تازہ ترین : 1
Saniha qasoor Ny Awam ka Sar jhuka dia

سانحہ قصور نے عوام کاسر جھکا دیا

قاتل کی 36 گھنٹے میں گرفتاری کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔۔۔۔۔۔ اس واقعہ پر پوری قوم سراپا اجتجاج سڑکیں بلاک اور توڑ پھوڑ

سید ساجد یزدانی:
گزشتہ دنوں اغوا اور زیادتی کے بعد قتل ہونے والی کمسن بچی زینب اور پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے دو افراد کی وجہ سے قصور میں حالات انتہائی کشیدہ رہے تاہم کشیدگی کو کنٹرول کرنے کے لیے رینجر کے دستے تعینات کردئیے گئے رینجرز نے باقاعدہ گشت شروع کردیاتاجروں نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیاگذشتہ دنوں پولیس اور مظاہرین میں وقفے وقفے سے تصادم کا سلسلہ جاری رہامظاہرین نے مقامی ایم پی ائے کے ڈیرے پر دھاوا بول دیا قصور کی تاجر برادری سمیت تمام سیاسی و سماجی مذہبی وکلاء طلبہ اور دیگر تنظیموں کی جانب سے ہڑتال کرکے تمام کاروباری مراکز بند کرنے سمیت نظام زندگی مفلوج کردیاگیا اور قصور کی مین شاہراہوں داخلی اور خارجی راستے بند رہے گزشتہ دنوں بھی مظاہرین نے ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھا رکھے تھے مظاہرین نے ایم پی اے نعیم صفدر انصاری اور ایم این اے وسیم اختر شیخ کے ڈیروں پر حملہ کیا اور وہاں پر موجود گاڑیوں اور دیگر سامان کو آگ لگا کر توڑ پھوڑ کی اس کے علاوہ ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور کی انتظامیہ کی جانب سے لاوارث چھوڑدیا گیا جس کے بعد مظاہرین نے ہسپتال پر قبضہ کرلیا ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف گھروں کو چلا گیا اور مطاہرین نے ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ملزموں کو مثالی سزا دی جائے اور ڈپٹی کمشنر قصور اور متعلقہ پولیس افسروں کو عہدہ سے ہٹا کر قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔
مظاہرین لیگی رہنماؤں کے ڈیروں کا دروازہ توڑ کر اندر گھس گئے توڑ پھوڑ شروع کردی پولیس اورمظاہرین کے دوران تصادم پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی اور کئی مظاہرین کو پولیس نے حراست میں لے لیا انسپکٹر جنرل (آئی جی)پنجاب پولیس کیپٹن عارف نواز خان نے قصور واقعے سے متعلق ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی جس میں کہا گیا کہ زینب قتل میں ملوث مجرم کو پکڑنے کے لیے تمام وسائل بروے کار لائے جارہے ہیں۔
227 مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اور علاقے کا جیو فینسنگ ڈیٹا حاصل کرلیا گیا واقعہ کی سی سی ٹی وی ویڈیو میں ملزم کی شناخت کے لیے فرانزک لیبارٹری سے مدد لی جارہی ہے اور64 ڈی این اے ٹیسٹ کا مشاہدہ کیا گیا گزشتہ دنوں 60 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا ذرائع کے مطابق فیروز پور روڈ بند ہونے کے باعث دوسرے شہروں سے راستے منقطع ہیں رپورٹ کے مطابق زینب قرآن پڑھنے خالہ کے گھر گئی زینب کا چچا محمد عثمان اس کی خالہ کے گھر گیا تو پتہ چلا کہ زینب پہنچی ہی نہیں4 جنوری کو رات ساڑھے 9 بجے زینب کے اغواء کی رپورٹ درج کرائی گئی ایس ڈی بی اور صدر کی سربراہی میں ٹیم نے علاقے کا سرچ آپریشن کیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے پتہ چلا کہ زینب نامعلوم شخص کے ساتھ جاتی دکھائی دی سی سی ٹی وی فوٹیج کا معیار خراب تھا خراب ویڈیو کوالٹی ہونے کی وجہ سے ملزم کے چہرے کی شناخت نہیں ہوسکی ویڈیو کوالٹی بہتر بنانے کے لیے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری سے رجوع کیا گیا مغوی کی تلاش کے لیے تمام زیر تعمیر مکانات کی تلاشی لی گئی بدقسمتی سے بچی کی لاش 9 جنوری کو گندگی کے ڈھیر سے ملی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچی کی لاش برآمد ہونے کے بعد ضلع قصور میں پرتشدد واقعات ہوئے رینجر کے 200 اہلکار پہنچ گئے پولیس نے مقتولہ کے کزن کو گرفتار کرلیا۔
قصور میں معصوم بچی کے ساتھ بربریت کے بعد حالات کے بے قابو ہونے کا ایک خصوصی منظر ہے دو سال قبل اسی علاقے میں بچوں کے ساتھ زیادتیوں کا سکینڈل سامنے آیا ڈیلی وی نیشن نے شیطان صفت انسانوں کے چہرے سے نقاب الٹنے میں اہم کردار ادا کیا کچھ انسانیت دشمن گروہ منظم طریقے سے گھناؤنا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے بچوں کی سیکڑوں اخلاق باختہ ویڈیو سامنے آئیں مگرمتعلقہ اداروں کی کوتاہی غفلت اور ملزموں سے ملی بھگت کے باعث کسی ملزم کو بھی عبرت کا نشان نہ بنایا گیا جو جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتابچوں کے اغواء کے بعد زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کردینا قصور تک ہی محدود نہیں ایسے بہمانہ واقعات ملک بھر میں ہوتے ہیں دوروز قبل ڈیرہ غازی خان میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرکے پھینک دیا گیا شیخوپورہ میں بھی ایسے واقعہ کا اعادہ ہوا جہاں ملزم کو پکڑا گیا اور مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا قصور کے دو تھانوں کی حدود میں چند ماہ کے اندر ایسے 11 المناک واقعات ہوچکے ہیں ایک بے بس باپ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی موجودگی میں ڈیڑھ ماہ سے لاپتہ ہونے والی بیٹی کی تصویر میڈیا کو دکھا رہا تھا اسکے بقول وہ بازیابی کے لیے پولیس کو ڈیرھ لاکھ روپے رشوت دے چکا ہے ملزمان نامزد کیے گئے مگر پولیس ایکشن لینے پر تیار نہیں اس شخص کی اپنی برادری عزیز داری ہوگی پولیس کی طرف سے مظلوم کی بات نہ سننا ظلم ہے اورپھر جب مظلوموں کو موقع ملتاہے تو اپنی دانست میں وہ جسے ظالم سمجھتے ہیں اس کیخلاف ممکنہ طور پر آخری حد تک چلے جانے سے بھی گریز نہیں کرتے قصور کے ایک محدود ایریا میں زینب جیسی11 بیٹیوں کے ساتھ بربریت ہوئی قصور سے ہٹائے جانے والے ڈی پی او ایسی 8 بھیانک وارداتوں کا اعتراف کرتے ہیں۔
اب جب زینب کے ساتھ ہونیوالی سفاکیت سامنے آئی تو علاقے کے لوگوں کا مشغل ہونا فطری امر تھا مگر تشدد کی کسی صورت حماقت نہیں کی جاسکتی زینب کے والد نے پر امن اجتجاج کی بات کی ہے مگر پرامن اجتماعات کو کچھ لوگ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے شر پسند بھی ہجوم کا حصہ بن کر تشدد پر اتر آتے ہیں عموماً ایسے ہجوم کو قابو کرنا مشکل ہوجاتا ہے اگر انتظامیہ عقل و خرد سے کام لے تو نقصان کو کم سے کم سطح پر رکھنے کے بھی جدید دور میں کئی طریقے ہیں بڑے سے بڑا ہجوم بھی بپھر جائے تو لاٹھی چارج آخری آپریشن ہوتا ہے اپنے لوگوں پر فائرنگ سرے سے آپریشن ہے ہی نہیں انتہائی ناگریز حالت میں بھی ہوائی فائرنگ کی جاتی ہے بدقسمتی سے ہمارے ہاں قانون نافذ کرنے اور امن قائم کرنے کے ذمہ دار ادارے سیدھی فائرنگ کو پہلے آپشن کے طور پر اختیار کرتے دیکھے گئے ہیں جس سے حالات سلجھے تو کیا ہوں مزید الجھتے چلے جاتے اور قابو سے باہر ہوجاتے ہیں پھر رینجرز اور فوج کو طلب کرنا پڑتا ہے مشتعل لوگ عموماً بات سننے پر آمادہ نہیں ہوتے ان کو تشدد سے باز رکھنے کے لیے فائرنگ کی جائیگی تو اشتعال میں اضافہ فطری امر ہے۔
قصور میں بھی ایسا ہورہا ہے بجا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے قومی املاک کو نقصان پہچانے اور امن و امان کی صورتحال بگاڑنے کھلی چھٹی نہیں دی جاسکتی ایسے اقدامات بھی نہیں کیے جانے چاہیئں جس میں اشتعال پھیلتا چلا جائے ربڑکی گولیاں واٹر گئیں اور وقتی طور پر حواس سے بیگانی کردینے والی گیسیں موجود ہیں ان کو بروے عمل لایا جاتا تو حالات میں اس قدر بگاڑ پیدا نہ ہوتا لوگوں میں پولیس کی نااہلی بے حسی اور اپنی ذمہ داری ادا نہ کرنے پر بھی اشتعال بڑھا ہے ڈی پی او آٹھ بھیانک انسانیت سوز واقعات کا اعتراف کرتے ہیں انکی ذمہ داری محض ایسے اعداد و شمار پیش کرنا ہے ایسے واقعات کے سدباب کے لیے انہوں نے اورانکی ٹیم نے کیا کیا؟کتنے کیسز ٹریس کیے اور انسانیت کے کتنے قاتلوں کو سزا ئیں دلائیں ایسے افسروں کی معطلی بہت کم سزا ہے ملتان وزیر اعلیٰ انصاف کے لیے پولیس سے رجوع کرنے پر معمر جوڑے کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا تو شہباز شریف اس جوڑے کے گھر دادرسی کے لیے گئے اور فوری طور پر ذمہ دار پولیس افسروں کو معطل کردیا مجرمانہ غفلت پر معطلی کوئی سزا نہیں ہے قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے لوگوں کو اس قدر اعتماد اٹھ چکا ہے کہ ہر واردات کے بعد فوج سے تحقیقات اور تفشیش کے مطالبات سامنے آتے ہیں ایسے معاملات میں افراتفری کے بجائے بڑی سوجھ بوجھ سے فیصلے اور اقدامات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے پولیس نے ایک اورکوتاہی کی کہ جلد بازی میں ملزم کا خاکہ ہی غلط جاری کردیا پنجاب حکومت نے جے آئی ٹی بھی کاغذی کاروائی پوری کرنے کے لیے فٹافٹ تشکیل دیدی بچی کے والد نے اسے ماننے سے انکار کردیا ہے کچھ لوگ نصیحت کررہے ہیں کہ والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں؟کیا بچوں کو گھروں میں قید کردیا جائے یہ پتھر کا دور نہیں جدید دور ہے ایسا ظلم تو شاید پتھر کے دور میں بھی نہ ہوتا ہوں اگر بچے گھر سے باہر جائیں تو اس کا مطلب کہ جو بھی انہیں اٹھا کر لے جائے انکے ساتھ جو بھی کرے اور قانون کی نظروں سے بچ جائے یہ تو جنگل کا قانون ہوگیا ایسے رویے سوچ اور ذہنیت کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ایسا قانون کی اسکی روح کے مطابق کارفرمائی ہی سے ممکن ہے ہمیں بچوں کا مستقبل محفوظ بنانا ہے یونہی نونہالان قوم معمار ان مملکت ہیں بچوں کے ساتھ جرائم میں ملوث مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کی ضرورت ہے اس لیے کسی نئے قانون سازی کی ضرورت نہیں ایسے جرائم دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں جس کی سزا موت ہے جس کے تحت متاثرہ بچی یا بچے کے لواحقین بھی مجرم کو معاف کرنے کا حق نہیں رکھتے بچوں کو جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ایسے قوانین کی اشد ضرورت ہے جن کا عنوان ہی یہ ہو کہ جو بچوں کو ہاتھ لگائے پھانسی کی سزا پائے قصور میں گزشتہ دنوں معصوم بچی زینب کے ساتھ زیادتی او ر بیہمانہ قتل کی بین الاقوامی میڈیا پر بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی بی بی سی نے رپورٹ کیا کہ زینب کی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد نامعلوم ملزم نے کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دیا برطانوی اخبارانڈپینڈنٹ نے لرزہ خیز واقعہ کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو ابھی تک پکڑا نہیں گیا لیکن اجتجاج کرنے والوں پر تشدد کے نتیجے میں 2 افراد اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے بھی واقعہ کی مذمت کی نیو یارک ٹائمز نے قصور میں 2 سال قبل ہونے والے واقعات میں ملوث افراد کو سزا نہ دینے پر تنقید بھی کی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے زینب کے والد کے الفاظ کو دہراتے ہوئے واقعہ کی مذمت کی عرب میڈیا نے بھی زینب کے قتل پر شدید الفاظ میں مذمت کی الجزیرہ کے مطابق زینب کو پاکستان کے ضلع قصور کے مصروف بازار سے اغواء کای گیا تشدد کے بعد قتل اور پھر گندگی کے ڈھیر سے لاش کا ملنا انتہائی افسوس ناک ہے۔سراج الحق نے کہا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ چوروں کی طرح رات کے اندھیرے میں مظلوم اور غمزدہ خاندان سے ملنے آئے انہیں لوگوں کا سامنا کرنا اور عوام کے سامنے وضاحت پیش کرنی چاہیے کہ ان کی ناک کے نیچے جرائم کیوں ہورہے ہیں کیا پولیس صرف حکمران کے محلوں کا اطراف کررہے گی حکمرانوں کو مزید اقتدار میں رہنے کا حق نہیں انہیں فوری مستعفی ہوجانا چاہیے ملک میں غریبوں کے خون کی کوئی قیمت نہیں پنجاب کے حکمرانوں نے یزید کا کردار ادا کرتے ہوئے قصور کربلا بنایا اب کاروان حسین ہوگا اور یزید کا گریبان ہوگا زینب کا خون تقاضا کرتا ہے کہ ظالمانہ نطام کے خلاف اٹھ کھڑاہونا چاہیے زینب کے ساتھ وہ ہوا جو جنگل کے درندے بھی نہیں کرتے زینب ظالمانہ نظام کے خلاف آواز بن گئی پنجاب پولیس نے نہتے عوام پر ایک دفعہ پھر گولیاں برسائیں سفاک ملزموں کو ہی نہیں بلکہ عوام پر ظلم کرنے والے پولیس اہلکاروں کو بھی سزا دی جائے پنجاب پولیس کو شرم آنی چاہیے وزیر اعلیٰ پنجاب کہاں ہے ان کی وہ ایلیٹ فورس جس کی وہ تعریفیں کرتے تھے اگر یہی کسی رکن اسمبلی یا سینٹر کی بیٹی ہوتی تو حکمران یہاں موجود ہوتے لیکن زینب ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اس لیے کوئی کاروائی نہیں کی گئی امیر کا کتا بھی غائب ہوجاتا تو کاروائی دیکھنے میں آتی لیکن اس ملک میں غریب کے خون کی کوئی قیمت نہیں زینب عوام اور کرپٹ عناصر کے خلاف فریاد بن گئی اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اس فریاد کی وجہ سے ہماری زمین پر کوئی قہر نازل نہ ہو اس لیے اللہ کے اس قہر اور غضب سے بچنے کا ایک ہی راستے ہے اور وہ یہ کہ ظالموں کو انجام تک پہنچایا جائے۔
وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی زیر صدارت کا بینہ کمیٹی برائے امن و امان کے اجلاس میں انسپکٹر جنرل پولیس نے قصور میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کے کیمپوں پر ہونیوالی پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دی شہباز شریف نے ہدایت کی کہ کمسن بچی کے اندوہناک قتل کے ملزم جلد سے جلد گرفتار کئے جائیں حیلے بہانے نہیں چلیں گئے مجھے فوری طور پر ملزمان کی گرفتاری چاہئے ملزم پکڑ کر حقائق سامنے لائے جائیں متاثرہ خاندان کو ہرصورت انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائیگیں معصوم بچی کے ساتھ جو ظلم و زیادتی ہوئی درندہ صفت ملزم کو اس کا حساب دینا پڑیگا سفاک درندہ قانون کے مطابق عبرتناک انجام سے نہیں بچ پائے گا فائرنگ کے باعث جاں بحق ہونیوالے وہ افراد کے کیس میں بھی انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں گے اور ذمہ داروں کو قانون کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں گے اورذمہ داروں کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا ملے گی میں کیسوں میں ہونے والی پیش رفت کی ذاتی طور پر نگرانی کروں گا۔
پاکستان میں سال2017 کے پہلے چھ ماہ کے دوران کے ساتھ جنسی زیادتی کے 786 واقعات پیش آئے ہیں جن میں سے 68 ضلع قصور سے رپورٹ ہوئے ساحل کی رپورٹ بھی اخبار ی خبروں سے مرتب کی گئی ہے کیونکہ انتہائی حساس نوعیت کے اس مسئلہ پر کوئی سرکاری ادارہ ایسے اعدادو شمار جمع نہیں کرتا عوامی نمائندہے اور سرکاری حکام یا تو اس بھیانک حقیقت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں یا اس سے انکار کرتے ہیں یہ اعداد و شمار نجی سطح پر کام کرنے والی تنظیم ساحل کی رپورٹ سے لے گئے ہیں جبکہ وفاق اور صوبائی سطح پر اس قسم کا کوئی مربوط نظام موجود نہیں جس میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق مستند معلومات اور اعدادوشمار اکٹھے کیے جائیں گزشتہ ایک سال کے دوران بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے 786 واقعات کے بارے میں کسی صوبائی اور وفاقی ادارے کے خلاف ایسی کوئی تفصیل نہیں ہے کہ ان میں سے کتنے کیسز میں ملزمان گرفتار ہوئے یا انہیں سزا سنائی جاسکیں صوبائی اور وفاقی حکام یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بچوں کے تحفظ کے لیے اقدامات اور قوانین پر عملدرامد میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ساحل کے رپورٹ کے مطابق اخباروں سے حاصل ہونے والے اعدادوشمار سے پتہ چلا ہے کہ جنوری 2017 سے جون 2017 کے دوران بچوں کے ساتھ زیادتی اور رتشدد کے سب سے زیادہ واقعات صوبہ پنجاب میں پیش آئے ضلع قصور جو2015 میں ویڈیو سکینڈل کی وجہ سے خبروں میں رہا وہاں 2016 میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور تشدد کے کل 141 کیسز میں سے99 جنسی تشدد اور ریپ اور پھر قتل کئے جانے کے تھے۔

وقت اشاعت : 2018-01-17

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں