بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سانحہ یوحنا آباد۔۔۔ملک بھر کی وکلاء بارز بھی سراپا احتجاج
دہشت گردی کے اس واقعے پر پوری قوم کی طرح وکلاء برادری بھی رنج و غم میں ڈوبی دکھائی دی۔ پاکستان بار کونسل نے اس واقعے کے خلاف 16 مارچ کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا
ایف۔ ایچ۔ شہزاد
صوبائی دارالحکومت میں دہشت گردی کے دلخراش واقعے نے 15 قیمتی جانیں نگل لیں۔ اپنی عبادت میں مصروف مسیحی برادری پر کئے گئے حملے میں عوام کو خوف زدہ کرنے کے ساتھ دہشت گردوں نے شاید یہ تاثر دینے کی ناکام کوشش کی کہ پاکستان میں اقلیتیں محفوظ نہیں مگر عالمی برادری پاکستانی قوم افواج اور سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کا پہلے ہی اعتراف کر چکی ہے۔
دہشت گردی کے اس واقعے پر پوری قوم کی طرح وکلاء برادری بھی رنج و غم میں ڈوبی دکھائی دی۔ پاکستان بار کونسل نے اس واقعے کے خلاف 16 مارچ کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا۔ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اعظم نذیر تارڑ نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ دہشت گردوں کی مسیحی بھائیوں کی عبادت گاہوں پر بزدلانہ کارروائی قابل مذمت ہے۔ یہ حملہ کسی اقلیت نہیں بلکہ پاکستانی قوم پر کیا گیا۔
اس میں جاں بحق ہونے والے لوگ پاکستانی تھے۔ وکلاء بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر عدالت میں پیش ہوئے۔ بار ایسوسی ایشنز کی عمارتوں پر سیاہ پرچم لہرائے گئے اور مذمتی اجلاس بھی منعقد کئے گئے۔ ان اجلاسوں میں وکلاء راہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگرچہ ملک میں دہشت گردی کی لہر دم توڑتی نظر آتی ہے۔ پاک افواج اور سکیورٹی ادارے ملک بھر میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے کارروائیوں میں مصروف عمل ہیں جس میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔
شاید انہی کارروائیوں کے نتیجے میں بھی دہشت گرد اپنی ختم ہوتی ہوئی قوت کو سہارا دینے کے لئے ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔ مگر اس حقیقت کے باوجود شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ دستور پاکستان اس کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ وکلاء راہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ غم کی گھڑی میں اپنے مسیحی بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پولیس کی کارکردگی اس طرح نظر نہیں آتی جیسے ہونی چاہئے۔
پولیس میں بیشتر بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر ہوتی ہیں۔ اسی لئے پروفیشنل ازم کی کمی ہے۔ وکلاء برادری کے اس یوم سیاہ میں ہائی کورٹ بار، پنجاب بار کونسل ، لاہور بار اور دیگر بار ایسوسی ایشنز بھی شامل تھیں۔ وکلاء راہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت نے حالات کی سنگینی کے مطابق سکیورٹی اقدامات نہیں کئے۔ سانحہ یوحنا آباد میں ایک اور دلخراش پہلو سامنے آیا جسے وکلاء برادری نے سب سے زیادہ محسوس کیا خود کش حملوں کے بعد متاثرہ شہریوں میں غم و غصے کی ایک ایسی لہر دوڑ گئی
جس میں تمام قوانین اور ضابطے توڑ دیے گئے احتجاج کرنے والوں نے جہاں قومی املاک کو نقصان پہنچایا وہاں پر دو مشکوک افراد کو تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا اور بعد ازاں ان کی لاشوں کو جلا دیا۔
وکلاء راہنماؤں کا کہنا ہے کہ اپنے غم اور غصے کے باوجود اگر ان شکوک افراد کو ہلاک کرنے کی بجائے پولیس کے حوالے کر دیا جاتا تو شاید دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈ تک پہنچنے میں خالی مدد ملتی۔ وکلاء کا کہنا تھا کہ شکوک افراد کی ہلاکتوں سے تفتیش کا عمل متاثر ہوا ہے۔ اگر حکومت اپنے غیر معمولی اقدامات کر کے دہشت گردوں پر کنٹرول کرے تو پھر ایسے حالات پیدا نہیں ہو سکتے تھے۔
دوسری بات یہ بھی ہے کہ مشکوک افراد کو اپنی تحویل میں لینا بھی سکیورٹی ایجنسیوں کی ذمہ داری تھی۔ جس میں پولیس بے بس نظر آئی وکلاء معاشرے کا ایک پڑھا لکھا طبقہ ہیں۔ جو اپنی تنقید سے ایسے پہلوؤں کی نشاندھی کرتے ہیں۔ جن پر عملدرآمد سے ایسے اقدامات اٹھانے میں مدد ملے گی۔ جو آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے سود مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

وکلاء نے اپنے احتجاج میں ایک طرف متاثرین سے اظہار یکجہتی کیا تو دوسری طرف حکومت کو بھی مثبت تنقید کا نشانہ بنایا۔ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اعظم نذیر ٹاؤن، لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر پیر مسعود چشتی، سیکرٹری محمد احمد قیوم اور دیگر عہدیداروں کا کہنا تھا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہی دہشت گردی بن چکا ہے اس وقت منفی بحث کی بجائے سیاسی قوتوں اور دیگر طبقوں کو سر جوڑ کر بیٹھے اور یہ طے کرنے کی ضرورت ہے کہ اس نا سور کے خاتمے کے لئے کیا منصوبہ بندی کی جائے ۔
انہوں نے پاک فوج اور سکیورٹی ادارو سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل طور پر ان کے ساتھ ہیں وکلاء رہنما پر عزم نظر ا?ئے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے قوم کے ساتھ ہیں وکلاء راہنماؤں کا یہ بھی کہنا تھا کہ 21 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت ان کا اصولی موقف ہے اگر حکومت موجودہ جوڈیشل سسٹم کو یہی بہتر کرے اس میں اصلاحات لائے۔
پراسیکیوشن کا نظام درست درست کرے اور پولیس میں تمام سیاسی تقرریوں کو ختم کر دے تو موجودہ عدالتی نظام سے وہی نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں جو فوجی عدالتوں سے حاصل کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ وکلاء نے اپنے پلیٹ فارم سے دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں اور افراد کو ہر طرح کی مفت قانونی امداد دینے کی بھی پیشکش کی ہے۔ وکلاء راہنماؤں کا کہنا ہے کہ اقلیتوں پر دہشت گرد حملوں کا مقصد یہ بھی ہے کہ قوم کے اتحاد کو پارہ پارہ کیاجائے۔
اقلیتوں کو یہ تاثر دیا جائے کہ وہ اس ملک میں محفوظ نہیں مگر وکلاء برادری نے مسیحوں کے سیاسی اور مذہبی راہنماؤں کے بیانات اور کردار کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ غم کی اس گھڑی میں دہشت گردی کی جنگ میں میسحی برادری پوری قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ مسیحی شہری اور ان کے راہنما خراج تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے غم میں بھی اپنے ملک کے اتحاد کی بات کی۔ وکلاء راہنماؤں کا کہنا ہے کہ اب حکومت کا فرض ہے کہ وہ قوم کے اتحاد کی بنیاد پر ٹھوس اقدامات کا عملی مظاہرہ کرے تاکہ ملک دشمنوں کو منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-18

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان