تازہ ترین : 1
Tevta Ki Mansoba Bandi

ٹیوٹاکی منصوبہ بندی

چین۔ پاکستان اکنامک کاریڈور ایک حیرت انگیز عظیم معاشی منصوبہ ہے جس کا مقصد جنوب مغربی پاکستان کی بندر گاہ گوادر کو ہائی ویز ، ریلویز اور گیس پائپ لائنیز کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے چین کے شمالی مغربی خودمختار علاقے نرنگ جیان کے ساتھ ملانا ہے

خالد یزدانی:
چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور (CPEC) کا معاہدہ پاکستان کی 68 سالہ سیاسی ، سفارتی اور معاشی تاریخ میں ایک ایسے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے جہاں سے تمام راستے پاکستان کے لئے تعمیر و ترقی اور روشن منازل کی طرف جاتے نظر آتے ہیں۔ 46 ارب ڈالر کا یہ معاہدہ اپنے اندر خطے میں"گیم چینچر" ثا بت ہونے کے تمام لوازمات رکھتا ہے۔
اگر اس معاہدے پر حرف بحرف عمل ہو گیا تو پاکستان حقیقتََا ایک ترقی کرتا ہوا ملک بن جائے گا۔اس کے ساتھ ہی پاکستان کو شنگھائی کو آپریشن آرگنائزیشن (SCO) کی مکمل ممبر شپ بھی مل گئی ہے۔ اس اتحاد میں شمولیت کے بعد ایک طرف پاکستان کے لئے توانائی کے ذرائع سے لبریز وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ تعاون کی راہیں کھلیں گی اور پاکستان اپنے توانائی سے متعلق شدید مسائل کو حل کرنے کے قابل ہوجائے گا تو دوسری طرف پاکستانSCO ممبر ممالک کو اپنی زمینی اور سمندری راہداری فراہم کرے گا جس سے وسط ایشیائی ممالک کو نہ صرف خطے میں بلکہ اس سے آگے بڑھتے ہوئے عالمی تجارت اور معیشت میں اپنا حصہ وصول کرنے کے امکانات پیدا ہو نگے۔
گویا ہر ملک اپنے لئے فائدے حاصل کر سکے گا اور مجموعی طور پر خطے کی اقتصادی و سیاسی صورتحال میں بہتری پیدا ہوگی۔اسطرح پاکستان عالمی معیشت میں تعاون اور سٹریٹیجک اہمیت کے ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔
چین۔ پاکستان اکنامک کاریڈور ایک حیرت انگیز عظیم معاشی منصوبہ ہے جس کا مقصد جنوب مغربی پاکستان کی بندر گاہ گوادر کو ہائی ویز ، ریلویز اور گیس پائپ لائنیز کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے چین کے شمالی مغربی خودمختار علاقے نرنگ جیان کے ساتھ ملانا ہے۔
اسکی لمبائی 3 ہزار کلو میٹر ہے اور اے 46 ارب ڈالر کی لاگت سے 3 سال کے اندر اندر مکمل اور فعال کردیا جائے گا۔ یہ منصوبہ اکیسویں صدی کے چینی شاہراہ ریشم منصوبے کی ایک توسیعی کڑی ہے اس سے پاکستان ایک موثر اور امیر ملک بن جائے گا۔
حیران کن بات یہ ہے کہ اس منصوبے کے لئے درکار 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری چین کے ذمے ہے۔ اس کاریڈور کے لئے تعمیراتی کام پاکستان میں سر انجام پانا ہے۔
اس کے لئے ہزاروں نہیں لاکھوں ہنر مند درکار ہوں گے یہ ہنر مند افرادی قوت کہاں سے آئے گی؟ یقینا پاکستان اسکی بہت بڑی سورس ہو گی دوسری طرف 2023 فیفا ورلڈ کپ ہو رہا ہے جس کے لئے قطری حکومت ایک نیا شہر بسانے جا رہی ہے اسکی تعمیر کے لئے وہ پاکستان سے ہنر مند افرادی قوت طلب کر رہے ہیں۔ یہاں بھی ہزاروں نہیں لاکھوں ہنرکار درکار ہیں۔ پاکستان اس صورتحال سے بہت بڑا فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔
ہنر مندوں کی ایکسپورٹ اس کا راستہ ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے اگلے 4 سالوں میں قطر، دبئی اور دیگر خلیجی ممالک میں پاکستان سے 2 لاکھ ہنر مند افراد کو بھجوانے کا ٹارگٹ طے کیا ہے۔ سکلز ڈویلپمنٹ سیکٹر پلان میں 2018 تک 20 لاکھ ہنر مند افرادی قوت کی تیاری کا ہدف طے کر لیا ہے تاکہ ملک و بیرون ملک ہنر مندوں کی طلب کو پورا کیا جا سکے اور معاشی تعمیر و ترقی کے پیدا ہونے والے امکانات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
حکومت پنجاب اس ٹارگٹ کے حصول کے لئے شبانہ روز مصروفِ عمل ہے وزیر اعلیٰ پنجاب اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہ کرنے اور کسی کو رعایئت نہ دینے کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔ٹیوٹا اس حوالے سے مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ٹا رگٹ کے حصول کے لئے ٹیوٹا میں پرائیویٹ سیکٹر سے ایک جوان ہمت اور بالغ نظر عرفان قیصر شیخ کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ وہ ٹیوٹا کو طے شدہ اہداف کے حصول کے لئے متحرک کریں۔
عرفان قیصر شیخ نے چیئر مین کا چارج سنبھالتے ہی وزیر اعلیٰ کے وڑن کے مطابق یہاں بڑی تیزی سے کام شروع کر دیا ہے۔
ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی ( TEVTA) اپنے بالغ نظر چیئر مین عرفان قیصر شیخ کی قیادت میں مثبت تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔شیخ کا تعلق سرمایہ کار اور صنعت کار طبقے سے ہے وہ ٹیوٹا کو سست سرکاری ادارے سے نکال کر ایک فعال اور متحرک اتھارٹی بنانے کے لئے کمر بستہ ہیں۔
گزرے آٹھ ماہ کے دوران انہوں نے یہاں پبلک پرائیویٹ سیکٹر کے ملاپ و اشتراک کی پالیسی کے تحت فنی تربیت کے کئی منصوبے شروع کئے ہیں جو کامیابی سے چل رہے ہیں
پبلک پرائیویٹ پا رٹنرشپ (PPP) کر نظریے کے تحت نجی شعبے کو ٹیوٹا چلانے کے لئے مشاورت میں شامل کر کے ایسے ٹریڈ کورسز کانصاب تیارکیا جا رہا ہے جن کی مارکیٹ میں طلب ہے ٹیوٹا کے چیئر مین کا کہنا ہے کہ ٹیوٹا کو ایسے ہنر مند تیار کرنے چاہیئں جن کی مارکیٹ میں طلب ہو، ایسی ہنر مندی کو فروغ ملنا چاہئے جو نہ صرف لوکل انڈسٹری کے لئے فائدے مند ہو بلکہ یہ ہنرمند بیرون ِ ملک جا کر بھی نہ صرف اپنے آپ کے لئے بلکہ ملک و قوم کے لئے بھی فائدے مند ثابت ہوں یہی وجہ ہے کہ نجی شعبے کی مشاورت سے ٹیوٹا ایسے ہی ہنر مند تیار کرنے کے لئے مستعد ہو چکا ہے۔
پبلک پرائیویٹ پا رٹنرشپ کا نظریہ نتیجہ خیز ثا بت ہو رہا ہے۔
ٹیوٹا نے حال ہی میں سہ ماہی اور شش ماہی کورسزکا اجراء کیا ہے جن کی لوکل اور فارن مارکیٹ میں شدید طلب ہے۔۔ استاد شاگرد پروگرام کا اجراء بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت کارآمد ہنر مندی کو فروغ دیا جا رہا ہے اس پروگرام کا مقصد ایسے ہنر مندوں کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنا، انہیں سرٹیفائی کرنا ہے جو مارکیٹ میں کام کر رہے ہیں انکے پاس ہنر ہے صلاحیت ہے لیکن ان کے پاس ہنر مندی اور صلاحیت کا سرٹیفیکٹ نہیں ہے اسلئے وہ نہ تو باہر جا کر ملازمت کر سکتے ہیں اورنہ ہی اندرون ملک کہیں بہتر روزگار حاصل کر سکتے ہیں ( RECOGNITION OF PRIOR LEARNING)یعنی استاد شاگرد پروگرام کے ذریعے ٹیوٹا ایسے ہی ہنر مندوں کو بہتر روزگار حاصل کرنے کے مواقع فراہم کر رہا ہے اسطرح ٹیوٹا صنعت کے دونوں اطراف میں کام کر رہا ہے مارکیٹ کو درکار ہنر مند بھی تیار کر رہا ہے اور ہنر مندوں کے لئے مارکیٹ بھی بنا رہا ہے۔

ٹیوٹا کے چیئر مین کے بقول " ہم صرف لیبر مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کی کاوش نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہنرمندی کے اقتصادی ، معاشی اور غیر اقتصادی فوائد حاصل کر نے کے لئے بھی کاوشیں کر رہے ہیں۔ ہم نے مشرقِ وسطیٰ کی لیبر مارکیٹ میں اپنے ہنر مندوں کو کھپانے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی ہے۔ اس مقصد کے لئے ٹیوٹا سیکریٹریٹ میں ایک خصوصی سیل بھی قائم کیا ہے جو بڑے منتظم انداز میں ہنر مندوں کو بیرونِ ممالک بھجوانے کا کام کر رہا ہے۔
"
ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت فیفا ورلڈکپ کے انعقاد کے لئے قطر کو 14لاکھ ہنر مندوں کی ضرورت ہے۔ انفراسٹرکچر سٹیڈیم ، ریلوے لائنز ، سڑکیں ، ہوٹلز اور اسی طرح کے دیگر پراجیکٹس کی تکمیل لے لئے جو ہنر مندی درکار ہے ٹیوٹا اپنے بالغ نظر اور متحرک چیئر مین عرفان قیصر شیخ کی قیادت میں اس کی دستیابی کے لئے کوشاں ہے۔ انکی کاوشوں سے تھوڑے ہی عرصے میں ٹیوٹا نے فعالیت کی کئی منازل طے کر لی ہیں اور کئی منصوبے اپنی تکمیل کی منازل طے کر رہے ہیں۔ ٹیوٹا ہنر مندوں کی تیاری اور انہیں روزگار کے حصول میں معاونت کی فراہمی کے ذریعے ایک فعال اور موثر ادارے کے طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔
وقت اشاعت : 2015-08-01

(1) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں