تازہ ترین : 1
Taliban Ka Jang Bandi Ka Elaan

طالبان کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان طالبان نے حکومت اور امریکہ کو حیران کر ڈالا

مذاکرات کی ڈور ایک دفعہ مہمند ایجنسی اور کراچی کے واقعات کی وجہ سے ٹوٹ گئی تھی جس کے بعد ایک ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا اس ڈیڈلاک کی ایک اعتبار سے وفاقی کابینہ نے توثیق بھی کردی تھی

محمد رضوان خان:
سال رواں کی 29جنوری کو جب وزیراعظم نے قوم کو یہ نوید دی کہ حکومت ملک میں مستقل قیام امن کیلئے طالبان سے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرے گی اور اس مقصد کیلئے ایک کمیٹی بھی قائم کر دی گئی تو عام تاثر یہی تھاکہ حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت کسی بھی طرح نتیجہ خیز نہیں ہو پائے گی کیونکہ دونوں کے درمیان بہت سے امور ایسے ہیں جن کا حل کم از کم ایک فریق کے پاس نہیں بلکہ ایسے امور کی بھی ایک اچھی خاصی لسٹ مرتب کی جاسکتی ہے جس میں دونوں ہی فریق بے بس نظر آتے ہیں۔
یہ اس بے بسی کا ہی نتیجہ ہے کہ مذاکرات کی ڈور ایک دفعہ مہمند ایجنسی اور کراچی کے واقعات کی وجہ سے ٹوٹ گئی تھی جس کے بعد ایک ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا اس ڈیڈلاک کی ایک اعتبار سے وفاقی کابینہ نے توثیق بھی کردی تھی جس میں طالبان سے کہا گیا تھاکہ وہ غیر مشروط جنگ بندی کااعلان کریں گے۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب ہر طرف سے شمالی وزیرستان میں آپریشن کا مطالبہ سامنے آیا ۔
بظاہر دیکھا جائے تو اس تاثر میں کوئی ابہام بھی نہیں تھا کیونکہ حکومت نے سرجیکل سٹائیکس بھی شروع کردی تھی جس کے نتیجے میں پچاس ہزار سے زائد قبائلی شمائلی وزیرستان سے بندوبستی علاقے کی طرف منتقل ہوگئے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق شمالی وزیرستان آپریشن کا بھی فیصلہ ہوچکا تھااور اب بھی بعض حلقوں کا یہی دعویٰ ہے کہ شمالی وزیرستان اپُریشن مارچ کے دوسرے یا تیسرے ہفتے میں ہو سکتا ہے ۔
اس فضاء میں امریکیوں کی بھی دلچسپی کافی بڑھی کیونکہ شمالی وزیرستان آپریشن کی صورت میں انہیں اپنے 30جون 2009ء کو افغانستان کے صوبے پکتیا سے اغواء ہونے اپنے فوجی بوئی برگدال کی رہائی نظر آرہی ہے۔ یہ امریکہ کا واحد فوجی ہے جو اس وقت طالبان کی قید میں ہے جس کے بارے میں یہی اطلاعات ہیں کہ بوئی کو مبینہ طور پر شمالی وزیرستان میں رکھا گیا ہے۔
اس حوالے سے امریکہ کی خواہش ہے کہ شمالی وزیرستان آپریشن جلد از جلد شروع ہوکیونکہ اس کی دلچسپی اب شمالی وزیرستان میں بوئی کی رہائی تک ہی محدود دکھائی دیتی ہے حالانکہ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ جب امریکہ کی سوئی شمالی وزیرستان آپریشن پر اٹک چکی تھی لیکن بعد ازاں وہ اس مطالبے پر اس شدومد سے زور نہیں دیتا تھا جس انداز سے کبھی اس معاملے پر پاکستان اور امریکہ تعلقات ہی خراب ہوگئے تھے تاہم موجودہ حالات میں امریکہ کو بھی شمالی وزیرستان میں آپریشن کی ”امید “ نظر آئی تو شائد اس خواہش کی تکمیل میں امریکی ذرائع ابلاغ نے تو واضح الفاظ میں لکھ دیا کہ پاکستان ، تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات میں ناکامی اور گزشتہ چند مہینوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی وارداتوں کے بعد شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع کرنے والا ہے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت پاکستان نے اس بارے میں فوجی آپریشن کے منصوبے سے بھی اعلیٰ امریکی حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ یہ آپریشن کسی بھی وقت شروع ہوسکتا ہے۔ اس خبر سے قطع نظر یہ بات بھی اہم ہے کہ طالبان سے جوں ہی مذاکرات میں مشکلات آڑے آئیں تو مبینہ طور پر امریکی خفیہ ادارے کے سربراہ جان بریننن نے اچانک پاکستان کا دورہ کیا جبکہ ان سے پہلے امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل لائڈ جے آسٹن سوم پاکستان کی فوجی قیادت سے راولپنڈی کے فوجی ہیڈ کواٹر میں ملاقاتیں کرچکے تھے۔
امریکی حکام کے مطابق پاکستان نے شمالی وزیرستان آپریشن کی تیاری کیلئے امریکہ سے ڈرون حملوں میں عارضی بندش کیلئے درخواست کی تھی جنگی بندش کو اب تیسرا مہینہ ہوگیا ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے دو سالوں میں ڈرون حملوں میں کبھی اتنا بڑا وقفہ نہیں آیا۔
امریکیوں کو پاکستان کی شمالی وزیرستان آپریشن کی متوقع ادا اس قدر پسند آیا کہ امریکی حکام نے پاکستان کی طرف سے حالیہ تعاون کی تعریف تو کی مگر ماضی کا قلق بھی یاد رکھا کہ شمالی وزیرستان کے بارے میں پاکستان نے ماضی میں کئی مرتبہ مایوس کیا ہے لیکن اس مرتبہ اس کا عزم حوصلہ افزا ہے۔
امریکی حکام میں بہت سے لوگ ایسے بھی تھے کہ جو شمالی وزیرستان آپریشن پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھے جس کی وجہ شائد یہ تھی کہ حکومت پاکستان نے سرجیکل سٹائیکس کے باوجود بھی نہ تو مذاکرات کو کلی طور پر ختم کیا تھا اور نہ ہی انہیں ناکام قرار دیا تھا بہر حال پھر بھی نوبت سرجیکل سٹرائیکس تک پہنچ گئی عین ممکن ہے کہ یہ آپریشن آگے چل کر زیادہ مشکل ہوجاتا کیونکہ جنوبی وزیرستان جو پاکستانی فوج نے مکمل طور پر کلیئر کردیاہے شمالی وزیرستان کے مقابلے میں زیدہ پرپیچ ہے اس لحاظ سے وہاں آپریشن کیلئے تیاری بھی زیادہ درکار تھی لیکن طالبان نے حکومت کے فیصلے کو مانتے ہوئے غیر مشروط جنگ بندی کا اعلان کر کے سب کو وطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اعلان بھی ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب کچھ ہی دیر پہلے جمرود میں پولیو مہم کے دوران دو بم دھماکوں میں ایک طالبعلم سمیت 12افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اس واردات کی اگرچہ تادم تحریک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن طالبان نے ایک ماہ کی جنگ بندی کا اعلان کر کے بڑ اامن دھماکہ کردیا۔ اس بات کا باقاعدہ اعلان کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے کیا کہ ان کا موقف تھا کہ ایک ماہ کی جنگ بندی وہ ملک کے اکابرین ، علماء کرام اور طالبان کمیٹی کے احترام اور اسلام اور ملک کے مفاد میں کررہے ہیں۔
ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے بیان میں کہا تھا کہ طالبان نے نیک مقاصد اور سنجیدگی سے مذاکرت کا آغاز کیا اور مزید کہا کہ تحریک طالبان جنگ بندی کی مکمل پاسداری کر ے گی جبکہ اس دوران ہر قسم کی جہادی کارروائیاں بھی روک دی جایں گی۔ اس لحاظ سے اب حکومت کے پاس کسی فیصلے یا معاہدے تک پہنچنے کیلئے 30مارچ تک کی ڈیڈ لائن باقی بچی ہے۔
اس سلسلے میں اب تک ملنے والی معلومات کے مطابق جنگ بندی کرانے میں سب سے اہم کردار طالبان کمیٹی نے ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق ڈیڈ لاک پیدا ہونے کے بعد ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا کہ جب حکومت اور طالبان کمیٹی کے درمیان رابطہ نہ ہوا ہو ذرائع کا دعویٰ ہے کہ طالبان 26فروری کو ہی مان گئے تھے لیکن پھرکچھ اندرونی امور کیوجہ سے یہ معاملہ کھٹاء میں پڑ گیا۔
ذرائع کا استدلال ہے کہ وزیر داخلہ کا کرداد اس جنگ بندی میں کافی اہمیت کا حامل ہے جنہیں غالباََ یہ خبر تھی کہ جنگ بندی ہونے والی ہے اسی وجہ سے انہوں نے طالبان کے ساتھ امور کو نرم کرتے ہوئے یہ پیشکش بھی کی تھی کہ طالبان کے ساتھ ایک دوستان کرکٹ میچ ہوجائے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ پیشکش اس کی غمازی کرتا ہے کہ معاملات بتدریج درستگی کی طرف گامزن تھے جس کی ایک جھلک طالبان کی اس پریس ریلیز میں نظر آتی ہے۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ”طالبان کے امیر ملا فضل اللہ کی ہدایت پر مذاکراتی عمل میں پیدا شدہ تعطل کے خاتمے اور جنگ بندی کیلئے تنظیم کی طرف سے اپنی مذاکراتی کمیٹی کو دی تئی تجاویز کا حکوتم نے مثبت جواب دیا ہے اور ان تجاویز پر عمل درآمد کی پراعتماد یقین دہانی کرائی جاچکی ہے۔“
طالبان پر اس جنگ بندی کے اعلان سے قبل یہ الزام تھا کہ امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے ذمہ دار وہ ہیں لیکن جنگ بندی کا اعلان کر کے اب انہوں نے بال حکومت کے کورٹ میں پھینک دی ہے جس کی طرف سے شمالی وزیرستان میں آپریشن کی بات ہووہی تھی اور اگر حکومت کے اس بیان دو درست مان لیا جائے تو پھر پہلے ملکی سطح پر یہ مرحلہ آئے گا کہ کیا حکومت اگر شمالی وزیرستان کے آپریشن کیلئے گرین سگنل دے چکی ہے تو اس کیلئے اب اپنے احکاما ت کو واپس لینا آسان ہوگا کہ نہیں کیونکہ عساکر کی پیش قدمی کو روکنا اس قدر آسان بھی نہیں ہوا کرتی خصوصاََ اس صورت میں کہ جب انہیں کوچ کا حکم مل جائے اس اعتبار سے تادم تحریک حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس بات سامنے نہیں آئی البتہ حکومت نے اس پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے اور اس خیر مقدم میں بھی چوہدری نثار ہی زیادہ پیش پیش ہیں ۔
حکومت اپنا موقف کب تک واضح کرے گی۔ اس مرحلے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا اور ان سطور کی اشاعت تک بہت سے دیگر ”موقف“ بھی سامنے آچکے ہوں جنہیں طالبان نے مشکل میں ڈال دیا ہے کیونکہ طالبان ترجمان نے اب حکومت کی طرح امید ظاہر کی ہے کہ حکومت اس فیصلے پر سنجیدگی سے غور کرے اور مذاکراتی عمل پر مثبت پیش رفت کرے۔اس بار ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ طالبان نے اپنے تمام چھوٹے بڑے گروپوں کو بھی جنگ بندی پر اعتماد میں لیا ہے جس کی وجہ سے تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی کے رہنما عمر خراسانی نے بھی کہا ہے کہ حکومتی رویے کے باوجود وہ اپنے امری کا حکم مانتے ہوئے فائر بندی پر تیار ہیں۔

طالبان کی جنگ بندی سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اب ان کے تمام لوگ صورتحال سے پوری طرح واقف ہیں جس کے بعد اب طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے سربراہ سمیع الحق کی جانب سے امن کی کوششیں تیز ہوچکی ہیں انہوں نے فوری طور پر دونوں کمیٹیوں کا اجلاس بھی بلا لیا ہے تاہم اگر ملکی صورتحال کنٹرول میں بھی آجاتی ہے تب بھی اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ جس کی خوشی شمالی وزیرستان کے ممکنہ آپریشن پر دیدنی تھی کا اب یا رد عمل ہوگا کیونکہ طالبان کی جنگ بندی کے اعلان سے سب سے زیادہ دھچکا امریکہ کو لگا ہوگا۔
اس اعلان کے تحت اگر دوبارہ مذاکرات کی میز سجے گی تو اس میز پر اب ڈرون حملے کا بہت زیادہ امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکہ نے پاکستان میں شمالی وزیرستان آپریشن کی راہ ہموار کر کے بہت بڑی کامیابی حاصل کی تھی اور وہ اسے کسی صورت ہاتھ سے نہیں جانے دے گا۔ یہ بھی امیریکی کوششیں ہی تھی کہ حکیم اللہ محسود کے بعد عبوری طور پر امیر بننے وال کمانڈر عصمت اللہ شاہین بڑی خاموشی سے ماردئیے گئے جس کی طالبان نے تصدیق بھی کردی۔
عین ممکن ہے کہ اس معاملے میں طالبان کو کریدنے پر اپنے ہی لوگوں سے گلے ہوں بہر حال عصمت اللہ بیت اللہ محسود کے بھی بہت قریب تھے اور ان کے مارے جانے سے شائد محسودوں کی آواز تنظیم میں کمزور دکھائی دے ۔ بہر حال کسی بھی صورت میں اب حالات یہ ہے کہ جنگ بندی کے اعلان نے سب سے زیادہ مشکل امریکہ کیلئے کھڑی کردی جسے اب بوئی برگدال کی رہائی پھر دور ہوتے دکھائی دے رہی ہے تاہم اس بات کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ کسی امکانی صورت میں خود ہی امریکہ اس علاقے میں حدود کی خلاف ورزی نہ کرڈالے۔
اس ضمن میں ایک بات تو طے ہے کہ اب کی بار اگر مذاکرات کی میز سجے گی تو ڈرون صرف جاسوسی نہیں کریں گے کیونکہ مئی کا مہینہ جوں جوں قریب ترآرہا ہے امریکہ کو ضبط بھی کمزور پڑتا جارہا ہے۔ یہاں برسبیل تذکرہ یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ امریکہ افغانستان سے انخلاء کو مزید چھ ماہ آگے لے جاسکتاہ ے جس کا مقصد یہ ہے کہ علاقائی معاہدے پر نئے افغان صدر سے دستخط کرواکے جائے اور اس عرصے میں بوئی برگدال کو بھی رہا کرنے کی کوئی سبیل نکالی جائے۔

طالبان کی جنگ بندی کے بعد اب پشاور کی کیا صورتحال ہوگی اس ضمن میں توقع یہ کی جارہی ہے کہ شائد صوبے میں اب دہشت گردی گھٹ جائے جس کے امکانات کم ہی ہیں کیونکہ مذاکرات کی میز بچھتے ہی یہاں بقول صوبائی وزیر اطلاعات شاہ فرمان تیسری قوت متحرک ہوجاتی ہے۔ اس اعتبار سے کوئی بڑی تبدیلی واقع نہی ہوگی لیکن حکومت نے شمالی وزیرستان میں باقاعدہ فوجی آپریشن کی پالیسی کے تحت اس بار متاثرین آپریشن کیلئے زیادہ بہتر سہولیات کی تیاری کررکھی ہے جس کے تحت شمالی وزیرستان کے قریبی بنوں، ہنگو اور کوہاٹ وغیرہ میں متاثرین کے کیمپ بنائے جارہے ہیں جہاں رہائش کی ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنے کا عندیہ دیا جارہا ہے۔
شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائیوں کے بعد مقامی آبادی نے نقل مکانی شروع کردی ہے اور تادم تحریک 50ہزار سے زائد قبائلی شمالی وزیرستان سے صوبے کے متصلہ ضلع بنوں میں پہنچ چکے ہیں جنہیں ٹھہرانے کیلئے پہلے مرحلے میں 2کروڑ روپے کی امداد بھیجوادی گئی ہے ۔ اس بار متاثرین کی باقاعدہ رجسٹریشن بھی کی جائے گی لیکن اب تک یہ عمل سست روی کا شکار ہے اور آمدہ 50ہزار متاثرین میں سے صرف 18ہزار افرا کی رجسٹریشن ہوسکی ہے۔ بہر حال اب امید کی جاسکتی ہے کہ یہ سلسلہ تھم جائے گا اور غالب امکان یہ ہے کہ شمالی وزیرستان کے معاملے میں قومی مفاد کو مد نظر رکھا جائے گا بھلے اس سے امریکہ کو فائدہ ہو یا نہ ہو۔
وقت اشاعت : 2014-03-06

(6) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں