تازہ ترین : 1
Wazir e Azam Gernail Aur Qomi Salamti

وزیر اعظم، جرنیل اور قومی سلامتی

دہشتگردی سے بچاوٴکی قومی سلامتی پالیسیاں حکمران، جرنیلوں، قومی سلامتی کے خفیہ اداروں، ماہرین اور رینجرز، ایف سی، کے پی کے، بلوچستان کی مشترکہ کاوشوں سے تشکیل دی جاتی رہی ہیں اور ان پالیسیوں کے نتیجے میں بڑی کامیابیوں، ناکامیوں اور کمزوریوں کی مکمل ذمہ داری بھی انہی کی ہے جو

خواجہ ثاقب غفور:
دہشتگردی سے بچاوٴکی قومی سلامتی پالیسیاں حکمران، جرنیلوں، قومی سلامتی کے خفیہ اداروں، ماہرین اور رینجرز، ایف سی، کے پی کے، بلوچستان کی مشترکہ کاوشوں سے تشکیل دی جاتی رہی ہیں اور ان پالیسیوں کے نتیجے میں بڑی کامیابیوں، ناکامیوں اور کمزوریوں کی مکمل ذمہ داری بھی انہی کی ہے جو ان کو وضع کرنے اور نافذ کرنے کے ذمہ دار ہیں گزشتہ دو سال سے زیادہ کے عرصہ میں قومی ایکشن پلان، فاٹا آپریشن، رینجرز آپریشن، خفیہ اداروں کے آپریشن سے پاکستان میں مجموعی طور پر خود کش حملوں، بم دھماکوں، جتھہ بند حملوں میں کافی کمی ہو گئی تھی لیکن گزشتہ چار پانچ ماہ میں پشاور، مردان، چارسدہ، کوئٹہ، بلوچستان کے متعدد اضلاع، پنجاب کے چند مقامات اور سندھ میں بھی کہیں کہیں بڑے یا چھوٹے دہشتگردی کے واقعات تسلسل سے ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے تمام سکیورٹی اور خفیہ اداروں کی دو سال کی اچھی کارکردگی پر ”بڑے سیاہ دھبے“ لگ رہے ہیں اور ناکامی، کمزوری، نااہلی جیسے احساسات بڑھ رہے ہیں بعض وفاقی و صوبائی حکومتوں اور اداروں میں اور حکمرانوں میں ”اعتماد و تعاون“ کے فقدان کا نتیجہ ہے مثلاً وفاق اور پرویز خٹک قومی سلامتی پر عدم تعاون (جو باعثِ شرم ہے جو بھی ذمہ دار ہے) یونیورسٹی کے 20سے زائد اساتذہ، طلبہ اور سکیورٹی اہلکاروں کا چار سدہ شہادت پانا اور دہشتگردوں کا افغانستان سے پاکستان آکر کامیاب حملہ کرنا تمام اداروں کے لئے شرمندگی اور ندامت کا باعث ہونا چاہئے۔
وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے نواز شریف، افغان صدر اشرف غنی، سینئر دفاعی وزراء وقومی سلامتی مشیر یا آرمی کمانڈروں کے نظرانداز کرنے کا جو ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کیا ہے وہ عوام کی جانوں کے تحفظ میں عدم تعاون کا عکاس ہے۔ ذمہ دار جو بھی ہو وہ امن و امان کے قیام میں باہمی تعاون اور عدم نفاذ کی پالیسیوں میں غفلت، لاپروائی، نااہلی کا ذمہ دار ہے نتیجہ بم دھماکوں، دہشتگردانہ حملوں میں سکیورٹی و خفیہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اور تحریک انصاف کی حکمرانی کی ناکامی کا نکلا ہے اچھا لگے یا برا لگے! کامیابیاں، مبارکیں، تعریفیں، عزت افزائی، ہیرو ورشپ ہونا یہ بڑوں کو ہمیشہ پسند ہے اور حقیقی تنقید پر تلملانا اور ردعمل ”بڑوں“ کا وطیرہ ہے!! بڑے دل سے اپنی خامیوں، کمزور حکمت عملی، ایس او پی (SOP) مطلب ”پالیسی عملدرآمد کا طے شدہ طریق کار“ میں ترمیم اور تھنک ٹینک (بڑے ماہرین) کی ترجیحاً تشکیل اور سکیورٹی برائے عوامی مقامات کی حفاظت کے تقاضے نئے سرے سے وضع کئے جائیں۔
ریٹائرڈ، بہت تجربہ کار، بصیرت، دور تک دیکھنے والوں کی ٹیم تھنک ٹینک (5ماہرین) فوراً تشکیل دی جائے۔ سینئر کمانڈرز اپنی حکمت و قابلیت سے روزمرہ اہم امور رات 10بجے تک انجام دیتے ہیں۔ صبح 8 بجے سے رات 12بجے تک یا مزید دیر تک سخت کام کرتے ہیں ان کے پاس زیادہ سوچنے‘ تجزیہ کرنے‘ ریٹائرڈ بڑے قابل ماہرین سے دو گھنٹے ملاقات اور مشوروں کا وقت ہی نہیں ہوتا اس لئے دنیا میں بڑی طاقتوں نے کئی” تھنک ٹینک“ تشکیل دیئے ہوئے ہیں ہمارے ہاں ایسا کیوں نہیں ہے۔
چارسدہ یونیورسٹی پر دہشتگردوں کے حملے اور دیگر سلامتی خطرات کے تناظر میں نئے پالیسی فریم ورک کی فوری ضرورت ہے نیشنل ایکشن پلان کے بعض نکات پر عملدرآمد میں انتہائی غفلت‘ فنڈز کی عدم فراہمی‘ سیاسی مجبوریاں‘ اور ”مخصوص سوچ“ کی منفی کارگردگی اپنی جگہ ہے لیکن ”را“ سے نمٹنا تو سب سے بڑی ترجیح ہے جو مْوذی مودی’جنرل (ر) وی کے سنگھ (اصل پالیسی ساز دہشت گرد) وزیراعظم مودی کا دائیاں ہاتھ‘ جنرل دلبیر سنگھ بھارتی چیف‘ ”را“ کے چیف‘ وزیر دفاع منوہر پاریکر اور اجیت دودل جیسے پاکستان دشمن‘ مسلمان دشمن، اسلام دشمن‘ دہشت گردانہ سوچ والی قیادت کے پاکستان پر مستقبل میں بھی ویسا ہی درد دینے، پاکستان سے مودی کی دوستی کو بھارتی قومی سلامتی کے خلاف ہونے(بھارتی آرمی چیف)، کانٹے سے کانٹا نکالنے، ایسی جگہ سے مارنے جس کا درد محسوس ہو، اور اب بھارتیہ جنتا پارٹی کے سبرا منیم سوامی کے بیان کہ پاکستان کے دو نہیں چار ٹکڑے پھر آٹھ ٹکڑے اور نقشے سے مٹانے کے دہشتگردانہ اور بچگانہ بیانات تک آپہنچے ہیں!بھارتی ”را“ مراکز برائے افغانستان، پٹھانکوٹ جیسا دردقومی سطح پر پاکستانیوں کو دینے کیلئے ہمہ وقت فعال ہیں یہ نہ تو ہمای قیادتیں بند کروا پائی ہیں نہ چارسدہ حملے کے افغان سر زمین استعمال اور افغانستان سے کنٹرول کے الزامات افغان صدر اشرف غنی سے تسلیم کروا پائی ہیں۔
اشرف غنی نے پاکستانی قیادتوں کے الزامات مسترد کر دئیے ہیں! یہ ناکامی ” الارمنگ“ ہے!!! 2600 یاکم افغان بارڈر کے طویل مقامات مع طورخم بارڈر سے 20ہزار افراد کا آنا جانا ” بڑا سردرد“ ہے!!! پالیسی اب اس کو بند کرنے سخت سیل کرنے نئی فورس (جو بھی ہو) یا ایف سی برائے کے پی کے اور بلوچستان کی توسیع آلات کی فراہمی‘ ٹرانسپورٹ اسلحے کی ضروریات ان کی تنخواہوں اور مراعات کے نئے پیکیج (یہ بہت کم ہیں) وضع کرنا جرنیلوں اور سب سے زیادہ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کی ترجیح ہونا چاہئے میاں صاحب کو ” موٹروے“ بڑے پل‘ اورنج ٹرین پر2000 ارب روپے(2019ء) تک خرچ کرنے کا جو ”خمار یا بخار“ چڑھا ہے یہ ساری ترقی‘ اقتصادی راہداری کے خواب‘ معاشی ترقی‘ عالمی سرمایہ کاری محض” 25“ بڑے حملوں سے ختم ہو جائے گی اگر یہ دہشت گردی بڑھتی چلی گئی۔
اس لئے وزیر اعظم افغان بارڈر فورسز کیلئے (توسیع وتکینکی سہولتوں) اور خفیہ اداروں کی انسانی زنجیر کی وسعت پذیری کے لئے 1000ارب روپے کے میگا پراجیکٹوں کے ساتھ ساتھ 20ارب روپے افغان بارڈر بند کرنے اور خفیہ آپریشوں کیلئے فوراً دے دیں اور خامیوں سے پاک نئی سلامتی پالیسی بھی 7 دن میں بنائیں۔
وقت اشاعت : 2016-01-26

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں