تازہ ترین : 1
Thar Main Qehet Saali K Saaye

تھر میں قحط سالی سے اموات

عمر کوٹ‘ میرپورخاص‘ سانگھڑ‘ بدین کے اضلاع بھی متاثر وزیر اعلیٰ سندھ کے اس اعتراف کے بعد سب نے چپ سادھ لی ہے کہ ”گندم صحیح طور پر تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے تھر میں بچوں کی اموات ہوئیں۔

الطاف مجاہد:
صحرائے تھر میں غذائی قلت سے سینکڑوں بچوں کی اموات کے انکشاف کے بعد ضلع، صوبے بلکہ وفاق تک کے حکمران مِٹھی، ڈیپلو، چھاچھرو، ننگر اور کارو سنبھرو، ڈلیسر جا پہنچے۔ کل تک سندھ کی بیورو کریسی اور وزراء نیز ارکان اسمبلی ان اموات کا سبب غذائی کمیابی کے بجائے نمونیہ کو قرار دے رہے تھے لیکن وزیر اعلیٰ سندھ کے اس اعتراف کے بعد سب نے چپ سادھ لی ہے کہ ”گندم صحیح طور پر تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے تھر میں بچوں کی اموات ہوئیں۔
اگلی ہی سانس میں ان کا کہنا تھا کہ ”کافی بچے پیدائشی کمزور تھے سخت سردی کے باعث انہیں نمونیا بھی ہوا اور ان دو ماہ میں اکتالیس بچے ہلاک ہوئے، میڈیا کی رپورٹس میں مبالغہ ہے۔“
سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ سید بادشاہ ہیں ڈیڑھ درجن محکموں کے قلمدان ان کے پاس ہیں اور محکمہ صحت کی سیکرٹری شپ ان کے داماد نے سنبھال رکھی ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نمونیے کی ویکسی نیشن کس کی ذمہ داری تھی۔
سندھ میں 2008ء سے حکومت پی پی کے پاس ہے اور وزیر اعلیٰ کی مسند پر وہ مسلسل براجمان ہیں۔ عالمی ادارہ خوراک نے محکمہ صحت سندھ، یو ایس ایڈ اور دیگر تنظیموں کے اشتراک سے نیوٹریشن پائلٹ پراجیکٹ شروع کر رکھا ہے جس میں زیریں سندھ کے ٹھٹہ سجاول اضلاع کی 29 یونین کونسلوں کی 3 لاکھ 45 ہزار آبادی کو جو غذائی قلت کا شکار ہیں فائدہ پہنچ رہا ہے۔ صوبائی حکومت کے ذمہ داران سے پوچھا جا سکتا ہے کہ خوراک اور صحت اس پراجیکٹ میں شامل ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو وہاں کیلئے مختص فنڈز کہاں خرچ ہوئے کہ ڈھائی سو بچوں کی اموات معمولی بات نہیں۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کی سربراہ اور یو ایس ایڈ کے ڈائریکٹر ٹھٹھہ، سجاول کا دورہ کر کے گئے ہیں انہیں تھر کیوں نہیں لے جایا گیا جہاں دو ماہ سے غذائی قلت کے باعث بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے تھے۔
تھر آج خبروں کا موضوع ہے لیکن آنے والے دنوں میں سانگھڑ، عمر کوٹ، میر پور خاص اور بدین اضلاع تک یہ مصیبت پہنچ سکتی ہے کہ وہاں بھی غذائی قلت سے ہلاکتوں کا طوفان جنم لینے والا ہے۔
جس طرح کل تھر کی صور تحال پر سخت توجہ دینے کی بجائے حاکموں نے آنکھیں موند رکھی تھیں اسی طرح آج وہ زیریں ”لاڑ“ اور وسطی”وچولے“ کو بھولے ہوئے ہیں۔زیریں سندھ میں ٹھٹہ، سجاول بدین اور ٹنڈو محمد خان اضلاع کا شمار ہوتا ہے۔ تھر سے ملحقہ عمر کوٹ اور سانگھڑ اضلاع میں حالات سنگین ہیں کہ صحرائی پٹی ان ضلعوں سے گزرتی ہے جبکہ سانگھڑ کی تحصیل کھپرو میں تو خاصا وسیع رقبہ ”اجھڑو تھر“ کہلاتا ہے جو پسماندگی، غربت، افلاس اور بیچارگی میں تھر سے کہیں زیادہ متاثر تصور ہوتا ہے۔
آج تھر کی خشک سالی ایتھوپیا، صومالیہ اور سوڈان کی یاد دلا رہی ہے۔ آج ان اضلاع میں غربت کے جا بجا مناظر دیکھے جا سکتے ہیں، چارہ سے محروم مویشی اور غذا کی منتظر مائیں اور بزرگ میڈیا کو اپنا محسن گردانتے ہیں جو ان کا مسئلہ اْجاگر نہ کرتا تو آج بھی صوبے کی برگر کلاس تقریبات میں مگھن ہوتی۔ 2012ء میں بھی ایسی ہی صورتحال تھی جب محکمہ صحت نے تھر، بدین، میر پور خاص اور خیر پور اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا تھا آج بھی عمر کوٹ اور سانگھڑ سمیت متذکرہ بالا ضلعوں میں صورتحال دگرگوں ہے چہار سمت بھوک و افلاس کے ڈیرے، پانی، خوراک، بچوں کو دودھ، نرم غذا اور مویشیوں کو چارہ درکار ہے۔

عہدِ جدید میں ریاستوں کی پہلی ترجیح عوام کی فلاح ہوتی ہے لیکن پاکستان میں ایسا نہیں۔ کیوں؟ یہ سوال اپنی جگہ اہم بھی ہے اور جواب کا متقاضی بھی۔ اچھڑو تھر سے موصولہ ایسی رپورٹ میں مذکور تھا کہ یہاں سے منتخب پی پی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری اور فنکشنل لیگ کے رکن سندھ اسمبلی حاجی خدا بخش راجڑ دونوں کی دلچسپی نمایاں نہیں، منتخب نمائندوں نے عوام کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔
خشک سالی کے بعد نقل مکانی شروع ہے 120 دیہات کے مکین نقل مکانی کر چکے ہیں۔ اس علاقے میں مخدوم شاہ محمود قریشی کے مریدین یعنی غوثیہ جماعت، پیر پگاڑا کی حُر جماعت اور مخدوم امین فہیم کی سروری جماعت بکثرت آباد ہے لیکن الیکشن کے دنوں میں جھنڈے اور گاڑیاں لے کر دورِِ افتادہ مقامات تک در در اور گھر گھر ووٹ کی بھیک مانگنے والے ان ایام میں دکھئی نہیں دیتے ہیں۔
اس علاقے میں بھی بارش نہ ہونے کی وجہ سے انسانوں کے علاوہ مویشیوں میں بھی امراض دیکھے جا رہے ہیں۔ وٹرنری سٹاف دعوؤں کے باوجود ویکسی نیشن اور ادویہ کی فراہمی میں کامیاب نظر نہیں آ رہا۔
23 ہزار مربع کلو میٹر پر پھیلا کم و بیش 12 لاکھ افراد پر پر مشتمل آبادی والا ضلع تھر جو سنگین صورتحال سے دوچار تھا ہی لیکن اب پڑوسی اضلاع سانگھڑ، عمر کوٹ اور میر پور خاص و بدین اضلاع سے بھی خیر کی خبریں موصول نہیں ہو رہی ہیں جہاں کے ڈویڑنل اور ضلعی حکام نے ان اضلاع کو آفت زدہ قرار دینے کی سفارش کی ہے کہ یہاں بھی صحرائی پٹی موجود ہے اور خدشہ یہ بھی ہے کہ یہاں برسات نہ ہوئی تو پھر جون جولائی یعنی مون سون سے قبل یہاں تھر جیسی سنگین صورتحال کا سامنا کرنے پڑے گا۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اب تھر کے ساتھ ساتھ سانگھڑ، عمر کوٹ، لاڑکانہ، جیکب آباد اضلاع کو بھی غذائی قلت سے بچانے کے پروگرام میں شامل کیا گیا ہے، اس میں بدین کو بھی شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ غیر متوازن غذا نہ صرف خون کی کمی بلکہ جسم کے مدافعاتی نظام کو تحفظ دینے والے وٹامن کی کمی کا سبب بھی بنتی ہے جس کا نتیجہ ہلاکتوں کی صورت نکل رہا ہے۔

تھر میں اموات اور ملحقہ اضلاع کو ایسی صورتحال نظام حکومت اور حکمرانوں کی ناکامی کا دوسرا نام ہے۔ کیا سندھ اور وفاق میں مسندِ اقتدار پر براجمان لیڈر شپ اور اپوزیشن کا کردار کرنے والے سیاستدانوں کو اس قومی المیہ کا ادراک ہے؟ شاید نہیں۔ اب صورتحال کیسی بھی ہو حکومت کیلئے آزمائش کا وقت ہے۔ آفات سے خوفزدہ شُترمرغ کی طرح ریت میں گردن دبانے سے طوفان نہیں ٹلے گا اسے چیلنج سمجھ کر قدم اٹھانا ہو گا۔
وقت اشاعت : 2014-03-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں