بند کریں
جمعرات مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
”سرکش طالبان “ فوری اقدامات اور قومی سلامتی پالیسی!
ممکنہ فوجی آپریشن سے بڑی تعداد میں نقل مکانی کا خدشہ ، آبادکاری کیلئے کمیٹی بنادی گئی
نواز رضا:
حکومت اور طالبان کے درمیان بالواسطہ”مذاکراتی عمل“ تعطل کا شکار ہونے کے بعد صورتحال اس حد تک خراب ہوگئی ہے کہ اب کھلم کھلا کہا جارہا ہے ”بہت ہوچکا ہے“ جن سیاسی جماعتوں نے ستمبر 2013ء کو منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں بوجوہ ”طالبان سے ڈائیلاگ“ کی حمایت کی تھی اب انہوں نے ”غیر مرئی قوت“ کے اشارے پر اپنی پالیسی میں 180 ڈگری کا ”یوٹرن“ لے لیا ہے ۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت طے شدہ پالیسی کے مطابق حکومت کا طالبان کے خلاف وہ اقدام اٹھانے پر اکسارہی ہے جسے اس کو اپنے دور حکومت میں کرنے کا حوصلہ نہیں ہوا۔ رہی سہی کسر ایم کیو ایم نے طالبان کے خلاف کارروائی کے حق میں کراچی میں ایک بڑی ریلی کے انعقاد سے نکال دی ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان جو مختلف حیلوں بہانوں سے اب تک فوجی آپریشن کو ٹال رہے تھے، انہوں نے بھی باامر مجبوری دہشت گردوں سے مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ایف سی کے 23 اہلکاروں کی شہادت کے واقعہ کے بعد فوجی آپریشن کا فیصلہ کرلیا تھا اس مقصد کیلئے وزیر اعظم کی تقریر بھی تیار کرلی گئی تھی لیکن انہوں نے آخری وقت میں فوجی آپریشن موخر کرنے کا فیصلہ کرلیا یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ عسکری حکام سیکیورٹی فورسز پر حملے کے رد عمل میں ”سرکش طالبان“ سے آہنی ہاتھ سے نمٹنا چاہتے تھے تاہم وزیر اعظم نے محدود پیمانے پر فضائی حملوں کی اجازت دے دی لیکن ابھی تک طالبان کے خلاف بھرپور فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دی قومی اسمبلی کا 9واں اور سینیٹ کا 102واں سیشن شروع ہوا تو اپوزیشن جماعتوں نے ایک بار پھر حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
حکومتی حلقوں کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کی حامی سیاسی جماعتوں کے مقوف میں ”یو ٹر“ پر حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے نوائے وقت سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے ”کل تک طلبان سے مذاکرات کی حمایت کرنے والی جماعتوں کے موقف میں تبدیلی کے پس پردہ سیاسی مقاصد کارفرما ہیں“ منگل کو وفاقی کابینہ کا غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا اجلاس کا ایک نکاتی ایجنڈا قومی سلامتی کی پالیسی کی منظوری تھا۔
وفاقوی کابینہ کے اجلا س میں جہاں قومی سلامتی کی پالیسی زیرغور آئی وہاں شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن پر بھی بات ہوئی ۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وفاقی کابینہ کے ارکن کو قومی سلامتی کی پالیسی پر بریفنگ دی جس کی متفقہ طور پر منظوری دی گئی ۔ وفاقی وزیر داخلہ نے بدھ کو قومی سلامتی کی پالیسی کا اعلان کیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے وفاقی کابینہ کے ارکان نے 8ماہ کے مختصر عرصے میں قومی سلامتی پر ایک جامع پالیسی تیار کرنے پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی کوششوں کو سراہا۔
اجلاس میں ریاستوں اور سرحدی امور کے وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ کی سربراہی میں متاثرین کی آبادکاری کیلئے کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے۔ کیونکہ وزیرستان میں ممکنہ فوجی آپریشن کی وجہ سے لاکھوں افراد بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں غیر مشروط طور پر جنگ بندی کا اعلان کئے بغیر طالبان سے مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہی وزیر اعظم نواز شریف نے بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کا عندیہ دیا۔ جب قومی اسمبلی میں قائد حذب اختلاف سید کورشید شاہ کو وزیراعظم کی امدکا علم ہوا تو انہوں نے سپیکر سے استدعا کی کہ وزیراعظم کی آپد آپد ہے پارلیمنٹ ا جلاس بلایا جائے۔ اس موقع پر شاید انہوں نے آئینی و قانونی تقاضوں کو فراموش کردیا کہ اس مقصد کیلئے دونوں اجلاسوں کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنا لازمی امر ہے۔
اس کے بعد ہی وزیر اعظم کی سمری پر صدر مملکت پارلیمنٹ کے دنوں ایوانوں کا اجلاس طلب کرسکتے ہیں۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر خذانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسان اقبال، وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین اور دیگر وزراء نے قومی سلامتی کی پالیسی پر اظہار خیال کیا۔ وفاقی کابینہ کے ارکان نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی کی 8ماہ کے ریکارڈ عرصے میں تیار کیا گیا ہے ۔
نائن الیون کے واقعے کے بعد امریکہ نے اپنی ہوم لینڈ سیکیورٹی کی پالیسی تین سال میں تیار کی تھی۔ سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف 8سالہ اور پیپلز پارٹی پانچ سالہ دور حکومت میں قومی سلامتی کی پالیسی تیار نہیں کرسکی لیکن موجودہ حکومت نے دن رات محنت کر کے ایک جامع پالیسی تیار کرلی ہے۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ہر صورت میں ریاست کی رٹ قائم کر ے گی ۔
جب تک طالبان غیر مشروط طور پر اپنی منفی کارروائیوں بند کرنے کا اعلان نہیں کرتے ان سے کوئی بات نہیں ہوگی ۔ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے ادارے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے سربراہ وزیر اعظم خود ہونگے جبکہ نیکٹا کا انتظامی کنٹرول وزیر داخلہ کے پاس ہوگا۔ جس کے ارکان میں وزیر داخلہ، چاروں صوبائی وزراء اعلیٰ، سروسز چیف اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہ شامل ہوں گے ۔
انٹیلی جنس شئیرنگ کی تمام تر ذمہ داری اس کے پاس ہوگی اور اس کیلئے علیحدہ سیکرٹریٹ بھی بنایا جائے گا۔
طالبان سے مذاکرات کے ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی، مولانا یوسف شاہ کا کہنا ہے کہ” حکومت سے تمام رابطے منقطع ہوچکے ہیں مذاکرتی عمل کو بند گلی میں دھکیل دیاگیا ہے اسے دوبارہ ٹریک پر لانے کی کوشش کی جائے گا“ مولانا سمیع الحق کا کہنا ہے کہ ”طالبان کا آئین و جمہویرت سے کوئی مسئلہ نہیں ہے وہ سامراجی قوتوں کے مخالف ہیں لیکن اگلے ہی روز کسی طالبان رہنما کا بیان آجاتا ہے جس سے دوبارہ ابہام جنم لے لیتا ہے۔
قومی اسمبلی میں قائد حذب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ ” وزیر اعظم فوج اور پالیمنٹ کو دوبارہ اعتماد میں ل کر ٹھوس فیصلہ کریں ، ڈر ڈر کر جینے سے کچھ نہیں ہوگا“ موجودہ صورتحال کے تناظر میں حکومت اور سیکورٹی اداروں کو صحیح معنوں میں ایک ”صفحہ“ پر ہونا چاہئے۔ تحریک انصاف کے چئیر مین عمران خان کے بیان نے ریاستی اداروں میں بھی کنفیوژن پیدا کیا ہے وزیر اعظم نواز شریف خود قوم کے سامنے آئیں اور عمران کان کے بیان کے حوالے سے وضاحت کریں اور خود کو لیڈر کو ثابت کریں۔
طالبان اور حکومت کی مذاکراتی کمیٹیاں اگرچہ عملاََ بے معنی ہوکر رہ گئی ہیں لیکن حکومت اور طالبان کے کچھ گروپوں کے درمیان بیک چینل رابطے موجود ہیں۔ محسود جنگجو اور فضل اللہ گروپ سے رابطے کئے گئے ہیں ، محسود جنگجوؤں کی قیادت خان سید سجنا کررہے ہیں جو جنوبی اور شمالی وزیرستان میں موجود طالبان میں خاصا اثر و رسوخ رکھتے ہیں، البتہ مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے طالبان امن کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں جنگ بندی کرنے والوں سے مذاکرات کا عندیہ دیا ہے اب دیکھا یہ ہے کہ ان کی اس پیشکش کو طالبان کی طرف سے کس حد تک پزیرائی ملتی ہے؟
تاریخ اشاعت: 2014-02-28

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان