بند کریں
پیر مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
شاہراہ دستور مرحلہ وار خالی
جس اعتماد کے ساتھ یہ لوگ حکومت کے خاتمے کی تاریخیں دیتے رہے، ”لانگ مارچ اور دھرنے کے منصوبہ ساز“ بھی دیکھتے ہی رہ گئے اور وزیر اعظم ہاؤس پر قبضہ کی کوشش میں لیڈروں اور کارکنوں کی ہلاکت کا منصوبہ کامیاب نہ ہوسکا
نواز رضا:
پچھلے دو تین ہفتوں کے دوران قومی افق پر اہم واقعات پیش آئے ہیں ، بھارت نے ”ورکنگ باؤنڈری“ پر شدید گولہ باری کر کے پاکستان کے خلاف ”غیر اعلانیہ “ جنگ مسلط کر دی ہے بھارتی توپخانہ کی فائرنگ سے ایک درجن سے زائد پاکستانی جام شہادت نوش کر چکے ہیں بھارت کی اشتعال انگیزی کے باوجود پاکستان نے بڑے صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔
شاہراہ دستور پر پاکستان عوامی تحریک کی شاہراہ دستور پر ”خیمہ بستی“ اجڑ گئی ہے ڈاکٹر طاہر القادری کے بیشتر کارکن اپنے خیمے سمیٹ کر اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں منگل کی شب عوامی تحریک کے 983خیموں میں سے تقریباً6 سو باقی رہ گئے ہیں جن میں سے بیشتر خالی پڑے ہیں اس وقت ڈھائی تین کے لگ بھگ عوامی تحریک کے کارکن شاہراہ دستور پر بیٹھے ہیں جن میں 40 بچے بھی شامل ہیں۔
ہزاروں لوگوں کے جلسوں سے خطاب کرنے والے عمران خان کو شاہراہ دستور پر کئی ہفتوں سے سنتے سنتے ان کے کارکن بھی تھک ہار کر بے مزہ ہو گئے ہیں ۔ منگل کو ان کی رات کے جلسہ کے شرکاء کی تعداد 650-700 تھی۔
اب کی بار 12اکتوبر آیا تو خاموشی سے گذر گیا وفاقی دار الحکومت اسلام آباد سمیت کسی بڑے شہر میں کوئی بڑا جلسہ منعقد نہیں ہوا تاہم گوجر خان میں مسلم لیگی رہنماء چوہدری محمد ریاض نے جنرل پرویز مشرف کی مہم جوئی کے خلاف بڑا جلسہ منعقد کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرا یا۔
اسی طرح قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز کے سامنے تحریک انصاف کا مستعفی ہونے وال کوئی رکن پیش نہیں ہوا اب سپیکر آئین وقانون کے مطابق فیصلہ کرنے کے لئے وفاقی وزارت قانون سے رائے لے سکتے ہیں۔ ادھر بھارت کی جارحیت کے خلاف قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو ایک خط لکھا ہے جس میں ان کی توجہ ”ورکنگ باؤنڈری اور ایل او سی “پر بھارت کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیوں کی جانب توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔
وزیراعظم محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر کو جس انداز میں اجاگر کیا ہے اسے جہاں پوری قوم نے سراہا ہے وہاں عسکری حلقوں نے بھی وزیر اعظم کو جرأ ت مندانہ کردار کی تعریف کی وقتی طور پر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے خطاب پر شدید رد عمل کا اظہار نہیں کیا تاہم ”ورکنگ باوٴنڈری“ پر بھارت نے فائرنگ کرکے اپنے رد عمل کا اظہار کر دیا ہے وفاقی دارالحکومت میں دفتر خارجہ کی طرف سے مختلف ممالک کے سفیروں کو بھی بھارتی جارحیت سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔
شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ”ضرب عضب“ میں کامیابی اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فوج کی فائرنگ کے واقعہ نے ایک بار پھر حکومت اور فوج کو ایک ”صفحہ“ پر لا کھڑا کیا ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھرپور انداز میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے سے حکومت اور فوج کے درمیان فاصلے بھی کم ہو گئے ہیں بھارتی جارحیت سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کرنے کے لئے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس منعقد ہوا ہے کمیٹی نے ایک زور دار اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں بھارت کو باور کرا یاگیا ہے اگر بھارت کی جانب سے گولہ باری کی جائے گی تو اس کے جواب میں پھول نچھاور نہیں کئے جائیں گے بھارت کو یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ پاکستان کے دفاع کے لئے سیاسی و عسکری قیادت متحد ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھارت کو متنبہ کیا ہے کہ ” وہ غلط فہمی میں نہ رہے کہ پاکستان کو فوجی طاقت کے ذریعے دبایا جاسکتا ہے ، پاکستان اپنے خلاف کسی بھی کارروائی کا منہ توڑ جواب دے گا، ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان نے دو ماہ سے زائد شاہراہ دستور پر دھرنا دینے کے باوجود ”سیاسی اہداف“ کے حصول میں ناکامی کے بعد دھرنے کو جلسوں میں تبدیل کر دیا ہے ہے’ اب انہوں نے’ پلان اے“ کی ناکامی کے بعد ” پلان بی“ پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے موبائل دھرنے کو عملاً انتخابی مہم کی شکل دے دی ہے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے درمیان جہاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے بڑے جلسوں کی دوڑ لگ گئی ہے وہاں وہ جلسوں میں بھر پور سیاسی قوت کا مظاہرہ کر کے حکومت پر اپنی دھاک بٹھانا چا ہتے ہیں ” وہ ”پلان بی“ کے تحت اپنے کارکنوں کے متحرک رکھنا چاہتے ہیں وہ ایک بار پھر اسلام آباد پر ”چڑھائی“ کرنا چاہتے ہیں۔
”دھرنے “ کے سکرپٹ رائٹر اس بات کا برملا اعتراف کر تے ہیں کہ14اگست2014ء کو نواز شریف حکومت کو گرانے کے لئے کیا جانے والا ”حملہ “ ناکام ہو گیا ہے اب وہ نواز شریف حکومت کو گرانے کے لئے جنوری2015ء میں ایک اور کوشش کریں گے۔ ایک دوسرے کے بھائی ہونے کے دعوے دار خود کو کسی دوسرے سے بڑا لیڈر ثابت کرنے کی کوشش میں اپنے اپنے ایجنڈے کے تحت ”مہم جوئی“ کر رہے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ بڑے جلسے 1968ء اور1977ء جیسی تحاریک کی شکل اختیار کر سکتے ہیں یا جلوسوں کے شرکا محض اپنا” سیاسی ذائقہ“ تبدیل کرنے کے لئے ان کے جلسوں کی رونق بڑھا رہے ہیں۔ اس سوال کا جواب فی الحال نہیں دیا جاسکتا سیاسی تحاریک اس وقت تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتیں جب تک ان کی بنیادوں میں سیاسی کارکنوں کا خون پسینہ شامل نہیں ہوتا۔
جس جماعت کی قیادت ایئر کندیشنڈ کنٹینر میں آرام کرنے کی بجائے ” فرنٹ لائن“ پر لاٹھی گولی کا سامنا کرتی ہے وہی منزل مقصود حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ لیکن ”دودھ پینے والے مجنوں “ کبھی” لیلائے اقتدار“ تک پہنچ نہیں پاتے۔2013ء کے انتخابات اور اس سے قبل کے عمران خان کے جلسوں اور اب کے جلسوں کا موازنہ کیا جائے تو کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا اس حقیقت کو ہر ذی شعور تسلیم کرتا ہے عمران خان کا شمار ملک کے مقبول لیڈروں میں ہوتا ہے لیکن انہیں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے مقبولیت کی دوڑ میں” مرد پنجاب“ میاں شہباز شریف ان سے چار قدم آگے ہیں جب کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد بھی ان سے دو قدم آگے چل رہے ہیں بڑے جلسوں سے سیاسی جماعتیں اپنی دھاک تو بٹھا سکتی ہیں لیکن جلسوں کی حاضری کے تناسب سے انتخابی نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے۔

جس اعتماد کے ساتھ یہ لوگ حکومت کے خاتمے کی تاریخیں دیتے رہے، ”لانگ مارچ اور دھرنے کے منصوبہ ساز“ بھی دیکھتے ہی رہ گئے اور وزیر اعظم ہاؤس پر قبضہ کی کوشش میں لیڈروں اور کارکنوں کی ہلاکت کا منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پولیس سے ”فائر پاور “ واپس لے کر اسے نہتا کر دیا لیکن حکومت کے دامن پر کوئی داغ نہ لگنے دیا۔
رہی سہی کسر مخدوم جاوید ہاشمی نے نکال دی اور قتل و غارت کی سازش کو بے نقاب کر کے انہوں نے جمہوریت کو بچا لیا۔ پوری پارلیمنٹ جہاں ”غیر جمہوری قوتوں “ کے مقابلے پر متحد ہو گئی وہاں ”تھرڈ امپائر“ نے بھی انگلی اٹھانے سے انکار کر دیا اس طرح ”مارشل لائی“ حکومت کا خواب دیکھنے والوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تحریک انصاف کے سیاسی عزائم کی ناکامی میں پیپلز پارٹی کا کلیدی کردار ادا رہا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ دونوں کس کس سے لڑ کر میدان سیاست میں اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-17

(0) ووٹ وصول ہوئے