بند کریں
منگل مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین

شمالی وزیرستان

شمالی وزیرستان آپریشن!!!
ڈرون اور آپریشن کی راہ کیوں ہموار ہوئی۔۔۔۔۔۔ممکنہ آپریشن کی صورت میں نہ صرف ملکی قیادت بلکہ بیرونی دنیا کی بھی حمایت حاصل ہوجائے گی
محمد رضوان خان:
پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں ایک عرصے تک یہ بحث جاری رہی کہ پاکستانی فوج کے آپریشن زیادہ تباہ کن ہیں یا پھر ڈرون؟ اس سوال کے جواب میں قبائلیوں نے تو ڈرون کو کارروائی کو نسبتاََ بہتر آپریشن قرار دیا ۔ قبائلیوں کی یہ رائے کوئی راتوں رات نہیں بنی بلکہ ایک عشرے کے تجربے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں۔ ملکی آپریشن کے مقابلے میں ڈرون تبایہ بھی کم پھیلاتا ہے اور ساتھ ہی یہ ہدف کو نشانہ بنانے میں بھی کمال کی مہارت رکھتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہوگی کہ شمالی وزیرستان میں پانچ ماہ اور گیار دن کے بعد یکے بعد دیگرے دو ڈرون حملے ہوئے۔ پاکستان کے اعتبارسے دیکھا جائے تویہ حملہ انتہائی مفید رہا کہ اس میں زیادہ تر ازبک مارے گئے مجموعی طور پر اس حملے میں 16شدت پسند لقمہ اجل بنے۔ اس حوالے سے یہ 2014ء کا پہلا ڈرون حملہ وہا جس میں اوپر تلے دو حملے کئے گئے تاہم ابھی ان دو حملوں کی گونج ختم بھی نہ ہونے پوئی تھی کہ میران شاہ میں ایک اور حملہ ہوگیا جس میں 10افراد مارے گئے۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو تین حملوں میں لگ بھگ 26 افراد مارے گئے۔ ان حملوں کی غور طلب بات یہ ہے کہ یہ اپنے ساتھ کئی انفرادی پہلو بھی لئے ہوئے ہیں۔ ان میں سرفہرست تو یہ کہ پہلی بار میڈیا میں یہ بات آئی کہ یہ حملے حکومت کی مبینہ فرمائش پر ہوئے اگرچہ حکومت اس کی تردید کرچکی ہے اور ساتھ ہی ڈرون حملوں کے کلاف اپنا روایتی موقف بھی د وہرا چکی ہے لیکن اس دوہرائی میں وہ کاٹ نہ تھی جو دسمبر 2013ء میں ہونے والے ڈرون حملے کے بعد دیکھی گئی تھی بلکہ اگر دیکھا جائے تو یہ مزمت بالکل ویسی ہی لگ رہی تھی جیسی پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے ابتدائی ایام میں ہو اکرتی تھی۔
پیپلز پارٹی حکومت نے تو بعد میں احتجاج کا یہ تکلف بھی ختم کردیا تھا جس سے صورتحال واضح ہوچکی تھی کہ یہ حملے محض نورا کشتی تھے۔ اس ملی بھگت کی تصدیق بعد ازاں امریکی سینیٹر ڈائن الفائسٹن نے کردی تھی کہ ڈرون پاکستانی حکومت کی باقاعدہ مشاورت سے کئے جاتے ہیں۔ اس بار بھی شائد کچھ مصلحتیں ہوں یا یہ بھی ممکن ہے کہ یہ محض وہم ہو کہ ایسا ہوا ہے کہ تازہ ترین حملہ کسی مفاہمت کا شاخسانہ وہ۔
مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت کے قدرے دھیمے احتجاج اور ڈرون کی ٹائمنگ ایسی تھی کہ یہ شکوک و شبہات جنم لے رہے تھے۔ تاہم بعض حلقے یہ سوالات اٹھارہے ہیں۔ کہ امریکی سار جنٹ بوئی برگدال کی رہائی کے بعد امریکہ کیلئے اچانک شمالی وزیرستان میں ایسی کون سی کشش پیدا ہوگئی کہ اس نے ساڑھے پانچ ماہ بعد اپنے ڈرون کو ہواؤں میں اڑادیا۔ یہ تاثر بھی دیا جارہا ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی کا پاکستان نے پہلی بار استعمال کرلیا ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ تخیلات کے گھوڑے سرپٹ دوڑائے جارہے ہیں اور کوئی ٹھوس بات نہیں کہ جارہی بہر حال خوش آئندہ بات یہ ہے کہ ڈرون کا نشانہ بننے والوں میں سے زیادہ تر عناصر ایسے تھے جن کے ناطے جاکر اس گروپ سے ملتے تھے جس نے کراچی ائیرپورٹ پر حملہ کیاتھا۔
ڈرون حملے کراچی کے بین الاوقامی ہوئی ادے پر شدت پسندوں کے حملے کے ٹھیک تین دن بعد ہوئے تھے اس حملے میں حملہ آوروں سمیت 30 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے جبکہ اس حملے کی ذمہ داری اوپر تلے دو تنظیموں نے قبول کرلی جن میں پہلے طالبان نے اور پھر اسلامک موومنٹ آف ازبکستان نے قبول کر ل تھی اس تنظیم نے بعد ازاں مسلح جنگجوؤں کی وہ تصویر بھی جاری کی تھی جس میں دس ازبک جنگجو ہاتھوں میں کلاشنکوف لئے کھڑے ہیں۔
طالبان اور اسلامی موومنٹ آف ازبکستان دونوں کی جانب سے حملے کی ذمہ داری لینے پر پاکستانی حکام نے فوری طور پر حکومت کا ایکشن لینے پر مجبو رکی ا تاہم شائد یہ محض اتفاق تھا کہ اس وقت ڈرون بھی ہوگیا۔ پہلا ڈرون دانڈے درپہ خیل میں ہوا جہاں چھو میزائل داغے گئے جس میں دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق حملے کے وقت یہ ازبک شمالی وزیراستان میں ایک کمپاؤنڈ کے باہر جمع تھے۔
اس حملے کے بعد ایک اور حملہ اس وقت کیا گیا جس مرے والوں کی لاشیں اکٹھی کی جارہی تھی اس لحاظ سے اس گروپ کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں اگر دیکھا جائے تو مرنے والوں میں سے امریکہ کے حوالے کوئی بڑا ٹارگٹ بھی نہیں تھا۔ بہر حال اس ایک حملے پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ اس کے بعد بھی اگلے روز ایک اور حملہ ہوا جس کے بارے میں بھی کوئی ایسی اطلاع موصول نہیں ہوئی کہ مرنے والوں میں امریکہ کا کوئی مطلوب ٹارگٹ تھا کہ نہیں۔
شمالی وزیرستان میں اس نئی صورتحال میں اب دھیرے دھیرے حکومت کی پالیسی کافی واضح ہوتی جارہی ہے جس کے تحت مقامی مجاہدین کی شوریٰ سے تو کوئی غرض اس صورت میں نہیں رکھی جائے جب تک کہ وہ موجودہ طرز میں رہیں گے تاہم وہ غیر ملکی جو پاکستان میں غدر مچانا چاہتے ہیں کیلئے برداشت صفر رکھ دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں بھی حکومت کو ئی عجلت نہیں کررہی بلکہ پہلے مرحلے میں قبائلویوں کے قابل تنظیم اور انتہائی محترم لیڈر فقیر ایپی کے گھرانے سے رابطہ کیا گیا جو اپنے تئیں شمالی وزیرستان میں جرگہ کے ذریعے حالت کو نارمل سطح پر لانے کی کوشش کررہے ہیں۔
اس جرگے کو کم از کم اس قدر کامیابی پہلے مرحلے میں مل گئی ہے کہ حافظ گل بہادر نے 10جون کی ڈیڈ لائن کو بڑھا کر 20جون کردیا ہے جس کے بارے میں ذرائع دعویٰ کررہے ہیں کہ اس میں توسیع کا سلسلہ بھی جاری رہ سکتاہے۔ مذکورہ جرگہ اس بارے میں تو کامیاب ہو گیا ہے کہ شمالی وزیرستان پر منڈلانے والے جنگ کے بادل تو چھٹ گئے ہیں تاہم کیا یہ جرگہ اس قابل ہے کہ شمالی وزیرستان سے ازبکوں کا صفایا کرسکے؟ اس سوال ے کے جواب میں عسکری حلقوں کی رائے تو یہ ہے کہ جرگے کی یہ اہلیت نہیں ہے لیکن سیاسی اور سفارتی حلقے پر امید ہیں کہ جرگہ شمالی وزیرستان میں موجود تمام قبائل کو اس بات پر راضی کر لے گا کہ وہ ازبکوں سمیت علاقے میں موجود دیگر خارجیوں کو بھی پر امن طریقے سے جانے پر راضی کرلیں۔
یہ حلقے پر امید بھی اور اس درجہ احتیاط سے کام لے رہے ہیں کہ وہ اس انخلاء کو غیرملکیوں کو محفوظ راستہ دینے کی ایک کوشش بھی کہنے کو تیار نہیں۔
شمالی وزیرستان میں اس وقت یہ غیر ملی کافی بااثر ہیں اور یہ حیثیت وہ کافی عرصے سے حاصل کئے ہوئے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں ایک وقت جب طاہر یلد شیف بھی یہاں موجود تھے یہ گروپ بہت مضبوط ہوا کرتا تھا لیکن حالات اس وقت کشیدہ ہوئے کہ جب ازبکوں اور محسودوں کی باہمی رقابت پیدا ہوئی جس کا سارا نزلہ جنوبی وزیرستان میں گرا تھا جہاں ازبکوں کو محسودوں نے نکال باہر کیا تھا لیکن شمالی وزیرستان میں یہ حالت مختلف تھے جہاں حکومت اور مقامی مجاہدین کی شوریٰ کے درمیان 2006ء سے امن معاہدہ استوار ہے جس کا دو طرفہ احترام کیا جاتا ہے۔
اس امن معاہدے کے ضامن حافظ گل بہادر جو گزشتہ دنوں شمالی وزیرستان میں ہونے والی کارروائی سے کافی ناراض تھے نے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مصالحانہ کوششوں کو قبول کرلیا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے پچھلے دنوں بغیرکسی لگی لپٹی رکھے ہوئے مقامی طالبان اور علاقے میں موجود غیر ملکی جنگجوؤں کو کہا ہے کہ وہ یا تو خاموش رہیں یا پھر علاقہ چھوڑدیں۔
اس کاموشی کا مطلب بڑا واضح ہے کہ مقامی مجاہدین کو حکومت کے ساتھ جو معاہدہ ہے اس کے تحت یہ بھی لازم ہے کہ جو جنگجو شمالی وزیرستان میں قیام کرے گا وہ پاکستانی سرزمین کو کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں کرے گا اور نہ ہی خود پاکستان کے خلاف کسی جارحانہ کارروائی کا حصہ بنے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حافظ گل بہادر نے بھی طالبان اور ازبک اسلامی موومنٹ کے جنگجووں کو یہ تنبیہ ایک ایسے وقت میں کی ہے جب کراچی ائیرپورٹ کا سانحہ رونما ہوئے مشکل سے تین روز گزرے ہوں گے۔
اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو حافظ گل بہادر کی بھی تنبیہ اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ کراچی ائیرپورٹ پر شائد طالبان اور ازبکوں کی مشترکہ کارروائی ہو، بہر حال اس بات کا بھی کھوج لگایا جارہاہے لیکن کالعدم تحریک طالبان اور اسلامک موومنٹ آف ازبکستان دونوں نے ہی کراچی ائیرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حافظ گل بہادر نے بطور خاص صرف ازبکوں کو ہی مخاطب نہیں کیا بلکہ انہوں نے شمالی وزیرستان میں مقیم تمام غیر ملکیوں کے کہا ہے کہ وہ یا تو پر امن رہیں یا پھر علاقہ چھوڑ دیں۔
واضح ہو کہ حکومت نے بھی شمالی وزیرستان کے عمائدین کو 15روز کی مہلت دی ہے کہ وہ اس عرصے کے اندر علاقے کو ان غیر ملکیوں سے پاک کرلیں۔ بصورت دیگر وہاں آپریشن ہوگا۔ قبائلی بخوبی جانتے ہیں کہ یہ آپریشن کسی قدر خوفناک ہوسکتاہے اس لئے غالب امکان تو یہی ہے کہ اس مہلت کے اندر اندر کچھ پیش رفت ہوجائے گی تاہم اگر جرگہ ناکام رہتا ہے تو پھر اس کے علاقے کو نتائج بھگتنے پڑیں گے۔
دوسری طرف حکومت کو بھی کسی ممکنہ آپریشن کی صورت میں نہ صرف ملکی قیادت بلکہ بیرونی دنیا کی بھی حمایت حاصل ہوجائے گی۔
شمالی وزیرستان میں اس ممکنہ آپریشن میں اسے شاید اقوام متحدہ کی بھی حمایت حاصل ہوگی جس نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ القاعدہ سے منسلک پاکستانی اور ازبکستانی شدت پسند گروہ افغاسنتان کی فوج پر حملوں میں باقاعدگی سے حصہ لے رہے ہیں۔
اس ماہرین کے مطابق اس سال افغانستان سے نیتو کی فوجوں کے انخلا کے باوجود یہ شدت پسند گروہ نہ صرف افغانستان بلکہ جنوبی اور وسطی ایشیا اور عالمی برادری کیلئے براہ راست خطرہ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان اور بین الاقوامی حکام یہ سمجھتے ہیں کہ القاعدہ سے جڑے ہوئے ان گروہوں کا مستقبل قریب میں افغانستان سے جانے کا کوئی امکان نہیں بلکہ ان کی کارروائیوں کا محور پاکستان ہی رہے گا ۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان، لشکر طیبہ اور لشکر جھنگوی القاعدہ سے منسلک ہیں۔ یہ عجیب حسن اتفاق ہے کہ اقوام متحدہ نے اس قسم کی رپورٹ بھی اسی موقع پر ریلیز کی جب اسلامک موومنٹ آف ازبکستان نے اپنی کارروائیوں بڑھادی ہیں اس لحاظ سے اب ان عناصر کے کلاف کارروائی میں اقوام متحدہ کی بھی حمایت پاکستانی کے ساتھ ہوگی۔
دوسری طرف اس ممکنہ کارروائی کیلئے وفاقی حکومت نے ملک کے اندر بھی سیاسی پارٹیوں ں کو ہم نوا بنانے کیلئے مذاکرات شروع کردئیے ہیں۔ اس مقصد کیلئے وزیر اعظم کی قائم کردہ تین رکنی کمیٹی نے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کررکھے ہیں۔ اس کمیٹی میں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد فریق، منصوبہ بندی کے وزیراحسن اقبال اور قومی امور پر وزیراعظم کے خصوصی معاون عرفان صدیقی شامل ہیں جن کے ابتدائی رابطے مثبت ہوئے ہیں۔
جس کا مطلب یہ ہے کہ فوج اب اس ناسور کو صاف کرنا چاہتی ہے لیکن وہ اس سے پہلے شمالی وزیرستان کے تمام ایسے سٹیک ہولڈرز کو جو پاکستان کے ساتھ وفادار ہیں کو اعتماد میں لینا چاہتی ہے جس کیلئے حکومت سفارتی کوششیں کررہی ہے۔ عین ممکن ہے اس مسئلے پر ایک اور اے پی سی بھی طلب کرلی جائے، بہر حال ابھی تک یہ طے نہیں ہوا ہے کہ حکومت شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے خاتمے اور فوجی کارروائی کے آغاز کا باقاعدہ اعلان کب کرے گی۔
یہ آپریشن نہ جانے کب ہولیکن شمالی وزیرستان میں اس ممکنہ آپریشن کی وجہ سے تقریباََ سات ہزار کے قریب افراد نے خواتین اور بچوں سمیت سرحد پر کر کے افغان علاقوں میں پناہ لے لی جبکہ جرگے نے بھی مبینہ طورپر خاموشی اختیار کرلی ہے جو توپوں کی گھن گرج کا خاموش پیغام ہوسکتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-19

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان