بند کریں
اتوار مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سیاسی قوتوں کے درمیان افہام تفہیم
جیالوں کی جانب سے قدم بڑھاؤ نواز شریف کے نعرے ، گورنر شپ کے امیدوار تھک ہار بیٹھے طالبان کے ساتھ مذاکرات اور کشمیر ڈے کو سبوتاژ کرنے کیلئے کراچی سے خیبر تک ملک دشمن عناصر سرگرم ہوگئے
شہزاد چغتائی:
طالبان کے ساتھ مذاکرات اور کشمیر ڈے کو سبوتاژ کرنے کیلئے کراچی سے خیبر تک ملک دشمن عناصر سرگرم ہوگئے اور پورا ملک دہشت گردی اور بم دھماکوں کی لپیٹ میں آگیا۔ سیکورٹی فورسز پر حملوں کے بعد کراچی کے نزدیک لاہور جانے والی شالیمار ٹو کو نشانہ بنایا گیا اور ریلوے ٹریک پر بموں کے دھماکے کے نتیجے میں نجی شعبہ میں چلنے والی ٹرین کی 9بوگیاں پٹری سے اتر گئیں جس میں 978 مسافر تھے جن میں 100اسپتال پہنچ گئے۔
کراچی اور پشاور میں ایک ہی وقت میں شب خون مارا گیا جس کے نتیجے میں زبردست خوف و ہراس پھیل گیا۔ بم دھماکے کے بعد کراچی کے ریلوے ڈویڑن میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ کراچی سے جانے والی ٹرینوں کو منسوخ کردیا گیا جبکہ اندرون ملک سے آنے والی ٹرینوں کو روک لیا گیا۔ شالیمار ایکسپریس نجی شعبہ کی دوسری ٹرین ہے جوکہ دہشت گردی کا شکار ہوئی ہے اس سے قبل بزنس ٹرین میں دھماکہ ہوا تھا۔
سندھ میں ریلوے لائن کو اڑاکر تخریب کار آئے دن اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں لیکن منگل کی شب ہونے والا دھماکہ بہت خوفناک تھا جس میں کئی افراد ہلاک اور 100 افراد زخمی ہوئے دھماکہ سے ٹرین کی پہلی بوگی تباہ ہوگئی اور اس میں جانی نقصان بھی ہوا۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ سندھ کے شہروں میں بموں کے 42 دھماکے ہوئے تھے۔ طالبان نے کراچی پشاور کے دھماکوں سے لاتعلقی کا اظہار کیاہے۔
خیال ہے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے پروگرام کو ناکام بنانے کیلئے دشمن نے سخت پیغام دیاہے۔ دریں اثناء ایک جانب کراچی آپریشن جاری ہے۔ دوسری جانب امن و امان کا جن قابو میں نہیں آرہا۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے اعلان کے بعدکراچی میں سکیورٹی فورسز کوخاص طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ گزشتہ دنوں رینجرز کے ہیڈ کوارٹر پر بموں سے حملے کئے گئے تھے‘ اب ابراہیم حیدری میں پولیس موبائل کو نشانہ بنایا گیا۔
تین روز کے دوران نصف درجن پولیس والے شہید کئے گئے‘ ایک ماہ میں 33 پولیس والے شہید ہوچکے ہیں۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے طویل مشاورت کے بعد گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کراچی واپس پہنچ گئے‘ جس کے ساتھ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان افہام تفہیم ہونے اور متحدہ کی حکومت میں شمولیت کی اطلاعات ہیں۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی روانگی کے ساتھ ان کے مستعفی ہونے کی افواہیں بھی اڑیں تھیں۔
گورنر سندھ جب بھی ملک سے جاتے ہیں ان کاا ستعفیٰ موضوع بحث بن جاتا ہے۔ کچھ عرصے قبل بھی وہ ا ستعفیٰ دے کر دبئی چلے گئے‘ لیکن وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ان کا استعفیٰ مسترد کردیا تھا اور فرائض انجام دینے کی ہدایت کی تھی۔ 12 سال میں صرف یہ ایک سنجیدہ موقع تھا جب گورنر صاحب نے مزید فرائض انجام دینے سے انکار کردیا تھا۔ طویل ترین ا ننگز کھیلنے کے بعد ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں آگیا ہے۔
اب نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ گورنری ان کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ آصف زرداری کے بعد وہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کی بھی پسندیدہ شخصیت ہیں۔ عسکری حلقے بھی ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہاتھا کہ گورنر سندھ کو ہٹا کر عدم استحکام پیدا نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ 11 مئی 2013ء کے بعد گورنر سندھ کے جو امیدوار میدان میں اترے تھے وہ اب تھک ہار کر بیٹھ گئے ہیں اور ان کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی ہے۔
وہ کامیابی سے ایم کیو ایم اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے اور سیاسی مذاکرات میں پیش پیش رہے ہیں۔ 8 جولائی 2011ء کو 79ء کے بلدیاتی قانون کی بحالی کے بعد پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان جوتناوٴ پیدا ہوا اس کو ختم کرنے کے لئے انہوں نے بہت جدوجہد کی۔ حایہ دنوں میں ایم کیو ایم بدستور وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے آوٴٹ ہے لیکن ایم کیو ایم کسی وقت بھی حکومت سندھ میں شامل ہوسکتی ہے۔
حکومت میں شمولیت کے لئے دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات مکمل ہوچکے ہیں۔ ایم کیو ایم کو منانے کے لئے رحمان ملک نے لندن میں ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین سے ملاقات بھی کی ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کی جانب سے قدم بڑھاوٴ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں کی پالیسی نے دونوں جماعتوں کے اتحادیوں‘ ہم نواوٴں اورچھوٹی جماعتوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔
دونوں جماعتوں کے باغی اور اتحادی بے یارو مدد گار ہیں۔ تھر پار کر میں نواز شریف اور آصف زرداری نے ہاتھ ملا کر جہاں اپنی جماعتوں کے باغیوں موقع پرستوں کوبے اثر کردیا وہاں آمریت پسندوں کو سخت پیغام دیدیا۔ سابق صدر آصف علی ز رداری نے تھر میں کوئلہ اور بجلی پیدا کرنے کی تقریب میں وزیر اعظم محمد نواز شریف کو خصوصی دعوت دی جنہوں نے آصف علی زرداری کے ساتھ پروگرام میں شرکت کرکے یہ بات بھی واضح کردی کہ تھر کول حکومت سندھ کا نہیں پاکستان کا منصوبہ ہے۔
محمد نواز شریف نے اس موقع پر یہ اعلان بھی کیا کہ میرا اورآصف علی زرداری کا کردار قوم کے لئے مشعل ر اہ ہونا چاہئے۔ اس بات میں شک نہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک ساتھ کھڑی ہیں اور ان کے درمیان مثالی تعلقات ہیں۔ 5 سال تک نواز شریف نے جمہوریت کو سہارادیا اور پٹری سے نہیں اترنے دیا‘ اب آصف علی زرداری نے محمد نواز شریف کے ہاتھ مضبوط کرنے اورساتھ دینے کا اعلان کرکے سندھ کی حکومت بچالی ہے۔
11 مئی 2013ء کے انتخابات کے بعد حکومت سندھ پر بدستورتلوار لٹک رہی تھی۔ ایک جانب ایم کیو ایم اور فنکشنل مسلم لیگ کے ووٹ تھے تودوسری جانب پیپلز پارٹی کے اندر فارورڈ بلاک بن گیا تھا لیکن محمد نواز شریف کی کامیاب حکمت عملی نے آصف زرداری کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ پاکستان میں اب کوئی اپوزیشن نہیں‘ سب ڈکٹیٹر شپ کے خلاف متحد ہیں‘ جب تک یہ اتحاد قائم رہے گا پاکستان میں جمہوریت کا بول بالا ہوگا‘ جمہوریت کو بچانے کی کوششیں میں جہاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کو بعض مشکلات کا سامنا ہے‘ وہاں دونوں پارٹیوں کے اندرونی مسائل بھی بڑھ گئے ہیں۔
لیکن دونوں جماعتیں کامیابی کے ساتھ ایک دوسرے کو 5 سال کی ضمانت فراہم کررہی ہیں۔ پرویزمشرف کے خلاف بھی دونوں جماعتیں ڈٹ گئی ہیں اور ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے ان کے درمیان ہم آہنگی موجود ہے‘ جس کے ساتھ پہلے آصف علی زرداری عدالت میں پیش ہوئے اوراب سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے عدالت کا سامنا کیا اوربے گناہی تقریباً ثابت کردی۔
ایک امریکی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان سمیت مختلف ملکوں میں فوجی مداخلت کے امکانات ہیں‘ لیکن جب تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان افہام تفہیم موجود ہے اور سپریم کورٹ فعال کردار ادا کرتی رہے گی ،پاکستان میں کوئی آئین سے مارورا اقدام کرنے کا تصور نہیں کرسکتا۔ ان کے سامنے عرصہ آمریت کا انجام موجود ہے۔ پرویز مشرف کا آئیڈیل کمال اتاترک تھے‘ نواز شریف کا طیب اردگان ہیں۔
ترکی اس وقت یورپ کی چوتھی بڑی معیشت ہے اور اس کی ایکسپورٹ چند ارب ڈالر تھی‘ اب اس کی ایکسپورٹ میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ سیاسی حلقوں کو یقین ہے کہ نہ صرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ‘ بلکہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان بھی خاموش مفاہمت موجود ہے۔ تحریک انصاف کو رام کرنے کے لئے پیپلز پارٹی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں‘ جس کے تحت پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو عمران خان پر ڈورے ڈالتے رہتے ہیں اور عمران خان کی ہاں میں ہاں ملاتے رہتے ہیں۔
عمران خان کے کارکنوں نے بلاول ہاوٴس کی دیوار برلن گرانے کی کوشش کی تھی اور کلفٹن کا علاقہ میدان جنگ بن گیا لیکن اب دونوں جماعتوں کے درمیان برف پگھل گئی ہے۔ اس طرح جمہوریت کے لئے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی دوستی بھی خوش آئند ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-07

(0) ووٹ وصول ہوئے