملین ڈالر سے 831ملین ڈالر پر چلے گئے اس سے ملک میں نئی شرائط آئیں۔ ان شرائط کے لئے لارج سکیل بجٹ کٹس پر مجبور کیا گیا جو اکتوبر 1996ء سے جنوری 1997ء تک تھا۔ اس سے 90فیصد سالانہ ترقیاتی بجٹ متاثر ہوئے اور ایسا ہونے سے معیشت کی کارکردگی شارٹ رن میں بہت متاثر ہوئی۔ مارچ 1997ء میں وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی حکومت کے بھی آئی ایم ایف سے تعلقات خراب ہوئے تاہم ایک مرتبہ پھر ورلڈبینک اور آئی ایم ایف سے تعلقات اچھے ہو گئے جب نوازشریف نے اکنامک ریفارمز لانے کا وعدہ کیا۔
اس وعدے کا مقصد ٹیکس کولیکشن میں اضافہ کرنا اور بجٹ خسارہ کو کم کر کے جی ڈی پی کا 4فیصد مالی سال 1997-98ء میں حاصل کرنا تھا۔ 20اکتوبر 1997ء کو نوازشریف حکومت کا آئی ایم ایف کے ساتھ Structural Adjustment Loan Package طے ہوا۔ اس کی پہلی قسط وار رقم 208ملین ڈالر جاری ہوئی اس قرضے سے بیلنس آف پے منٹس کا مسئلہ حل ہوا۔ جب ایکسپورٹ گروتھ بہت کم تھی۔ فارن ایکسچینج 1.3ملین ڈالر سے کم تھی اور External Debt بلند تھا۔
1998ء کے آغاز میں آئی ایم ایف حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد آئی ایم ایف دوسری قسط جاری کرنے پر راضی ہوا مگر حکومت نے قرض سے جڑی سخت شرائط کی بناء پر اس قرض کی قسط لینے سے انکار کر دیا تاہم حکومت رئیل ٹریڈ پر 3فیصد ٹیکس لاگو کرنے پر ناکام رہی اور آئی ایم ایف نے اپنے پروگرام پر نظرثانی کی۔ 1999ء میں آئی ایم ایف سے ہمارے دوبارہ تعلقات خراب ہوئے۔
آئی ایم ایف کا پانچ رکنی وفد پاکستان آیا اور رپورٹ کیا کہ پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے میں ناکام ہے جس کے بعد میاں محمد نوازشریف کی حکومت نے مارچ 1999ء میں فلیٹ ریٹ جنرل سیلزٹیکس نافذ کیا لیکن پیپلزپارٹی کی حکومت نے جو انڈیپنڈنٹ پاور پلانٹس یعنی آئی پی پیز کا مسئلہ پیدا کیا تھا اسے حل کرنے میں حکومت ناکام رہی۔ اس پر آئی ایم ایف نے رقم قرضہ جون 1999ء میں جاری کرنے سے انکار کر دیا۔
میاں محمد نوازشریف کی حکومت آئی ایم ایف سے تعلقات قائم رکھنے میں ناکام رہی کیونکہ آئی ایم ایف 1998ء کے ایٹمی تجربوں سے بھی ناراض تھا۔ آئی ایم ایف کی وجہ سے نوازشریف کی اس وقت کی حکومت معاشی عدم استحکام کا شکار رہی۔ یہی وجہ ہے کہ میاں محمد نوازشریف 2008ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت کو آئی ایم ایف سے بچنے کا مشورہ دیتی رہی۔ سابق صدر جنرل(ر) پرویزمشرف نے جب اقتدار پر غیرآئینی قبضہ کیا تو اس آمرانہ حکومت کے آئی ایم ایف سے ابتدائی تعلقات خراب رہے۔
آئی ایم ایف نے تعلقات کی بنیاد جمہوریت کی بحالی قرار دیا لیکن پھر اچانک امریکی سفیر ولیم میلیم کی پرویزمشرف سے ملاقات ہوئی جس کے بعد امریکہ نے آئی ایم ایف سے مشرف حکومت کے تعلقات بہتر کروائے اور مشرف کو کہا گیا کہ ان کی حکومت ملک میں ہیومن رائٹس اور میڈیا پر پابندیاں عاید نہیں کرے گی۔ یہی وجہ تھی کہ مشرف حکومت میڈیا کی آزادی کا جھوٹا پروپیگنڈہ کرتی رہی ہے۔
مشرف حکومت کے قیام کے ایک سال بعد آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے 596ملین ڈالر کا ٹینڈر ہائی کریڈٹ منظور کیا جو ستمبر 2006ء کے آخر تک چلتا رہا۔ ملک میں معاشی صورتحال اس وقت بھی خراب تھی اور ملک دیوالیہ بھی ہو سکتا تھا مگر مشرف دور میں آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کی گئیں۔ملک کی معیشت برسوں سے اس گرداب میں ہے۔ مشرف حکومت نے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ سے حاصل ہونے والی رقم کے ذریعے معیشت کو مصنوعی سہارا دیئے رکھااور آج دراصل معیشت کی بھیانک تصویر انہی منفی عوامل کی وجہ سے ہے جس کو سابقہ پیپلزپارٹی کی حکومت کی غفلت نے ہوا دی اور موجودہ حکومت بھی شاید اسی ڈگر پر رواں دواں ہے کہ اب تک آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم میاں محمد نوازشریف جب اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہے ہیں کہ ہماری آئی ایم ایف سے جان چھوٹ جائے تو پھر انہیں چاہیئے کہ معاشی و اقتصادی ایمرجنسی ڈکلیئر کرتے ہوئے انقلابی اقدامات اٹھائے جائیں۔ اندرون ملک سرمایہ کاروں کو اعتماد میں لیا جائے اور بیرونی سرمایہ کاروں کو بھی ترغیب دی جائے۔

تاریخ اشاعت: 2014-01-07

(4) ووٹ وصول ہوئے