بند کریں
جمعرات مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
صحرائے تھر اور حکمرانوں کی بے حسی
سند ھ کے ریگزار میں موت کا رقص جاری ہے۔۔۔۔ تھر میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ بارشوں کے نہ ہونے کی وجہ سے علاقے میں اناج کی سخت قلت ہو جاتی ہے اور جانوروں کا چارہ ختم ہو جاتا ہے
ریاض حسین :
صحرائے تھر میں ایک بار پھر بھوک اور پیاس بچوں کو نگل رہی ہے ۔ لوگ پانی اور غذائی قلت کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ تھر میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ بارشوں کے نہ ہونے کی وجہ سے علاقے میں اناج کی سخت قلت ہو جاتی ہے اور جانوروں کا چارہ ختم ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب سندھ حکومت کا موقف ہے تھر میں اموات بھوک سے نہیں بلکہ غربت سے ہوئیں۔
اگر یہ موقف بھی تسلیم کر لیا جائے تو بھی اس کی ذمہ داری اعلیٰ حکام پر ہی عائد ہوتی ہے۔تھر میں ایک جانب بچے مر رہے ہیں تو دوسری طرف علاقے میں پراسرار بیماری پھیلنے سے کئی بچے جسمانی معذروری کا شکار ہو رہے ہیں۔
تھر کی صورت حال پر صوبائی وزیر منظور حسین وسان کی رپورٹ نے سندھ کی سیاسی صورت حال میں ہلچل مچا دی ہے۔اپنی رپورٹ میں منظور حسین وسان نے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کو چار سو سے زائد بچوں کی اموات کا ذمہ دار قرار دے دیا۔
صوبائی وزیر کی جانب سے دی گئی رپورٹ میں ضلعی انتظامیہ ، محکمہ ،خزانہ، محکمہ خوراک لائیو سٹاک، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ریلیف کمشنر کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی۔ تھر میں 116 ڈسپنسریاں اور ایک ایمر جنسی سنٹر ہے جو فعال نہیں۔ یونین کونسل اور انتظامی سطح پر کوئی غذائی مرکز نہیں جبکہ ہسپتال سے زائد المیعاد ادویات برآمد ہوئیں۔
اگرچہ سول ہسپتال مٹھی میں علاج معالجہ کی بہتر سہولیات موجود ہیں لیکن گنجائش کم ہونے کی وجہ سے اضافی مریضوں کو حیدآباد اور کراچی کے ہسپتالوں میں بھجوادیا جاتا ہے۔ اس رپورٹ میں بچوں کے لیے مٹھی میں ایک علیٰحدہ ہسپتال قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
مالی سال 2014 میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس مٹھی کو 5 کروڑ روپے سے زائد کا بجٹ دیا گیا لیکن اس فنڈ کاناجائز استعمال ہوا جس کی انکوائری کا عندیہ دیا جارہا ہے۔

دوسری جانب بلاول ہاوٴس کے ترجمان اعجازدرانی نے تھر کی صورت حال کے حوالے سے منظور حسین وسان کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے قبل از وقت اور ناپختہ قرار دیا ۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بذات خود تھر کی صورت حال کو مانیٹر کر رہے ہیں۔
حکام کی غفلت اور لاپروائی کا اندازہ عمر کوٹ کی ایک سماجی تنظیم کی اس رپورٹ سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جس کے مطابق عمر کوٹ سے 55 کلو میٹر دور صحرائے تھر کے قحط زدہ ایک گاوٴں جھمڑاڑی میں پراسرار بمباری سے 16کمسن بچے معذور ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق غذائی قلت اور زہریلے پانی کے استعمال سے یہ بیماری پھیلی ہے۔
دوسری جانب یہ خبریں بھی منظر عام پر آئیں کہ سندھ میں بچوں کی ہلاکتوں کو طبی سہولتوں کی عدم فراہمی یا جان لیوا بیماریوں کے حوالے سے ایم کیو ایم کے کھاتے میں ڈال دیا جائے کیونکہ پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کی حکومت سے علیٰحدگی سے پہلے یہ موقف اختیار کر لیا تھا کہ طویل عرصے سے سندھ میں محکمہ ہیلتھ ایم کیو ایم کے پاس ہے ۔
پیپلز پارٹی کے تیور بھانپتے ہوئے ایم کیو ایم کے وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد بھی مستعفی ہو چکے تھے کہ اب سندھ میں محکمہ صحت کا اضافی قلمدان وزیر خوراک جام مہتاب ڈمرکو سونپا جا چکا ہے۔
تھرپارکر کے سنگین حالات کے پیش نظر کئی فلاحی اداروں نے فراہمی آب کے پروگرام شروع کر رکھے ہیں لیکن سندھ حکومت خواب خرگوش میں ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض علاقوں میں پینے کا پانی ایک ڈرم پانچ سو سے ایک ہزار روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔مقامی آبادی تالاب اور بڑے بند میں بارشوں کا پانی روک لیتی ہے اور اسی پر مہینوں گزارہ کرتی ہے۔ اگر خشک سالی میں تالا ب بھی خشک ہو جاتے ہیں تالاب کا پانی زیادہ دیر ٹھہرنے کی وجہ سے قابل استعمال نہیں رہتا۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-03

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان