تازہ ترین : 1
Steel Mills KO Hazam Karne Ki Kahani

سٹیل ملزکو ہضم کرنے کی کہانی

ایک قابلِ فخر ادارہ کرپشن کی نذر ہوگیا کام مال کے سودے ہوں یا بحری جہازوں کا فریٹ، سکریپ بیچنے کی بات ہو یا فالتوو پرزے منگوانے کیلئے ٹینڈر کا قصہ وہ، سب نے مل کر اس قومی سطح کے سب سے بڑے ادارے کوبےرحمی سےلوٹا

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم:
1947ء میں جب پاکستان وجود میں آیا تو ولیکا سمیٹ چند ٹیکسٹائل ملز کے علاوہ پاکستان کے صنعتی سیکٹر میں ویرانہ تھا۔ اس وقت سٹیل یا دفاعی پیداوار جیسے پیچیدہ اور مشکل کارخانے کی تعمیر کی بات کرنا ایسا ہی تھا جیسے اج آپ میزائل ٹیکنالوجی کے حصول کی بات کرتے ہیں۔ بہر حال اہل بصیرت قیادت موجود تھی اس لئے لیاقت علی خان نے دسمبر 1951ء میں واہ فیکٹری کی بنیاد رکھ کر یہ مشکل فیصلے کیے اسکے بعد فیلڈ مارشل ایوب کان نے پہلے پنجسالہ منصوبے میں فولاد کی صنعت کا تصور دیا۔

جنرل یحییٰ خان نے ماسکو میں جاکر سٹیل ملز کے معاہدے پر دستخط کئے اور ذوالفقار علی بھٹو نے کراچی سے 42کلو میٹر دور پپری کے ریگستان میں ساحلِ سمندر پر سٹیل ملز کی جگہ کا خود بطور وزیراعظم انتخاب کیا۔ اسکے ہمراہ سابق گورنر بیرسٹر کمال اظفر بھی تھے جنہوں نے مجھے یہ قصہ سنایا۔ دفاع اور سٹیل کے یہ سارے کارخانے پبلک سیکٹر میں اس لئے لگائے گئے کہ اس وقت پرائیویٹ سیکٹر میں اتنی جان نہ تھی۔

19000ایکڑ جگہ سندھ حکومت سے بھٹو صاحب کے احکامات پر 76پیسے فی گز کے حساب سے 50ملین روپے کی خریدی گئی۔ اسی ساری رقم مرکزی حکومت نے سندھ حکومت کو ادا کردی۔ اس زمین کا سٹیل ملز کے نام انتقال بھی مکمل ہوگیا۔ اب یہ زمین مرکزی حکومت کی ہے اور اس پر صرف انڈسٹر لگ سکتی ہے کسی اور مقصد کیلئے یہ جگہ استعمال نہیں کی جاسکتی۔ ضروری عملے کیلئے سٹیل ٹاؤن کھڑا کیا گیا جس میں4000کواٹرز ہیں گلشن حدید میں بھی 600ملازمین کیلئے گنجائش رکھی گئی جہاں اب لاکھوں کی آبادی کے مکان بن چکے ہیں۔
165میگا واٹ کا بجلی گھر، 100بستروں کا ہسپتال، ساحل سمندر پر اپنی Jetty، 4.3کلو میٹر نجی کنوئیر بیلٹ ، سمندر سے ایک چینل کاٹ کر مل تک لایا گیا، سپورٹس سٹیڈیم، سٹوڈنٹ ہاکی گراؤنڈ، 400طلبا کی رہائش کے ساتھ ایک کیڈٹ کالج، 12دوسرے تعلیمی ادارے، معذور بچوں کا سکول، حدید ویلفئیر ٹرسٹ ، میٹارجیکل انسٹی ٹیوٹ جو 25ایکڑ پر ہے اور جس میں500نشستوں والا ایک ایڈیٹوریم ہے۔
ویسٹ واٹر پلانٹ، 96ایکڑ پر فیبریکشن فیکٹری، لاہور گلبرگ ، اسلام آباد ایمنٹی روڈ اور کراچی ڈرگ روڈ پر مارکیٹنگ دفاتر، سٹیل ٹاؤن میں آفیسرز میس اور 51بہترین 5سٹار گیسٹ رومز، 2کلو میٹر محیط میں قائد اعظم پارک، 110کلو میٹر لمبی بہترین سڑکیں72کلو میٹر کی ریلوے لائن، 18ریل انجنز اور بجلی کی HTلائنز کیلئے 10کلو میٹر لمبی سرنگیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 200ایکڑ جبکہ عریبین SEAکنٹری کلب کیلئے سٹیل ملز نے لیز پر دی ہوئی ہے۔
نیشنل ہائی وے اور سپر ہائی وے دونوں ساتھ ہیں اور یہ مل پورٹ قاسم کی گود میں ہے۔ کراچی سے پشور تک جانے والی قومی ریلوے لائن بھی وہاں سے گزرتی ہے۔ ان تمام حقائق وسائل کے باوجود تقریباََ ہر حکومت نے اس ادارے کو اپنی سیاسی بھرتیوں کا گڑھ سمجھا، فرنٹ مینوں کے ہاتھوں لوٹا، سٹیل ملز سے تنخواہ لینے والے سینکڑوں آؤٹ سائیڈر (باہر والے) کراچی کی سیاسی پارٹیوں کے دفتر میں کام کرتے ہیں، یونین ورکرز کے لبادے میں بہت سے لوگوں نے ملز کی سینکڑوں گاڑیاں اور ٹیلی فون بے جا استعمال کئے۔
سٹیل ملز کی بسیں بھٹو صاحب کی برسی پر سیکڑوں میل دور لاڑکانہ تک سیاسی کارکنوں کو اٹھا کر جاتی رہیں۔ کام مال کے سودے ہوں یا بحری جہازوں کا فریٹ، سکریپ بیچنے کی بات ہو یا فالتوو پرزے منگوانے کیلئے ٹینڈر کا قصہ وہ، سب نے مل کر اس قومی سطح کے سب سے بڑے ادارے کو بے رحمی سے لوٹا۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ احتساب کے کٹہرے میں کسی کو کھڑا نہیں کیا گیا۔
ایک چیئر مین پابند سلاسل ہے لیکن اس کو استعمال کرنے والی سیاسی قوتیں دوبارہ اقتدار میں آنے کی تیاری میں ہیں۔ ان پر قانون کی کوئی گرفت نہیں وہ بھٹیاں جو میری موجودگی میں94فیصد کی گنجائش پر چل رہی تھیں، آج مکمل بجھنے کیلئے آخری ہچکیاں لے رہی ہیں۔ کام مال کے گودام جہاں کوئلے اور خام لوہے کے پہاڑ لگے ہوئے تھے ہماری ملک دشمنی کا رونا رورہے ہیں بلاسٹ فرنسز اور کوک اوون بیٹریز کے خام مال کی بھوک سے بے ہوش ہے۔
ملازمین کو کئی ماہ کی تنخواہ نہیں ملی، بنک ایل سی کھولنے پر تیار نہیں اور سٹیل مز کے اس عظیم الشان ادارے میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ سٹیل مز دراصل ہماری کرپشن اور نااہلیوں کی دردناک داستان ہے۔
نواز شریف کی پچھلی حکومت نے 1998میں اس مل کو ترکی کی ایک کمپنی کو آگے بیچنے کی بات کی تو وہ آگے نہ چک سکی۔ 1999میں میاں صاحب نے ECCکی ایک میٹنگ میں سٹیل ملز کی بحالی کا فیصلہ کیا جس کو 2000میں پرویز مشرف حکومت نے عملی جامہ پہنایا جس سے سٹیل ملز کے حالات کچھ بہتر ہوئے ۔
اس وقت سٹیل ملز 19ارب روپے کی مقروض تھی جس میں سے 12ارب روپے اس کو ادا کرنے تھے اور باقی 7ارب روپے جو خالص سود تھا وہ موخر کردیا گیا۔
جنوری 2004میں جب میں سٹیل ملز پہنچا تو یہ ادارہ 7.68ارب روپے کے قرضے کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ 13دسمبر 2006کو جب میں ملز سے سبکدوش ہوا تو اس کے سارے قرضے اتارنے کے بعد سٹیل ملز میں 6ارب روپے کا خام مال 4ارب روپے کا تیار مال 2ارب روپے کے فالتو پرزے اور 10ارب روپے بنک میں بچت کی شکل میں موجود تھے۔
حکومت کو 6ارب روپے کا تاریخ میں پہلی دفعہ انکم ٹیکس اور 12ارب روپے سیلز ٹیکس کی ادائیگی اس کے علاوہ تھی۔ آج سٹیل ملز کا مجموعی خسارہ 87ارب اور کل قرضہ 106ارب روپے ہوچکا ہے۔ چین کے اندر سینکڑوں ادارے آج بھی پبلک سیکٹر میں بہت کامیابی سے چل رہے ہیں۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ سرکاری اوداروں میں لوگ میرٹ پر تعینات کئے جاتے ہیں، کوئی سیاسی بھرتی نہیں اور دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ کرپشن میں ملوث بڑے سے بڑے چیف ایگزیکٹر کو تخت دار پر لٹکا دیا جاتا ہے لیکن اس میں مشکل نہیں کہ دنیا میں آج جو سوچ ہے وہ یہی ہے کہ حکومتوں کا حجم بہت چھوٹا ہونا چاہئے ان کو کاروبار میں ملوث نہیں ہونا چاہئے حکومت کو خود بالکل نظر نہیں آنا چاہئے بلکہ اس کی اچھی حکمرانی کی شکل میں بہترین کارکردگی اس کی پہچان ہونی چاہئے۔
ترقی یافتہ ممالک میں پولیس کا سپاہی بھی سڑک پر نظر نہیں آتا لیکن قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ 2006میں ہونے والی سٹیل ملز کی نجکاری کو سپریم کورٹ کے فل بینچ نے اس لئے منسوخ نہیں کیا تھا کہ ادارے کی نجکاری کرنا غلط تھی بلکہ اس لئے کہ نجکاری کے طریقہ کار میں گھپلے تھے۔ 20ستمبر 2004کے ایک خط کے تحت جب نجکاری کمشن نے سٹیل ملز کی نجکاری سے متعلق مجھ سے رائے مانگی تو میں نے کراچی کے ٹاپ کلاس مالیاتی اور قانونی امور کے ماہرین سے رہنمائی حاصل کرنے کے بعد یکم اکتوبر 2004کو نجکاری کا مندرجہ ذیل طریقہ اختیار کرنے کی رائے دی تھی۔

”یعنی پہلے سٹیل ملز کے مزید حصص بیچ کرمالی حالت بہتری کی جائے پھر اس کی توسیع ہو، اس کے بعد اس کے حصص عوام یا فیکٹری کے مزدوروں کے آگے بیچ دئیے جائیں اور حکومت آہستہ آہستہ اپنی ملکیت سے دستبردار ہوجائے۔“ اب تو حالات ناگفتہ بہ ہیں جن کو سدھارنے کیلئے حکومت کو جلد کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔
وقت اشاعت : 2014-03-13

(3) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں