بند کریں
جمعہ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سانحہ ماڈل ٹاؤن مقدمہ سے اہم افراد کے نام خارج کرنے کی تیاریاں
جے آئی ٹی نے اس واقعہ میں ملوث ہونے پر ایک انسپکٹر ایس ایچ او سبزہ زار عامر سلیم شیخ، انچارج ایلیٹ عبدالرؤف اور7 اہلکاروں کو گرفتار کیاجبکہ ایس پی سکیورٹی علی سلمان آج تک فرار اور اشتہاری ملزم ہیں
احسان شوکت:
صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاوٴن میں گزشتہ سال17جون کو منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ اور پاکستان عوامی تحریک کے قائد طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر سے بیرئیرز ہٹانے کی آڑ میں پولیس کی جانب سے کھیلی گئی خون کی ہولی میں دو خواتین سمیت 14 افراد ہلاک اور ایک سوسے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس نے نہتے شہریوں پر تشدد اور قتل و غارت گری کا ایسا معرکہ سر انجام دیا کہ انسانی روح کانپ کر رہ گئی۔
اس وقت کے سی سی پی او چودھری شفیق احمداور دیگر پولیس حکام پھر بھی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے عوامی تحریک کے نہتے کارکنوں کی فائرنگ کا نتیجہ قرار دیتے رہے اور الٹا پولیس کی مدعیت میں منہاج القرآن کے عہدیداروں اور کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیاگیا تھا۔ اس واقعہ پر عوامی احتجاج کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے واقعہ کے ذمہ داران سی سی پی او شفیق احمد، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور رانا عبدالجبار اور ایس پی ماڈل ٹاوٴن ڈویڑن طارق عزیز کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیاتھا جبکہ صوبائی وزیر قانون راناثنااللہ اور وزیراعلیٰ ے پرنسپل سیکرٹری توقیر شاہ کو بھی تبدیل کر دیا گیا۔
اس واقعہ پر حکومت نے تحقیقات کے لئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی)کے علاوہ جوڈیشل کمیشن بھی تشکیل دیا جبکہ اس وقت کے ایڈیشنل آئی جی سرمد سعید میں ایک انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی، مگر چند دن بعد ہی آئی جی پنجاب مشتا ق سکھیرا نے بو جہ انکوائری کمیٹی کے ا یماندار سربراہ یڈیشنل آئی جی سرمد سعید کو تبدیل کر دیا جبکہ سانحہ ماڈل ٹاوٴن کے حوالے سے تحقیقات کرنے والی ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر عارف مشتاق کی سربراہی میں قائم جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم میں ملٹری انٹیلی جنس(ا یم آئی)کے کرنل یاسر کیانی،آئی ایس آئی کے کرنل میاں عرفان امین،انٹیلی جنس بیورو(آئی بی) کے ملک ظفر اقبال،لاہور پولیس کے ایس پی انویسٹی گیشن مصطفی حمیدملک،کاوٴنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی)کے ڈی ایس پی محمد اعظم،سپیشل برانچ کے سیف المرتضی،ا نویسٹی گیشن برانچ ڈی ایس پی اسدمظفر اور تھانہ فیصل ٹاوٴن کا ایس ایچ او شامل تھے۔
اس ٹیم میں شامل محکمہ پولیس سے تعلق رکھنے والے سربراہ اور دیگر ارکان کی جانب سے اہم حکومتی شخصیات واعلی پولیس افسران کوبری الذمہ قراردے کر چھوٹے پولیس افسران و اہلکاروں کو ذمہ دار ٹھرایا اور رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ اس واقعہ کی وجہ حکومت ،حکومتی شخصیات اورپولیس افسران کی غفلت و کوتاہی نہیں بلکہ ماتحت اہلکاروں کا ازخود اختیارت سے تجاوز کرتے ہوئے از خود فائرنگ کرنا ہے۔
ٹیم میں شامل پولیس افسران کی جانب سے رپورٹ میں تما م اہم شخصیات اور پولیس افسران کو بچایا گیا جبکہ ذمہ داری ایس پی سکیورٹی علی سلمان اورایک ایس ایچ او ،ایک سب انسپکٹر سمیت9 چھوٹے اہلکاروں پر عائد کی گئی تھی۔جے آئی ٹی نے اس واقعہ میں ملوث ہونے پر ایک انسپکٹر ایس ایچ او سبزہ زار عامر سلیم شیخ، انچارج ایلیٹ عبدالرؤف اور7 اہلکاروں کو گرفتار کیا جبکہ ایس پی سکیورٹی علی سلمان آج تک فرار اور اشتہاری ملزم ہیں۔
ٹیم میں شامل پولیس افسران کی جانب کلین چٹ دینے کے فیصلے سے ٹیم میں شامل حساس اداروں کے ممبران نے شدید اختلاف او ر اعتراض کیا کہ وہ تحقیقات کی روشنی میں اہم حکومتی شخصیات واعلی پولیس افسران کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ٹیم میں شامل حساس اداروں آئی اے آئی اورا یم آئی کے افسران نے اختلافی نوٹ میں یہ بھی کہا تھا کہ اس واقعہ کا منہاج القرآن انتظامیہ کی نئی د رخواست پرمقدمہ درج کر کے اس کی تفتیش کے لئے نئی جے آئی ٹی بنائی جائے۔
اس دوران عدالتی احکامات پر گزشتہ سال28اگست کو پولیس نے منہاج القرآن انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن محمد جواد حامد کی درخواست پراس واقعہ کا دوسرا مقدمہ وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ شہباز شریف، حمزہ شہباز، سابق صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزرا خواجہ سعد رفیق، خواجہ محمد آصف، پرویز رشید، عابد شیر علی اور چودھری نثار سمیت21اہم سیاسی شخصیات و پولیس افسران کے خلاف درج کیا ،مگر تعجب اورمنہاج القرآن کے مک مکا کی انتہا یہ ہے کہ مقدمہ میں لاہور پولیس کی کمان کرنے والے سابق سی سی پی او چودھری شفیق احمد کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری توقیر شاہ کا نام بھی شامل نہیں کیا گیا تھا۔
اس مقدمہ کی تفتیش کے دوسری نئی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنائی گئی۔ جس کے سربراہ سی سی پی او کوئٹہ عبدالزاق چیمہ ، ممبران میں ایس ایس پی رانا شہزاد اکبر، ڈی ایس پی سی آئی اے خالد ابوبکر ، آئی ایس آئی کے کرنل بلال ، آئی بی کے ڈائریکٹر محمد علی شامل ہیں۔اس دوران حکومت کی جانب سے تشکیل دیئے جانے والے جسٹس علی باقر نجی کی سربراہی میں عدالتی ٹربیونل کی رپورٹ کے بارے میں انکشاف ہو اکہ اس میں وزیراعظم نواز شریف اور وفاقی وزاء کو بیگناہ جبکہ وزیراعلیٰ شہباز شریف، سابق صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ سمیت حکومتی شخصیات کو بھی واقعہ کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
جس پر حکومت نے خود تشکیل دئیے گئے عدالتی ٹربیونل کو ماننے سے ہی انکار کردیا ہے کہ وہ ٹربیونل غیر آئینی تھا اور اس کی کوئی قانو نی حیثیت نہیں ہے۔اب بھی ٹربیونل کی حیثیت کے حوالے سے معاملہ عدالت میں ہے۔ اب سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تفتیش کرنے والی دوسری جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ بھی منظر عام پر آگئی ہے۔جس میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے اپنی رپورٹ میں وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ شہباز شریف، حمزہ شہباز، سابق صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزرا خواجہ سعد رفیق، خواجہ محمد آصف، پرویز رشید، عابد شیر علی اور چودھری نثار سمیت تمام اعلی پولیس افسران کو بھی بے گناہ قرار دے دیا ہے اور سارا ملبہ مفرور ایس پی علی سلمان ، سابق ایس ایچ او تھانہ شیخ عامر سلیم ، سب انسپکٹر ایلیٹ رؤف سمیت 10اہلکاروں پر سارا ملبہ ڈال دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاؤن میں 2سے 3ہزار افراد کا پولیس سے تصادم ہوا، پولیس اہلکار کی موت کی خبر کی اطلاع ملنے پر سابق ایس پی سکیورٹی سلمان علی خان نے فائرنگ کا حکم دیا تھا۔ دونوں اطراف سے فائرنگ اور پتھراؤ کیا گیا۔ جس سے انسانی جانوں کا ضیائع ہوا ہے۔سانحہ ماڈل ٹاؤن میں وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ پنجاب ، وفاقی وزراء اور ڈی آئی جی آپریشن کسی بھی طرح ملوث نہیں ہیں ، واقعہ کی رات ڈی آئی جی آپریشن کا وزیر اعلیٰ پنجاب ، سابق وزیر قانون سمیت کسی بھی حکومتی اعلیٰ شخصیت سے رابطہ نہیں ہوا تھا۔
پولیس نے جی آئی ٹی کی رپورٹ میں بے گناہ قرار دیئے جانے کے بعد سانحہ ماڈل ٹاؤن کے پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے درج ہونے والے اس مقدمہ میں سے وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ پنجاب ، وفاقی وزراء اور ڈی آئی جی آپریشن سمیت دیگر اہم افراد کے ناموں کو خارج کرنے کی تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔متعلقہ تھانے اور اعلیٰ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان کو ابھی تک جے آئی ٹی کی تفتیش کے حوالے سے کوئی بھی مصدقہ رپورٹ یا اس کی کوئی کاپی موصول نہیں ہوئی ہے۔غرض ماڈل ٹاوٴن میں ایک ایسا سانحہ رونما ہوا تھا۔جس سے حکومت اور پولیس کی جانب سے ظلم وستم اور بربریت کی ایک تاریخ رقم ہوئی تھی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انصاف ہوتا بھی نظر آئے۔مگر یہاں انصاف ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-27

(0) ووٹ وصول ہوئے