بند کریں
پیر مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
طرز حکمرانی بدلو
شہباز پاکستان صوبہ پنجاب کے بے تاج بادشاہ ہیں، صدر مملکت ممنون حسین، وزیراعظم محمد نوازشریف اور گورنر پنجاب چوہدری سرور گویا اْن کے گھر کے لوگ ہیں۔ شہبازشریف کی کابینہ میں 20 وزیر اور ایک مشیر شامل ہیں
فرخ سعید خواجہ:
وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بلا شبہ پاکستان کے اْن سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں جن کے بارے میں عوام و خواص کی رائے ہے کہ اْن جیسا منتظم اور انتھک وزیر اعلیٰ پاکستان کو کم ہی نصیب ہوا۔ ہماری ذاتی رائے بھی دیگر لوگوں سے مختلف نہیں۔ ہم قائل ہیں کہ شہباز شریف ملک، صوبے اور عوام کی خدمت جوش اور جذبے کے ساتھ کرتے ہیں۔
لیکن پچھلے چار پانچ برس کے دوران اْن کی شخصیت کو عوام میں منتظم کے علاوہ لیڈر کی حیثیت سے بھی پذیرائی ملی ہے۔یہاں یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ اْن کی شخصیت میں وہ کرشمہ پیدا ہوچکا ہے جو کہ مسلم لیگ (ن) میں پہلے صرف اْن کے بڑے بھائی میاں نواز شریف کا خاصہ تھا۔ البتہ شہباز شریف کے طرز حکمرانی سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا، وہ کْل اختیارات اپنی ذات میں سموئے ہوئے ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ وہ اسے کابینہ کے وزراء تک منتقل کریں۔
وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے منگل کو فرمایا کہ موجودہ نظام کی خرابیاں دور نہ کر سکے تو خونیں انقلاب کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سابق حکمرانوں نے وسائل بیدردی سے لْوٹے انہیں کٹہرے میں لانا چاہئے۔11 مئی کے الیکشن سے پہلے جناب شہباز تواتر کے ساتھ ”علی بابا چالیس چور“ اور ”زر بابا چالیس چور“ کی گردان کرتے ہوئے سابقہ حکمرانوں کو ملک کے وسائل لوٹنے کا ذمہ دار ٹھہرایا کرتے تھے حتیٰ کہ لٹیروں کو لٹکانے کی بات بھی کئی بار کی مگر 11مئی کا الیکشن جیتنے کے بعد وزیراعلیٰ بن کر اْن کی توجہ اس طرف مبذول نہیں ہوئی۔

شہباز پاکستان صوبہ پنجاب کے بے تاج بادشاہ ہیں، صدر مملکت ممنون حسین، وزیراعظم محمد نوازشریف اور گورنر پنجاب چوہدری سرور گویا اْن کے گھر کے لوگ ہیں۔ شہبازشریف کی کابینہ میں 20 وزیر اور ایک مشیر شامل ہیں لیکن ہمارے خیال میں اختیارات کا منبع جناب وزیراعلیٰ کی ذات شریف ہے۔ لہٰذا خدانخواستہ اگر کوئی خونیں انقلاب آتا ہے تو آپ جناب حکمرانوں کے خلاف آئے گا۔
سو بہتر ہے کہ 1997-99، 2008-2013 اور اب 2013-14 لگ بھگ ایک سال کے طرز حکمرانی میں تبدیلی کی جائے۔
وزیراعلیٰ پنجاب اپنی ٹیم کے سربراہ کی حیثیت سے کابینہ کے ممبران سے کام لیں۔ تمام وزراء کو اُن کی اپنی اپنی وزارتوں کا انچارج مقرر کریں اور جس وزارت کے کام کو اَپ ٹو ڈیٹ نہ دیکھیں اْس وزیر کی گو شمالی کریں، اس وزیر کو ڈسمس کردیں۔ صوبائی وزراء ، اضلاع کے دورے کریں اور اپنی اپنی وزارتوں کو جدید خطوط پر چلائیں تاکہ لوگوں کے مسائل ضلع کی سطح پر حل ہوں۔
ہر کسی کو لاہور کا رخ نہ کرنا پڑے نہ ہی سنٹرل پنجاب اور جنوبی پنجاب کے صوبائی سیکرٹریٹ بنانے کی ضرورت پڑے۔ جس دن ضلع کی سطح پر عوام کے مسائل حل ہونا شروع ہوجائیں گے اس دن سے صوبے میں انقلاب کا آغاز ہوجائے گا۔
بیورو کریسی کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال مت کریں اْن کے ذمے خالصتاً انتظامی امور ہوں۔ کون نہیں جانتا کہ اس وقت حکمران مسلم لیگ (ن) بحیثیت جماعت عضو معطل ہے۔
بیورو کریسی سیاسی فرائض بھی سرانجام دے رہی ہے۔حکمران جماعت کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کے علاوہ بلدیاتی نمائندے عوامی خدمت کی بہترین مثالیں قائم کرسکتے ہیں سو پہلی فرصت میں صوبے میں بلدیاتی انتخابات کروا دئیے جائیں۔ اس کیلئے جو لوازمات ضروری ہیں وہ الیکشن کمشن کی کو آرڈی نیشن سے پورے کئے جائیں۔
موجودہ سیاسی حالات بظاہر موجودہ حکومت کی سو فیصد حمایت میں ہیں کہ صوبائی اسمبلی پنجاب میں مسلم لیگ (ن )کو 371 میں سے لگ بھگ 327 ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ق) صوبہ پنجاب میں بری طرح پٹ چکی ہیں۔ آجا کر تحریک انصاف ہی ایک ایسی سیاسی جماعت ہے جو کہ صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی ناکامی کا اصل فائدہ اٹھا سکتی ہے۔
اپریل کا مہینہ ختم ہونے کو ہے اور ماہ مئی آنے والا ہے۔ سی این جی لینے کیلئے گیس سٹیشنوں پر کاروں، رکشاؤں، پک اپس کی لمبی قطاریں صبح سے شام تک دیکھی جاسکتی ہیں۔
ماہ مئی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوجائے گا۔ ماضی میں وزیراعلیٰ آفس مینار پاکستان پر شفٹ کردیا گیا تھا تاکہ بجلی بچائی جاسکے۔ اس وقت کی مرکزی حکومت نے ان کے اس اقدام کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ قرار دیا تھا جو کہ بہت حد تک درست بات تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان گرمیوں میں وزیر اعلیٰ پنجاب کیا طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ بجلی کا بحران حل کرنے کیلئے موجودہ حکومت نے جتنی کوششیں کیں ماضی کی دو حکومتوں نے اس کا عشرعشیر بھی نہیں کیا تھا لیکن لوگ تو موجودہ حکومت سے اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔
ہمیں یقین ہے کہ موجودہ حکومت کی پانچ سالہ مدت پوری ہونے پر نہ صرف بجلی کا بحران ختم ہوچکا ہوگا بلکہ آنے والے سالوں میں جتنی بجلی کی ضرورت ہے اس جانب بھی پیشرفت ہوگی۔ مگر سوال ماہ مئی کی لوڈشیڈنگ کے عذاب کا ہے، اس پر بجلی کے بل، اللہ کی کی پناہ ہے۔ محکمہ جاتی بد انتظامی عروج پر ہے لوگ روھانسے ہوجاتے ہیں کہ کس سے فریاد کریں۔ ان حالات میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کو چاہئے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں انہوں نے جہاں بڑے بڑے پراجیکٹس جس طرح مہینوں اور دنوں میں مکمل کروائے ہیں نظام کی تبدیلی کی طرف قدم اٹھائیں، احتساب کا بے لاگ نظام قائم کریں۔
ہمیں اتفاق ہے کہ اگر نظام تبدیل نہ ہوا تو ملک میں خونیں انقلاب آئے گا اور اس کی ہولناکیوں کو دیکھنے کیلئے ہم میں سے نہ جانے کون کون باقی بچے گا اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-25

(0) ووٹ وصول ہوئے