بند کریں
اتوار مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ویڈیو سکینڈل …متاثرہ بچوں کی بحالی!
لڑکوں کے حوالے سے منظر عام پر آنے والی ویڈیوز تین طرح کی ہیں۔ اوّل وہ جس میں قوم لوط کے پیرو کار اور ہم جنسیت پسند بیس، پچیس سال کی عمر کے اوباش نوجوانوں کا گروہ جن کے چہروں پر بھی پھٹکار پڑی ہوئی ہے آپس میں یہ ویڈیوز بنانے میں مصروف تھا
خالد بہزاد ہاشمی:
بچے کسی بھی قوم کا روشن مستقبل اور آنے والی دمکتی صبح کی روشن دلیل اور نوید ہوا کرتے ہیں کیونکہ کل کو انہوں نے ہی ملک و قوم کا انتظام و انصرام سنبھالنا ہوتا ہے۔ سانحہ پشاور میں بچوں کی دردناک شہادت نے پوری قوم کے دل اور جگر فگار کر دیئے تھے اور یہ ایسا سانحہ ہے جسے بھلانا مشکل اور تازیست اس کے گھاؤ سے خون رستا رہے گا اس المناک سانحے کے بعد قصور کے نواحی گاؤں میں معصوم بچے اور بچیوں سے درندگی اور ان کی ویڈیوز منظر عام پر آنے کے شرمناک سانحے نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔
یہ ہماری قومی غیرت اور حمیت کیلئے بہت بڑا تازیانہ ہے۔ درندوں کی کمین گاہیں حویلی کے کمرے کے فرشی بستر، واش روم اور کھیتوں میں بنی ہوئی تھیں۔ کمرے کے دروازے پر کیمرہ نصب تھا اور نئے آنے والے کو پہلی مرتبہ اس کا ادراک نہیں ہوتا تھا اور فلم بننے کے بعد وہ اسے بلیک میل کرکے دوبارہ بلاتے۔ لڑکوں کے حوالے سے منظر عام پر آنے والی ویڈیوز تین طرح کی ہیں۔
اوّل وہ جس میں قوم لوط کے پیرو کار اور ہم جنسیت پسند بیس، پچیس سال کی عمر کے اوباش نوجوانوں کا گروہ جن کے چہروں پر بھی پھٹکار پڑی ہوئی ہے آپس میں یہ ویڈیوز بنانے میں مصروف تھا جبکہ دوسری ویڈیوز ان نو عمر لڑکوں کی ہے جن کی ابھی مسیں بھیگ رہی ہیں اور وہ یہ کام بہ رضا و خوشی انجوائے منٹ کے ساتھ انجام دیتے نظر آتے ہیں۔ یہ کم تعلیم یافتہ اور غریب فیملیز کے بچے دکھائی دیتے ہیں۔
وہ چند سال کے دوران اول الذکر بدقماش گروہ کے چنگل میں پھنس کر گناہ کے کاروبار کا حصہ بنے، ان کے چہرے پہ کوئی ندامت ہے نہ حجاب اور شرمندگی بلکہ وہ یہ سب بڑے پروفیشنل طریقے سے انجام دیتے نظر آتے ہیں۔ تیسری ویڈیوز ان کمسن، مجبور لاچار بچوں کی ہیں جنہیں یہ بدقماش گروہ کھیت کھلیان یا اپنی حویلی کی کمین گاہ میں بہلا پھسلا کر لانے کے بعد انہیں درندگی، وحشت اور حیوانیت کا نشانہ بناتا ہے۔
شرٹ میں ملبوس معصوم بچہ بری طرح روتا اور برے کام میں مزاحمت کرتا دکھائی دیتا ہے اور وہ کیمرے کے سامنے ہاتھ کرتا اور سخت کرب میں مبتلا نظر آتا ہے، کماد وغیرہ کے کھیتوں میں اسی عمر کے کئی کمسن بچوں کے ساتھ بھی یہ وحشت ناک کھیل دہرایا جاتا ہے اور وہ سخت پریشان اور اذیت سے دو چار نظر آتے ہیں۔ انہی کے ہم عمر کئی بچے ویڈیوز میں میڈیسن کے زیر اثر روبوٹ کی طرح کام کرتے دکھائی دیتے ہیں اور ان کے چہرے سپاٹ اور تاثر سے عاری ہیں۔

اول الذکر ملزم گروہ کسی رو رعایت اور ہمدردی کا حقدار نہیں، ان کے لیے تو موت کی سزا بھی کم ہے۔ انہوں نے نو عمر اور کمسن بچو ں کو حیوانیت کا روپ دھار کر جس راہ پر لگایا وہ دین اور دنیا میں ان کے جرم دار ہیں اور کوئی دنیاوی سزا ان کے اس حیوانی جرم کا مداوا نہیں کر سکتی۔ اب آتے ہیں ان بچوں کی طرف جو بہ رضا و رغبت یہ ویڈیو بناتے دکھائی دیتے ہیں اور ان کے بارے میں عام رائے عامہ کوئی زیادہ ہمدردی نہیں رکھتی، درندوں نے ان بچوں کے جسم کا بھی نہیں بلکہ روح کا بھی قتل عام کیا ہے۔
اس بحث میں گئے بغیر کہ انہیں پیسوں کا لالچ تھا یا کسی اسلحہ، خنجر یا چاقو کا خوف سب سے بڑا سوال ان نو عمر لڑکوں کی بے حجابی اور روح کے داغدار ہونے کا ہے۔ ایک طویل عرصہ سے گناہ کی اس دلدلی لذت کا حصہ بننے کے بعد انہیں نارمل اور صحت مندانہ ماحول میں لانا اتنا آسان نہیں۔ تھوڑے سے پیسوں یا کسی شے کے عوض یہ جسم فروشی کے راستے پربآسانی چل سکتے ہیں۔
انہیں اس عادت سے چھڑانے کیلئے ماہرین نفسیات سے کونسلنگ کی ضروت ہے جو باقاعدگی سے ان کی ذہنی حالت کا معائنہ کریں۔یہ بہت زیادہ ہمدردی، اخلاقی اصلاح اور توجہ کے مستحق ہیں ان کی ذہنی و جسمانی بحالی کوئی آسان کام نہیں، درندوں اور شیطانوں نے انہیں جس رستے پر لگایا ہے اس سے چھٹکارا پانا ہیروئن کا نشہ چھوڑنے کے مترادف ہے، ان کی ماہرین نفسیات کی ٹیم سے باقاعدہ کونسلنگ بہت ضروری ہے جبکہ اخلاقی اور اسلامی تربیت، روحانی اور ذہنی اصلاح کیلئے دانشور حضرات کے لیکچرز کا بھی بندوبست کیا جانا چاہیے، وہ سالہا سال سے اس شرمناک فعل کا حصہ بنا دیئے گئے ہیں جو آگے چل کر ایڈز اور دیگر متعدی اور خطرناک امراض کا سبب بن سکتے ہیں۔
اس کے بعد ڈاکٹرز کی معائنہ ٹیم کا بندوبست بھی ضروری ہے جو انہیں نہ صرف باقاعدگی سے چیک کرے بلکہ انہیں آئندہ صحت مندانہ زندگی کیلئے کارآمد اور مفید مشورے بھی دے اور جن نو عمر لڑکوں کو میڈیسن کی ضرورت ہے انہیں وہ بھی باقاعدگی سے فراہم کی جائے۔ اب آتے ہیں اسی شرمناک ویڈیو کے تیسرے حصے اور سب سے مظلوم ترین متاثر بچوں کی طرف جن کی عمریں دس، گیارہ، بارہ اور تیرہ سال سے زیادہ نہیں جنہیں اس وحشت و بربریت کا نشانہ بنایا گیا، اتنی کم عمر میں اتنے اذیت ناک اور شرمناک فعل سے گزرنا یقینا ان کے لیے قیامت صغریٰ سے کم نہیں ہو گا۔
ان معصوموں کو کسی نہ کسی طرح ٹریپ کرکے نشہ آور مشروب، ٹیبلٹ یا انجکشن کے بعد یہ ویڈیوز بنائی گئی ہیں۔ اس سے ان معصوم بچوں کی حالت بخوبی واضح ہو جاتی ہے اور وہ جس تکلیف دہ اذیت ناک اور شرمناک صورتحال سے دو چار نظر آتے ہیں وہ کسی بھی صاحب اولاد کے لیے دیکھنا بہت مشکل ہے۔ درندوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ان بچوں کی بے کسی دیکھی نہیں جاتی۔
”شکار گاہ“ میں گھیر کر لانے کے بعد جب انہیں خطرے کا احساس ہوتا ہے تو ان کی اس حالت پر مجبور اور بے کس پرندے کی پھرپھڑاہٹ اور معصوم ہرن کی خوفزدہ آنکھوں کا گماں ہوتا ہے جسے چند لمحوں بعد ظالم صیاد اور شکاری نے موت کے گھات اتار دینا ہوتا ہے۔ معاشرے پر ان کا اعتماد کس بری طرح مجروح ہوا ہے اور ان کی نفسیات پر اس کے تاحیات کیا منفی اثرات مرتب ہوں گے اور اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔
والدین نے انہیں جس پیار و محبت عزت و احترام کے ساتھ پالا اور ان کی حفاظت کی، درندوں نے پلک جھپکنے میں وہ عزت، وقار اور غرور نا صرف سب خاک میں ملایا بلکہ ان کی اجلی پیشانیوں پر بے دردی سے کالک بھی مل دی۔ ان بچوں کی گھٹی گھٹی سسکیاں، خاموش آنسو اور معصوم اور کمزور لاحاصل جسمانی مزاحمت کسی بھی صاحب دل کو رْلا سکتی ہے۔ ان کی ذہنی نفسیاتی اور جسمانی بحالی بہت سنجیدہ اور حساس مسئلہ ہے۔
ان کے ساتھ بہت زیادہ ملائمت، پیار، شفقت کی ضرورت ہے اور یہ بہت طویل اور صبر آزما پراسیس ہے جس کے لیے والدین اور دیگر عزیر و اقارب کو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے ان کے جسمانی گھاؤ تو بھر جائیں گے لیکن درندوں کے ہاتھوں روح پر لگنے والے زخموں کا مداوا کیونکر ممکن ہو گا؟ ہاں! ان ویڈیوز کی غیر معمولی شہرت کے باعث نوجوانوں اور نو عمر بچوں کی اکثریت بھی یہ شرمناک ویڈیوز دیکھ رہی ہے جس سے ان میں بھی اس طرح کی رغبت اور الٹی سیدھی حرکات کا خدشہ سر اٹھا رہا ہے کیونکہ درندوں نے اسے سر بازار لا کر اخلاقی حدود کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔
والدین پر سب سے اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلام کے قواعد و ضوابط میں رہتے ہوئے بچوں کو جنسی حوالے سے ان کی عمر کے حوالے سے ضروری آگاہی دیں اور خدانخواستہ کسی ایسی صورتحال میں اپنی حفاظت اور پیش بندی سے بھی آگاہی اور رہنمائی کا فریضہ انجام دیں۔
سانحہ قصور کو منظر عام پر لانے اور اس کے تمام پوشیدہ حقائق کو طشت ازبام کرنے کے لیے معروف میڈیا گروپ نے جس طرح کوریج کی اس کی باز گشت نہ صرف ملکی اور بین الاقوامی میڈیا بلکہ حکومتی ایوانوں میں بھی سنی گئی اور حکومت کو اس کا سنجیدگی سے نوٹس لینا پڑا۔
سانحہ قصور کے بہت سے پس پردہ عوامل اور حقائق ہیں ان سب کی قطعی جذباتیت سے ہٹ کر بے لاگ اور غیر جانبدارانہ تحقیق اشد ضروری ہے۔ اس سانحہ میں بے بنیاد الزامات کی سیاست کا بھی شہرہ ہے جو اصل ملزم ہیں انہیں قرار واقعی اور عبرتناک سزا ملنی چاہیے جبکہ ملزموں کی رشتہ داری یا قرابت داری کے جرم میں بے گناہ افراد کو ملوث نہ کیا جائے کیونکہ ہمارا مذہب اور قانون دونوں اس کی اجازت نہیں دیتے اور تمام متعلقہ محکموں کو غیر جانبدارانہ طریقے سے ان کا کام انجام دینے دیا جائے۔
اب آخر میں اک جسارت! سانحہ قصور جیسے اِکا دْکا المناک واقعات ہمارے آس پاس رونما ہوتے رہتے ہیں لیکن ہم انہیں دانستہ یا غیر دانستہ نظر انداز کر دیتے ہیں کیا آپ کو نہیں معلوم چھوٹے بڑے ہوٹلز میں وسطی اور جنوبی پنجاب، کشمیر اور سرحد سے آنے والے کمسن بچوں کے ساتھ بڑی عمر کے ملازم لڑکے یا مالکان ان کا جنسی یا جسمانی استحصال نہیں کرتے، رات کو انہیں کیسے اور کس کے ساتھ سلایا جاتا ہے؟ کیا گلی محلے کی فیکٹریوں کارخانوں ورکشاپس پر گھروں کا مالی بوجھ اٹھانے والے ان کمسن بچوں کے ساتھ یہ درندگی نہیں ہوتی؟ مدارس اور سکولوں میں پیش آنے والے واقعات آئے روز اخبارات کی سرخیاں بنتے ہیں۔
یورپ اور امریکہ میں تو پادریوں کے ہاتھوں درندگی کا نشانہ بننے والے بچوں کی ذہنی بحالی اور کمپنسیٹ کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں ماسوائے اک داغ بدنامی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا؟ کیا جیلوں میں بند بدقماش اور صاحب حیثیت درندوں اور بھیڑیوں کے سیلوں میں رات کے وقت ان کے پسندیدہ نو عمر قیدی بچوں کو نہیں بھیجا جاتا؟ کیا یہ کسی ماں کے لخت جگر اور کسی باپ کے جگر گوشے نہیں؟معاف کیجئے گا!پورا نقشہ ہے عمارت کا بدلنے والا۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-14

(0) ووٹ وصول ہوئے