بند کریں
جمعرات مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
وزیراعظم کا دفاعی نمائش کا افتتاح
ذوالفقار کھوسہ کی کراچی آمد کے بعد نئے اتحاد کا رخ مسلم لیگ ن اور وزیراعظم نواز شریف کی جانب مْڑ گیا۔۔۔۔لاہور کے بعد ان کا کراچی مشن ناکام ہوگیا وہ کئی دن کراچی میں مقیم رہے
شہزاد چغتائی:
وزیراعظم نواز شریف پیر کو دفاعی نمائش کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے کراچی پہنچے۔ جہاں آئیڈیاز 2014ء کے عنوان سے ہونے والی دفاعی نمائش میں 256 غیر ملکی اور77 ملکی کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔ کراچی آمد پر وزیر اعظم نے مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنما سلیم ضیاء اوردوسرے مسلم لیگی رہنماؤں اور رفقاء سے صلاح و مشورے کئے اورمسلم لیگ کو فعال بنانے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم بہت پراعتماد دکھائی دے رہے تھے، جنہیں دیکھ کرمسلم لیگ کے رہنماؤں کے حوصلے بلند ہو گئے۔ وزیراعظم نے کراچی ایرپورٹ پر ہزارہ موٹروے کی تعمیر کی مبارکباد یں بھی وصول کیں۔ اس کے بعد وہ بذریعہ سڑک بین الاقوامی دفاعی نمائش کا افتتاح کرنے ایکسپو سینٹر گئے اور ہیلی کوپٹراستعمال کرنے سے گریز کیا گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ان کے ساتھ تھے جن کے ساتھ ان کی سرگوشیاں جاری رہیں۔
8ویں بین الاقوامی دفاعی نمائش میں غیر ملکی وفود میں دفاعی ساز و سامان اسلحہ اور جدید ٹیکنالوجی کے سلسلے میں غیر معمولی دلچسپی دیکھی گئی اور انہوں نے پاکستان کی دفاع میں پیشرفت دیکھ کر خوشگوار حیرت کا اظہار کیا۔ ان کامیابیوں کا اعتراف وزیراعظم نواز شریف نے بھی کیا جنہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دفاعی نظام میں بہت آگے نکل گیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی صرف ترقی یافتہ ممالک کا استحقاق نہیں۔ دفاعی نمائش میں دوسرے ساز و سامان کے ساتھ طیارے ٹینک‘ بکتربند گاڑیاں بھی فروخت کیلئے رکھی گئی ہیں۔ پاکستان فضائیہ جے پی ٹھنڈر طیارے کی مارکیٹنگ بھی کر رہی ہے۔ آئیڈیاز 2014ء میں گھوم کر دشمن کو نشانہ بنانے کی بندوق کی بھی دھوم مچ گئی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ 90 کے زاویہ سے گھوم کر فائر کرنے والی یہ بندوق صرف اسرائیل اور پاکستان کے پاس ہے۔
یہ بندوق وزیرستان آپریشن میں کامیابی سے استعمال کی جا رہی ہے۔ آئیڈیاز 2014ء کی انفرادیت یہ ہے کہ نمائش میں پہلی بار روس بھی شرکت کر رہا ہے۔ دفاعی نمائش کے کامیاب انعقاد سے کراچی کا تاثر بہت بہتر ہوا ہے اور عروس البلاد محفوظ شہر کے طورپر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ نمائش میں جہاں پاکستان کا تیار کردہ جے پی تھنڈر طیارہ بہت سستا ہے وہاں پاکستان کا بنا ہوا گولہ بارود اسلحہ بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
گولہ بارود کی خریداری کیلئے گزشتہ نمائش میں پاکستان کو کروڑوں ڈالر کے آرڈر مل گئے تھے اس بار بھی افریقہ مڈل ایسٹ اور ایشیا کی مارکیٹوں سے بڑے خریدار اور ڈیلر یہاں موجود ہیں جن سے نمائش میں کروڑوں ڈالر کے سودے ہونے کا امکان ہے اوراگر طیارے اور ٹینک فروخت ہو گئے تو یہ آرڈر اربوں ڈالر میں پہنچ جائیں گے۔ اس میں شک نہیں کہ دہشت گردی اور عسکریت پسندی نے پاکستان کو سکیورٹی آلات کی بڑی مارکیٹ میں تبدیل کر دیا اور دفاعی ایکسپو دنیا بھر کے ممالک کیلئے کشش کا باعث بن گئی۔
بعض غیرملکی کمپنیاں پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجوں کے تناظر میں اپنی مارکیٹ بنانا چاہتے ہیں تو پاکستان کا دفاعی پیداوار کا شعبہ اپنی مصنوعات سامنے لا رہا ہے پاکستان میں حالیہ دنوں میں سفارت خانوں اہم تنصیبات اورعوامی اجتماعات کو محفوظ بنانے کے آلات کی خریداری کا رجحان اور میلان بڑھا ہے اور واک وے آتش گیر اور دھماکہ خیز مواد کی نشاندہی کرنے والے آلات جیمرز بلٹ پروف اور بم پروف گاڑیوں بلٹ پروف جیکٹوں کی مانگ بڑھی ہے ایکسپو سنٹر میں کئی کمپنیاں یہ ہی مصنوعات پیش کر رہی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اب بم پروف اوربلٹ پروف گاڑیاں پاکستان میں بھی تیار ہو رہی ہیں۔
کراچی میں قیام کے دوران وزیراعظم نواز شریف عمران خان کے پلان سی کو اہمیت دینے کیلئے تیار نہیں تھے جب وہ کراچی پہنچے تو مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی اختیار کرنے والے سابق سابق گورنر سردار ذوالفقار کھوسہ سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ کے ساتھ پریس کانفرنس کر رہے تھے۔
سندھ میں کئی ماہ سے سیاسی جوڑ توڑ جاری ہے لیکن ذوالفقار کھوسہ کی آمد کے بعد نئے اتحاد کا رخ مسلم لیگ (ن) اور وزیراعظم نواز شریف کی جانب مْڑ گیا۔ ذوالفقار کھوسہ نے وزیراعظم کو آڑے ہاتھوں لیا اور مسلم لیگ (ن) کو فعال کرنے اور متحد کرنے کا اعلان کیا۔ مسلم لیگ (ن) نے ذوالفقار کھوسہ کو شوکاز نوٹس دینے سے انکار کر دیا۔ مسلم لیگ کا موٴقف ہے کہ قیادت کی تنظیمی خلاف ورزیوں پر کڑی نظر ہے ذوالفقار کھوسہ نے حالانکہ فارورڈ بلاک بنانے کی تردید کی لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ میدان میں تنہا ہیں اور اخلاقی طور پر سینٹ کی نشست سے مستعفیٰ ہونے کو تیار نہیں۔
لاہور کے بعد ان کا کراچی مشن ناکام ہوگیا وہ کئی دن کراچی میں مقیم رہے اور کوشش کے باوجود ناراض مسلم لیگیوں کے لیڈر بننے میں ناکام رہے۔ اور بعض نے اجلاس میں شرکت کرنے سے بھی انکارکر دیا۔ ملاقات نہ کرنے والوں میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی بھی شامل ہیں جبکہ وفاقی وزراء مرتضیٰ جتوئی عبدالحکیم نے بھی ذوالفقار کھوسہ سے ملنے سے انکار کر دیا۔
وفاقی وزراء مرتضیٰ جتوئی اور عبدالحکیم بلوچ گھر بیٹھے ہیں اور غیر فعال ہیں۔ مرتضیٰ جتوئی نے گزشتہ دنوں وزیراعظم کو استعفیٰ روانہ کردیا تھا عبدالحکیم کو بھی اپنی وزارت میں مداخلت کی شکایت ہے۔ سندھ میں سیاستدانوں کے نئے اتحاد کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ ممتاز علی بھٹو نے ناراض مسلم لیگیوں کے اتحاد میں شمولیت کی دعوت مسترد کر دی اور ناراض مسلم لیگیوں کے اجلاس میں شرکت کرنے سے معذرت کر لی۔
ممتاز بھٹو کو نئے اتحاد میں شمولیت کی باقاعدہ دعوت دی گئی تھی لیکن وہ اتحاد کا حصہ بننے پر تیار نہیں ہوئے۔ ممتاز بھٹو کی جماعت سندھ نیشنل فرنٹ کے رہنما نئے اتحاد میں شامل ہونے کے حق میں نہیں ہیں اور وہ ممتاز بھٹو پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ سندھ نیشنل فرنٹ کو بحال کریں جس کے بعد سندھ نیشنل فرنٹ کی بحالی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ممتاز بھٹو نے مسلم لیگ کو سیاست سے توبہ کر لی ہے اورکہا ہے کہ وہ اب کسی مسلم لیگی کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے کیونکہ انکے تجربات بہت تلخ ہیں۔
دریں اثناء تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے 12 دسمبر کو کراچی بند کرنے کے اعلان پر صوبائی حکمران برہم ہو گئے، پیپلز پارٹی نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اورصوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا 12 دسمبر کو کراچی بند کرنے نہیں دیں گے عمران خان کو کراچی میں جلسہ کی تو اجازت دی جا سکتی لیکن شاہراہیں بند کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
سیاسی حلقوں کا موٴقف ہے کہ تحریک انصاف نے کراچی میں ایم کیو ایم کی حمایت سے کامیاب جلسے کئے تھے اوراب تحریک انصاف ایم کیو ایم کی مدد سے ہی کراچی کو بلاک کر سکتی ہے ادھر ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان بلاول بھٹو کے بیان پر ایک بار پھر کشمکش شروع ہو گئی ہے اور معاملہ عدالت تک جانے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اچانک ایک صبح ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو مخاطب کیا اور کہا کہ اگر میرے کسی کارکن کو کچھ ہوا تو میں آپ کا لندن میں جینا حرام کر دوں گا، اب ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے بلاول بھٹو سے سوال کیا کہ انہوں نے اس بیان کی ضرورت کیوں محسوس کی اور کس کارکن پر آنچ آئی تھی کہ آپ نے میری زندگی حرام کرنے کا اعلان کر دیا لہٰذا پیپلز پارٹی 15 دن میں جواب دے ورنہ میں عدالت میں جاؤں گا۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی برہمی کے ساتھ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان مفاہمت کے امکانات ختم ہو گئے ہیں۔ سابق صدر ایم کیو ایم کے ساتھ مصالحت کے حق میں ہیں لیکن پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں نے چیئرمین بلاول بھٹو کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-05

(0) ووٹ وصول ہوئے