بند کریں
جمعرات مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ٹاپ ٹین کرپٹ محکموں میں پولیس سرفہرست
ملک سے کرپشن اور رشوت خوری کے خاتمے کیلئے نیب، ایف آئی اے کے ساتھ ساتھ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بھی کام کر رہی ہے لیکن افسوس اینٹی کرپشن کی کارکردگی انتہائی مایو س کن رہی
میاں علی افضل:
پاکستان کی ترقی وخوشحالی میں جہاں دہشت گردی سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہی کرپشن، قومی خزانے کی لوٹ مار، اختیارات کے ناجائز استعمال، رشوت خوری اور جعلسازی نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ملک سے کرپشن اور رشوت خوری کے خاتمے کیلئے نیب، ایف آئی اے کے ساتھ ساتھ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بھی کام کر رہی ہے لیکن افسوس اینٹی کرپشن کی کارکردگی انتہائی مایو س کن رہی کرپٹ افسران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کیلئے بنائی جانیوالی اینٹی کرپشن خود کرپٹ افراد کا آلہ کار بن گئی اور پنجاب بھر کے بلیک میلروں کیلئے سونے کی چڑیا بنی ہوئی ہے ہمیشہ کی طرح آج بھی اینٹی کرپشن میں بلیک میلر افراد افسران سے مل کر جھوٹی درخواستوں کے ذریعے سرکاری افسران اور سادہ لوح شہریوں کو پہلے بلیک میل کرتے ہیں اور کئی ماہ تک شہریوں اور سرکاری افسران کو خوار کرنے کے بعد اپنے تمام مطالبات منواتے ہیں۔
معاملات طے ہونے پر اگلے شکار کی طرف بڑھتے ہیں پھر دوبارہ دیگر افسران اورشہریوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں شروع کر دیتے ہیں کئی سالوں سے یہ سلسلہ اسی طرح چل رہا ہے جبکہ متعدد سیاستدان اینٹی کرپشن کو سیاسی اور مالی فوائد کیلئے بھی استعمال کر رہے ہیں ایکشن سے پہلے ہی کیس روک دئیے جاتے ہیں اینٹی کرپشن کی کاروائی صرف درجہ چہارم کے ملازم سے لیکر 16ویں سکیل کے ملازم تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور کانسٹیبل سے لیکر ایس ایچ اوز اور پٹواریوں کیخلاف کیسز اور مقدمات بنائے جاتے ہیں۔
اینٹی کرپشن کی کارکردگی کا جائزہ اس بات سے باآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ جس اینٹی کرپشن میں 60 فیصد سے زائد افسران و اہلکاروں کی سیٹیں خالی ہوں اس میں کام کرنے کی کیا صورتحال ہو گی جبکہ موجودہ افسران میں 80 فیصد انوسٹی گیشن افسران ڈیپوٹیشن پر کام کر رہے ہیں جن کی کارکردگی بھی تسلی بخش نہیں ہے۔ زیادہ تر افسران و اہلکار اپنے محکموں کے سفیر کے طور پر کام کر رہے ہیں اور اپنے محکموں کی انکوائریوں اور مقدمات میں ملوث اہلکاروں اور افسران کی سفارشوں میں مصروف رہتے ہیں اینٹی کرپشن ملتان ریجن کے علاوہ لاہور سمیت تمام ریجن کے دفاتر پرائیوٹ بلڈنگز میں ہیں جبکہ ہیڈ آفس کو خالی کرنے کے حوالے سے متعدد نوٹس آ چکے ہیں اور سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں لاہور ریجن سمیت مختلف ریجن کے دفاتر میں جنریٹرتک نہیں لائٹ جانے پر گھنٹوں کام ٹھپ ہو جاتا ہے دفاتر میں موجود کرسیوں میں کھٹمل ہیں جن پر بیٹھنا آسان نہیں اس صورتحال میں ملازمین کا کام کرنا محال ہو گیا ہے جبکہ کرپشن ،رشوت خوری کی انکوائریاں کرنیوالے اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ کے متعدد افسران و اہلکاروں خود کرپشن کے کیسوں میں ملوث ہیں اور ان کیخلاف اینٹی کرپشن میں ہی انکوائریاں چل رہی ہیں ماضی پر نظر ڈالیں تو اینٹی کرپشن میں، بریگیڈر (ر) اسلم گھمن، طارق سلیم ڈوگر ،کاظم علی ملک ، عابد جاوید و دیگر افسران بطور ڈائریکٹر جنرل کی سیٹ پر فرائض ادا کر چکے ہیں بریگیڈئر (ر) اسلم گھمن نے اینٹی کرپشن کو زیادہ سے زیادہ اختیارات کی منتقلی، نئے ریجن کے قیام اور سٹاف کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بہترین کوششیں کیں جبکہ کاظم علی ملک نے جھوٹی اور جعلی درخواستیں دیکر بلیک میل کرنیوالے افراد کا راستہ روکا عابد جاوید کے دور میں اینٹی کرپشن مسائل سے دو چار رہا۔
عابد جاوید نامعلوم وجوہات کی بناء پر اینٹی کرپشن میں مزیدکام کرنے کیلئے تیار نہیں تھے اینٹی کرپشن یونین کے ساتھ بھی ان کی طویل سرد جنگ جاری رہی اینٹی کرپشن میں ان مسائل کے ساتھ ساتھ بہت سے شعبوں میں بہتری بھی آ رہی ہے موجودہ ڈی جی اینٹی کرپشن انور رشید کی جانب سے بہتری کی کوششیں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ایک طرف جہاں خالی پوسٹوں کو پر کیا جا رہا ہے وہی ملازمین کو سہولیات بھی دی جارہی ہیں کرپٹ افسران اور ملازمین کیخلاف بھرپور کارروائی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
اشتہاریوں کی گرفتاری کی کوششیں بھی تیز کر دی گئی ہیں جبکہ انکوائریوں کو میرٹ کے مطابق مقررہ وقت پر مکمل کرنے کے حوالے سے بھی خصوصی احکامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی کارکردگی کے حوالے سے ہر ماہ میٹنگز کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں تمام ریجنز کے ڈائریکٹر شرکت کر رہے ہیں صوبے میں ہونیوالی کرپشن کو روکنے کیلئے موثر اقدامات کئے گئے ہیں، سفارش کلچر کا خاتمہ کیا جارہا ہے، جھوٹی درخواستیں دیکر بلیک میل کرنے والے افراد کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے، کرپٹ افسران و اہلکاروں کو نشان عبرت بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
ڈی جی انور رشید کی قیادت میں اینٹی کرپشن ایک ٹیم کی طرح کام کر رہی ہے تمام محکموں کے اعلی افسران سے رابطوں کیساتھ کرپشن اور رشوت خوری کنٹرول کرنے کیلئے تمام وسائل استعمال کئے جارہے ہیں۔ سینکڑوں کرپٹ افسران و اہلکاروں کیخلاف کرپشن اور رشوت خوری پر مقدمات درج کئے گئے ہیں اور گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ صوبائی محکموں میں کرپشن کی روک تھام کے حوالے سے مختلف رپورٹس کی تیاری جاری ہے جس میں کرپٹ محکموں کی نشاندہی کی جارہی ہے ماضی کی طرح آج بھی محکمہ پولیس کرپشن میں سب سے آگے ہے۔
اینٹی کرپشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق صوبائی محکموں کے ٹاپ ٹین کرپٹ محکموں میں محکمہ پولیس پہلے نمبر پر ہے رشوت خوری، کرپشن ، اختیارات کے ناجائز استعمال میں محکمہ پولیس نے تمام محکموں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے کرپشن اور رشوت خوری کے حوالے سے محکمہ ریونیو دوسرے نمبر پر، محکمہ لوکل گورنمنٹ تیسرے ، محکمہ ایجوکیشن چوتھے ، محکمہ ہیلتھ پانچویں، محکمہ آبپاشی چھٹے، پبلک ہیلتھ انجئیرنگ ڈیپارٹمنٹ ساتویں، محکمہ جنگلات آٹھویں، محکمہ سی اینڈ ڈبلیو ، نویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔
سرکاری پیسے کی کرپشن اور رشوت خوری پر محکمہ پولیس سمیت دیگر سرکاری محکموں کے افسران و اہلکاروں کیخلاف سینکڑوں مقدمات درج کئے گئے ہیں جبکہ ان محکموں کے افسران و اہلکاروں کیخلاف ہزاروں انکوائریز چل رہی ہیں اینٹی کرپشن کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ کے مطابق محکمہ پولیس کے افسران و اہلکاروں کیخلاف مجموعی طور پر 905 مقدمات درج ہیں جبکہ پولیس افسران و اہلکاروں کیخلاف 3 ہزار 560 انکوائریاں چل رہی ہیں محکمہ ریونیو 778مقدمات کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ محکمہ ریونیو کے افسران و اہلکاروں کیخلاف 800 انکوائریاں بھی چل رہی ہیں محکمہ لوکل گورنمنٹ 300 مقدمات کیساتھ کرپشن اور رشوت خوری میں تیسرے نمبر پر ہے جبکہ محکمہ لوکل گورنمنٹ کے افسران و اہلکاروں کیخلاف 250 انکوائریاں چل رہی ہیں محکمہ ایجوکیشن 137مقدمات کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے جبکہ محکمہ ایجوکیشن کے افسران و اہلکاروں کیخلاف مجموعی طور پر 270 انکوائریاں بھی چل رہی ہیں۔
محکمہ صحت 125 مقدمات کیساتھ پانچویں نمبر پر رہا جبکہ محکمہ صحت کے افسران و اہلکاروں کیخلاف 515 انکوائریاں چل رہی ہیں محکمہ آبپاشی 80 مقدمات کیساتھ چھٹے پر ہے جبکہ محکمہ آبپاشی کے افسران و اہلکاروں کیخلاف 265 انکوائریاں بھی چل رہی ہیں محکمہ، پبلک ہیلتھ انجئیرنگ ڈیپارٹمنٹ61 مقدمات کیساتھ ساتویں نمبر پر ہے جبکہ محکمہ کے افسران و اہلکاروں کیخلاف 100 انکوائریاں بھی چل رہی ہیں محکمہ جنگلات 60 مقدمات کیساتھ کرپشن اور رشوت خوری میں آٹھویں نمبر پر ہے جبکہ مقدمات کیساتھ محکمہ جنگلات کے افسران و اہلکاروں کیخلاف 125 انکوائریاں بھی چل رہی ہیں کرپشن اور رشوت خوری میں 56 مقدمات کیساتھ محکمہ سی ایند ڈبلیو نویں نمبر پر ہے جبکہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے افسران و اہلکاروں 100 انکوائریاں چل رہی ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-05

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان