تازہ ترین : 1
Sehrai e Thar

”صحرائے تھر “

قحط اور خشک سالی سے سینکڑوں بچوں کی اموات انسانی جان کو اہمیت نہیں دی گئی اور 3مہینوں میں بڑی تعداد میں بچوں کی اموات واقع ہوگئیں۔مرنے والے بچوں کی تعداد پر بھی اتفاق نہیں ہو سکا

سالک مجید:
حکومت سندھ نے تھر کو پہلے آفت زدہ اور قحط زدہ قرار دیا ہے لیکن اس اعلان کے لوازمات بروقت پورے نہیں کئے اور متعلقہ ذمہ دار حکام نے انتہائی لاپروائی اور غفلت کامظاہرہ کیا۔ انسانی جان کو اہمیت نہیں دی گئی اور 3مہینوں میں بڑی تعداد میں بچوں کی اموات واقع ہوگئیں۔مرنے والے بچوں کی تعداد پر بھی اتفاق نہیں ہو سکا اور سرکاری حلقے آج بھی اعدادو شمار کو توڑ مروڑ کر پیش کررہے ہیں اور ان کی کوسس ہے کہ نقصان کو کم سے کم بتا یا جائے حالانکہ انٹرنیشنل میڈیا میں تھر کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے اور عالمی اداروے متحرک ہوگئے ہیں اسلام آباد کے طاقتور ایوانوں میں بھی اس پر بحث ہوئی ہے سینیٹ میں بتایا گیا کہ دسمبر سے فروری تک ایک سواٹھارہ بجے ہلاک ہوئے جبکہ ما رچ کے پہلے چار دنوں میں مزید تین اموات ریکارڈ کی گئیں گو یا ایک سو اکیس بچے غذائی قلت کے سبب زندگی کی بازی ہار گئے۔
تھر کے وسیع علاقے میں پانی تو ہمیشہ سے ہی نایاب رہاہے اور بارشیں بھی کم ہوتی ہیں تو زندگی مزید مشکل بن جاتی ہے مویشیوں کیلئے بھی پانی نہیں ہوتا۔ گھاس کم اگتی ہے تو مویشیوں کی خوراک بھی کم رہ جاتی ہے اور مویشیوں میں قوت مدافت کم ہونا شروع ہوجاتی ہے تو ان پر مختلف بیماریاں حملے کرتی ہیں اور اس سال بھی تھر میں یہی کچھ ہوا اور بڑی تعداد میں مویشی بیمار ہوئے ان کے مرنے کی اطلاعات آئیں لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ آف سندھ نے اپنی ٹیمیں ادویات کے ساتھ تھر کے مختلف علاقوں میں روانہ کیں اور ایک اعشاریہ سات ملین مویشیوں کی ویکینیشن کا دعویٰ کیا گیا جبکہ مجموعی طور پرسترسے اسی لاکھ مویشیوں کی وہاں موجودگی بتائی جاتی ہے لیکن یہ مویشی دور دراز علاقوں میں ہیں کسی ایک جگہ پر نہیں ہوتے اس طرح انسانی آبادی بھی دور دور ہوتی ہے صحرا کی زندگی کا اپنا ایک حسن بھی ہے اور اس کی مشکلات اور چیلنج بھی ہیں لیکن تھر کے لوگ نسل در نسل اس انداز زندگی کے عادی ہوچکے ہیں اور ہر قسم کے حالات کا مقابلہ بہادری سے کرتے ہیں۔
مویشیوں میں بیماری پھیلنے کی اطلاعات کے بعد یہ خبریں بھی آئیں کہ بیمار مویشیوں کو تھر سے کراچی اور دیگر شہروں کی جانب منتقل کرنے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔اس معاملے کو سندھ اسمبلی میں بھی اٹھایا گیا اور ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری نے حکومت کو صورتحال سے خبردار کرتے ہوئے زو ر دیا کہ بیمار مویشیوں کی کراچی اور دیگر علاقوں میں منتقلی کو روکا جائے اور ان کا علاج کرنے کا بندوبست کیا جائے۔
کمشنر کراچی سمیت دیگر متعلقہ حکام نے کراچی میں آنے والے مویشیوں کی نگرانی سخت کرادی لیکن تھر سے مویشیوں کی منتقلی کا عمل جاری رہنے کی خبریں آتی رہیں۔سندھ کے وزیر لائیواسٹاک جام خان شورونے خود متاثرہ علاقوں کے دورے کئے اور صورتحال پر قابو پانے کا دعویٰ کرتے رہے۔وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو بھی سب اچھا ہے کی رپورٹ پیش کی جاتی رہی۔
یکم اور دو مارچ کو کراچی میں حکومت سندھ نے چوتھی ایل ڈی ایف ایکسپو (لائیو اسٹاک ‘ڈیریز ‘ فشریز اینڈ ایگری کلچر ) ایکسپو منعقد کرانی تھی تو وہاں بھی اندرون سندھ سے مختلف مویشیوں کو ہرسال کی طرح لایا جارہا تھا تب سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ میں ہونے والی وزراء کی پریس کانفرنس میں صحافیوں نے صوبائی وزیر لائیو اسٹاک جام خان شورو اور وزیر زراعت علی نواز خان میرسے سوالات پوچھے تو ان کے جواب میں بھی وزراء نے سب اچھا ہے کا راگ الاپا اور جام خان شورو نے بتایا کہ وہ خود تھر کے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے آئے ہیں بیمار مویشیوں کی ویکنشین کر دی گئی ہے اور کوئی بیمار جانور کراچی نہیں لایا جارہا۔
حکومت نے تمام انتظامات اور بندوبست کرلیا ہے کسی کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ تھر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے والے صوبائی وزیر لائیو اسٹاک جام خان شورو کو اس بات کا کچھ اندازہ نہ ہوسکا کہ تھر کے جن علاقوں میں وہ ہو کر آئے وہاں صرف مویشی ہی نہیں بلکہ انسانی بچے بھی بڑی تعداد میں فوت ہوگئے ہیں اور سرکاری اسپتالوں میں اموات کا ریکارڈ موجود ہے عام لوگ خود اپنے علاقوں میں ہونے والی اموات کی تفصیلات سب کو بتا رہے ہیں لیکن کمال ہے کہ عوامی حکومت کی دعویدار پاکستان پیپلز پارٹی کے وزیر وں اور مختلف نمائندوں کی تھر کی صورتحال کا کوئی علم نہ ہوسکا یہاں تک کہ یہ مسئلہ میڈیا میں انتہائی سنگین شکل میں رپورٹ ہوگیا کیا پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے لیڈر اور مختلف نمائندے تھر کے لوگوں سے ملتے نہیں ہیں اور ان کے مسائل جاننے کی کوشش نہیں کرتے یاتھر کے لوگ جو مشکلات اور مسائل بیان کرتے ہیں ان پر کوئی سیاسی جماعت اور اس کے لیڈر دھیان نہیں دیتے یا ان کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔
کیا تھر کے عوام کو تمام سیاسی لیڈاروں نے تیسرے درجے کا شہر ی قرار دے رکھا ہے کیا وہاں انسان نہیں رہتے کیا ان کے بچے بہتر غذائی سہولیات اور علاج معالجے کے حق دار نہیں ہیں حکمرانوں نے اس سلسلے میں یقینا غفلت برتی ہے جب پانی سرے اونچا ہوگیا تب ان کو ہوش آیا ہے کہ لوگ کھل عام سوال کررہے ہیں کہ کروڑوں روپے سندھ کلچر فیسٹیول پر خرچ کرنے والے بلا ول بھٹو زردار ی کی سربراہی میں سندھ کے حکمران ناچ گانے میں مصروف تھے ان کا جشن چل رہا تھا اور تھر میں جنازے اٹھ رہے تھے۔

اب وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے تھر کا ہنگامی دورہ کر کے اہم اعلانات ضرور کردیئے ہیں۔کراچی واپس آکر انہوں نے دھواں دھار پریس کانفرنس بھی کرڈالی۔حکومت نے اب تھر کے غریبوں کو مفت گندم فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تھر کیلئے مخصوص گندم تو ذخیرہ کی گئی تھی اور وہ گوداموں میں موجود بھی تھی لیکن محکمہ خوراک کے ․․․․․ ذمہ داروں نے موٴقف اختیار کیا کہ گندم تقسیم کرنے کیلئے ٹرانسپورٹ فنڈز جاری نہیں کئے گئے تھے۔
اس لئے گندم تقسیم نہ کی جاسکی۔اسے متعلقہ حکام کی غفلت لاپرواہی اور نااہلی نہ کہا جائے تو اور کیاکہا جائے دراصل محکمہ خوراک سندھ میں بھی دیگر محکموں کی طرح کرپشن عروج پر ہے اور گوداموں سے سرکاری گندم غائب کردی جاتی ہے یا مارکیٹ میں بیچ دی جاتی ہے یا فلور ملوں کو دے دی جاتی ہے اور دیگر صوبوں میں اسمگل بھی کی جاتی ہے۔ قومی احتساب بیورو کے ڈائر یکٹر جنرل سندھ واجد علی درانی نے خود راقم الحروف کو بتایا کہ محکمہ خوراک سندھ کی کرپشن کی شکایات بہت زیادہ ہیں اور نیب اس محکمے کے کرپٹ افسران کے خلاف گھیرا تنگ کرچکا ہے۔

سندھ کے محکمہ خوراک کے وزیر جام مہتاب ڈھر باقی وزیروں سے مختلف اور سادہ طبیت کے انسان ہیں اور انہیں سیاسی حلقوں میں اچھی شہرت حاصل ہے۔سیکریٹری فوڈ نصیرجمالی بھی ایک شریف النفس انسان ہیں اور اصول پسند افسرہیں لیکن محکمہ خوراک کی نچلی سطح پر بہت گڑ بڑے اور ماضی کے ادوار میں کرپشن عروج پر رہی ہے موجودہ وزیرادر سیکریٹری نے کافی افسران کو معطل کررکھا ہے اور فلور ملوں کو گندم کا سرکاری کوٹہ بھی معطل کیا ہے لیکن اس کے باوجود تھر میں قحط زدہ صورتحال میں محکمہ خوراک کے ذمہ داروں کی غفلت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
اگر گوداموں میں موجود گندم کی بروقت تقسیم کو یقینی بنایا جاتا تو حالات مختلف ہوسکتے تھے۔
سندھ کا محکمہ صحت (ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ ) بھی تھر کی بدترین صورتحال میں خود کو بری الزم قرار نہیں دے سکتا کیو نکہ اسپتالوں میں اموات کی شرح بڑھ رہی تھی تو اس وقت اعلیٰ حکام کو کراچی میں صورتحال سے آگا ہی دینا چاہئے تھی۔ سندھ میں اس وقت کوئی ہیلتھ منسٹر نہیں ہے یہ محکمہ بھی وزیر اعلیٰ سندھ کے پاس ہے جبکہ محکمہ صحت کا سیکریٹری بھی وزیراعلیٰ سندھ کا اپنا داما د (اقبال درانی ) ہے اگر چہ اقبال درانی کی شہر ت ایک ایماندار اور قابل افسر کی ہے لیکن محکمہ صحت بھی تھر کی صورتحال میں اپنا موثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہاہے حکومت کا موقف ہے کہ تھر میں بچوں کی ساری اموات صرف غذائی قلت سے نہیں ہوئیں بلکہ وہاں شدید سردی پڑی ہے اور سردی سے متاثرہ بچے نمونیہ کا شکار ہوکر زندگی کی بازی ہار گئے ہیں اگر یہ بات بھی درست ہے تو نمونیہ کا علاج کرنا اور علاج معالجے کی ضروری سہولیات کی فراہمی بھی محکمہ صحت حکومت سندھ کی ذمہ داری ہے اب حکومت یقینا جاگ گئی ہے صوبائی وزیروں ‘مشیروں سندھ سیکریٹریٹ کے دفاتر میں ہفتے اتوار کی تعطیل ختم کر کے ریلیف ورک کیلئے دفاتر کھلوادیئے گئے ہیں ایم کیو ایم نے پہل کرتے ہوئے امدادی سامان تھر بھیجاہے دیگر جماعتیں اور این جی اوز بھی آگے آرہی ہیں بحریہ ٹاوٴن کے ملک ریاض نے زلزلہ متاثرین اور سیلاب متاثرین کی طرح تھر کے متاثرہ عوام کو خدمت اور امداد کیلئے آگے بڑھ کر اپنا حصہ بھی ڈالاہے ان کا اقدام یقینا قابل ستائش ہے۔
وقت اشاعت : 2014-03-11

(1) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں