تازہ ترین : 1
Thar Main Koyla Ki Kanoon Main Jari Kaam Ka Muaina

تھر میں کوئلہ کی کانوں میں جاری کام کا معائنہ

عالمی منڈیوں میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں 50فیصد سے زائد کمی کے بعد کوئلہ کی قیمت میں بھی کمی ہوئی ہے۔ ملک میں بجلی گھروں میں کوئلہ کا استعمال سب سے پہلے شکر اور سیمنٹ کی صنعتوں نے شروع کیا

عبدالقدوس فائق:
پاکستان اس وقت توانائی اورپانی کی شدید قلت سے دوچار ہے موجودہ حکومت کو انتخابات سے قبل اس بحران کے خاتمہ اور اس کے بڑے بڑے دعویٰ کرتی آئی تھی بے بس دکھائی دیتی ہے۔ اس صورتحال میں کون سا ملکی اورغیرملکی سرمایہ کاری کرے گا کون نئی صنعتیں لگائے گا جبکہ پہلے سے موجود صنعتیں بجلی اورگیس کی قلت سے بند ہوچکی ہیں اورجو چل رہی ہیں ان کی پیداوار میں نمایاں کمی ہوچکی ہے اور ملک میں تھوڑی بہت جوبجلی تیارہورہی ہے اس کی پیداواری لاگت بڑھا چڑھا کر14روپے یونٹ بتائی جارہی ہے۔
اس طرح دنیا میں سب سے مہنگی بجلی پاکستان میں تیار ہورہی ہے۔ حال ہی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی سالانہ رپورٹ میں ملک میں کوئلہ سے بجلی کی تیاری پرزور دیا تھا اور ا س سلسلہ میں کوئلہ سے جامشورو کے بجلی گھروں میں بجلی کی انتہائی کم قیمت پر تیاری سے آگاہ کیا تھا اور بتایاتھا کہ اس سے نہ صرف تقریباً پونے دو ارب امریکی ڈالرز سالانہ کے زرمبادلہ کی بچت ہورہی ہے بلکہ بجلی کی پیداواری لاگت کم ہوگئی ہے۔
دوسری طرف عالمی منڈیوں میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں 50فیصد سے زائد کمی کے بعد کوئلہ کی قیمت میں بھی کمی ہوئی ہے۔ ملک میں بجلی گھروں میں کوئلہ کا استعمال سب سے پہلے شکر اور سیمنٹ کی صنعتوں نے شروع کیا۔ اس سے سیمنٹ اورشکر کے پلانٹس کی پیداواری لاگت کم ہوگئی لیکن اس کیلئے جب سے اب تک کوئلہ درآمد کیاجارہا ہے کوئی دن ایسا نہیں جب کے پی ٹی اور پورٹ محمد بن قاسم پر کوئلے کے جہاز لنگرانداز نہ ہوں۔
دنیا بھر میں سب سے کم لاگت پر بجلی پانی سے تیار ہوتی ہے مگر ہم 1953ء کے منصوبے کے تحت 62سال گزرنے کے باوجود کالا باغ ڈیم نہیں بناسکے نہ کھپے کی آوازوں کے شور میں اس قومی منصوبہ پر عمل نہیں کیا جاسکا۔ سیاسی حکمرانوں کے ساتھ ساتھ فوجی آمر بھی ہر کام غیرآئینی اورغیرقانوین کرتے رہے مگر اس پرکوئی توجہ نہ دی۔ دوسرے نمبر پر کم لاگت کی بجلی ایٹمی بجلی گھروں سے حاصل کی جاتی ہے ا ورپاکستان اس شعبہ میں بہت پیچھے ہے۔
ساتھ ہی اس میں شدید خطرات بھی لاحق ہیں۔ اس لئے کہ ذرا سی غفلت سے چرنویل جیسے حادثے سے بڑی تباہی پھیلتی ہے۔ اس کے بعد تیسرے نمبر پر سستی بجلی کوئلے سے تیار کی جاتی ہے۔ برطانیہ میں کوئلہ سے تقریباً 70فیصد ‘بھارت میں 70فیصد اورعالمی سطح پراوسطاً 41فیصد بجلی کوئلہ سے تیار کی جاتی ہے۔ پاکستان میں محض 2سے 3فیصد ‘ جبکہ پاکستان میں صرف تھرمیں کوئلہ کے ایک کھرب 75ارب ٹن سے زائد کے ذخائر ہیں اس کے علاوہ بلوچستان اورپنجاب کے ذخائر ملا کر یہ دو کھرب ٹن سے بھی تجاوز کرجاتے ہیں مگر68سال گزرنے کے باوجود اس کوئلہ کو نکالنے کیلئے سرے سے کوئی کوشش نہیں کی گئی بلکہ تھر کے ذخائر کی دریافت کو 30سال کی مدت ہوچکی ہے اس پر طویل عرصہ وفاقی اورصوبہ سندھ کے درمیان مالکانہ حقوق کیلئے جنگ جاری رہی ا س دوران بڑی عالمی طاقتیں جن میں امریکہ بہادر بھی شامل ہے اس منصوبہ کی راہ میں مسلسل روڑے اٹکاتا رہا۔
18ویں آئینی ترمیم کے نتیجہ میں معدنی وسائل پرصوبوں کا حق تسلیم کئے جانے کے بعد وفاق اورصوبہ سندھ کے درمیان مالکانہ حقوق کی جنگ کا خاتمہ ہوا تو اسی کے ساتھ حکومت سندھ سرگرم ہوئی اس وقت اسد عمر اینگرو کارپوریشن کے پاکستان میں سربراہ تھے انہوں نے اس منصوبے کیلئے اینگرو کارپوریشن کوشرکت پر تیار کیا تو سندھ اینگرو کول مائنگ اور پھر سندھ اینگرو پاورکمپنیاں معرض وجود میں آئیں۔
اس کی سرمایہ کاری کیلئے چینی حکومت‘ چینی بینک اورپاکستانی بینک سے معاہدے کئے گئے اور منصوبے کا آغاز ہوگیا۔ حال ہی میں سندھ اینگرو کول مائنگ کمپنی نے صحافیوں کو تھر کے دورے کی دعوت دی تو صحافیوں کی ا یک تعداد تھر میں اسلام کوٹ پہنچی جس سے 25کلو میٹر دور کوئلہ کی کانوں پر کام جاری ہے۔ پہلے سندھ اینگرو کول مائنگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو شمس الدین احمد شیخ نے منصوبہ کی تفصیلات سے آگاہ کیا اوربتایا کہ تھرمیں کوئلہ کے 175ارب ٹن کے ذخائر ہیں جو سعودی عرب اور ایران کے مجموعی تیل کے ذخائر سے زیادہ ہیں اوریہ کہ تھر کو 12بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے اس وقت بلاک 2میں کان کنی اوربجلی گھروں کی تعمیر کے کام کا آغازکردیا گیا ہے۔
پہلے مرحلہ میں کانوں سے کوئلہ نکالنے اور330میگاواٹ اور330 میگاواٹ کے دو بجلی گھر دسمبر2017یا جنوری 2018ء میں مکمل ہوجائیں گے۔ پھر دوسرے مرحلہ میں اسی طرح 330میگاواٹ اور330میگاوٹ کے بجلی گھر‘ پھر تیسرے اورچوتھے مرحلہ میں صرف بلاک 2میں 3,960 میگاواٹ بجلی تیار ہوگی اورکانوں سے 2کروڑ 6لاکھ ٹن کوئلہ سالانہ نکالاجائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی کے 51 فیصد حصص حکومت سندھ اور49فیصد اینگرو کے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کیلئے چینی بینک 60کروڑ امریکی ڈالرز اورپاکستانی بینک 50ارب روپے فراہم کریں گے۔ شمس الدین احمد شیخ نے بتایا کہ کالا باغ ڈیم بہت پہلے بنالیناچاہیے تھا اورنہ بننے سے ملک میں پانی اوربجلی دونوں کی قلت اوربحران پیدا ہوا انہوں نے کہا کہ یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ اس سے پانی روک لیاجائے گا کیونکہ ڈیموں سے بجلی پیدا کرنے کیلئے پانی کو روکا نہیں جاسکتا۔
انہو ں نے بجلی اورپانی کے بحران میں کمی کیلئے منگلا اورتربیلا کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اوربتایا کہ کالا باغ ڈیم کی لاگت ارب 15ارب ڈالرز ہوچکی ہے لاگت میں اضافہ سے اس کی سرمایہ کاری میں شدید رکاوٹوں کا خدشہ ہوگا۔ ا نہوں نے بتایا کہ تھر پاکستان کا سب سے پسماندہ علاقہ ہے اوریہاں کے ہزارہا عورتوں اورمردوں نے آج تک کراچی تک نہیں دیکھا اس لئے سندھ اینگرو تھر میں تعلیم کے فروغ اورصحت کی سہولتوں کیلئے بھی کوشاں ہے دی سٹیزن فاؤنڈیشن کو اسکولوں کی تعمیر اورچلانے کیلئے فنڈز فراہم کئے گئے ہیں۔
بعد میں صحافیوں نے کانوں اوربجلی گھر کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ منصوبہ میں تیزی آگئی ہے پروجیکٹ مینیجر نعیم آفتاب پاشا نے بتایا کہ چینی ماہرین کی دو بڑی جماعتیں چین کے جدید ٹیکنالوجی کے حامل ڈمپرز بھی تھر پہنچ گئے ہیں اوربتدائی کام 70فیصد تک مکمل کرلیا گیا ہے۔ کوئلہ کی کانیں تقریباً 200میٹر گہری کھودی جائیں گی اورپندرہ پندرہ میٹر گہری ڈھلانوں کے ذریعہ کوئلہ تک پہنچاجائے گا۔
ماہرین کے مطابق زمین کی سطح سے 120میٹر گہرائی میں پہلے پانی کا بھاری ذخائر ہے جسے خارج کرکے ایک مصنوعی جھیل میں ڈالا جا ئے گا پھر 160 میٹر کی گہرائی میں کوئلہ تک پہنچاجائے گا اور وہاں سے کرینوں کے ذریعہ کوئلہ اوپر لایا جائے گا۔ کوئلہ کو صاف کرنے کیلئے ایک ریفائنری بھی لگائی جائے گی۔ کوئلہ کے یہ ذخائر ملک کیلئے ان حالات میں سونے سے زیادہ قیمتی ہیں۔
کانوں سے 5کلو میٹر دور محفوظ جگہ بجلی گھروں کیلئے مختص کردی ہے۔ یہاں بھی چینی ماہرین کی ایک ٹیم مقامی لوگوں کے ساتھ کام میں مصروف نظر آئی۔ ان مقامات سے واپسی پر کمپنی کے سائیٹ آفس میں چینی ماہرین نے برآمد کیاجانے والا کوئلہ دکھایا جو بھارت سمیت دیگرممالک کے کوئلے کے مقابلہ میں انتہائی وزنی اور معیاری ہے۔ اس موقعہ پر کمپنی کے لینڈ ریکوزیشن آفیسر فیاض سومرو نے بتایا کہ کانوں کے علاقہ میں مقامی لوگوں کی اراضی کی خریداری کا سلسلہ جاری ہے اورکمپنی نے حکومت کو ابتدائی طورپر 47کروڑ روپے ا دا کردیئے ہیں اور اراضی کے مالکان جب مصدقہ دستاویز حکومت کے ریونیو ڈپارٹمنٹ میں جمع کراتے ہیں تو انہیں فوری ادائیگی کردی جاتی ہے اور اب تک 17کروڑ 50 لاکھ روپے ادا کئے جاچکے ہیں۔
سومرو نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ علاقہ کی تمام زمین بارانی ہے اور اسکی مارکیٹ کی قیمت 25سے35ہزار روپے ایکڑ ہے لیکن کمپنی ڈیڑھ لاکھ روپے ایکڑ ادا کررہی ہے بعد میں انہوں نے ایک گاؤں سنہری درس کا دورہ کرایا جہاں کے باشندوں نے دیانت دارانہ ادائیگیوں کا اعتراف کیا تاہم اس موقعہ پر ایک بزرگ نے کہا کہ انہیں اس بات میں شبہ ہے کہ زمین کے نیچے کوئلہ ہے اور جب تک وہ اپنی آنکھوں سے کوئلہ نکلتا نہیں دیکھیں گے یقین نہیں آئے گا۔ اس منصوبہ کیلئے حکومت سندھ اسلام کوٹ سے کانوں تک سڑکیں بنارہی ہے موجودہ سڑکوں کی بھی توسیع کا عمل جاری ہے اور ایک چھوٹے ایئرپورٹ کی تعمیر کیلئے بھی پیش رفت ہورہی ہے۔
وقت اشاعت : 2015-01-27

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

قارئین کی رائے :

  • ساجدہ کی رائے : 27/01/2015 - 12:23:39

    اللہ کرے ایسا ہو جائے تو پاکستا ن کو کوئی بھی ترقی سے نہیں روک سکتا۔ ہما ری حکومتیں کام یا کوئی پروجیکٹ شروع کرتے ہیں لیکن کچھ عرصے بعد پتہ نہیں چلتا کہ وجہ کیا ہو تی کہ ختم کر دیتے ہیں۔ عوام صرف خبروں کے ذریعے پتہ چل جاتا ہیں لیکں عوا م تو بیچارے کیا کر سکتے صرف دعا کرسکتے ہیں کہ حکو مت صیع فیصلے کرنے کا تو فیق دے۔ امین۔ پا کستان پا ہندہ باد

    اس رائے کا جواب دیں

اپنی رائے کا اظہار کریں