بند کریں
جمعرات مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
تحریل طالبان پاکستان کے تابوت میں آخری کیل۔۔۔۔۔۔
پنجابی طالبان کا عسکری کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان!۔۔۔۔ طالبان تحریک اندورنی بدا عتمادی کی وجہ سے اس مقام تک پہنچ گئی ہے کہ اسکے حصے بخرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں
محمد رضوان خان:
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے اندر مئی 2014ء کے اواخر سے جو چپقلش شروع ہوئی تھی اس کا اختتام ہونے میں ہی نہیں آرہا۔ ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ اختلافات کی اقسام اس اعتبار سے ترتیب دی گئی ہیں کہ ایک سلسلہ ختم ہوتا ہے تو دوسرا شروع ہو جاتا ہے جیسے پہلے پہل طالبان کے درمیان آپس میں جنگ چھڑی اس جنگ میں دودرجن سے زائد جنگجو اپنی جان گنوا بیٹھے۔
ابھی جھڑپیں جاری تھیں کہ اسکے دوران فوجی چیک پوسٹ پر حملہ ہوتا ہے جس کے بعد حکومتی ادارے سرچ آپریشن کرتے ہیں جس کے دوران مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی ہوتی ہے اور یہیں سے بات بگڑنا شروع ہو گئی تھی۔ جس پر حافظ گل بہادر کی طرف سے ناراضگی کا اظہار کیا گیا اور ان کارروائیوں کی بندش کیلئے پہلے 9 جون کی ڈیڈ لائن دی جاتی ہے اور پھر اس میں عیدالفطر تک کی عین اس وقت توسیع کر دی گئی جب آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس توسیع کے بعد حافظ گل بہادر کا بھی ابھی تک کوئی پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں؟ اگر بات صرف حافظ گل بہادر کی خاموشی تک ہی محدود رہتی تو بھی خیر تھی لیکن یہاں تو حکومت یہ ہے کہ جب سے آپریشن ضرب عضب شروع ہوا ہے اس وقت سے لیکر اب تک طالبان کا ہی کوئی اتہ پتہ نہی کہ وہ کہاں گئے، انہیں زمین نگل گئی یا آسمان نے اچک لیا کیونکہ 15 جون سے آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا تھا اور اس دن سے طالبان کی آواز گویا کہیں کھو گئی تھی۔
تاہم جب سے طالبان کے اندر نیا دھڑا بناہے یہ آواز اب پوری شدومد کے ساتھ سامنے آرہی ہے لیکن اس جوش و ولولے کو دیکھ کر ایسالگ رہا ہے کہ جیسے طالبان اب اپنے وجود کی بقاء میں مصروف ہیں اور ظاہر کہ اس عمل میں شدت کا ہونا بھی فطری امر ہے ۔ اس عمل میں پہلے طالبان تقسیم ہوئے جس کے دوران تحریک طالبان پاکستان (احرارلہند) کی نئی تقسیم کا قیام عمل میں لایا گیا۔
اس نئے گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت ہی درحقیقت تحریک طالبان ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان (احرارالہند) ہے اب دونوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اصل طالبان کی نمائندگی کے حق دار ہیں۔ گویا تنظیم ایک ہے اور اس اعتبار سے اگر یہ کہا جائے تو بے جانہ ہو گا کہ طالبان تحریک اندورنی بداعتمادی کی وجہ سے مقام تک پہنچ گئی کہ اسکے حصے بخرے ہوتے دکھائی دہے رہے ہیں تاہم تنظیم کی تقسیم یا پھر موجودہ اختلافات کے خاتمے کی کنجی اب بھی افغان طالبان کی قیادت کے ہاتھ میں ہے کیونکہ دونوں ہی تنظیموں نے ملا عمر کیلئے احترام کے جذبات دکھائے ہیں۔
جس کا مطلب یہ ہواکہ طالبان کو شاید متحد کرنے کی راہیں ابھی مسدود نہیں البتہ سردست حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے خدشات کا سراٹھانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ تاحال افغان طالبان کی طرف سے اس ضمن میں کسی ایک پلڑے میں حمایت نہیں ڈالی گئی جس کا مطلب بعض حلقے یہ لے رہے ہیں کہ ملا عمر شاید ابتداء میں یہ چاہتے ہیں کہ فریقین پر کوئی مصالحت مسلط کرنے سے بہتر ہے کہ پہلے خود انہیں ایک موقع دیا جائے کہ وہ اس صورتحال کو ختم کریں اور اگر یہ حالات بہتر نہیں ہوتے تو پھر اگلے کسی مرحلے میں مداخلت کی جائے۔
تاہم طالبان حمایتی حلقوں میں اس معاملے پر یہ رائے بھی موجود ہے کہ فریقین میں سے کسی ایک نے بھی ابھی تک طالبان کی اعلیٰ ترین قیادت سے اس معاملے میں مدد نہیں مانگی اور شاید یہی وجہ ہے کہ ابھی تک اس کی طرف سے کوئی ردعمل نہیںآ رہا۔
پاکستان میں طالبان کی تحریک دو دھڑوں میں بٹ چکی ہے اور یہ دونوں سردست آپس میں ہی ایک دوسرے کو ردعمل دے رہے ہیں۔
ان الزامات اور جوابی الزامات کے دوران طالبان تنظیم کی طاقت بھی منتشر ہوتی جار ہی ہے جو کم از کم دہشت گردی کے خاتمے کیلئے خوش آئند ہے لیکن اس ذکر سے قبل ضروری ہے کہ طالبان کے یہ دھڑے اپنی نوک جھونک کا کس طرح اظہار کر رہے ہیں۔مہمند ایجنسی میں تحریک طالبان پاکستان بنا کر اسکے ساتھ احرارالہند کا لاحقہ بھی لگا دیا ہے اور یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ طالبان کی حقیقی تنظیم وہ ہیں۔
اس کے جواب میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے تفصیل کے میڈیا کو وضاحت بھیجی۔ ان کے اس پیغام کے بعض مندرجات تو شائع ہو چکے ہیں جس میں انہوں نے یہ وضاحت کی ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ان لوگوں کو تحریک طالبان پاکستان سے بے دخل کر دیا گیا ہے جنہوں نے تحریک طالبان پاکستان (احرارالہند) کی داغ بیل ڈالی۔ یہ پیغام بلا کم و کاست پیش ہے جس میں مسلسل مداخلت ‘جنود خراسان اور احرارالہند جیسی مشکوک تنظیموں کے ساتھ راوبط اور الحاق کی بنا پر کمانڈر عبدالولی عرف عمر خالد خراسانی کو حلقہ مہمند ایجنسی کی مسئولیت سے معزول کر دیا ہے‘ مشاورت کے بعد نئے مسئول (امیر) کا اعلان کریں گئے۔
تحریک طالبان پاکستان ایک خالص نظریاتی اور عسکری جماعت ہے جو پوری دنیا اور خصوصاََ پاکستان میں شریعت محمدی کی بالادستی کی جنگ لڑ رہی ہے، سات ‘آٹھ سال سے مختصر عرصے میں اس مبارک تحریک نے سیکولر جمہوری نظام کے خاتمے اور شریعت محمدی کی بالادستی کے سفر میں ہزاروں شہداء ‘یتامیٰ ، بیوگان اور اسیران اسلام کی قربانیوں کی بدولت نہایت واضح کامیابی حاصل کی ۔
تحریک طالبان پاکستان امارت اسلامی افغانستان کو اپنا مرکز اور امیرالمومنین ملا محمد عمر مجاہد حفظہ اللہ کو اپنا شرعی امیر سمجھتی ہے اور اپنے جملہ امور اور مسائل کو اسلامی اصولوں پر مبنی شورائی نظام کے ذریعے حل کرتی ہے ۔ سیکولر کفری نظام کے خاتمے اور شریعت محمدی کی بالادستی کیلئے مسلح جدوجہد کی پالیسی کے ساتھ اندورنی مسائل کے حل کیلئے ہمارے پاس اسلام کے روشن اصولوں پر مبنی ایک بہترین اصلاحی پالیسی بھی موجود ہے جس پر ہم مخلص اور باصلاحیت علماء کرام اور جہادی امراء کی رہنمائی میں ہمیشہ عمل پیرا رہتے ہیں۔
تحریک طالبان اسی بہترین اور سنہری پالیسی کے نتیجے میں ماضی اور حال میں بڑے مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کر کے بحمد اللہ مجاہدین کی جماعت کی اصلاح کر چکی ہے ،باجوڑ ایجنسی میں مولانا فقیر محمد اور دیگر ساتھیوں کے درمیان بعض مسائل پر موجود اختلافات کا مکمل خاتمہ ‘ خبیر ایجنسی میں لشکر اسلام اور درہ آدم خیل کے ساتھیوں کے درمیان جاری لڑائی کا خاتمہ اور ابھی حال ہی میں محسود مجاہدین کے درمیان اختلافات اور لڑائی کے معاملے کا مکمل تصفیہ اس حکمت عملی اور اعلیٰ پالیسی کی چند مثالیں ہیں ۔
مسلمانوں اور مجاہدین کے مابین بعض معاملات پر اختلافات رائے اور مسائل کا پیدا ہونا ایک فطری امرہے تاہم ان کے شرعی حل سے انحراف اور ہٹ دھرمی نہایت خطر ناک ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کے اجتماعی نقصان پر منتج ہوتا ہے، تحریک طالبان مہمند ایجنسی کے مسئول محترم کمانڈر عبدالولی خراسانی نے تحریک طالبان کی پالیسی کی واضح مخالفت کرتے ہوئے امارت اسلامی افغانستان کے معالات میں مسلسل مداخلت کر کے امت مسلمہ کی نظروں میں تحریک طالبان کو مشکوک بنانے کی کوشش جاری رکھی بلکہ بعض دفعہ تو نوبت باقاعدہ ٹکراوٴ تک بھی جا پہنچی،ایسے ہی ایک معاملے میں امارات اسلامی کے خلاف باقاعدہ ایک بیان جایر کرنے کی بنا پر تحریک طالبان نے مہمند سے تعلق رکھنے ولے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کو معزول کر دیا تھا، اس کے علاوہ تحریک طالبان کے بعض حلقوں کو اپنے معاملات میں غیر ضروری مداخلت کی بنا پر بھی ان سے سخت شکوہ تھا، تحریک طالبان کی مرکزی شوری کو بھی بعض اہم معاملات میں ان کے مبہم اور غیر واضح کردار پر شدید تحفظات تھے۔
ان تمام معاملات میں انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کی اصلاحی پالیسی سے مسلسل انحراف کیا اور اب امیر محترم مولان فضل اللہ حفظہ اللہ کی داخلی اصلاح کی اعلیٰ کوششوں سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے اپنے حلقے کا احرارالہند نامی ایک ایسی تنظیم کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا جس کا کردار تمام جہادی جماعتوں اور مسلمانوں کی نظروں میں نہایت مشکوک ہے ، وہ اس سے قبل امارت اسلامی افغانستان میں جنود خراسان کے نام سے بھی ایسی ہی ایک مشکوک تنظیم کی سرپرستی کررہے ہیں، ان کا یہ منفی کردار امت مسلمہ کی امنگوں اور نیک تمناوٴں کی محورامارت اسلامی افغانستان، تحریک طالبان پاکستان اور دیگر جہادی جماعتوں میں افتراق اور انتشار پیدا کرنے کی خطرناک کوشش اور گھناوٴنی سازش ہے۔
تحریک طالبان جنود خراسان اور احرارالہند جیسی آلہ کار نظر آنے والی تنظیموں کے ذریعے امارت کے خلاف کسی سازش کر ہر گز برداشت نہیں کرسکتی ‘ لہٰذا تفصیلی غور وخوض کے بعد تحریک طالبان پاکستان کی رہبری شوریٰ نے امیر محترم مولانا فضل اللہ حفظہ اللہ کی تائید اورف توثیق کے ساتھ کمانڈر عبدالو عرف عمر خالد خراسانی کو تحریک طالبان مہمند ایجنسی کی مسئولیت سے معزول کر کے تحریک طالبان پاکستان سے ان کی رکنیت کو بھی منسوخ کر دیا ہے۔
تحرک طالبان پاکستان ماضی میں اس مشکوک تنظیم سے کئی رہنما یا عام ساتھی کو اس بات کی قطعاََ اجازت نہیں دے گئی کہ وہ مسلسل تحریک کی پالیسی کو پامال کرے اور ایسے مشکوک اور منفی کردار میں ملوث جماعتوں سے تعلق رکھے۔ تحریک طالبان نے رہبری شوریٰ اوردیگر قابل اعتماد فورمز پر کسی بھی مسئلے کے حل سے کبھی پہلو تہی کی ہے اورنہ آئندہ کرے گی، تاہم کسی شخص کو اس فورم سے ماوراء تحریک اور دیگر جہادی جماعتوں میں اختلافات کی راہ ہموار کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دے گی، تحریک طالبان پاکستان ، حلقہ مہمند ایجنسی کیاہم ساتھیوں سے ضروری مشاورت کے بعد انشاء اللہ عنقریب نئے (امیر) کا اعلان کرے گی۔
ہم امت مسلمہ کو یہ اطمینان دلاتے ہیں کہ آپ کے بھائی مجاہدین ہر قسم کی سازشوں اور مشکلات کے باوجود سیکولر نظام کے خلاف پوری قوت کے ساتھ جنگ میں مصروف ہیں ۔ نظریے اور عقیدے پر سودا کرنا تو درکنار ہم تحریک پاکستان کے نام میں بھی کسی قسم کی تبدیلی کو قبول کرنے کیلئے ہر گز تیار نہیں ہیں حالانکہ حکومت اور اس کی خفیہ ایجنسیاں امارت اسلامی سے ہمارا رشتہ توڑنے کی خاطر سات سالوں میں مختلف طریقوں سے جبکہ کئی دفعہ باقاعدہ مذاکرات کے ذریعے یہ کوشش کرتی رہی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اپنا نام تبدیل کرے‘ طاغوتی قوتیں مختلف طریقوں سے دنیا بھر میں امت کی محبوب جہادی جماعتوں کو ناکام کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں لیکن ہم ان چیلنجوں کو آزمائش سمجھ کر قبول کرتے ہیں جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ ایسی بہت سازشوں کو اللہ پاک بے نقاب کر کے مجاہدین اور امت مسلمہ کو سرخرو فرمائے گا۔

تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد کے اس بیان کے جواب میں احرارالہند گروپ کے جواب کی بھی توقع ہے تاہم طالبان کی اس دھڑے بندی اب ان کی لب کشائی غور طلب ہے کہ جس میں بات صرف اور صرف ان اختلافات تک ہی محدود رکھی جارہی تھی تاہم کراچی میں نیوی ڈاک یار ڈ پرحملے کے بعد طالبان کی جانب سے اس کی ذمہ داری قبول کرنے ایک بار پھر طالبان دہشت گردی کی کارروائیوں کے حوالے سے منظر عام پر آگئے۔
اس کاروائی کو بعض حلقے آپریشن ضرب عضب سے جوڑ رہے ہیں جس کیلئے ی استدلال پیش کیا جارہا ہے کہ جب سے آپریشن شروع ہوا ہے اس وقت سے لے کر اب تک کراچی و پشاور اور کوئٹہ ائیر پورٹس پر حملے ہو چکے ہیں جبکہ کراچی ڈاک یارڈ پر ہونے والا حملہ اس سیریز کا چوتھا حملہ ہے۔ اس حملہ کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ اندورنی ملی بھگت کی وجہ سے ہوا ہے، بہر حال اس کی تحقیقات جاری ہیں اور شنید ہے کہ اس ضمن میں کوئٹہ سے تین گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اس واردات کی کڑیاں جا کر کسی اور طرف بھی مل سکتی ہیں۔
اس ضمن میں اہم با ت یہ ہے کہ عام طورپ اس قسم کی کارروائیاں ماضی میں پنجابی طالبان کے ذریعے کی جاتی تھیں لیکن جب سے ملک میں نئی حکومت قائم ہوئی ہے اس وقت سے لیکر اب تک پنجابی طالبان خاموش دکھائی دے رہے ہیں اور وہ سرگرمی جو کبھی ماضی میں دکھائی دیتی تھی وہ اب نظر نہی آرہی۔پنجابی طالبان کی اس خاموشی کی مختلف معانی دیئے جاتے رہے ہیں جن میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ ان جنگجووں کا مبینہ طورپر جھکاوٴ مسلم لیگ (ن) کی طرف ہے ۔
اس رشتے کو جوڑنے کیلئے متعدد استدلال بھی پیش کئے جاتے رہے ہیں تاہم ایک زیادہ قابل قبول رائے یہ بھی ہے کہ پنجابی طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان تعلقات میں حکیم اللہ کے بعد خاص طور پر کچھ سرد مہری چل رہی تھی۔ اس سردمہری کا تعلق تنظیمی امور سے متعلق تھا اور ایک موقع ایسا بھی آیا کہتحریک طالبان پاکستان کی جانب سے پنجابی طالبان کے خلاف بھی دئیے گئے لیکن اس کے بعد دونوں طرف سے خاموشی دکھائی دی لیکن پنجابی طالبان کے امیر مصمت اللہ معاویہ نے اچانک پاکستان کے اندر اپنی مسلح جدوجہد ختم کرنے کا اعلان کر کے سب کو دم بخود کر دیا۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پنجاب کے امیر عصمت اللہ معاویہ نے ی اعلان باقاعدہ ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے دیاجس کے دوران انہوں نے پاکستان بھر میں ہر قسم کی عسکری سر گرمیاں ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ عصمت اللہ معاویہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ تن تنہا نہیں کیا بلکہ باقاعدہ طور پر علماء اور عمائدین سے تفصیلی مشاورت کے بعد وہ یہ اقدام اٹھا رہے ہیں۔
ویڈیو میں انہوں نے مزید کہا ہے کہ ملک بھر میں عسکری کارراوئیاں ترک کر دی گئی ہیں تاہم اسلامی وقار‘ نظام کے تحفظ اور بقاء کی خاطر شرعی خطوط پر دعوتی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گئی اور ساتھ ہی دشمنان اسلام کے خلاف جہادی کردار جاری رکھا جائے گا۔ لگ بھگ تین منٹ پر محیط اس ویڈیو پیغام میں عصمت اللہ معاویہ نے کہا کہ اسلام اور قوم کے وسیع تردینی مفادات میں یہ قدم اٹھایا جا رہا ہے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ویڈیو پیغام میں انہوں نے حکومت اور قبائلی علاقہ جات میں موجود طالبان تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ سب امت مسلمہ کے مفادات کی خاطر لڑائی مار کٹائی کو ترک کر کے مذاکرات کی میز پر آئیں اور وقت کی نزاکت سمجھیں تاکہ خطے میں بڑھتی ہوئی سازشوں کو ناکام بنایاجاسکے۔ویڈیو پیغام میں عصمت اللہ معاویہ نے لگے ہاتھوں حکومت سے یہ مطالبہ بھی کر ڈالا کہ متاثرین آپریشن ضرب عضب کی بحالی کیلئے اقدامات کئے جائیں اس ویڈیو کی اس لحاظ سے بھی اہمیت ہے کہ طالبان کے اند ر بھی اس ضرورت کو محسوس کر جا رہی ہے کہ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے جو لوگ افغانستان ہجرت کر چکے ہیں انہیں واپس لایا جائے عصمت اللہ نے شمالی وزیرستان کے ایسے ہی مکینوں کو واپس پاکستان لانے کی بات کرتے ہوئے استدالال پیش کیا کہ قبائلی خود دار عوام کو دشمنوں کی گود میں ڈالنا دانشمندی نہیں بلکہ ان کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے ان کے نقصانات کا ازالہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے افغانستان جانے والے قبائلی عوام سے ملک واپس آنے کی اپیل کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرحد پار جانے والے متاثرین کی واپسی کیلئے سہولیات دی جائیں۔ حکومت تحریک طالبان پنجاب کی ان سفارشات کو خاطر میں لاتی ہے کہ انہیں لیکن دہشت گردی کے حوالے سے کم از کم یہ خبر حکومت کیلئے سکون کا باعث ہوگی کہ پنجابی طالبان جو تحریک طالبان پاکستان کا بہت اہم حصہ اس لحاظ سے سمجھے جاتے تھے کہ ان کے پاس ملک کے شہری علاقوں سمیت حساس فوجی مقامات میں بھی کارروائی کرنے کی اہلیت موجود تھی۔

پنجابی طالبان جو تحریک طالبان پاکستان کا سرگرم حصہ تھا کے امیر عصمت اللہ معاویہ پہلے ماضی میں تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ اختلافات پیدا ہو گئے تھے جس کے بعد یہ بھی کہا گیا کہ عصمت اللہ معاویہ کو تحرک طالبان پاکستان سے نکال دیا گیا ہے تاہم بعد میں یہ اختلافات ختم ہو گئے تھے اور اسی بنیاد پر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ باقاعدہ طورپر پنجابی طالبان کے سربراہ بھی تھے۔
تاہم اہم بات یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان نے جس وقت تک یہ سطور لکھی جار ہی ہیں اس وقت تک عصمت اللہ معاویہ کی ویڈیو پرکوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ تحریک طالبان پاکستان اس بارے میں کیا کہے گی اس بابت شاید کوئی بات ان سطور کی اشاعت تک سامنے آجائے تاہم سردست اس علیحدگی سے ایک بات بڑی واضح ہے کہ طالبان کی شہری آبادی میں بالعموم اور پنجاب میں بالخصوص کوئی بڑی واردات کرنے کی صلاحیت اب اک دم گرجائے گئی۔
ان علاقوں میں خودکش حملے تو ہوسکتے ہیں لیکن جس انداز سے حساس سرکاری دفاتر یا عمارات کو جونشانہ بنایا جاتا تھا شاید اب تحریک طالبان پاکستان اس صلاحیت سے محروم ہو جائے کیونکہ یہ پنجابی طالبان ہی تھے جنہوں نے جی ایچ کیو تک پر اس انداز سے حملے کئے کہ انہیں پیشگی طورپر نہ دوکا جا سکا۔ اس لحاظ سے پنجابی طالبان کی حکومت کی علیحدگی کے پس پردہ حقائق خواہ کچھ بھی ہوں خواہ اس سے بالخصوص پنجاب امن کا گہوراہ بن جائے لیکن ایک بات طے ہے کہ اب تحریک طالبان پاکستان کو شہری آبادی میں اپنی کارروائیوں کو جاری رکھنے کیلئے کسی اور سہارے کو تلاش کرنا پڑے گایا پھر پنجابی طالبان جو تحریک طالبان پاکستان کی اہم فورس ہے کو پھر سے ساتھ جوڑنے کے امکانات کو بھی مسترد نہیں کیاجاسکتا۔
تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دھرنوں کے بحران سے نکلنے والی حکومت کیا ایسا چاہیے گی کہ پنجاب سمیت پورا ملک دہشت گردی کا ایندھن بنے یقینا نہیں تو پھر غالب امکان یہ ہے کہ یہ علیحدگی بر قرار رہے گی اور ملک میں امن وامان کی حالت بھی بتدریج بہتر ہونے کے قوی امکانات دکھائی دے رہے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-18

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان