تازہ ترین : 1
Shehr e Quaid Per Moot Ka Saya

شہر قائد پہ موت کا سایہ

سورج سوانیزے پر، سنا تھا دیکھ بھی لیا۔ یہ بات کہتے ہوئے وہ ضعیف العمر عورت روپڑی جس کا کوئی پیارا چل بسا تھا اور ٹی وی کیمرہ دوسرا منظر دکھانے لگا۔ کراچی میں گزشتہ چند دنوں میں کم و بیش دو ہزار اموات ہوچکی ہیں

الطاف مجاہد:
سورج سوانیزے پر، سنا تھا دیکھ بھی لیا۔ یہ بات کہتے ہوئے وہ ضعیف العمر عورت روپڑی جس کا کوئی پیارا چل بسا تھا اور ٹی وی کیمرہ دوسرا منظر دکھانے لگا۔ کراچی میں گزشتہ 72گھنٹوں کے دوران کم و بیش دو ہزار اموات ہوچکی ہیں سینکڑوں میتیں سپردخاک کردی گئیں جبکہ اتنی ہی میتیں سرد خانوں میں رکھی ہیں اور مزید میتوں کے رکھنے کی جگہ نہیں رہی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے اور ہیٹ اسٹروک سے متاثرہ درجنوں مریض بیک وقت لائے جارہے ہیں۔
خود مسلح افواج نے شہر میں گرمی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے 14ہیٹ اسٹروک سینٹر قائم کردیئے ہیں جہاں بچاؤ کی طبی امداد دی جارہی ہے۔
کراچی۔ 60کے عشرے تک معتدل موسم کا حامل شہر شمار ہوا کرتا تھا جب یہاں ہم وقت پھوار پڑا کرتی تھی۔ بوندا باندی اور بارشوں کا سلسلہ عام تھا لیکن یہ جمشید نسروانجی‘ حاتم علوی‘ حکیم احسن اور یوسف ہارون کا کراچی تھا جب ٹاور سے گرومند تک پھیلے کراچی میں 36 پارک تھے آج کے نشتر پارک‘ جہانگیر پارک اور آرام باغ میں درخت ہوا کرتے تھے سبزہ تھا اور تتلیاں منڈلاتی تھیں لیکن 70کی دہائی میں شہر کو وسعت ملی شجر اشجار کا شہر کنکریٹ کی ہائی رائز عمارتوں میں تبدیل ہوا تو موسم بھی اس سے روٹھ گیا اور تتلیاں و پرندے بھی۔
اب ریگل چوک‘ برنس روڈ‘ ایم اے جناح روڈ‘ بابائے اردو روڈ اور آغا خان روڈ پر اکادکا ٹنڈ منڈ درخت نظر آتے ہیں حالانکہ 80کی دہائی تک یہاں سینکڑوں درخت موجود تھے اور ان پر چڑیاں چہچہاتی تھیں۔
کراچی میں یومیہ 12گھنٹے کی لوڈشیڈنگ پھر غیر اعلانیہ بریک ڈاؤن اور ٹرانس فارمر جل جائیں تو ان کی درستگی بڑا مسئلہ ہے پھر کراچی کا فلیٹ سسٹم بھی ایک مسئلہ ہے چھوٹے بڑے اور پرانے دور کے ڈیوڑھے فلیٹ جن میں ایک کمرہ ‘ نصف برآمدہ اور ملحقہ کچن و باتھ روم ایک فیملی کیلئے ہوا کرتے تھے لیکن ان میں کئی کئی خاندان قیام پذیر ہیں۔
ویسٹ اوپن فلیٹ نہ ہوں تو ہوا کی کمی بھی بہت سے مسائل کا سبب بنتی ہے ایسے میں بجلی غائب ہو تو جماعت اسلامی‘ متحدہ قومی موومنٹ اور تحریک انصاف ہی نہیں صوبہ میں اقتدار پر براجمان پی پی کو بھی جوابدہی مشکل ہوجاتی ہے کہ اس شہر سے سب کے امیدوار جیتے ہیں لیکن کوئی سیاسی گروہ اور این جی او کے الیکٹرک کیخلاف دھرنے ‘ ملین مارچ یا مظاہرے پر آمادہ نہیں یہ آج کا کراچی ہے جس میں جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک پر ایک ہزار اموات کا مقدمہ قتل درج کرانے کا فیصلہ کیا ہے دیکھتے ہیں قانونی کارروائی ہوتی بھی ہے یا نہیں اور ہوجائے تو کیا رنگ لاتی ہے۔

کراچی کی سڑکیں قیامت خیز گرمی اور رمضان کریم کے باوجود سراپا احتجاج ہیں پریس کلب‘ نیو کراچی‘ ناگن چورنگی‘ لسبیلہ‘ تین ہٹی‘ بلو چ کالونی‘ کالا پل‘ سعود آباد‘ شا فیصل کالونی‘ کورنگی‘ لانڈھی‘ بلدیہ ٹاؤن‘ فیڈرل بی ایریا‘ گلشن اقبال‘ سب میرین چورنگی‘ ٹاور‘ ماری پور روڈ‘ پاک کالونی‘ رضویہ پر مظاہرے معمول ہیں۔
بجلی نہ ہو تو پانی کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے قیامت کی گرمی میں پانی کے چند مگ جسم پر بہالئے جائیں تو سکون ملتا ہے لیکن کے الیکٹرک اور واٹر بورڈ کی ملی بھگت سے کراچی کے ڈھائی کروڑ باشندے ایک عذاب سے گذر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہمیں حکومت سے انصاف مل رہا ہے نہ اس کے اداروں سے۔ پانی و بجلی نہ ملے ایسی صورت میں موت مقدر نہ بنے تو کیا حصے میں آئے۔

کراچی کا دہکتا سورج جب 45ء5ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی برسا رہا ہو۔ جناح اسپتال‘ سول اسپتال‘ ضیاء الدین اسپتال‘ انڈس اسپتال‘ لیاقت نیشنل اسپتال‘ عباسی شہید اسپتال، لیاری جنرل اسپتال اور کے ایم سی کے اسپتالوں کے سرد خانے سینکڑوں میتوں کی موجودگی میں مزید میتیں رکھنے کی استعدار نہ رکھتے ہوں جبکہ شہر کے 7 سے زائد کولڈ اسٹوریج تین دنوں میں 7 سو جبکہ ایدھی سرد خانہ 4 سو میتیں امانتاً رکھ چکا ہو خدمت خلق فاؤنڈیشن کے کولڈ اسٹوریجز میں بھی تین سو میتیں رکھی ہو تو اموات کا تخمینہ 15سو سے تجاوز کرجاتا ہے۔

سندھ اسمبلی میں برہم اراکین بھی کے الیکٹرک اور وفاقی حکومت پر مقدمہ درج کرانے کا مطالبہ کررہے تھے وزیراعظم نواز شریف کہتے ہیں اموات پر دکھ ہوا۔ این ڈی ایم اے کراچی میں ریلیف کے اقدامات کرے۔
کراچی کے سرکاری و نجی اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک ڈائریا کے مریضوں کی تعداد ہزاروں سے تجاوز کرچکی ہے ہیٹ اسٹروک براہ راسست دل اور دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے نحیف افراد موسم کی یہ شدت برداشت نہیں کرپاتے کچھ چل بستے ہیں باقیوں کو اسپتال لے جایا جاتا ہے جہاں ادویات کی قلت‘ ڈرپس کا فقدان‘ اور ڈاکٹروں کی کمیابی مریضوں اور ان کے لواحقین کو پریشانی میں مبتلا کررہی ہے۔

گرمی کی یہ شہر اندرون صوبہ بھی پہنچ چکی ہے اور 72گھنٹوں میں کم و بیش سو کے قریب ہلاکتوں کی اطلاع ہے ٹھٹھہ اور تھر ہی نہیں‘ خیرپور‘ سانگھڑ‘ بدین کے علاج گاہوں میں ڈی ہائیڈریشن کے مریض لائے جارہے ہیں بالخصوص روزہ دار اور نحیف و نقاہت کے شکار افراد کی اموات ہورہی ہیں اندرون صوبہ بھی کراچی کی طرح برف مہنگی ہوچکی ہے ٹھنڈے مشروبات کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کردیا گیا ہے برف کی قلت سے برف سے چلنے والے کاروبار متاثر ہیں ان کا بھٹہ بیٹھ چکا ہے برف کے کارخانہ یا مکان سے قیمت دگنی ‘ تگنی‘ کردی ہے پانی کی کمی سے برف کی تیاری مشکل ہوگئی ہے اور بعض مقامات پر آلودہ پانی کارخانہ مالکان استعمال کررہے ہیں جس کے باعث وبائی امراض پھیلنے لگے ہیں۔

ایک طرف یہ صورتحال ہے جس میں موسم کی حدت نے زندگی اجیرن کردی ہے تو دوسری طرف سندھ میں پری مون سون سیزن شروع ہوچکا ہے لیکن بات ہلکی پھلکی بوندا باندی سے آگے نہیں بڑھ رہی ماہرین موسمیات کہتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ساحلی علاقوں میں گرمی بڑھے گی۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ گزشتہ 70برس میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں اضافہ نہیں ہوا البتہ کم سے کم درجہ حرارت میں زیادتی ریکارڈ کی گئی ہے اور یہ درجہ حرارت مزید بڑھے گا ماہر امراض کہتے ہیں کہ شدید گرمی میں ضعیف العمر افراد اور بچوں کو گھر سے نہ نکلے دیا جائے۔
کراچی کی گرمی نہ صرف انسانوں کی ہلاکت خیزی کا سبب بن رہی ہے بلکہ پرندوں اور جانوروں کو بھی متاثر کررہی ہے کراچی اور اس کے مضافات میں چلچلاتی دھوپ کے باعث درختوں اور عمارتوں کے نیچے پرندوں‘ جانوروں کے مردہ اجسام جا بجا نظر آرہے ہیں یہ وہ معصوم اور ناتواں چرند و پرند ہیں جو شدید گرم موسم کی تاب نہ لاسکے اور چل بسے جس شہر میں انسانی جان کی حرمت نہ ہو وہاں پرندوں کے حقوق کا تحفظ کون کرے گا۔
اور ان کی موت پر نوحہ و مرثیہ لکھنے یا گریہ کرنے کی کسے فرصت ملے گی۔
کراچی میں نفسا نفسی کا عالم ہے حکومت‘ واٹر بورڈ‘ کے الیکٹرک اور بلدیاتی عمال کا کچھ پتہ نہیں منتخب نمائندے بھی بیان بازی کو وطیرہ بنائے ہوئی ہیں کسی سرکاری افسر نے سرد خانے یا اسپتال کا دورہ کرکے اور مرنے والوں کے گھر جا کر پرسہ نہیں دیا ویسے بھی کراچی کے قبرستانوں میں تیار قبریں اور انہیں کھودنے والے گورکن دستیاب نہیں گرمی کے باعث گورکن سرشا م نظر آتے ہیں اور تدفین بعد افطار کی جارہی ہے گورکنوں نے نرخ بڑھادیئے ہیں اور من مانی اجرت مانگی جارہی ہے یہ اسی شہر کا المیہ ہے جو غریب پرور کہلاتا ہے۔
کراچی میں سینکڑوں انسانی ہلاکتوں‘ ہزاروں چرند و پرند کی اموات اور اسپتالوں میں ہزاروں زیر علاج افراد یہ سب کس کی ذمہ داری ہے۔ پیشگی منصوبہ بندی کیوں نہ ہوئی جب صوبہ بھر میں گرم ہواؤں اور بحیرہ عرب میں ہوا کے کم دباؤ کے باعث صورتحال کی سنگینی سے محکمہ موسمیات پیشگی آگاہ کرچکا تھا تو این ڈی ایم اے اور صوبائی و مقامی حکومتیں کیوں چپ کی چادر تانے سوتی رہی بلاشبہ کے الیکٹرک کے ذمہ داران کے خلاف سینکڑوں اموات کا مقدمہ جماعت اسلامی کو دائر کرنا چاہیئے لیکن دیگر جماعتیں سول سوسائٹی اور صوبائی حکومت بھی پہلوتہی نہ برتے اپنی خامیوں‘ خرابیوں کو دور کرے وگرنہ بلدیاتی انتخابات میں کوئی عام آدمی پارٹی سب کا صفایا کرسکتی ہے۔
وقت اشاعت : 2015-06-25

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں