بند کریں
جمعرات مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سندھ میں مسلم لیگ ن کی پوزیشن نے تحریک انصاف کی مقبولیت کا پول کھول دیا
ایم کیو ایم کی برتری برقرار، پی پی پی کے ساتھ اپ سیٹ۔۔۔۔ پورے سندھ میں تحریک انصاف نے 4 اور مسلم لیگ ن نے پانچ نشستیں حاصل کی ہیں
شہزاد چغتائی
17سال کے بعد ہونے والے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں ایم کیو ایم نے سندھ میں میدان مار لیا۔ مسلم لیگ ن دوسرے نمبر پررہی۔ ایم کیو ایم نے کراچی میں 13 اور حیدرآباد میں 6نشستیں حاصل کیں اور کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں ملک بھر میں ایم کیو ایم نے تیسری پوزیشن حاصل کرلی۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات سے ایک روز پہلے تک خیال کیا جارہا تھا کراچی کے 6کنٹونمنٹ بورڈ میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے درمیان سخت مقابلہ ہوگا اور 6کنٹونمنٹ بورڈ کی 32 نشستوں کا کیک دونوں جماعتوں کے درمیان تقسیم ہوجائے گا۔
لیکن ایم کیو ایم ان اتخابات میں ڈارک ہارس ثابت ہوئی ہے۔بظاہر پیپلز پارٹی کی ناکامی کی وجہ سابق صدر آصف علی زرداری کی طرف سے26اپریل کو جلسے کا انعقاد بتائی جاتی ہے ،جس کی تیاریوں کے باعث پارٹی قیادت25اپریل کو ہونے والے انتخابات پر توجہ مرکوز نہ کر سکی۔ سندھ میں سب سے بڑی جماعت ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود پیپلزپارٹی محض تین نشستیں حاصل کرسکی۔
جبکہ اس کے مقابلے میں مسلم لیگ، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی کارکردگی بہتر رہی۔کئی کنٹونمنٹ بورڈز میں بعض سیاسی جماعتوں کے درمیان غیراعلانیہ اتحاد بھی ہوا مگرکراچی کے 6کنٹونمنٹ بورڈ کے مجموعی طور پر سیاسی جماعتوں کے درمیان کشمکش پائی گئی۔ جس کے بعد پانچ کنٹونمنٹ بورڈز سے تحریک انصاف کا صفایا ہوگیا۔
پورے سندھ میں تحریک انصاف نے 4 اور مسلم لیگ ن نے پانچ نشستیں حاصل کی ہیں۔
اس لحاظ سے کراچی میں مسلم لیگ ن کی کارکردگی تحریک انصاف کے مقابلے میں بہتر رہی ہے، جو تمام کنٹونمنٹ بورڈوں میں مخالف امیدواروں کے مقابلہ میں رنراپ بن کر ابھری ہے۔ فیصل کنٹونمنٹ بورڈمیں مسلم لیگ ن نے حیران کن طور پر تین نشستیں حاصل کیں اور اس کی کامیابی کا تناسب بہت زیادہ رہا اس جیت کا کریڈٹ مسلم لیگ ن کے رہنما علی اکبر گجر کو جاتاہے۔
مسلم لیگ ن کی توقعات کے مطابق نشستیں حاصل نہ کرنے کی مختلف وجوہات تھیں جس میں سرفہرست ڈیفنس‘ کلفٹن میں حائل انتخابی مشکلات تھیں۔ ڈیفنس سوسائٹی میں امیدواروں کو بینر اور پوسٹر لگانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ کلفٹن بورڈ مسلم لیگ ن کا گڑھ کہلاتا ہے جہاں سینیٹر سلیم ضیاء اس کے وائس چیئرمین رہے ہیں۔ لیکن اس بار کلفٹن اور ڈیفنس کے مکیں بلدیاتی انتخابات میں ووٹ دینے گھروں سے نہیں نکلے۔
جس کے باعث مسلم لیگ جہاں سے جیتی ہے وہاں سے ہار آگئی۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں تحریک انصاف کی کارکردگی بہت مایوس کن رہی۔ پی ٹی آئی کو دھچکا لگنے سے کارکنوں میں بہت مایوسی پائی جاتی ہے۔ کلفٹن کنٹونمنٹ میں پی ٹی آئی نے چار نشستیں حاصل کیں۔ جبکہ دیگر پانچ کنٹونمنٹ بورڈز میں پی ٹی آئی کو ایک نشست نہیں ملی۔ کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ میں پی ٹی آئی نے مسلم لیگ ن کو پیچھے دھکیلا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی برگر کلاس کی نمائندہ بنی ہوئی ہے اور کلفٹن اور ڈیفنس سوسائٹی میں پی ٹی آئی مقبول ہے۔
کنٹونمنٹ بورڈ کے چناوٴ پیپلز پارٹی کیلئے لمحہ فکریہ بن گئے اور اس کی عدم فعالیت ہی کراچی بلکہ پورے پاکستان میں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کی زیادہ کامیابیوں کا باعث بن گئی۔ توقع ہے کہ کراچی اور سندھ کے 8کنٹونمنٹ بورڈ وں میں سے چار میں ایم کیو ایم کے وائس چیئرمین آجائیں گے جن میں کراچی کنٹونمنٹ‘ فیصل کنٹونمنٹ بورڈ‘ حیدرآباد کنٹونمنٹ بورڈ اور ملیر کنٹونمنٹ شامل ہیں جبکہ پی ٹی آئی کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈمیں وائس چیئرمین لاسکتیہے۔
علاوہ ازیں جماعت اسلامی اور مسلم لیگ کے وائس چیئرمین بھی آسکتے ہیں۔
انتخابات میں پوش علاقوں کے ووٹرز نے عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔ کلفٹن ڈیفنس سوسائٹی اور زمزمہ میں الیکشن کا کوئی سماں یا گہماگہمی نہ تھی پولنگ اسٹیشن خالی پڑے تھے اور زمزمہ کالج کے پولنگ اسٹیشن پر عملہ موجود تھا برگر کلاس کے ووٹرز بہت کم تعداد میں آئے۔بعض کنٹونمنٹ بورڈ میں تاخیر سے پولنگ شروع ہوئی کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کی انتخابی فہرستوں میں ردوبدل کے باعث پولنگ رک گئی اور ووٹرز کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
فیصل کنٹونمنٹ بورڈ میں راتوں رات پولنگ اسٹیشن بدل جانے کے باعث ووٹر مارے مارے پھرتے رہے۔ ووٹرز کی سخت چیکنگ کے باعث پولنگ بہت سست رہی ایک وقت میں دو ووٹرز کو اندر جانے کی اجازت دی گئی اوران کی واپسی کے بعد دوسرے دو ووٹرز کو اجازت دی گئی۔ فیصل کنٹونمنٹ بورڈ کو حساس بھی قرار دیدیا گیاتھا۔فیصل کنٹونمنٹ بورڈمیں پولنگ کا تناسب 7 فیصد سے بھی کم رہا۔
کراچی میں ٹرن آوٴٹ کم ہونے کی مختلف وجوہات تھیں۔ عام تعطیل اور گرمی کے باعث ووٹر گھر سے نہیں نکلے سخت سیورٹی بھی ایک سبب تھا لوگوں کے شناختی کارڈ اور ان کی شکل کو تصویر سے باہم ملاکر دیکھنے میں بہت وقت ضائع ہوا۔ زائدالمعیاد شناختی کارڈبھی مسترد کر دیئے گئے جس پر بعض ووٹروں نے الزام لگایا گیا کہ ان کو شناختی کارڈ دکھانے کے باوجود ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی اور مختلف اعتراضات کئے گئے۔
فوجی علاقوں کے اندر گہما گہمی کا وہ ماحول نہ تھا جو سویلین علاقوں میں پولنگ اسٹیشن کا معمال ہے پھر بھی ووٹرز میں بہت جوش و خروش تھا۔
کراچی کے جن کنٹونمنٹ بورڈ میں بلدیاتی انتخابات ہوئے ان میں کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ منوڑا‘ کنٹونمنٹ بورڈ کورنگی کریک کنٹونمنٹ بورڈ فیصل کنٹونمنٹ بورڈ ملیرکنٹونمنٹ بورڈ شامل ہیں۔ فیصل کنٹونمنٹ بورڈ سب سے بڑا اور منوڑا کنٹونمنٹ بورڈ سب سے چھوٹا ہے۔
بلدیاتی انتخابات کے موقع پر ووٹروں کی دلچسپی قابل دید تھی زیادہ تر ووٹر صبح ہی صبح پولنگ اسٹیشن پہنچ گئے تھے۔ پولنگ کا آغاز صبح 8 بجے ہوگیا اور ووٹرز کی قطاریں لگ گئیں۔ امیدواروں کے پولنگ کیمپ پولنگ اسٹیشن سے کچھ فاصلے پر تھے۔ جہاں امیدواروں کے حامی ووٹروں کی رہنما ئی کررہے تھے شدید گرمی کے باوجود ووٹ ڈالنے کا تناسب زیادہ رہا۔
کراچی کے کنٹونمنٹ بورڈ میں سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان باقاعدہ مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ مسلم لیگ ن تحریک انصاف ‘ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے مختلف کنٹونمنٹ بورڈزمیں امیدوار کھڑے کئے تھے۔ جماعت اسلامی نے کراچی کے6 کنٹونمنٹ بورڈوں کی تمام31 نشستوں پر امیدوار کھڑے کئے تھے۔ جماعت اسلامی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ کورنگی کنٹونمنٹ بورڈ میں اس کا امیدوار فاروق بلا مقابلہ مقابلہ منتخب ہوگیا تھا۔
جماعت اسلامی کے رہنما مسلم پرویز نے تحریک انصاف کے ساتھ انتخابی اشتراک کی تردید کی اور کہا کہ جماعت اسلامی کی پوزیشن تمام کنٹونمنٹ بورڈز میں بہتر تھی۔ مسلم لیگ کے سنیٹر سلیم ضیاء کا پہلے ہی یہ مووٴقف تھاکہ ان کی جماعت کے امیدوار وں کی کامیابی کے واضح امکانات ہیں۔ پیپلز پارٹی کے نجمی عالم نے کہا کہ پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جس نے اپنے امیدواروں کے ناموں کی سابق صدر آصف علی زرداری سے منظوری حاصل کر کے اس کا اعلان کیا۔
کراچی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ایک جانب منوڑا کنٹونمنٹ بورڈ ہے تو دوسری جانب کورنگی کریک کنٹونمنٹ بورڈ ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کنٹونمنٹ بورڈ شہر کے 67 فیصد حصہ پر محیط ہیں۔ ان علاقوں میں غربت اور امارات کا امتزاج موجود ہے۔بعض کنٹونمنٹ بورڈز کی آبادی پسماندہ ہے اور وہاں کچی آبادیاں بھی ہیں۔ جبکہ کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کی زیادہ تر آبادی پوش علاقوں میں رہتی ہے اور کچی آبادیوں کی تعداد بھی کم نہیں۔

سندھ کے کل 8کنٹونمنٹ بورڈز کے 44 وارڈز ہیں میں 39 کونسلرز کی نشست پر انتخابات ہوئے جس کیلئے 237 پولنگ اسٹیشنز اور 928 پولنگ بوتھ بنائے گئے۔ کراچی کے 6 کنٹونمنٹ بورڈز میں کونسلرز کی 31نشستوں کیلئے193 امیدواروں میں مقابلہ ہوا۔ جبکہ پنو عاقل کنٹونمنٹ کے 2 بورڈوں میں 6پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے۔ پولنگ میں بلیک اینڈ وائٹ بیلٹ پیپرز استعمال کئے جن پر امیدواروں کے انتخابی نشان پرنٹ تھے۔
کنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی انتخابات میں بعض ووٹرز نے سیاسی جماعتوں کے امیدواروں پرعدم اعتماد کا اظہار بھی کیا اور موقف اختیار کیا کہ بلدیاتی انتخابات سیاسی نہیں بلکہ غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے چاہئیں۔ سیاسی جماعتیں جیت گئیں تو وہ کنٹونمنٹ بورڈز کا حشر بھی کراچی کے شہری علاقوں جیسا کردیں۔ ووٹرز نے کہا کہ سیاسی جماعتیں صرف ووٹ لیتی ہیں کام نہیں کرتی۔ کراچی میں ماہانہ اربوں روپے کے بلدیاتی فنڈز وزراء اہم شخصیات اور بیورو کریسی کی جیب میں چلے جاتے ہیں۔ اب شاید کنٹونمنٹ بورڈز کی باری ہے۔ انہوں نے رائے ظاہرکی کہ بلدیاتی الیکشن غیر جماعتیں بنیادوں پر ہونے چاہئیں کیونکہ سیاستدانوں نے مایوس کیاہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-04-29

(0) ووٹ وصول ہوئے