تازہ ترین : 1
Wazir e Aala Punjab K Dawwe Thus

وزیر اعلیٰ پنجاب کے دعوے ٹُھس،” پولیس گردی“ قابو سے باہر!

اعلیٰ افسروں کی بیرون ملک تربیت پولیس کاروایتی رویہ بدلنے میں ناکام۔۔۔ تفتیش کے جدید طریقوں کی بجائے تشدد کا آسان طریقہ اختیار کر لیا گیا ہے

اسرار بخاری:
سچ بولنا جتنا مشکل ہے سچ اُگلوانا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ جہاں کوئی غلطی ،غیر قانونی حرکت یا کسی جرم کے مرتکب سے اعتراف کرانا آسان نہیں ہے اس کیلئے ایک مدت سے جسمانی تشدد کا طریقہ رائج ہے۔ تاہم اس تشدد میں یہ خیال ضرور رکھا جاتا ہے۔ کہ تشدد کا نشانہ بننے والا شخص جان سے نہ جائے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اعتراف جرم کرانے یا تفتیش کیلئے جدید سائنٹیفک اور نفسیاتی طریقے اختیار کئے جانے لگے ہیں مگر یہ بہر حال کچھ ٹائم کنزومنگ ضرور ہیں یعنی اس میں کچھ وقت لگانا پڑتا ہے او کچھ ذہنی مشقت بھی برداشت کرنی پڑتی ہے جبکہ تشدد آسان ترین طریقہ ہے اگر چہ تشدد کرنے والے کو بھی کچھ نہ کچھ جسمانی مشتق برداشت کرنا پڑتی ہے۔
پاکستان کے تمام تھانوں میں یہی طریقہ رائج ہے جس کے نتیجے میں آئے روز یہ خبریں سامنے آتی رہتی ہیں کہ زیر حراست شخص پولیس تشدد سے ہلاک ہو گیا اس کے لواحقین عام طور پر سڑکوں پر لاشیں رکھ کر یا پولیس کلبوں کے باہر احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی یقین دھانی کرائی جاتی ہے اور معاملہ ٹھپ ہو جاتا ہے۔ ملزموں کی ہلاکتوں کے واقعات میں تسلسل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ حکام کی جانب سے اس مسئلے پر توجہ نہیں دی جاتی ۔
اس سلسلے کا تازہ ترین واقعہ لاہور میں ہر بنس پورہ تھانہ میں ایک ملزم کی تشدد سے ہلاکت ہے میڈیا رپورٹ کے مطابق شیر اکوٹ کے رہائشی محمد زبیر کی والدہ سمیت تین افراد کیخلاف محمد شفیق خان نامی شخص کے گھر میں 8 تولے زیورات چوری کرنے کے الزام میں تھانہ ہر بنس پورہ میں مقدمہ درج ہو اجس پر ہربنس انوسٹی گیشن کے تفتیشی آفیسر سراج نے زبیرا ور اسکی والدہ کو گرفتار کرلیا۔
زبیر کے لواحقین کے مطابق پولیس نے زبیر کو جو مقدمہ میں نامزد بھی نہیں تھا اکسی والدہ سمیت تشدد کانشانہ بنایا جس کے بعد حالت غیر ہونے پر پولیس زبیر کو گھر کے باہر پھینک گی اور زبیر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ زبیر کے لواحقین نے تھانہ شیرا کوٹ کے باہر نعش سڑک پر رکھ شدید احتجاج کیا اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالعہ کیاکہ وہ اس ظلم میں ملوث پولیس اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دیں۔
ایسی ایس پی انویسٹ گیشن راناایاز سلیم نے واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تفتیشی آفیسر کیخلاف مقدمہ درج کرا دیا اور کہا کہ انکوائری اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی معلوم ہو گا کہ زبیر تشدد سے ہلاک ہوا ہے کہ حادثے سے لگنے والی چوٹوں سے جس کے بعد مزید کارروائی کی جائیگی۔
اس صورتحال کا ایک تکلیف وہ پہلو یہ ہے کہ افسوسناک واقعات جن اعلیٰ پولیس حکام کے زیر سایہ جنم لے رہے ہیں۔
وہ سب اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں ایسا نہیں کہ وہ تفتیش کے جدید طریقوں سے بے خبر ہیں مگر سہل کوش ہیں کہ اپنے ماتحت فورس کی تربیت کے لئے آرام دہ ائیر کنڈیشنڈ کمروں سے نکل کر مغز کھپائی کرتے پھریں۔ محق ایک الزام کی بنا پر ایسا تشدد کیا جائے کہ زندگی کا رشتہ ہی منتقع ہو جائے۔ حد درجہ افسوس امر ہے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے پولیس کلچر تبدیل کرنے کاجو دعویٰ کیا تھا وہ ابھی تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکا ان کی دیگر مصروفیات اپنی جگہ مگر پولیس کا رویہ تبدیل کرنا اس لئے ضروری ہے کہ پولیس کا عام شہریوں سے ہر وقت کا رابطہ ہے ویسے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ یہ اعلیٰ پولیس افسر زبیر ون ملک تربیتی کو رسز پر کس لئے جاتے ہیں۔
کیا صرف سیرسپاٹے کی غرض سے کیونکہ ان کی بیرون ملک تربیت کے ثمرات محکمہ پولیس میں کہیں نظر نہیں آرہے۔
اگرچہ ایس ایس پی انوسٹی گیشن رانا ایاز سلیم نے تسلیم کیا ہے کہ پولیس نے یہ غلط کیا ہے جو مقدمہ میں نامزد نہیں تھا اس کو کیوں حراست میں لیا ہے اور یقین دلایا ہے کہ کسی بھی شہری پر ہونے والے تشدد کا ازالہ کیا جائے گا مزید برآں وزیراعلیٰ نے بھی نوٹس لے لیا ہے ڈی آئی جی آپریشن نے رپورٹ طلب کر لی ہے اس کیس کے سلسلے میں ایس پی کینٹ کوانکوائری آفیسر مقرر کر دیا گیا ہے لیکن معاملہ رہی ڈھاک کے تین پاس ہے۔
انکوائریاں بھی ہوتی ہیں پولیس اہلکار معطل بھی ہوتے ہیں مگر پولیس کے رویہ میں نہ پہلے کوئی تبدیلی آئی نہ آئندہ کسی تبدیلی کی توقع کی جاسکتی ہے ۔یہ کئی سال پہلے کی بات ہے جب راقم الحروف رپورٹنگ کیا کرتا تھا ایک پریس کانفرنس میں ایک اعلیٰ پولیس آفیسر سے سوال کیا گیا کہ بعض غیر قانونی اقدامات میں ملوث یا جن کے خلاف شکایات ہوں قرار واقعی کاروائی کیوں نہیں ہوتی تو انہوں نے جواب دیا اس طرح پولیس فورس کامورال ڈاوٴن ہو گا۔ پولیس فورس کا مورال بلاشبہ بلند رہنا چاہیے لیکن اس کی بنیاد مثبت طریقوں کا بنایا جائے۔ عوام کو مشکلات کا شکار کرنا اور ان کی دادرسی نہ کرناکوئی مناسب طریقہ نہیں ہے۔
وقت اشاعت : 2015-03-12

(1) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

قارئین کی رائے :

  • Rana tanveer Says : 12/03/2015 - 18:23:49

    Shahbaz Sharif 100 baar bhi CM bun jaain Police kabhi drust kaam nahin kray gi. awaam kis khush fahmi ka shikaar hain??? Ah! masoom Pakistani

    Reply to this comment

اپنی رائے کا اظہار کریں