بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سانحہ یوحنا آباد…چرچز کی ناکافی سیکورٹی اورلاحق خطرات
ہر شہر ی غم وکرب میں مبتلا یہی سوال کر رہا ہے کہ مشتعل ہجوم کی جانب سے پولیس سے چھین کر جلائے جانے والے دونوں نامعلوم افراد کی لاشیں چھ گھنٹے تک جلتی اورسلگتی رہیں
احسان شوکت
صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقہ یوحنا آباد میں دو چرچوں میں خودکش دھماکوں اور فائرنگ کے واقعہ نے جہاں پولیس و قانون نافذکرنے والے اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے وہیں اس سانحہ کے بعد مشتعل افراد کو کنٹرول کرنے میں ناکامی کی وجہ سے خطیر جانی و مالی نقصان،توڑ پھوڑ،لوٹ مار ،ہنکامہ آرائی، پولیس کو بھی یرغمال بنا لینے، افسران تک کو جائے وقوعہ سے نہ جانے دینے ،سر کاری اداروں کوفرانزک شواہد تک اکٹھے کرنے نہ دینے سمیت قانون ہاتھ میں لینا اور امن و امان کی صورتحال کو انتہائی بگاڑ دینے جیسے حالات پیدا ہونا ہمارے اداروں کی کارکردگی پر کئی سوال نشان کھڑے کر دئیے ہیں؟۔
ہر شہر ی غم وکرب میں مبتلا یہی سوال کر رہا ہے کہ مشتعل ہجوم کی جانب سے پولیس سے چھین کر جلائے جانے والے دونوں نامعلوم افراد کی لاشیں چھ گھنٹے تک جلتی اورسلگتی رہیں۔مگر پولیس بھی بے بسی کا نمونہ اورتماشائی بنی رہی۔ حکومتی رٹ تو اتوار کے روز لاہور میں بھی نظر نہیں آرہی تھی،لیکن گزشتہ روز بھی صورتحال اس سے مختلف نہیں تھی۔فیروز پور روڑ پر مظاہرین کے ہنگاموں کے باعث ایک اور نوجوان کار تلے کچلے جانے سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھا اور متعدد زخمی ہو گئے۔
افسوسناک صوتحال یہ ہے کہ آئی جی پنجاب کے ہجوم سے نپٹنے کے لئے اینٹی رائٹ فورس کے قیام کے دعوئے بھی صرف دعوئے ہی ثابت ہوئے جبکہ انسداد دہشت گردی فوری کی کارکردگی تو حکمران ہی بتا سکتے ہیں۔دہشت گردوں کی اقلیتوں کو نشانہ بنا کر ملک میں حالات کو مزید خراب کرنے کی سازش کامیاب دکھائی دے رہی ہے۔حکومت و قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہئیے کہ وہ اقلیتوں کی عبادتگاہوں پر سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کریں کیونکہ سانحہ یوحنا آباد کے بعد اقلیتوں کو بھی بہت سے سکیورٹی خدشات لاحق ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ کسی کو بھی احتجاج کی آڑ میں شرپسندی کی اجازت نہ دی جائے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق چرچز کی حفاظت کے لئے نیا سکیورٹی پلان تیار کیا جارہاہے جبکہ چرچز کو تین مختلف کیٹیگریز، اے،بی اور سی میں تقسیم کر کے ان کے سکیورٹی کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔حساس ترین چرچز کو اے ،اس سے کم حساس چرچز کوبی جبکہ سب کم حسا س چرچز کو سی کیٹیگریز میں تقسیم کر کے وہاں نفری تعینات کی جارہی ہے۔
اہم چرچزکی چھتوں پر ماہر نشانہ باز تعینات کرنے کے علاوہ وہاں سادہ لباس میں بھی اہلکار تعینات کئے جارہے ہیں ۔اس کے علاوہ چرچزکے داخلی راستوں پرلوہے کے بیرئیر و رکاوٹیں لگاکر دو مقامات پر تلاشی لینے اور انہیں واک تھرو گیٹس سے گزارنے کے بعد ر میٹل ڈیٹیکٹر سے بھی چیک کیا جارہا ہے۔ گاڑیوں کی پارکنگ چرچز سے فاصلے پر کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جبکہ چرچز کی انتظامیہ اپنے طور پر بھی سکیورٹی گارڈز اور رضاکاروں کو بندوبست کر رہے ہیں۔
ایس پی سکیورٹی لاہور کیپٹن (ر)لیاقت علی ملک نے کہا ہے کہ یوحنا آبابم دھماکوں کے بعد شہر بھر میں تمام گرجا گھروں کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ ایلیٹ فورس کے ہمراہ کوئیک رسپانس فورس (کیوآر ایف ) کے جوان بھی گرجا گھروں کے اردگرد روزانہ کی بنیاد پر گشت کریں گے۔ تمام ڈویڑنل ایس پیز کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ گرجا گھروں سے ملحقہ آبادیوں میں روزانہ کی بنیاد پر سرچ اینڈ سویپ آپریشنز کئے جائیں اور شہر کی 150سے زائد مسیحی ا?بادیوں میں رہائشی ہر ایک فرد کے کوائف کا ڈیٹامکمل کیا جائے اور لوگوں کی تصدیق بائیو میٹرک سسٹم کے تحت کی جائے۔
انہوں نے کہاکہ یوحنا آباد میں 2 چرچوں میں ہونے والے خودکش حملے افسوس ناک ہیں اور شہید کانسٹیبل راشد منہاس نے خودکش حملہ آور کو چرچ کے مین گیٹ پر روک کر جان کی بازی لگا کر چرچ میں موجود ہزاروں افراد کو بچالیا۔ لاہور پولیس کے جوانوں نے ایک بار پھر ملک و قوم کی خاطر اپنی جان کا نظرانہ پیش کر کے شہر کو بڑی تباہی سے بچا لیا۔ آج ہمیں اس جذبے کی ضرورت ہے جس کے تحت شہید راشدمنہاس نے جامِ شہادت نوش کیا۔ہم اپنے شہریوں کی حفاظت کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-18

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان