بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
طالبان کے ساتھ مذاکرات
امن مخالفین کاکیا علاج ہوگا؟ ان نازک حالات میں الطاف حسین لندن میں بیٹھ کرفوج کومسلسل مغاوت پراُکسارہےہیں۔ انہوں نے افواج پاکستان کو ٹیلی فون پر مخاطب کرکے کہاہے کہ فوج حکمرانوں کےایسے احکامات ماننےسےانکارکردے
ڈاکٹر انور سدید:
وزیر اعظم نواز شریف کی حکمت عملی بالکل ظاہر ہے کہ وہ خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر امن قائم کرنا چاہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کے جب ملک میں خودکش دھماکے ہے رہے تھے تو وطن دشمن عناصر کیخلاف فوجی کاروائی کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ اس وقت افواج پاکستان کا شدید غصہ بھی عیاں تھا کہ دہشت گردوں نے فوجی کے چوٹی کے افسروں کو بھی شہید کر دیا تھا لیکن فوج چونکہ سوال انتظامیہ کے تحت عمل کرنے کا عہد کر چکی تھی اس لیے وہ ازخود فوجی آپریشن سے گریز کر رہی تھی۔
یہاں سوات آپریشن کی مثال دی جا سکتی ہے۔ اب قبائلی ایجنسیوں نے شدید قسم کی گوریلا جنگ پاکستان کیخلاف شروع کی اور اس کیخلاف پا رلیمنٹ میں بھی آواز اُٹھائی گئی اور متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی ۔ حالات کو گرفت میں لانے کیلئے ” تزویراتی سڑائیکس “ کا عمل بھی شروع کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تحریک طالبان پاکستان مذاکرات کیلئے آمادہ ہو گئی۔
وزیر اعظم نے امن کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا اور ایک غیر سرکاری کمیٹی بنائی جبکہ دوسری طرف سے طالبان نے بھی مولانا سمیع ا لحق کی سربراہی میں اپنی کمیٹی کا اعلان کر دیا۔ ان کمیٹیوں کے ارکان کی چند ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ اس دوران میں خود کش دھماکوں کا سلسلہ بھی جاری رہا لیکن ان بد ترین حالات میں بھی میاں نواز شریف نے صبر کا دامن نہ چھوڑا اور امن مذاکرات کو ترجیح دی۔
حالات کی نئی کمیٹی تشکیل دی جس کے سربراہ وفاقی سیکرٹری حبیب اللہ خٹک ہیں ۔ مزید تین ارکان میں رستم مہمند ، ارباب عارف اور فواد حسن فواد شامل ہیں ۔ اس دوران طالبان نے ایک مہینے کی جنگ بندی کا اعلان کر دیا لیکن دھماکوں کا سلسلہ نہ رُکا تو طالبان نے انکی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے مذمت کی لیکن ان حملوں کی ذمہ داری احرار الہند نے قبول کر لی جس کے بارے میں خود شاہد اللہ شاہد نے کہا ہے کہ انہوں نے ” احرار الہند “ کا نام پہلی دفعہ سُنا ہے۔
تاہم ابھی تک اس دہشت گردی جماعت کی شناخت نہیں ہو سکی اور نتیجہ یہ اخذ کیا گیا ہے کہ طالبان بھی منقسم ہیں ۔ اس دوران وزیر داخلہ چودھری نثار نے وزیر اعظم کی عمران خان سے ملا قات کا اہتمام کیا۔ دونوں لیڈروں میں متفقہ فیصلہ ہوا کہ صرف ان طالبان سے مذاکرات کیے جائیں جو مذاکرات کے حامی ہیں ۔ چودھری نثار نے صلح جوئی کی اس ملاقات کے بعد طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے رُکن مولا نا سمیع الحق سے ملاقات کی ۔
طالبان کی طرف سے جو تجاویز سامنے آئیں ان میں عورتوں اور بچوں کی قید سے رہائی کے علاوہ محسود علاقے کو فوج سے خالی کرنا تھا ۔ دوسری طرف حکومتی کمیٹی اسلامیہ کالج پشاور کے پروفیسر محمد اجمل ، یوسف رضا گیلانی اور سلمان تاثیر کے بیٹوں کی رہائی کے علاوہ فوج کی پوزیشنوں کے بارے میں کوئی بات نا کرنے کی تجاویز دے رہی ہے۔ مذاکرات کیلئے مقام کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا ، تاہم مولانا سمیع ا لحق کا بیان ہے کے جلد مذاکرات کی کامیابی کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی ۔
احرار الہند کے خود کش دھماکوں نے اس کشیدگی کو بڑھا یا ہے اور بعض حلقے اشا رہ دے رہے ہیں کہ اس میں غیر ملکی طاقتوں کا ہاتھ ہے جو اس وقت بالخصوص اس لئے سرگرم ہیں کہ امریکہ اور نیٹو افغانستان سے نکلنے والے ہیں لیکن ان کا تقاضا ہے کہ حامدکرزئی اس معاہدے پر دستخط کر دیں جس کے تحت غیر ملکی فوج ۲۰۱۴ ء کے بعد بھی افغانستان میں قیام کر سکے گی جبکہ حامد کرزئی یہ شرط ماننے سے گریزاں ہیں۔
انکی یہ خواہش بھی سامنے آچکی ہے کہ اگلے انتخابات میں انکے خاندان کے فرد کو صدر منتخب کروایا جائے۔ امریکہ اور افغانستان کے درمیان یہ متنازعہ بات اٹکی ہوئی ہے جس کا بدلہ امریکہ پاکستان سے لے رہا ہے اور طالبان سے مذاکرات کے عمل میں رخنہ اندازی کیلئے مبینہ طور پر کا ر وائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم غنیمت یہ ہے کہ حکومت سیاسی اور عسکری قیادت کیساتھ مثبت رابطوں میں ہے جس کے اثرات قومی معیشت بھی روپے کے استحکام کی صورت میں نظر آئے ہیں۔
طالبان اور پاکستان کے درمیان جب کبھی پیش رفت ہوئی امریکہ نے اسے اطمینانیت کی نظر سے نہیں دیکھا۔ اگرچہ پاکستان کی فرمائش پر ڈرون حملے فی ا لوقت بند ہیں لیکن دوسرے طریقوں سے غیر ملکی طاقتوں نے پاکستان کو پریشان کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ اسکی ایک بٹی نشانی ملائیشین طیارے کی گمشدگی ہے ۔ امریکی اور برطانوی میڈیا نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اس طیارے کو پاک افغان سرحد پر اُتاراگیا ہے۔
ملائیشین وزیر اعظم اس ضمن میں وزیر اعظم پاکستان کیساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کر چکے ہیں اور نواز شریف نے انہیں ہر طرح کا تعاون پیش کرتے ہوئے صاف بتایا ہے کہ اس قسم کا جہاز سر حدی علاقے میں اتارا نہیں جا سکتا۔ پاکستان ائیر فورس کے سر براہ طاہر رفیق بٹ نے بھی کہا ہے کہ پاکستان کی حدود میں طیارے کے داخلے کے سگنل نہیں ملے ۔ سول ایسوی ایشن اتھارٹی کے سیکرٹری محمد علی گردیزی نے بھی طیارے کے پاکستان پہنچنے کے الزامات مسترد کیے ہیں لیکن مغربی پریس اپنی ہانک رہا ہے اور پاکستان کیخلاف نفرت پھیلانے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔

پاکستان اور طالبان کے مذاکرات کے تناظر میں ”نیو یارک ٹائمز “ کی یہ رپورٹ بھی اہمیت رکھتی ہے کہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کا اس وقت کے صدر مشرف کو علم تھا اور یہ کہ اسامہ کی حفاظت کیلئے مشرف نے آئی ایس آئی میں ایک ڈیسک بنایا ہوا تھا جو ہر لمحہ اس کی خبر رکھتا تھا۔ اخبار میں کہا گیا ہے کے اسامہ کی خواہش تھی کہ طالبان مزید جنگ جوؤں کو بھرتی کریں تاکہ افغانستان میں امریکہ کیساتھ لڑائی کو پھیلاکر امریکہ کو پھنسایاجاسکے۔
اسامہ کے رابطے ملا عمر اور حافظ سعید کیساتھ بھی رپورٹ کئے گئے ہیں اور احمد شجاع پاشاکو بھی اسکی موفودگی کا علم تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا منصوبہ القاعدہ کی ایک میٹنگ میں ہوا تھا اور اسٹیبلشمنٹ نے انہیں القاعدہ کے ہاتھوں قتل کرایا تھا۔ میجر جنرل راشد قریشی نے اس رپورٹ کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹ بے بنیاد ہے۔
حافظ سعید نے بھی اس رپورٹ کو جھوٹ اور دروغ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب اسامہ بن لادن کی لاش کو سمندر میں ڈبویا گیا تھا تو اس وقت بھی ” نیو یارک ٹائمز“ نے الزام لگایا تھا کہ حافظ سعید کا اُسامہ سے رابطہ تھا اور انہوں نے اس وقت ہی اس کی تردید کر دی تھی ۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ جعلی رپورٹ ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب پاکستان طالبان کیساتھ سرکاری طور پر مذاکرات کیلئے میز پر بیٹھنے والا ہے اور اس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔

ان نازک حالات میں الطاف حسین لندن میں بیٹھ کر فوج کو مسلسل مغاوت پر اُکسا رہے ہیں ۔ انہوں نے افواج پاکستان کو ٹیلی فون پر مخاطب کر کے کہا ہے کہ فوج حکمرانوں کے ایسے احکامات ماننے سے انکار کر دے جن کے تحت انہیں کسی دوسرے ملک میں بھیجا جائے۔ حکومت اس قسم کے اقدام کی تردید کر چکی ہے لیکن الطاف حسین جمہوریت کو پٹری سے اُتارنے اور فوج کو در اندازی کیلئے اُکسارہے ہیں ۔
اس وقت سب سے بڑی ضرورت قومی یکجہتی کی ہے جس کے آثار بھی نظر آتے ہیں۔ لیکن الطاف حسین اسے سبوتاژ کر رہے ہیں تو مقصد ایک دفعہ پھر فوج کیساتھ اقتدار میں آنا ہے لیکن قوم ان کے ہتھکنڈوں کو سمجھ چکی ہے ۔ یہ بھی خبر ہے کہ سند ھ میں ایم کیو ایم ایک دفعہ پھر پی پی سے مفاہمت کر کے اقتدار میں شامل ہو رہی ہے۔ گویا الطاف حسین کی بغاوت کی پھنکار رنگ لا رہی ہے لیکن قوم امن چاہتی ہے اور طالبان کیساتھ امن مذاکرات کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-31

(0) ووٹ وصول ہوئے