تازہ ترین : 1
Shiddat Pasandi

شدت پسندی

اس کا تعلق غربت اور مظلومیت سے نہیں ہے۔۔۔۔۔ متعدد ایسے واقعات ہیں جن میں شدت پسندوں کا تعلق صاحب ثروت خاندانوں سے تھا۔ حالیہ بنیاد پرستی کا تعلق مخصوص ذہنیت سے ہے

اسعد نقوی:
ہمارے ہاں مذہبی شدت پسندی کا تعلق غربت اور احساس محرومی سے جوڑا جاتا ہے جو درست نہیں ہے ۔ متعدد ایسے واقعات ہیں جن میں شدت پسندوں کا تعلق صاحب ثروت خاندانوں سے تھا۔ حالیہ بنیاد پرستی کا تعلق مخصوص ذہنیت سے ہے۔ ہمیں اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے فوجی آپریشن کے ساتھ ساتھ تعلیمی اصلاحات بھی کرنا ہوں گی۔ فرقہ وارانہ رویہ کی حوصلہ شکنی کئے بغیر پاکستان اس صورتحال سے باہر نہیں آسکتا ۔
ہمارے ہاں عام طور پر یہ خیال جڑ پکڑتا جا رہا ہے کہ عموماََ دنیا بھر میں اور خصوصاََ پاکستان میں نظر آنے والی شدت پسندی کا تعلق غربت سے جڑا ہے ۔ یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ پاکستان میں کارروائیاں کرنے ولاے عسکریت پسند دولت کی خاطر ایسی کارروائیاں کرتے ہیں۔ کسی حد تک یہ بات درست ہو سکتی ہے لیکن یہ بات عسکریت پسندوں کی بہت اوپر کی قیادت کے بارے میں شاید کہی جا سکے۔
پاکستان میں شدت پسندانہ کارروائیاں کرنے ولاے افرا د کا تعلق جہان معمولی گھرانوں سے تھا وہیں ان میں ایسے افراد بھی شامل تھے جو پاکستانی معاشرے کے حساب سے کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ڈاکٹر، انجینئرز اور تاجر بھی عسکری کا رراوئیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ یہ صورتحال صرف پاکستان میں ہی نہیں ہے ۔ نائیجیریا میں باکوحرام ، شام میں داعش اور پاکستان میں طالبان کے نام سے ہتھیار اُٹھانے والوں کا بنیادی مقصد پسے ہوئے طبقے کی مدد کرنا نہیں تھا۔
اس کے برعکس ان کی کارروائیوں میں متعدد ایسے افراد بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جن کا تعلق سفید پوش طبقے سے تھا۔ ان عسکری گروہوں کا بنیادی مقصد معاشرے میں سماجی انصاف کیلئے جنگ بھی نہیں تھا۔ کم از کم اب تک کی صورتحال یہ بتاتی ہے جائزہ لیں تو اکثر کارروائیوں کے پس منظر میں نظر آنے والے افراد پاکستان معیار کے مطابق اچھی ملازمت کر رہے تھے۔
جی ایچ کیو پر حملہ کرنے ولے ڈاکٹر عثمان سے لے کر پرویز مشرف حملہ کیس میں ملوث افراد تک زیادہ تر لوگوں کا تعلق پسے ہوئے طبقے سے نہیں تھا اگر یہ جنگ معاشرے کے محروم طبقہ کی جنگ ہوتی تو انتہائی غربت کے شکار پاکستانی شہری اس جنگ کا ہراول دستہ بن چکے ہوتے۔ پاکستان میں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود عسکری گروہوں کو اس تناسب سے افرادی قوت نہیں مل سکی۔
لہٰذا یہ بات واضح ہوئی ہے کہ کم از کم پاکستان میں عسکریت پسندی کی وجہ محض غربت یا حالات کی تنگی نہیں ہے۔ جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ عسکریت پسندی کا تعلق ایک خاص ذہنیت سے جڑا ہوا ہے۔ اسلام کی من پسند تشریحات فرقہ واریت اور دنی و دنیاوی تعلیم کی کمی اس کی نبیادی وجہ نظر آتی ہے۔
بنیاد پرستی کا شکار ہونے والے ایک مخصوص دائرہ کار سے باہر نکل پاتے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ بنیاد پر ستی، پختہ ہوتے ہوتے تنگ نظری کی جانب سفر شروع کر دیتی ہے۔ اسلام میں تنگ نظری کی بجائے کشادہ دلی کا سبق دیا گیا ہے۔ ریاست مدینہ میں غیر مسلموں سے بھی اَحسن سلوک سے پیش آیا جاتا تھا دوسری جانب موجودہ دور کے عسکری گروہ تنگ نظری کا شکار ہو کر غیر مسلموں کیلئے کسی قسم کی گنجائش رکھنے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ عسکری گروہوں کے ہاں ادب اور کلچر کے حوالے سے بھی حوصلہ افزا رجحان نہیں پایا جاتا ۔
یہ صورتحال خیالات اور سوچ کی پرواز پر پہرے بٹھا دیتی ہے۔ اسی لیے ایک طبقہ اس خدشے کا اظہار بھی کرتا نظر آتا ہے کہ اگر ان عسکری گروہوں کو اقتدار مل گیا تویہ دیگر فرقوں کیلئے بھی کوئی گنجائش نہیں رکھیں گے۔ اسی صورتحا ل میں ملک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے ۔ اسی بارے میں مزارات اور امام بارگاہوں پر حملوں کی مثالیں بھی جاتی ہیں۔
اس وقت پاکستان کو بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑ رہا ہے۔
ایک طرف اندرونی محاذ پر فوجی آپریشن چل رہے ہیں تو دوسری طرف بھارت سرحدی کشیدگی میں اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے ۔ ہمارے پالیسی سازوں کو اب اس جانب توجی دینی ہو گی کہ اندرونی محاذ کیوں کھلا ہوا ہے۔ پسماندگی اور غربت کی تھیوری یہاں فیل ہو چکی ہیں کیونکہ عسکریت پسندوں کے پاس بھاری رقوم اور فنڈز موجود ہیں اور وہ مہنگائی جدید اسلحہ بی استعمال کرتے ہیں۔
اسی طرح دھماکے میں گاڑیاں ختم کرنا بھی ان کا معمول ہے جہاں تک ذہنیت کی بات ہے تواس حوالے سے ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ملک بھی میں دینی و دنیاوی دونوں علوم کو فروغ دینا ہو گا مکالمہ کا کلچر متعارف کراتے ہوئے عدم برداشت کی صفت کو ختم کرنا بہت ضروری ہے ۔ دوسری جانب خارجہ پالیسی میں تیزی لاتے ہوئے بھارت کی جارحیت اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کو روکنا ہو گا۔
اس وقت صرف فوج ہی نہیں بلکہ پوری قوم حالت جنگ میں ہے ۔ ہمیں کئی محاذ کھولنے کی بجائے ایک ایک کر کے اپنے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ اس جانب توجہ دی جائے اور ہنگامی بنیادوں پر اہم فیصلے کئے جائیں۔ یا د رہے کہ نظریات کی جنگ اسلحہ سے زیادہ تعلیم سے لڑی جاتی ہے۔ اس جنگ میں فوج سے زیادہ اساتذہ ،دانشوروں اور کتب خانوں کا کردار ہوتا ہے۔ اب ہمیں اس جانب بھی توجہ دینی ہوگئی۔
وقت اشاعت : 2015-03-07

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں