تازہ ترین : 1
Senate Main 10 Nayi Khawateen Senators Ki Amaad

سینیٹ میں 10 نئی خواتین سینیٹرز کی آمد

پارلیمینٹ کے ایوانِ بالایعنی سینیٹ(Senate) کے انتخابات کا عمل مکمل ہو چکا ہے 2003 کے بعدیہ سینیٹ کے پانچویں انتخابات ہیں۔ چانکہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 50 کے تحت پارلیمنٹ سے مراد صدرِ پاکستان سینیٹ اور قومی اسمبلی ہیں

پارلیمینٹ کے ایوانِ بالایعنی سینیٹ(Senate) کے انتخابات کا عمل مکمل ہو چکا ہے 2003 کے بعدیہ سینیٹ کے پانچویں انتخابات ہیں۔ چانکہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 50 کے تحت پارلیمنٹ سے مراد صدرِ پاکستان سینیٹ اور قومی اسمبلی ہیں اس لئے سینٹ الیکشن کا انعقاد خاصی اہمیت کا حامل ہے آئین کے آرٹیکل 59 کے تحت قومی اسمبلی کے برعکس صوبوں کو سینیٹ میں برابر نشستیں دی گئی ہیں۔
آئینی طور پر اگر چہ سینیٹ ایک مستقل ادارہ ہے لیکن اس کے آدھے ارکان اپنی 6سالہ مدت پوری کر کے ہر تین سال بعد ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں اس طرح سینیٹ کا کل 104 میں سے 52 نشستوں پر ہر تین سال بعد الیکشن کروایا جاتا ہے اس مرتبہ بھی صوبہ پنجاب او ر سندھ سے 7جنرل 2 خواتین اور ٹیکنو کریٹس(Technocrats) کے لئے مخصوص نشستوں کے ساتھ11-11 نشستوں پر انتخاب ہو ا جبکہ بلوچستان اور صوبہ خیبر پختوانخوا میں مذکورہ بالا نشستوں کے علاوہ 1غیر مسلم سیٹ کے ساتھ 12-12 نشستوں پر انتخاب ہوا ۔
اسی طرح فاٹا کی 8میں سے 4 نشستوں پر اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی کل 4 میں سے 2 نشستوں پر جن میں سے 1جنرل اور 1خواتین کی نشست شامل ہے ، انتخاب ہوا۔ان انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے میاں رضا ربوانی سینیٹ کے چیئرمین اور جے یو آئی کے مولانا عبدالغفور حیدری ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔ 11 مارچ 2015 کے الیکشن کی خاص بات یہ تھی کہ 9خواتین سینٹرز بھی اپنی 6سالہ میعاد پوری ہونے پر ریٹائرڈ ہو گئیں۔
ان میں سندھ سے الماس پروین (پاکستان پیپلز پارٹی) شرالا ملک (ایم کیو ایم) خیبر پختونخوا سے فرحت عباس (پاکستان پیپلز پارٹی) اور فرح عاقل( اے ین پی) پنجاب سے بیگم نجمہ حمید(مسلم لیگ ن) او ر سیدہ صغریٰ امام (پاکستان پیپلز پارٹی) بلوچستان سے کلثوم پروین (بی این پی عوامی) اور ثریا امیر الدین (پاکستان پیپلز پارٹی) جبکہ فیڈرل ایریا سے سعیدہ اقبال (پاکستان پیپلز پارٹی) شامل ہیں۔
مجموعی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کی پانچ جبکہ مسلم لیگ (ن) عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قورمی موومنٹ اور بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کی ایک ایک خاتون سینیٹر ریٹائرڈ ہوئیں۔ نومنتخب خواتین سینیٹرز میں پنجاب سے بیگم نجمہ حمید (مسلم لیگ ن) عائشہ رضا فاروق (مسلم لیگ ن) بلوچستان سے کلثوم پروین (مسلم لیگ ن) گل بشریٰ(پختونخوا ملی عوامی پارٹی) خیبر پختو انخوا سے ثمینہ عابد (تحریک انصاف ) اور ستارہ ایاز( اے این پی) سندھ سے سسی پلیجو (پاکستان پیپلز پارٹی) نگہت مرزا ( ایم کیو ایم) اور وفاق کی نشست پر ڈاکٹر راحیلہ مگسی (مسلم لیگ ن) شامل ہیں۔
یہ تمام خواتین آئندہ 6 سال کے لئے سینیٹر منتخب ہوئی ہیں۔ اس وقت سینیٹ میں مجموع طور پر17 خواتین سینیٹرز ہیں۔ جن میں 16 خواتین مخصوص نشستوں پر منتخب ہوئیں جبکہ جنرل نشست پر صرف ایک خاتون سینیٹر ایم کیو ایم کی خوش بخت شجاعت منتخب ہوئی ہیں۔ یہ 10 نو منتخب خواتین سینیٹرز 2021 میں ریٹائرڈ ہوں گی۔ اس وقت سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی 4، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی 4 ، ایم کیو ایم کی 3 ، اے این پی کی 2، پاکستان تحریک انصاف، بی این پی عوامی، مسلم لیگ(ق) اور پختونخوا عوامی پارٹی کی ایک ایک خاتون سینیٹر موجود ہیں۔
بلوچستان سے مسلم لیگ (ق) کی سینیٹر روبینہ عرفان ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے عہدے کے لئے امیدا وار تھیں اور اپوزیشن اتحاد نے ان کی نامزدگی پر اتفاق بھی کر لیا تھا مگر جے یو آئی کے سر براہ مولانا فضل الرحمٰن کی حمایت حاصل نہ ہونے کے باعث وہ ڈپٹی چیئرپرسن سینیٹ منتخب نہ ہو سکیں۔ سینیٹ کی تاریخ میں صرف ایک خاتون ڈاکٹر نور جہاں پانیزئی ڈپٹی چیئر پر سن رہی ہیں۔
وہ 1991سے 1993 تک ڈپٹی چیئر پرسن سینیٹ رہیں۔ سینیٹ میں چار سٹینڈنگ کمیٹیوں کی چیئر پرسن شپ بھی خواتین سینیٹرز کے پاس رہی ہے۔ سینیٹر کلثوم پروین قائمہ کمیٹی برائے کابینہ ڈورریژن، کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ دویلپمنٹ ، سینیٹر سعیدہ اقبال قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کی چیئرپر سن تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ مجموعی طور پرسینیٹ میں خواتین سینیٹرز نے ایوان کے بزنس میں اس طرح دلچسپی نہیں لی جس طرح قومی اسمبلی میں خواتین ارکان قومی اسمبلی لیتی ہیں البتہ سینیٹر سیدہ صغریٰ امام سینیٹ کے معمول کے بزنس پرائیویٹ ممبرڈ ے اور قانون سازی میں بھر پور حصہ لیتی رہیں۔
سینیٹ کے آخری سیشن میں بھی ان کی طرف سے ایوان میں پیش کئے گئے تین بل منظور کئے گئے، جن میں غیرت کے نام پر قتل اور جنسی زیادتی کے خاتمے کے علاوہ نجکاری کمیشن کے حوالے سے ترمیمی بل شامل ہیں۔ حال ہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون ،انصاف و پارلیمانی امور نے سرکاری اداروں کے ملازمین اور افسران کی دوہری شہریت پر پابندی کے بل2013 کی بھی منظوری دے دی ہے یہ بل بھی صغریٰ اما م نے پیش کیا تھا۔
سینیٹر صغریٰ امام سابق سپیکر قومی اسمبلی سیدفخر امام اور بیگم عابدہ حسین کی صاحبزادی ہیں ۔ صغریٰ امام ضلع کونسل جھنگ کی چیئرپرسن بھی رہی ہیں اور وہ سابق وزیر اعلی چودھری پرویز الہٰی کی کابینہ میں وزیر برائے سماجی بہود تھیں۔ انہوں نے صوبائی کابینہ سے استعفیٰ دے کر اپنے والد سید فخر امام اور والدہ بیگم عابدہ حسین کے ہمراہ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور پھر سینیٹر منتخب ہوئیں۔
وقت اشاعت : 2015-04-29

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں