تازہ ترین : 1
Tehreek e Insaaf Ki Intekhabi Uzardariyoon Per Ehtejaji Tehreek

تحریک انصاف کی انتخابی عذرداریوں پر احتجاجی تحریک

عمران خان نے11مئی2013ء کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ طاہر القادری پہلے ہی اسی تاریخ کو ”سیاسی مجمع “ لگانے کیلئے بے تاب نظر آتے ہیں

نواز رضا:
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے11مئی2013ء کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری پہلے ہی اسی تاریخ کو ”سیاسی مجمع “ لگانے کے لئے بے تاب نظر آتے ہیں عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید جو سیاسی ناٹک رچانے کے لئے موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں نے بھی دو جماعتی سیاسی ڈرامہ میں ”شامل باجہ“ کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کوئی جماعت بھی حکومت کے خلاف باہر نکلے نہ نکلے وہ خودعوام کو سڑکوں پرنکلنے کی کال دیں گے۔
سر دست عمران خان نے ” مبینہ انتخابی دھاندلیوں“کے خلاف پارلیمنٹ کے سامنے” احتجاجی دھرنا“ دینے کا اعلان کیا ہے لیکن ان کی احتجاجی تحریک کے” خد وخال“ سامنے نہیں آئے کیا تحریک انصاف کی قیادت پارلیمنٹ کے سامنے اپنی ”سیاسی قوت “ کا بھرپور مظاہرہ کر کے اپنے مطالبات منوانا چاہتی ہے یا وہ اور ڈاکٹر طاہر القادری مل کر پورے جمہوری نظام کی بساط لپیٹ دینے کے ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں، اس بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
تاہم ایک بات واضح ہے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اس غلطی کا اعادہ نہیں کریں گے جو پیپلز پارٹی نے کی تھی پیپلزپارٹی کی حکومت نے ڈاکٹر طاہر القادری کو اپنی پوری سیاسی قوت کو پارلیمنٹ کے سامنے مجتمع کرنے کا موقع دے کر اپنی حکومت کو خطرات سے دوچار کر دیا تھا۔ لیکن موجودہ حکومت نے وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں ”ریڈ زون “اور اس کے ارد گرد کوئی سیاسی اجتماع منعقد کرنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کر رکھاہے۔
حکومت نے کسی سیاسی جلوس کو اسلام آباد کی جانب بڑھنے سے روکنے کے لئے تمام انتظامات کر لئے ہیں وزیر اعظم محمد نواز شریف برطانیہ کے سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے ہیں وہ 4مئی 2014ء کو وطن واپس آئیں گے انہیں پاکستان میں چائے کی پیالی میں ”سیاسی طوفان “برپا کرنے والی جماعتوں کی سرگرمیوں سے کوئی پریشانی لاحق نہیں۔عمران خان اور طاہر القادری گٹھ جوڑ سے نمٹنے کے لئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کافی ہیں۔
لہذا یہ بات کہی جاسکتی ہے حکومت 11مئی 2014ء کو اسلام آباد کو عمران خان اور طاہر القادری کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دے گی اور اسلام آباد میں انہیں داخل ہونے سے روکنے کے لئے پوری ریاستی طاقت کا استعمال کرے گی۔ عمران خان اس بات پر بضد ہیں کہ وہ ” مبینہ انتخابی دھاندلی“ کے خلاف دھرنا دے کر جمہوریت کو کمزور نہیں مضبوط کرنا چاہتے ہیں ،ان کا موٴقف ہے کہ اگر 4سے 5حلقوں میں ووٹروں کے انگوٹھو ں کی تصدیق کرلی جائے تو” دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے“۔
لیکن حکومت کی غیر سنجیدگی اور عدالتوں سے انصاف نہ ملنے کے بعد ہم نے دھاندلی کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس دوران ملک کے کونے کونے میں احتجاج ہوگا۔
پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی قیادت سمیت اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی کسی تحریک کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔لہذا عمران خان اور طاہر القادری اپنی تمام تر کوشش کے باوجود اپوزیشن کو احتجاجی تحریک میں شرکت پر آمادہ نہیں کر سکی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ماضی میں جمہوری حکومتوں کے خلاف احتجاجی تحریکوں کا ماحول بنانے والے ایک بار پھر متحرک ہو گئے ہیں۔
گیارہ مئی کی ریلی اسی سلسلے کی کڑی لگتی ہے جمہوری اقدار کا یہی تقاضا ہے کہ وزیر اعظم فوری طور پر سرکردہ سیاستدانوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد کریں اور سیاسی رہنما قومی لیڈرہونے کا ثبوت دیں اوربڑی جماعت ہونے کے ناطے اپنی باری کا صبر سے انتظار کریں۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے بتایا ہے کہ عمران خان نے احتجاجی تحریک میں حصہ لینے کی دعوت دی ہے اور نہ ہی جماعت اسلامی نے اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ہر سیاسی جماعت کو احتجاج کرنے کا سیاسی حق حاصل ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف نے 11مئی2014ء کو انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کرتے وقت جماعت اسلامی سے کوئی مشاورت نہیں کی۔
یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ عمران خان کو قبل ازوقت احتجاجی تحریک شروع ہونے کے فیصلے کی بھاری قیمت بھی ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔
گذشتہ ایک ماہ سے حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات بوجوہ تعطل کا شکار رہے ہیں طالبان کی مذاکراتی کمیٹی ابھی تک مذاکراتی عمل کو بحال کرانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ آئی ایس آئی کے سابق سینئر افسر میجر(ر) عامر نے جنہیں حکومت نے طالبان سے رابطوں کی ذمہ داری سونپی تھی نے طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کے سیاسی ایجنڈے کی وجہ سے مذاکراتی عمل سے الگ ہونے کا اعلان کر کے حکومت اور طالبان دونوں کے لئے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
طالبان سے جاری مذاکراتی عمل میں ”اہم کردار“ ادا کرنے والے ریٹائرڈ میجر (ر) محمد عامر نے بعض مذاکرات کاروں کے افسوسناک طرز عمل کی وجہ سے مذاکراتی عمل سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ” مجھے اس بات پر افسوس ہے کہ بعض مذاکرات کاروں نے اس نیک کام کو بھی اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنا لیا ہے اور وہ اپنی اس پوزیشن کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کررہے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو بھی الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے میجر(ر) عامر کے فیصلے کا علم ہوا جب نوائے وقت نے چوہدری نثار علی خان سے میجر(ر)عامر کی مذاکراتی عمل سے علیحٰدگی کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے اس بارے میں لا علمی کا اظہار کیا تاہم میجر(ر) عامر کی وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ٹیلی فون پر دو بار بات چیت ہوچکی ہے۔
جس میں انہوں نے چوہدری نثار علی خان کو مذاکراتی عمل سے علیحدگی کے فیصلے کے پس منظر سے آگاہ کیا تاہم وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے میجر(ر) عامر کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے پر زور دیا۔ اسی طرح طالبان قیادت نے بھی میجر(ر)عامر سے اپنے فیصلے نظر ثانی کرنے کے لئے رابطہ قائم کیا ہے واضح رہے کہ میجر عامر وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے طالبان سے مذاکرات کیلئے بنائی گئی پہلی کمیٹی کے اہم رکن تھے قبل ازیں بھی انہوں نے جید علماء کے ساتھ مل کر طالبان سے ”خاموشی سے رابطے “کرکے قیام امن کیلئے اہم کردار ادا کیا تھا۔
میجر عامر دونوں کمیٹیوں کے بعض ارکان خاص طور پر طالبان کمیٹی میں شامل دو ارکان کی بلا جواز بیان بازی سے سخت نالاں تھے۔کمیٹیوں کے ارکان کے میڈیا پر آنے کے اشتیاق سے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچ رہا ہے قبل ازیں وزیراعظم نے جو پہلی حکومتی مذاکراتی کمیٹی قائم کی تھی اس کے ارکان سے بھی میجر عامر کا اسی ایشو پر اختلاف پیدا ہوا تھا۔ میجر عامر شروع دن سے مذاکراتی کمیٹیوں کے ارکان کے میڈیا پر بیان بازی کی مخالفت کر رہے ہیں۔
ہفتہ عشرہ کے دوران وزیر اعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی پر اعلیٰ سطح کے دو اجلاس منعقد ہو چکے ہیں جن میں سیاسی و عسکری قیادت سر جوڑ کر بیٹھی اور ملک کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی پر غورکیا گیا حکومت اور فوج کے درمیان بوجوہ ”تناؤ “کی کیفیت پائی جاتی تھی۔وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے جب چاروں اطراف سے” اپنوں اور پرایوں “ کی فوج پر تنقید کے جواب میں ڈھال بن کر سامنے آ گئے تو حکومت اور فوج کے درمیان تیزی سے ” برف پگھلنے“ لگی ایسا دکھائی دینے لگا ہے کہ اہم قومی ایشوز پر حکومت اور فوج ایک ہی ”صفحہ“ پر آگئی ہے۔
وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کھل کر ملکی دفاع کو یقینی بنانے میں آئی ایس آئی کی خدمات و کردار کی تعریف کر کے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے پر ہم سب یکجا ہیں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام نے بھی کہا ہے کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں ملوث عناصر کو جلد بے نقاب کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان جو طالبان سے مذاکرات کے سب سے بڑے حامی ہیں نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ ”مذاکرات برائے مذاکرات“ کے کھیل کا کوئی فائدہ نہیں۔
انہوں نے حکومت اور طالبان دونوں کمیٹیوں پر واضح کیا ہے کہ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنایا جائے۔ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان طالبان قیادت سے مذاکرات کے لئے رابطے قائم کر رہے ہیں سر دست طالبان سے مذاکرات کا دوسرا دور شروع نہیں ہو سکا اس بارے میں مذاکرات کی میز سجنے کے بعد ہی کچھ کہا جاسکے گا ؟
وقت اشاعت : 2014-05-02

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں