بند کریں
منگل مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سانحہ پنو عاقل
کوچ اور ٹرالر میں خوفناک تصادم 42 مسافر لقمہ اجل۔۔۔۔۔ کراچی سے پشاور تک اور کشمور سے کوئٹہ تک ہونے والے حادثات میں جہاں ڈرائیوروں کی لاپرواہی اور مجرمانہ غفلت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا
شہزاد چغتائی:
سانحہ گڈانی کو ایک ماہ نہیں گزرا تھا کہ پنا عاقل پر ٹریفک کے دلخراش واقعہ نے ملک و قوم کو جھنجھوڑ ڈالا اس المناک حادثہ نے جہاں کئی خاندانوں کے چراغ گل کر دیئے وہاں یہ دلخراش سانحہ کئی سلگتے ہوئے سوال بھی چھوڑ گیا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ملک بھر کی شاہراہوں پر موت کا رقص جاری ہے جس کی کسی کو پرواہ نہیں ہے۔
کراچی سے پشاور تک اور کشمور سے کوئٹہ تک ہونے والے حادثات میں جہاں ڈرائیوروں کی لاپرواہی اور مجرمانہ غفلت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا وہاں حکومت انتظامیہ پولیس اور خاص طور پر ہائی وے پولیس کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ملک کی شاہراہیں خون سے لتھڑی ہوئی ہیں جہاں روز انہ درجنوں افراد حادثات میں ہلاک اور زخمی ہو جاتے ہیں۔ اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ 99فیصد حادثات تیز رفتاری کے باعث ہو رہے ہیں۔ پنو عاقل کا حادثہ بھی تیز رفتاری کے باعث اس وقت ہوا جب ڈرائیور موڑ کاٹ رہا تھا کہ بس سامنے آنے والے ٹرالر میں جا گھسی حادثہ کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ اس مقام پر ٹریفک ایک ٹریک پر چل رہا تھا۔

جاں بحق اور زخمی ہونے والے ڈیزہ غازی خان سے کراچی جارہے تھے جن میں ایک ہی خاندان کے 19 افراد بھی سوار تھے جو کہ شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے کراچی جارہے تھے۔ حادثہ کی اطلاع ملنے کے بعد کراچی اور ڈیرہ خان میں بیک وقت صف ماتم بچھ گئی۔ شادی کا گھر ماتم کدہ بن گیا۔ کراچی اور ڈیرہ غازی سے جاں بحق ہونے والوں کے رشتہ دار پنو عاقل پہنچے۔
جہاں قیامت خیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین دہاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ان لوگوں کی دنیا اجڑ گئی جن کے بیوی بچے جاں بحق ہو گئے۔حادثہ کے بعد جہاں انتظامیہ تین گھنٹے کے بعد پہنچی وہاں زخمیوں کو اسپتال پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ نعشیں کئی گھنٹے تک بس میں پھنسی رہیں۔ زخمیوں کو بس کے مختلف حصے کاٹ کر نکالا گیا۔
پھنسے ہوئے زخمیوں کو نکالنے میں مشکلات کا سامنا تھا اور ان کی چیخ و پکار عرش کو چھو رہی تھی۔ ابتداء میں بس کو کاٹنے کے لئے آلات نہیں تھے۔ یہ لمحات بہت اعصاب شکن تھے۔ زخمی اور لاشیں ساتھ ساتھ پڑے تھے۔ کوئی پرسان حال نہ تھا ٹرالر سے ٹکرانے کے بعد بس الٹ کر چکنا چور ہو گئی تھی اور اس کا 70فیصد حصہ پچک گیا تھا۔ جاں بحق ہونے والوں کے گوشت کے ٹکڑے اور خون کے لوتھڑے شام تک جائے حادثہ پر پڑے رہے۔
زیادہ لاشوں کے اعضاء الگ ہو گئے تھے جن کو جمع کر کے اسپتال پہنچایا گیا اور ایک جانب زمین پر ڈال دیا گیا۔ لواحقین اس بات پر احتجاج کر رہے تھے کہ لاشوں کو زمین پر کیوں ڈالا گیا ہے۔ زخمیوں کو بہت تاخیر سے طبی امداد ملی۔ زخمیوں کو پہلے سول اسپتال پنو عاقل لے جایا گیا جہاں علاج و معالجہ کی سہولتیں ناکافی تھیں یہ ہی صورتحال علاقے کے دوسرے اسپتالوں میں تھی سکھر اور پنو عاقل کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
شدید زخمیوں کو کراچی منتقل کیا گیا۔
حادثہ سانگی کے نزدیک ہوا۔اس مقام پر سڑک زیر تعمیر ہے۔ حادثہ چونکہ منہ اندھیرے ہوا۔ اس لیے امدادی کارروائیوں میں تاخیر ہوئی بس اور ٹرالر ایک دوسرے میں گھس گئے۔ دونوں کو الگ کرنے میں بہت دیر لگی جس کیلئے گیس کٹر استعمال کرنا پڑا۔ بڑی تعداد میں مسافر اسپتال پہنچتے پہنچتے ہلاک ہوگئے۔
امدادی کارروائیوں میں تاخیر کے باعث ان کا بہت خون بہہ گیا تھا۔
کئی نعشوں کی شناخت نہیں ہو سکی۔ جن کی شناخت ہو گئی ان کے زیادہ تر اعضاء نہیں ملے کئی نعشوں کے ٹکڑے ہی مل سکے۔ والدین نے اپنے بچوں کو کپڑے دیکھ کر شناخت کیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں 14بچے اور 13خواتین شامل ہیں 23زخمیوں میں کئی کی حالت نازک ہے۔ جس کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے۔ قومی شاہراہ پر صبح کے بعد اتوار کی شام کو حادثہ ہوا اور سکھر سے رحیم یار خان جانے والی بس دوسری بس سے ٹکرا کر گڑھے میں گر گئی۔
جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی بھی ہوئے۔ جس کی لاشیں نزدیک اسپتال میں اور زخمیوں کو پنو عاقل چھاؤنی کے کمباؤنڈ ملٹری اسپتال پہنچایا گیا۔ کمبائنڈ ملٹری اسپتال میں صبح کے حادثہ کے زخمی بھی لائے گئے تھے۔حادثہ کی ذمہ داری موٹر وے پولیس پر بھی عائد کی گئی ہے۔ کیونکہ تیز رفتاری کو چیک کرنا موٹر وے پولیس کی ذمہ داری ہے۔ موٹر وے پولیس کے پاس تیز رفتاری کو چیک کرنے کے آلات بھی موجود ہیں یہ سوال کیا جارہا ہے کہ موٹر وے پولیس نے بد قسمت بس کو کیوں نہیں روکا حیرت ناک بات یہ ہے کہ سنگل ٹریک پر بس اتنی تیز رفتاری سے کیسے جارہی تھی۔
ٹرالر کا ڈرائیور توحادثے کے بعد فرار ہو گیا مگر حکومت نے حادثے کے روز 45مرنے والوں کے لیے ایک ایک لاکھ روپے اور مجموعی طور پر 45لاکھ روپے معاوضہ کا اعلان کیا۔
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ٹریفک حادثات کا تناسب سب سے زیادہ ہے جس پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ملک کے ہائی ویز پر اب تسلسل کے ساتھ ہولناک حادثات ہو رہے ہیں۔
جب بھی کوئی حادثہ ہوتا تو حکومت انتظامیہ جاگ جاتی ہے اور پھر سب بھول جاتے ہیں کہ کیا ہوا تھا انسانی زندگی اوزاں بنی ہوئی ہے۔ حکومت نے انسانی زندگی کی قیمت ایک لاکھ روپے مقرر کردی ہے۔جبکہ کوئی حادثہ ہوتا ہے تو صدر ‘وزیراعظم سمیت اہم شخصیات تعزیتی بیان جاری کرتی ہیں۔ وزیر اعلیٰ‘ آئی جی اور پولیس ڈرائیورز کی محض سرزنش کرتی ہے ، پھر دوسرے دن زندگی معمول پر آجاتی ہے۔
دوسری جانب صورتحال مختلف ہوتی ہے جن کے پیارے حادثات کی نذر ہوتے ہیں ان کے حصے میں عمر بھر کا غم آتا ہے۔ مائیں بہنیں اور بیویاں زندہ درگور ہو جاتی ہیں۔ باپ کے مرنے پر بچے نان شینہ کو ترس جاتے ہیں۔یہ بات مشاہدے میں آتی ہے کہ زیادہ تر حادثات صبح کے اوقات میں ہو رہے ہیں۔ صبح جب لوگ سو کر اٹھتے ہیں تو ان کو المناک حادثات کی اطلاع ملتی ہے اور فضا سوگوار ہو جاتی ہے۔
گڈانی اور پنو عاقل کے حادثہ صبح کے اوقات میں تیز رفتاری کے باعث ہوئے۔ لیکن حکومت انتظامیہ اور پولیس نے ان حادثات سے سبق نہیں سیکھا اور اس کے تناظر میں اقدامات نہیں کئے۔ملک میں اس وقت ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کی تربیت کے لیے کوئی ادارہ نہیں۔ پاکستان میں ماہانہ ہزاروں نئے ڈرائیور گاڑیاں لے کر سڑکوں پر آجاتے ہیں۔ ان کو ٹریفک قوانین کی کوئی آگاہی نہیں ہوتی۔ جب گاڑی چلانا سیکھ جاتے ہیں تو نذرانہ کے عوض ٹریفک لائسنس حاصل کرلیتے ہیں۔در حقیقت یہ لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کا لائسنس ہوتا ہے۔ ڈرائیور حضرات ٹریفک رولز کی کی کتاب پڑھنے کی ز حمت گوارہ نہیں کرتے۔ ایک جانب وہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے دوسری جانب ٹریفک رولز کی کتابیں دستیاب نہیں ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-23

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان