بند کریں
جمعرات مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سانحہ یوحنا آباد پاکستان پر حملہ ہے
اس کی گونج ویٹی کن تک سُنائی دی۔۔۔۔۔ ہمارے ہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وقتی اشتعال میں آکر ہم خود شواہد ختم کردیتے ہیں جس کا براہ راست فائدہ دہشت گردوں کا ہوتا ہے سانحہ لاہور کو اقلیت پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے
مصنف : سید بدر سعید
اس ہفتے لاہور میں ہونے والے دھماکوں کی گونج پاکستان ہی نہیں بلکہ دُنیا بھر میں سنائی دی ہے۔ اس حملے میں مسیحی بستی یوحنا آباد میں چرچ کونشانہ بنایا گیا۔ یہ حملے کیتھولک چرچ اور کرائسٹ چرچ پر اس وقت ہوئے جب وہاں دعائیہ تقریب ہو رہی تھی اور سینکڑوں افراد چرچ میں موجود تھے لیکن سیکورٹی گارڈز کی وجہ سے جانی نقصان اس حد تک نہیں ہوا جتنا حملہ آور چاہتے تھے۔
سانحہ میں بچوں ،خواتین اور پولیس اہلکاروں سمیت 17 افراد ہلاک اور 95 زخمی ہوئے۔ اس سانحہ کو نوٹس پاکستانی حکام نے ہی نہیں بلکہ عالمی میڈیا نے بھی لیا ہے۔ چند ہی لمحوں میں صورتحال اس نہج تک پہنچ گئی کہ ویٹی کن سٹی سے پوپ فرانسس نے سانحہ لاہور پر بیان جاری کر دیا۔ حملے کے بعد مسیحی برادری جانب سے پرتشدد احتجاج کیا گیا۔ میٹروبس اسٹیشن میں تو ڑپھوڑ اور دکانوں سے لوٹ مار کیساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
صورتحال اس وقت مزید افسوس ناک ہوگی جب دو افراد کو محض شک کی بنا پر ہسّہ کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی۔شاید اس عمل سے مشتعل افراد کو تسکین پہنچی ہو لیکن بد قسمتی سے انہوں نے اس عمل سے کیس خراب کر دیا۔ عین ممکن ہے مشکو افراد حملہ آوروں کے ساتھی ہوں۔ اس صورتحال میں اصل ماسٹر مائنڈ تک پہنچنے کا راستہ مسیحی بھائیوں نے خود بند کر دیا ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ یہ مشکوک افراد بے گناہ ہوں اور مسیحی برادری نے خود کوبھی حملہ آوروں کی صف میں شامل کر لیا ۔ ہمارے ہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وقتی اشتعال میں آکر ہم خود شواہد ختم کردیتے ہیں جس کا براہ راست فائدہ دہشت گردوں کا ہوتا ہے سانحہ لاہور کو اقلیت پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے ۔ ہیومن رائٹس کی تنظیمیں ،این جی اوز اور مسیحی برادری بھی اقلیت پر حملہ اور اقلیت کے حقوق کی بات کرتی نظر آئی حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی جنگ لڑ رہاہے جس میں براہ راست پاکستان اور پاکستانیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔
پاکستان کی اس جنگ اور پاکستانیوں کی قربانیوں کی تقسیم کرنا درست نہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری طالبان کے گروپ احرار نے تسلیم کی ہے ۔ یہ گروپ اس سے قبل بھی متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے اگر طالبان یا الحرار گروپ کے اسب تک کے تسلیم شدہ حملوں کا جائزہ لیں تومعلوم ہوتاہے کہ انہوں نے کسی اقلیتی برادری سے زیادہ حملے مسلم برادری پر کیے ہیں۔
اسی طرح دہشت گردی کی اس جنگ میں مساجد ، مزارات او ر امام بارگاہوں پر بھی حمکے کیے جا چکے ہیں ۔ سانحہ پشاور میں صرف مسلمانوں کے بچے ٹارگٹ نہیں تھے۔ پاکستان میں 2002 سے فروری 2015 تک صرف مساجد پر ہی100 سے زائد حملے ہو چکے ہیں۔ ان حملوں پر 1318 مسلمان شہید اور 2690 زخمی ہوئے ہیں ۔اسی طرح 2002 دے مارچ 2015 تک شیعہ برادری پر 412 حملے ہوئے جن میں2401 افراد جاح بحق اور 4339زخمی ہوئے۔
دوسری جانب اسی عرصہ میں مسیحی برادری اور چرچز پر بھی 10 سے زیاد ہ حملے کیے جا چکے ہیں جن میں 119 افراد زندگی کی بازی ہارے ہیں ۔ مُحتاط اعداد شمار واضح کرتے ہیں کہ یہ حملے کسی ایک فرقہ برادری یا مذہب پر نہیں بلکہ پاکستان پر ہورہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی پاکستانیوں کو ہی لڑنی ہے اس لیے حالیہ حملے کو اقلیتی برادری پر حملے یا مسیحی برادری تک محدود کرنا درست نہیں۔ یہ حملے پاکستان پر ہو رہے ہیں۔ اور ایسے سانحات کا مقابلہ پاکستانیوں کو مل کر کرنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے سانحات کی صورت میں اشتعال کا شکار ہونے کی بجائے شواہد کو محفوظ بنانے اور ان کی نشاندہی میں سبھی مل کر قانون کی مدد کریں۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-25

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان