بند کریں
پیر مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
تحریک طالبان پنجاب کا ہتھیار ڈالنے کا اعلان
دہشت گردی کا عفریت ختم ہونے کو ہے!۔۔۔۔ مسلسل کامیابیاں کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصہ میں یکے بعد دیگر ے ایسے اہم واقعات ہوئے ہیں جن سے ثابت ہوا کہ طالبان کی تحریک حقیقتاًطاقت کھور ہی ہے
کامران امجد خان:
نائن الیون کے بعد دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی بن کر پاکستان نے لاتعداد قربانیاں دی ہیں۔ افغانستان سے شررع ہونے والی ا س جنگ نے پاکستان کے تقریباََ تمام شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بم دھماکوں، خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دوسری وارداتوں نے ہمارے شہریوں کا جینا مشکل کر دیا، سرمایہ کار بھاگ گئے، کھیلوں کے میدان ویران ہو گئے، غیرملکی ٹیموں نے پاکستان آنا چھوڑ دیا اور پوری دنیا میں ہمارا ملک دہشت گردی کا مرکز بن کر رہ گیا۔
سبز پاسپورٹ رکھنا ایک جُرم بن گیا۔ 49 ہزار شہریوں کی قربانی دینے کے باوجود ہم ایک طرف امریکہ کی ناراضگی کا شکارتھے اور دوسری طرف دہشت گردی کا عفریت ہمارے ملک کی جڑیں کھوکھلی کرتا چلا جا رہا تھا۔ ان حالات میں پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کُن جنگ ” آپریشن ضرب عضب “ کا فیصلہ کیا۔ 15 جون 2014ء کو شروع کیے جانے والے اس آپریشن کے نتیجے میں ایک ہزار کے قریب دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، جن میں طالبان کے کئی اہم رہنما شامل ہیں۔
درجنوں ٹھکانے تباہ اور طالبان کی قوت پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔ طالبان گروپوں کو تقسیم اور کمزور کرنے میں بھی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔
ان مسلسل کامیابیاں کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصہ میں یکے بعد دیگر ے ایسے اہم واقعات ہوئے ہیں جن سے ثابت ہوا کہ طالبان کی تحریک حقیقتاًطاقت کھور ہی ہے۔ طالبان کمانڈر عدنان، رشید، القاعدہ کمانڈر مفتی زبیر مروت اور اُن کے دوقریبی ساتھیوں سمیت متعدد اہم دہشت گرد گررفتار و ہلاک ہوئے ہیں۔
دہشت گردوں کے حملوں میں واضح کمی ہوئی ہے ۔ اگست 2014 میں پاکستان سکیورٹی فورسز نے پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر اجمل خان کو دہشت گردوں کے قبضے سے بازیاب کروالیا اور وہ بخیریت اپنے گھر واپس پہنچ گئے۔ اجمل خان کو ستمبر 2010 میں دہشت گردوں نے پشاور سے اغوا کر کے وزیرستان پہنچا دیا تھا۔ یہ دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کی بڑی کامیابی تھی۔
ایک بڑی حالیہ کامیابی اس وقت ملی جب 10 دہشت گردوں پر مشتمل گروہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ گروہ جسے ”شوریٰ“ کا نام دیا گیا تھا، دراصل ملالہ یوسف زئی پر حملے میں ملوث تھا۔ ان سب سے اہم واقعہ 13 ستمبر 2014 کو سامنے آیا جب تحریک طالبان پنجاب نے ہتھیار ڈالتے ہوئے پاکستان میں عسکری کارروائیاں بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ ٹی ٹی پی پنجاب کے امیر عصمت اللہ معاویہ نے اپنے اعلان میں دیگر طالبان گروپوں کو بھی دہشت گردی کی کارروئیاں چھوڑ کر مذاکرات کی میز پر آنے کی مشعورہ دیا ۔
اُنہوں نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کی امداد اور آئندہ صرف تبلیغی سرگرمیوں تک محدود رہنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
تحریک طالبان پنجاب کے ہتھیار ڈالنا کئی لحاظ سے بے حد اہم ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد انتہائی ایکٹیو، تربیت یافتہ اور کمانڈ وسٹائل حملوں کے ماہر تھے۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں ہونے والی منظم دہشت گردی کی وارداتوں میں یہی گروہ ملوث تھا۔
ان کے لوگ انتہائی تربیت یافتہ اور جنگجو کمانڈو ہیں۔سری لنکا کی کرکٹ ٹیم اور مناواں پولیس ٹریننگ سنٹر لاہور پر حملوں میں یہی گروہ ملوث تھا۔ براہ راست حملوں میں بھی تحریک طالبان پنجاب سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد سب سے آگے ہوتے تھے۔ یہ ماہر نشانہ باز گوریلا کارروائیوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کے ہتھیار ڈالنے سے طالبان کے منظم حملے کرنے کی قوت تقریباََ ختم ہو گئی ہے جس کی تصدیق ڈی جی آئی ایس پی آر نے بی کی ہے۔
یہ طالبان گروہ پنجاب میں کارروائیاں کرنے کے لئے وزیرستان سے تربیت لیتے اور پھر وہیں جا کر پناہ لے لیتے تھے مگر وزیرستان میں ان کی پناہ گاہیں ختم ہو جانے سے ان کے لئے نقل وحرکت ناممکن ہوگئی تھی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں ملنے والی مسلسل کامیابیوں نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے ۔ وہ اب بڑے حملے کرنے کے قابل نہیں رہے اور اکثر طالبان گروہ اب ہتھیار ڈالنے کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
گروپوں میں تقسیم طالبان اب اِکا دُکا حملے کر رہے ہیں۔
یقینا یہ بڑی کامیابیاں ہیں اور ایک طویل عرصہ دہشت گردی کے خوف میں مبتلا رہنے والی پاکستانی قوم کو اب اس عفریت سے نجات ملنے کی اُمید ہو رہی ہے۔ تاہم اس کے لئے حکومتی سطح پر بھی اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری موجودہ آپریشن کے لئے تمام سیاسی و عوامی حلقوں کی سپورٹ پاک فوج کے ساتھ ہے۔
اگر چہ حکومت نے ابتداء میں اس حوالے سے فیصلہ کرنے میں تاخیر کی تاہم اب وہ اس کی مکمل حمایت کر رہی ہے، اس حمایت کو جاری رکھنے اور اس کی تائید کی ضرورت ہے۔ ہتھیار ڈالنے پر تیار طالبان گروپوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ضمن میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہ گروہ ماضی میں فرقہ ورانہ تنظیموں سے وابستہ رہے ہیں۔
اب اگر یہ تبلیغی سرگرمیوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں تواس بات کا خیال رکھا جائے کہ ی فرقہ واریت پرمبنی سرگرمیاں نہ شروع کر دیں۔
آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں ملنے والی حالیہ کامیابیوں سے دہشت گردی کو خاصی حد تک ختم کر نے میں مدد ملے گی ، مگر ہمیں ہر سطح پر اُن وجوہات کا بھی خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے دہشت گردی کو پہننے کا موقع ملتا ہے۔ ٹی ٹی پی جیسے گروہ طاقتور ہوتے ہیں اور کم عمر نا سمجھ نوجوان اُن وجوہات کا خاتمہ کر کے ہی مہم دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے، ہمارے ملک میں بھی امن و سکون ہوگا، سرمایہ کاری آئے گی، کھیلوں کے میدانوں کی ایرانیاں ختم ہوں گی اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے گا۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-02

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان