تازہ ترین : 1
Sazai Mott Per Amaldaramad Ka Aghaz

سزائے موت پر عملدرآمد کا فوری آغاز

صدر پاکستان نے دشت گردی کے ملزمان کی 17رحم کی اپیلوں کومستر د دیا ، جس کے بعد ملک کی مختلف جیلوں میں قید سزائے موت کے قیدیوں کو سزائیں دینے کاعمل شروع کردیا گیا

صلاح الدین خان:
پشاور سانحہ نے ملک بھر کی حکومت اور فوج اور سیاسی جماعتوں سمیت ودینی او ر سول سوسائٹی کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کردیاہے۔ حکومت اور فوج نے دشت گردوں کیخلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس تناظر میں ہنگامی اقدامات اٹھائے گئے ، پہلے میں مرحلے میں ملک میں 2008میں سے سزائے موت پر پابندی اور رحم کی اپیلوں پریکسر کارروائی کرتے ہوئے سزائے موت پر فوری عملدرآمد شروع کر دیا گیا جس کی منظوری وزیراعظم نے دیدی ، اس ضمن میں صدر پاکستان نے دشت گردی کے ملزمان کی 17رحم کی اپیلوں کومستر د دیا ، جس کے بعد ملک کی مختلف جیلوں میں قید سزائے موت کے قیدیوں کو سزائیں دینے کاعمل شروع کردیا گیا ، آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی جانب سے 6دشت گردوں کے سزائے موت کے ملزمان کے ڈیتھ وانٹ پر دستحط کردیئے ، جی ایچ کیو اور مشر ف حملہ کیس کے ماسٹار مائنڈ عقیل عرف ڈاکٹر عثمان اور ارشد مہربان کو فیصل آباد جیل میں پھانسی کی سزا دے دی گئی ، اس وقت ملک کی 88جیلوں میں 8256قیدی موجود ہیں، جن میں پنجاب میں5815، سندھ 458، بلوچستان میں 94اورخبیر پختونخواہ میں 193قیدی موجو د ہیں ان میں ٹی ٹی پی کے 250قیدی بھی شامل ہیں ، حکومتی فیصلے پر عمل کرتے ہوئے پہلے مرحلے میں 17قیدیوں کو پھانسی دی جائے گی ، اس وقت ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں 1776سزائے موت کے ملزمان کی رحم کی اپیلیں دائر ہیں، وزرات داخلہ کی جانب سے صدر کو 15رحم کی اپیلیں بھجوائی گئیں ہیں، جن میں احمد خان، فیض ر سول لاہور، محمد اسلم بہاولپور ، نعمان احمد، محمد سعید ، حسن جان کراچی ، مفتی شاہد ، نعمان احمد، خلیل احمد ، حسن جان کراچی ، میرحمزہ مچھ ، عبد الرحمن شاہ پور ، ریاض احمد،حاجی خان مچھ جیل قید ہیں ، ذرائع کے کہنا ہے کہ صدر نے ان تمام اپیلوں کومسترد کردیا ہے اور ان میں سزائے موت کے قیدیوں کو کسی بھی وقت پھانسی دی جاسکتی ہے ،
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ناصر الملک نے کہا ہے کہ مجرموں کو دی گئی سزائے موت پر قانون کے مطابق عملدرآمد ہوگا۔

جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ سانحہ پشاور المناک واقعہ ہے اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملک کی مختلف جیلوں میں قید مجرمان کو دی گئی سزائے موت پر قانون کے مطابق عملدرآمد ہوگاچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ناصر الملک نے دہشت گردی کے مقدمات جلد نمٹانے کے لئے تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کا اہم اجلاس 24 دسمبر کو سپریم کورٹ میں طلب کرلیا ہے۔
وفاقی حکومت نے سانحہ پشاور کے بعد انسداد دہشت گردی کے موجودہ قوانین میں تبدیلیوں اور سزائے موت کے طریقہ کار میں تبدیلی کا فیصلہ کرلیا ہے۔اس تجویز پر غور کیا جارہا ہے کہ دہشت گردوں کورسی کے ذریعے پھانسی دینے کے بجائے اسلامی قانون کے تحت سر قلم کیا جائے، اس تجویز کوپارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیا جاسکتا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل سے مشاورت کے بعد سزائے موت کے قوانین اور طریقہ کار میں تبدیلی کیلئے پارلیمنٹ سے قانون سازی کی جاسکتی ہے، دہشت گردی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف آئندہ تمام مقدمات تحفظ پاکستان ایکٹ کے تحت درج کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے اور ان مقدمات کے لیے فاسٹ ٹریک پی پی اے کورٹس قائم کی جائیں گی جو تیزی سے سماعت مکمل کرکے10روز میں فیصلے سنائیں گی جبکہ کراچی سمیت فاٹا کے آپریشن والے علاقوں میں فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا جائے گا۔
یہ عدالتیں فوجی قوانین کے تحت قائم کی جائیں گی۔ ملک بھرمیں دشت گردی کے مقدمات کوجلد سے جلد نمٹانے کیلئے 28اینٹی انسداد دہشت گردی عدالتیں قائم کی جارہی ہیں ،وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں اس وقت انسداد دشت گردی کی ایک عدالت کام کررہی ہے ،جس کے جج سہیل اکرم ہیں ،حکومت کی جانب سے مقدمات تیزی سے نمٹانے کیلئے فاٹا کے شورش زدہ علاقوں میں فوجی عدالتیں قائم کی جائیں گی ، سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پاکستان کے بندوبستی علاقوں میں فوجی عدالتیں قائم نہیں کی جاسکتیں، تاہم فاٹا میں فوجی عدالتوں کے قیام میں سیاسی اور فوجی قیادت کے درمیان اتفاق رائے طے پیدا ہو گیا ہے ،حتمی فیصلہ سیاسی جماعتیں کریں گی ، پارلیمانی ایکشن پلان کمیٹی کا اجلاس منگل کوہورہاہے ، آٹھ رکنی ورکنگ گروپ کی سفارشات پرغور کیاجائے گا، وزیر داخلہ کی جانب سے قائم کی جانے والی 8 رکنی کمیٹی میں وزیر اعظم کے خصوصی معاونین بیرسٹر ظفر اللہ خان ، خواجہ ظہیر احمد، سابق لیفٹننٹ جنرل آغامحمد فاروق ، خواجہ ظہیر احمدتین ماہرین طارق کھوسہ ، طارق پرویز اور حامد علی خان شامل ہیں، اس حوالے سے 16قوانین کو قومی سلا متی پالیسی میں شامل کیا جائے گا ،دہشت گردی کے حوالے سے فاٹا پاٹا صدراتی آرڈننیس 2010تھا جس میں کچھ ترمیم کے بعد 2014ء صدر اور پارلیمنٹ نے اس کی دوبارہ منظوری دی ہے ، حراستی مراکز اسی قانون کے تحت قائم ہیں جہاں بہت سے لاپتہ افراد بھی قید ہیں اس حوالے سے قانونی و آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ سزاؤں پر سختی سے عمل درآمد نہ ہونے کے باعث ہی سنگین جرائم میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ کمزور پرا سیکوشن، شواہد ، ٹھوس ثبوت ، گواہوں ، عینی شاہدین و دیگر ریکارڈ کے علاوہ جدید فرانسزک لیبارٹریز کی کمی ہے تو دوسری جانب مقدمہ کے گواہوں کو حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تحفظ فراہم نہ کیا جانا بھی ایک بڑی وجہ ہے لوگ خطرناک ملزمان اور دہشت گردوں کے خوف سے منظر عام پر آ کر شہادت دینے سے گریز کرتے ہیں جبکہ عدالتیں ناکافی ثبوت کے باعث ملزمان کو چھوڑنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔
اسی تناظر میں1992ء میں سندھ میں فوجی عدالتیں قائم کی گئیں تو سپریم کورٹ نے انہیں موجود جوڈ یشری سسٹم کے متوازی انصاف کا سسٹم قرار دیتے ہوئے ختم کرنے سے متعلق فیصلہ دیا تھا فوجی عدالتوں میں کام کرنے والے وکیل انعام الرحیم کا کہنا ہے جب کوئی دہشت گرد کہیں کوئی حملہ کرتا ہے تو کیا وہ بتا کر اعلان کر کے کرے گا ، یہ خفیہ کارروائی ہوتی ہے جسکا کوئی گواہ ریکارڈ نہیں ہوتا ایسے ملزمان کومحظ شک کا فائدہ دیکر نہیں چھوڑا جاسکتا یہا ں ملکی قوانین بے اثر ہوجاتے ہیں جو صرف شواہد وثبوت پر چلتے ہیں، سپریم کورٹ کے صدر فضل حق عباسی نے کہ دہشتگردوں کے خلاف سختی کارروائی ہونی چائیے۔
سپریم کورٹ کے صدر کامران مرتضی نے کہا کہ مستقبل کیلئے سکولوں میں فول پروف سیکیورٹی اور حفاظتی انتظامات کو بہتر بنایا جائے۔ہائی کورٹ بار کے سابق صدر ایڈووکیٹ توفیق آصف نے کہا دشت گردی کے حوالے سے پارلیمنٹ میں قانون سازی ہونی چاہیے ، وکلاء دہشت گردوں کے مقدمات نہ لیں۔ شیخ احسن الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ دشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ، ایڈووکیٹ اسلم خاکی نے کہا کہ اسلام میں ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے ، برہان معظم وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل نے کہا کہ دہشت گردوں کیخلاف قانون سازی سے جرائم کا خاتمہ ہو گا ، ایڈووکیٹ اکرم شیخ نے کہا کہ پھانسی کی سزا پر عملد درآمد سے قانون مضبوط ہو گا ، ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ نے کہا کہ سانحہ پشاور المناک واقعہ ہے دشت گردی کو کچلنے کیلئے قانون پر سختی سے عمل کی جائے ، ایڈووکیٹ اکرام چوہدری ، اسلم گھمن اور نعیم کیانی صدر ڈسٹرکٹ کورٹ نے سانحہ پشاور کی مذمت کی انہوں نے کہا کہ ایسے درناک واقعات کی روک تھام کیلئے پھانسی کی سزاوں پرعمل سے انہیں روکنے میں مدد ملے گی ، محسن کیانی صدر ہائی کورٹ نے کہا پھانسی کی سزاؤں پر عمل سے دہشت گردی جڑ سے ختم ہوگی ، مسز شریں سیکرٹری اسلام آباد ہائی کورٹ نے سانحہ پشاور کی مذمت کرتے ہوئے کہا دہشت گردوں کو قانون کی گرفت میں لانا نا گزیر ہو چکا ہے۔
وقت اشاعت : 2014-12-24

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں