بند کریں
منگل مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سرحد کے آر پار دہشت گردی کے خلاف جنگ۔۔۔
حکومت پاکستان نے ڈرون پر شور ترک کردیا! مستقبل کے افغانستان میں قیام کرنے والے 98سو امریکی فوجی محض تماشائی نہیں بنیں گے
محمد رضوان خان:
آرمی پبلک سکول اینڈ کالج ورسک روڈ پشاور حملے کے بعد سے اگر ایک طرف پشاور کی فضاء ہنوز سوگ میں ڈوبی ہوئی ہے تو دوسری طرف اس سوگ کی وجہ سے حکومتی اداروں کی بھی کوششیں ماند نہیں پڑرہیں، ان کوششوں میں ایک عزم دکھائی دے رہا ہے جو سرحد کے آر پارپاکستان اور افغانستان کے حدود میں یکساں دکھائی دے رہا ہے۔ اس یکسانیت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء اب چند دن کے فاصلے پر ہے۔
بظاہر اگر دیکھا جائے تو حالات بڑے پرسکون دکھائی دیتے ہیں لیکن اندرون خانہ پاکستانی امریکی اور افغان حکام کی کوشش یہ ہے کہ علاقے سے ان عناصر کا قلع قمع کردیا جائے جو نہ صرف اب بلکہ آگے چل کر مستقبل میں نقص امن کا باعث بن سکتے ہیں۔ گویا اگر یہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ امریکی اور افغان بھی اس وقت پاکستانی حکام کے ساتھ یکسو ہیں اس سلسلے میں اگر قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی بات کی جائے تو وہاں امریکی جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں میں آٹھ مبینہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں، یہ حملے پاک افغان سرحد کے قریب واقع تحصیل شوال میں ہوئے۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق ڈرون طیارے نے کنڈ اور منگوتری کے علاقوں میں میزائلوں سے دو مکانات کو نشانہ بنایا۔ کنڈ میں ہونے والے حملے میں پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ پنجابی طالبان تھے۔ بتایا گیا ہے کہ منگو تری میں جس مکان کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ اس سے تین افراد کی لاشیں ملی ہیں جو ازبک ہیں۔
واضح ہو کہ رواں ہفتہ رفتہ کے دوران مسلسل دوسری دفعہ شمالی وزیرستان کو ڈرون طیاروں نے نشانہ بنایا تھا۔ اس سے قبل طالبان کی جانب سے پشاور میں سکول پر حملے کے بعد 20دسمبر کو دتہ خیل کے علاقے لواڑہ منڈی میں ڈرون حملہ ہوا تھا جس میں پانچ افراد مارے گئے تھے۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو ڈرون داغے جارہے ہیں لیکن موجودہ حکومت کی جانب سے جب سے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ ہوا ہے اس وقت سے لے کر اب تک جتنے بھی ڈرون حملے ہوئے، حکومت نے اس پر خاموشی اپنا رکھی ہے۔
اس خاموشی کو بعض یہ حلقے یہ معانی دے رہے ہیں کہ ان ڈرون سے پہلے باقاعدہ معلومات کا تبادلہ ہوتاہے اسی وجہ سے حکومت پاکستان جس نے اقتدار میں آتے ہی ان حملوں پر کافی ناراضگی کا اظہار کیا تھا، اب خاموشی اختیا رکر رکھی ہے اور دونوں اطراف سے مل کر یہ کوشش ہورہی ہے کہ دہشتگردوں کو مل کر مارا جائے۔
سرحدپار تو پاکستان کو ان دہشت گردوں کو کچلنے کیلئے امریکی تعاون حاصل ہے لیکن پاکستان کے اندر بھی ان دہشت گردوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے، جہاں قبائلی علاقہ جات میں جاری آپریشن ضرب عضب بھی اب زیادہ بارود اگل رہا ہے جس کے دوران کوشش یہ کی جارہی ہے کہ قبائلی علاقوں میں موجود دہشت گردوں کا مکمل صفایا کردیا جائے۔
اس سلسلے میں فوج کی فضائی اور زمینی کارروائیاں شدو مد سے جاری ہیں جس کے موجودہ کارکردگی کے ذکر سے پہلے ضروری ہے اب تک کی کارروائیوں کا ایک جائزہ لیا جائے۔ 15جون کو قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں روپوش طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کے علاوہ دیگر شدت پسند تنظیموں کے مقامی اور غیر ملکی دہشت گردوں کے خلاف بھرپور آپریشن کا آغاز کیا تھا جس کے دوران زمینی فوج کی کارروائیوں اور پیش قدمی کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو فضائیہ کی مدد سے بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔
شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن میں حکام کے مطاق اب تک 1200سے زائد دہشت گرد مارے جاچکے ہیں جن میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کی اس کامیابی کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس کو ماضی کے برعکس انتہائی رازداری کے ساتھ شروع کیا گیا تھا، تاہم دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان سے فرار ہوکر خیبر ایجنسی میں پناہ لی جس کی وجہ سے فوری طور پر دہشت گردوں کے خلاف دیگر قبائلی علاقوں خاص طور پر خیبر ایجنسی میں بھی کارروائی کا دائرہ کار بڑھانا پڑا۔
خیبرون آپریشن جو اکتوبر میں فوج نے شروع کیا تھا اس میں بھی درجنوں دہشت گرد مارے جاچکے ہی۔ آپریشن ضرب عضب کی تازہ ترین کارروائی کے دوران حالیہ دنوں میں 55مشتبہ دہشت گرد مارے گئے جن میں حکام کے مطابق دو شدت پسند کمانڈر بھی شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان می کی گئی فضائی کارروائیوں میں کم از کم 39دہشت گرد مارے گئے جس میں زیر زمین اسلحہ و گولہ بارود کے ایک بڑے ذخیرے کے علاوہ دہشت گردوں کے زیر استعمال سرسنگوں کے نظام کو بھی تباہ کردیا گیا۔
یہ آپریشن صرف اسی علاقے تک ہی محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اور کرزئی اور خیبر ایجنسی کے سرحدی علاقں خذانہ کنڈاؤ اور شیرین درہ میں دہشت گردوں کے جتھوں کو بھی نشانہ بنایا جس میں 16عسکریت پسند مارے گئے اور 20جنگجو زخمی بھی ہوئے۔ اس موقع پر فوسز اور دہشت گردوں کے مابین لڑائی بھی ہوئی جس میں وہ پسپا ہوگئے تھے اور ان کے دو ساتھیوں کو شدید زخمی حالت میں گرفتار بھی کرلیا گیا، ان جھڑپوں میں چار فوجی بھی زخمی ہوئے۔
ان کارروائیوں میں مرکزی پہلو اب بھی آرمی پبلک سکول اینڈ کالج ورسک روڈ کے شہداء کا بدلہ لینا اولین امور میں سے ہے اور خوش آئند امر یہ ہے کہ اسا بار ماضی کی طرح صرف یہ نہیں ہوا کہ میڈیا میں بات ٹھنڈی ہوئی اور لوگ شہداء کے خون کو بھول گئے بلکہ باقاعدہ تمام متعلقہ ادارے اس نیٹ ورک کے پیچھے لگے ہوئے ہیں کہ اس کا خاتمہ کیا جائے اور اس عمل میں سب سے بڑی کامیابی پچھلے دنوں اس وقت ملی جب خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ شہاب علی نے یہ دعویٰ کیا کہ خیبر ایجنسی میں آرمی پبلک سکول اینڈ کالج پر حملے کا سہولت کار کمانڈر صدام خیبر ایجنسی میں آپریشن کے دوران لقمہ اجل بنا گیا۔
پولیٹیکل ایجنٹ شہاب علی شاہ نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے یہ کارروائی خیبر ایجنسی کے علاقے غنڈئی میں کی تھی جس کے دوران چھ عسکریت پسند زخمی بھی ہوئے اور وہ اب زیر حراست ہیں۔صدام طالبان کی مقامی تنظیم جو طارق گیدڑ کے نام سے مشہور ہے کا انتہائی اہم رکن اور اس دھڑے کا آپریشنل کمانڈر تھا۔ صدام نے چند ماہ قبل خیبر ایجنسی میں ایک پولیو ٹیم پر بھی حملہ کیا تھا جس میں 11افراد لقمہ اجل بن گے تھے۔
صدام اس کے علاوہ بھی فورسز پر کئی حملوں سمیت دیگر دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث تھا۔
آرمی پبلک سکول اینڈ کالج ورسک دوڈک ے سہولت کار کی ہلاکت کی خبر نے پشاور میں کسی حد تک سوگوار خاندانوں کے زخم مندمل کرنے میں معاونت ضرور کی ہے لیکن اس بارے میں ابھی مزید کارروائیوں کی ضرورت ہے جس کیلئے صوبائی حکومت بھی اسی لائن پر چل رہی ہے جس کے تحت دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
اس پلان کے مطابق صوبے کی پولیس نے ایک تو 315۔ خطرناک مطلوب ملزمان کی ایک لسٹ بھی بنالی ہے جو سنگین وارداتوں میں مطلوب ہیں،اس فہرست میں کوہاٹ کے 9، مانسہرہ کے 52، ڈیرہ اسماعیل خان کے 130، اور پشاور کا ایک نام شامل ہے۔ اس فہرست کے مطابق صوبے اور تین قبائلی ایجنسیوں کے مجموعی طور پر 135معاونت کارہیں۔ ان معاونت کاروں کو حکام زیادہ خطرناک قرار دے رہے ہیں۔
کیونکہ دہشتگردوں کی ان تمام رکاوٹوں کو یہی لوگ دور کرتے ہیں جو ان کے بس کی بات نہیں، اس لئے ماضی میں جن حلقوں کو نظر انداز کرلیا جاتا تھا اب ان کے متعلق طریقہ کار ہی بدل گیا ہے اور یہ سہولت کار یا معاونت کار بھی پولیس کی نظر میں آچکے ہیں۔ اس لسٹ پر مرحلہ وار گرفتاریوں عمل میں لائی جارہی ہیں اور اس ضمن میں ایک بڑی کامیابی حال ہی میں اس وقت ملی جب چارسدہ میں کارروائی کے دوران ایک انتہائی مطلوب شدت پسند کمانڈر امان اللہ عرف عرفان خراسانی کو گرفتار کرلیا گیا ہے پولیس حکام اس گرفتاری کو بہت اہم قراردے رہے ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امان اللہ عرف عرفان خراسانی مبینہ طور پر پولیس پر متعدد حملوں کے علاوہ مقامی صحافی مکرم خان کے قتل میں بھی ملوث تھا۔ خطرناک دہشتگردوں کے بارے میں چھاپوں کا یہ سلسلہ پورے صوبے میں جاری ہے اور پولیس کا دعویٰ ہے کہ اب تک اس نے 200ایسے دہشت گرد گرفتار کرلئے جن سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر آگے چل کر مزید پیش رفت ہوسکتی ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا ان گرفتاریوں کے کوئی دور رس اثرات بھی سامنے آئیں گے کہ نہیں۔ اس سلسلے میں سردست تو صرف امید ہی کی جاسکتی ہے کہ ماضی میں جس انداز ے اگر کسی کیلئے بھی نرم گوشہ رکھا گیا تو پھر یہ مصلحت کافی تکلیف دہ ہوسکتی ہے لہٰذا وزیراعظم کی اس بات پر عمل ہونا چاہئے کہ اب اچھے یا برے طالبان کی تفریق کو بھی ختم کرنا ہوگا۔
غالب امکان تو یہی ہے کہ اس بار ماضی کے مقابلے میں حالات یکسر مختلف ہیں تو اس بارے میں جو عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے وہ بھی بلا امتیاز ہی ہوں گے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ آرمی پبلک سکول اینڈ کال ورسک روڈ کا سانحہ اس قدر تکلیف دہ ے کہ حکام کو کچھ نیا کرنا ہوگا۔
یہ کچھ نیا تو صرف پاکستان میں ہی نہیں ہوابلکہ چند روز قبل افغان صوبے کنٹر میں جس انداز سے فضل اللہ کے حامیوں کے خلاف آپریشن ہوا، اس نے بھی نیو آرڈر کی نشاندہی کردی ہے اور یہ نیو آرڈر نہ صرف پاکاستان بلکہ اس وقت خطے کی ضرورت ہے۔
ساتھ ہی افغانستان میں سرحد پار اہم ترین امور نمٹانے کا بھی وقت آن پہنچا ہے جس کے دوران مزید کڑے آپریشن دیکھنے میں آسکتے ہیں کیونکہ دنیا کو ایک پرامن افغانستان کا چہرہ دکھایا جائے گا جس میں سردست خاموشی کا راج ہے البتہ چند روز قبل اوپر تلے جو وارداتیں ہوئیں، ان کے ذریعے امریکہ کو یہ بایا گیا کہ ابھی اس کی افغانستان میں ضرورت باقی ہے یہ ضرورت ہندوستان کو یقیناََ ایک آنکھ نہیں بھارہی اس کے باوجود امریکہ کو افغانستان میں برداشت کیا جارہا ہے اور اب تو نوبت یہاں تک آئی ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان گاڑی اس حد تک چل رہی ہے کہ حکومت پاکستان نے ڈرون پر شور بھی ترک کردیا ہے جبکہ امریکیوں سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ ابھی وہ افغانستان میں اپنے فوجیوں حق یلغار بھی نہ لے۔
اس لئے اب مستقبل کے افغانستان میں امریکہ جو 9800فروجہ قیام کریں گے وہ محض تماشائی نہیں بنیں گے بلکہ ان کا ایک اہم کردار ہوگا جس کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کو ایک محفوظ اور پرامن افغانستا دکھایا جائے۔ اس کوشش میں مستقبل کی صف بندی کیسی ہوتی ہے یہ خاصا دلچسپ عمل ہوگا کیونکہ افغان مہاجرین کی واپسی کے معاملے پر تحریک انصاف کی حکومت نے جس طرح واپسی کی بات کی ہے اس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان وقتی کج وری ضرور پیدا کی لیکن مرکزی حکومت کی یقین دہانیوں کے بعد حالات کافی نارمل ہوگئے ہیں جو خوش آئند ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-01

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان