بند کریں
جمعہ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سوشل میڈیا
دہشت گردوں کا موٴثر ہتھیار بن چکا ہے؟ سوشل میڈیا کا ایک رُخ انتہائی مثبت ہے تو دوسرا رُخ اتنا ہی بھیانک بھی ہے۔ عوامی میڈیا کی ساکھ عوام نے ہی جس طرح خراب کی وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے
ابنِ ظفر :
سوشل میڈیا دنیابھر لو گوں کے درمیان باہمی رابطے کا ذریعہ ہے۔ چند ہی سالوں میں ا س کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے لیکن اب اس کے منفی اثرات بھی سامنے آرہے ہیں۔ دہشت گرد سوشل میڈیا کی مدد سے نہ صرف دور بیٹھے ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں بلکہ اپنا لٹریچر اور خطر ناک ویڈیوز بھی لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔ اغواء برائے تاوان اور دہشت گردی کی وارداتوں کے لئے بھی سوشل میڈیا کا بھر پور استعمال جا ری ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا نے بہت کم عرصہ میں انتہائی مقبولیت حاصل کی ہے۔ ا س کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے عام شہری کو اس کی اہمیت کا احساس دلایا اور اسے رائے دینے کا مکمل موقع فراہم کیا۔سوشل میڈیا کا ایک رُخ انتہائی مثبت ہے تو دوسرا رُخ اتنا ہی بھیانک بھی ہے۔ عوامی میڈیا کی ساکھ عوام نے ہی جس طرح خراب کی وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔
بے بنیاد خبریں اپ لوڈ کرنے سے لیکر عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گالی گلوچ بھی یہاں کا معمول ہے ۔ اسی طرح جعلی اکاونٹ بنا کر مجرمانہ سرگرمیاں اختیار کرنا بھی اب عام سی بات ہے۔ یہ بھی عوام کا ہی چہرہ ہے جو ”فیس بک“ پر عیاں ہوا۔ اس صورت حال پر ہمیں کسی کو الزام دینے کی بجائے اپنی ہی گریبان میں جھانکنا ہو گا۔ اب کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا دہشت گردوں کے بڑے ہتھیار کے طور پر بھی سامنے آرہا ہے۔
یہ ایک ایسان رجحان ہے جس پر پاکستانی ادارے ہی نہیں بلکہ یورپ بھی تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔ اب شدت پسندوں نے اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ ممکنہ گرفتاری سے بچ سکیں اور اپنی پناہ گاہوں میں بیٹھ کر ہی معاملات کنٹرول کرتے رہیں۔
دنیا بھر میں جہادی گروپوں کا نیٹ ورک سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی مدد سے یکجا ہوتاجا رہا ہے۔
اسی طرح اپنے مقاصد اور پیغام کی ترسیل کے لیے بھی دہشت گرد اور جہادی تنظیمیں سوشل میڈیا کا استعمال جا ری رکھے ہوئے ہیں۔فیس بک پر ایسے متعدد اکاونٹس کام کر رہے ہیں جہاں جہادی گروپوں کی جانب سے پیغامات جاری کئے جاتے ہیں اور میڈیا پر چلنے والی کمپین اورلٹریچر کی وجہ سے جہاد کی جانب مائل ہو رہی ہے۔ جس پر یورپ میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
حال ہی میں برطانیہ کی انسداد دہشت گردی کے ادارہ نے آنے والے وقتوں میں سوشل میڈیا کو دہشت گردی اور جہادی تنظیموں کا مہلک ہتھیار قرار دیا ہے اسی طرح اس کی روک تھام کے لیے لاکھوں پاوٴنڈز کے بجٹ پر مبنی لائحہ عمل تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ اسی طرح مسلمان برطانوی شہریوں کی جانب سے شام میں جاکر لڑائی میں حصہ لینے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی وجہ سوشل میڈیا خصوصاََ فیس بک کو قرار دیا گیا ہے۔
برطانوی حکومت نے ایک اعلامیہ بھی جاری کیا ہے جس کے مطابق القاعدہ سمیت دیگر جہادی گروپ اشتہاری پیغامات فیس بک اور ٹویٹر کے ذریعے پھیلا رہے ہیں۔برطانیہ کی وزارت خارجہ اور انسداد دہشت گردی کے ادارے نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے اس رجحان اور جہادی سرگرمیوں کا روکا نہ گیا تو برطانیہ میں نائن الیون سے بھی بڑا سانحہ ہو سکتا ہے۔
برطانیہ میں یہ صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ برطانوی وزارت خارجہ نے اس کی روک تھام اور نگرانی کے لئے ایف سی او نامی منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے لئے 170000پانڈ مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح امریکہ اور برطانیہ نے جوابی کارروائی کے طورپر ایک مشترکہ ٹوئیٹر اکاوٴنٹ بھی بنایا ہے جس پر ان جہادی گروپوں کی جانب مائل نہ ہونے کی ترغیب دی جائے گئی ۔
اگرہم سوشل میڈیا پر جہادی گروپوں کی نمائندگی کرنے والے اکاونٹس کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ اب جہادی گروپوں کے باقاعدہ سوشل میڈیا سیل بن چکے ہیں جو سرگرمیوں کی تشہیر کے ساتھ ساتھ کارروائیوں کو باقاعدہ طورپر دلائل سے بیان کرتے ہیں اور مخالفانہ رائے کا جواب دیتے ہیں۔ یہ مضبوط نیٹ ورک بن چکا ہے جو یورپ کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی خاصہ متحرک ہے۔

سوشل میڈیا پر صرف جہادی گروپوں نے ہی اپنا نیٹ ورک نہیں بنایا بلکہ دیگر جرائم پیشہ افراد بھی ایسا ہی کرہے ہیں۔ وطن عزیز میں اغوا برائے تاوان سے لے کر لڑکیوں کے دھوکہ دے کر ہوس کا نشانہ بنانے والے مجرموں کی نشاندہی کے بعد یہ بات واضح ہوئی کہ انہوں نے بھی سوشل میڈیا کو اپنے مذموم اداروں کے لئے استعمال کیا ۔ اسی طرح ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں رہنے والے گینگ اور ٹارگٹ کلرز بھی سوشل میڈیا کو اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
اب لیاری گینگ سٹرز گلی محلوں کی ان لڑائیوں کے ساتھ ساتھ فیس بک کو بھی اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ اس وقت بھی ان کی 60سے زائد آئی ڈیز گردش کر رہی ہیں۔ ان اکاوٴنٹس پر اسلحہ کی ترسیل اور خریدہ فوخت کا دھندہ ہوتا ہے۔ اسلحہ بیچنے یا خریدنے والے مطلوبہ ہتھیار کی تصویر اپنے اکاوٴنٹس پر اپ لوڈ کرتے ہے ۔ یہ سوشل میڈیا خصوصاََ فیس بک پر ایک دوسرے کے حالات سے باخبر رہتے ہیں۔
یہیں ایک دوسرے پر حملوں کی پیشگی اطلاع دی جاتی ہے اور اپنے دشمنوں کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ اسی طرح انہی پر ” سپاری“ لی جاتی ہے۔ سپاری کا مطلب پیسوں کے لئے کسی کو قتل کرنا ہے۔ جسے قتل کروانا ہو اس کی تصویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی جاتی ہے۔ یہ سارا سلسلہ حکومت کی ناک کے نیچے چل رہا ہے ار ہمارے معتبر ادارے خاموشی سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔
یہ ویسی ہی خاموشی ہے جیسی سوات میں ملا فضل اللہ کی جانب سے ابتدائی طور پر سرگرمیوں میں ملوث ویب سائٹس اور اکاوٴنٹس بلاک کرنے کے مکمل انتظامات موجود ہیں لیکن پھربھی پہلے خا موش رہ کر خود انہیں مکمل نیٹ ورک بنانے کی اجازت دیتے ہیں اور پھر جب حالات ہمارے بس سے باہر ہو جائیں تو صورتحال پر قابو پانے کی نا کام کوشش کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس حوالے سے ٹھوس منصوبہ بندی کرے اور صورتحال بہت بنانے کے لئے اپنی پوری توانائیاں صرف کرے۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-02

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان