تازہ ترین : 1
Sahafi KIyon Maree Jaa Rahe Hain

صحافی کیوں مارے جا رہے ہیں؟

قانون اور حفاظتی ادارے صحافیوں کی جانوں کی حفاظت میں ناکام ہیں بعض صحافی خطر ناک علاقوں میں فرائض سر انجام دیتے ہوئے مارے جاتے ہیں۔ اُن کے تحفظ کے لیے ضروری انتظامات نہیں کیے جاتے

اسعد نقوی :
صحافی عوام تک حقائق پہنچاتے ہیں اور معاشرے میں ہونے والے جرائم کو بے نقاب کرتے ہیں۔اس وجہ سے انہیں دھمکیاں ملتی رہتی ہیں اور اکثر اوقات قاتلانہ حملے بھی ہوتے ہیں۔ بعض صحافی خطر ناک علاقوں میں فرائض سر انجام دیتے ہوئے مارے جاتے ہیں۔ اُن کے تحفظ کے لیے ضروری انتظامات نہیں کیے جاتے اور نہ ہی اُنہیں حفاظتی انتظامات کی تربیت دی جاتی ہے۔
قتل ہونے والے صحافیوں کی نہ تو انشورنس ہوتی ہے نہ پسماندگان کو امداد دی جاتی ہے ۔ اس انتہائی تکلیف دہ صورت حال کے بارے میں فوری اور ضروری اقدامات کی ضرورت ہے۔
صحافت ایک مقدس پیشہ ہے۔ اس کا تقدس بر قرار رکھنے والے صحافیوں کی عظمت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ایک وقت تھا کہ جاگیر دار اور بااثر طبقے نے خود کو خدا سمجھ رکھا تھا، وہ جس کی چاہتے عزت پامال کر دیتے اور جہاں چاہتے ظلم کے پہاڑ توڑنے لگتے تھے۔
اب بڑی حد تک ایسا ممکن نہیں رہا ۔ اس رویے کی اُن صحافیوں نے شکست دی جنہوں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر ظالموں اور مجرموں کے خلاف خبریں شائع کیں۔عوام تک بروقت خبر پہنچانا اور اُنہیں حقائق سے آگاہ کرنا صحافیوں کا فرض ہے ۔ ٹی وی چینلز آئے تو صحافت مزید تیز ہوگئی۔ اب لائیو رپورٹنگ کے ذریعے جلد اور فوری خبر نشر کر دی جاتی ہے۔درجنوں نیوز چینلز اور سینکڑوں اخبارات پل پل کی خبریں عوام تک پہنچانے میں مصروف ہیں ۔
جہاں ایک طرف صحافی ہر خبر تک پہنچنا چاہتے ہیں وہیں وہ عناصر اُن سے ناراض رہتے ہیں جن کی کرپشن اور جرائم منظر عام پرآتے ہیں ۔خبر تو ایک بار منظر عام پر آجاتی ہے اور لوگوں کو حقیقت معلوم ہو جاتی ہے لیکن جس کے چہرے سے شرافت کا نقاب اُترتا ہے وہ خبر دینے والے کا مستقل دشمن بن جاتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں تحقیقی نوعیت کی خبر بریک کرنے والے صحافی کے کئی دشمن وجود میں آجاتے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اُن میں اضافہ ہوتا چلاجاتا ہے۔
بد قسمتی سے ہمارے ہاں صحافی خصوصاََ رپورٹرز کی حفاظت کا کوئی موثر انتظام نہیں ہے۔ اس لیے صحافیوں پر حملے ہوتے رہتے ہیں۔ ایک انتہائی محتاط رپورت کے مطابق دو دہائیو ں میں پاکستان میں کم از کم 71صحافی قتل کر دیئے گئے جبکہ 47صحافی مختلف حملوں میں زخمی ہوئے جن میں سے بعض عمر بھی کے لیے معذور بھی ہوگے ۔ان میں سے 18سندھ ، 16خیبر پختونخواہ، 16فاٹا، 10پنجاب، 17بلوچستان جبکہ 3اسلام آباد میں قتل ہوئے۔
اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ قتل ہونے والے صحافیوں میں سے 90فیصد کے قاتلوں کو گرفتار نہ کیا جا سکا اور نہ ہی اُن کے قتل کے حوالے سے معاملات حل ہو سکے۔ چند سال قبل پشاور پریس کلب اور خضدار پریس کلب پر بھی حملے ہو چکے ہیں۔ نوائے وقت سمیت دیگر صحافتی اداروں کے دفاتر کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
ہمارے ہاں اکثر صحافی خطرات میں گھرے رہتے ہیں۔
اس حوالے سے نہ تو موثر قانون سازی ہے اور نہ ہی اُنہیں حکومت یا اداروں کی جانب سے تحفظ مل پاتاہے۔ حالیہ چند سال میں نجی چینل کے نوجوان صحافی ولی خان بابر کے قتل کے حوالے سے یہ صورت حال سامنے آئی کہ اُنہیں قتل کرنے کے بعد گواہوں اور عینی شاہدین کے چن چن کر قتل کر دیا گیا۔ چند روز قبل لاہور میں ایک نجی ٹی وی چینل کے اینکر پرسن رضا رومی کو بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ۔
اس حملے میں ان کا ڈرائیور شہید ہو گیا جبکہ وہ خود زخمی ہو گئے۔ اس سے قبل ایک صحافتی تنظیم کے صدر اور نجی اخبار کے رپورٹر رانا عظیم پر بھی لاہور ہی میں گھر سے نکلتے وقت حملہ کیا گیا تھا۔
صحافیوں کے حوالے سے یہ صورت حال بھی سامنے آئی ہے کہ بم دھماکوں، پولیس مقابلوں کی کوریج کے دوران صحافیوں کو حفاظتی آلات فراہم نہیں کئے جاتے۔وہ برستی گولیوں میں ذمہ داریاں سر انجام دیتے ہیں اور پھر حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
چند سال قبل لاہور میں قادیانیوں کی عبادت گاہوں پر ہونے والے حملے کی کوریج کرتے ہوئے بھی نجی چینل کے رپورٹر حملہ آورں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ اُنہیں لائیورپورٹنگ دوران گولیاں لگیں۔ اُن کے آخری الفاظ ناظرین نے لائیو سنے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ایسے مواقع پر صحافیوں کو ایک مخصوص حد سے آگے جانے سے روکا جاتا ہے اور اُنہیں حفاظتی جیکٹ اور ہیلمٹ پہنا کر رپورٹنگ کے لیے بھیجا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں سینئر صحافیوں اور اینکرز کو تو یہ سہولت حاصل ہو جاتی ہے لیکن عام رپورٹرز ابھی بھی ان انتظامات سے محروم ہیں۔ بم دھماکوں کے بعد بھی یہ صورتحال دیکھنے میں آئی کہ اکثر اوقات بم دھماکے کے بعد بروقت پہنچ کر عوام کو صورت حال سے آگاہ کرنے والے صحافی اسی جگہ ہونے والے دوسرے بم دھماکے کی زد میں آ کر شہید ہو گے۔ اس معاملے میں صحافیوں کو تربیت دینے کی ضرورت ہے لیکن فی الوقت ایسی سہولت نظر نہیں آتی۔

ایک طرف تو صحافی انتہائی نازک حالات میں کام کر رہے ہیں اور دوسری جانب اُنہیں اُن کا جائز حق بھی نہیں مل پاتا۔ اُن کی نہ تو لائف انشورنس ہوتی ہے ، نہ ہی حکومت اُں کے لواحقین کو ایسی سہولیات دیتی ہے کہ وہ کسی سانحے کے بعد سنبھل سکیں اور باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔صحافیوں کو کام کے دوران سکیورٹی کی صورت حال سے نمٹنے کی بھی کوئی تربیت نہیں دی جاتی۔
ضرورت تو اس امر کی ہے کہ پُر تشدد واقعات کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے لئے باقاعدہ تربیتی کورس متعارف کرائے جائیں اور تربیتی کورس کرنے والوں کو ہی ایسے مواقع پر جانے کی اجازت دی جائے۔اسی طرح ” وارزون“ یعنی شورش زدہ علاقوں یا جھڑپوں کی کوریج کرنے والوں کے لیے ہر صورت بلٹ پروف جیکٹ اور ہیلمٹ پہننا لازمی قرار دیا جائے۔پولیس سمیت دیگر اداروں اور صحافیوں کے درمیان رابطے کی فضا بہت ضروری ہے تاکہ کسی بھی سانحہ یا جنگ کے دوران صحافیوں کو سکیورٹی پلان سے آگاہ کیا جائے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ کسی قسم کے دباوٴ کے بغیر خبر مکمل حقائق کے ساتھ منظر عام پر آئے تو صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔ اس سلسلے میں حکومت کے بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ صحافیوں کے ملنے والی دھمکیوں اور حملوں پر فوری ایکشن لینے کے ساتھ ساتھ ایساعدالتی کمیشن قائم کرنا ہوگا جس ایسے مقدمات کے روزانہ کی بنیاد پر سنے اور جلد از جلد فیصلہ سنائے۔
ایک رپورٹ کے مطابق قتل ہونے والے صحافیوں میں سے 39فیصد پُر تشدد واقعات کی کوریج کی وجہ سے قتل ہوئے جبکہ 15فیصد کرپشن کے بے نقاب کرنے کے سزاوار ٹھہرے۔ اسی طرح 13فیصد انسانی حقوق کے ایشوز کو اجا گر کرنے کی وجہ سے قتل کیے گئے۔ باق دیگر وجوہات کی بنا پر قتل کیے گئے۔ ان میں سے 56فیصد کا تعلق پرنٹ میڈیا سے تھاجبکہ 4فیصد غیر ملکی صحافی بھی قتل کیے گئے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں فرائض انجام دینے اور اس سلسلے میں کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے والے صحافیوں کونہ صرف ڈرایا دھمکایا جاتاہے بلکہ اُن پر قاتلانہ حملے بھی کیے جاتے ہیں۔2011ء میں صحافیوں کے تحفظ کے والے سے بل پشن کیا گیا لیکن اسے بھی سینٹ میں موجود فائلوں میں دفن کرنے کی کوشش کی گئی۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ پارلیمنٹ میں صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے قانون سازی کے ساتھ ساتھ اسے عملی طور پر نافذ بھی کیا جائے۔
وقت اشاعت : 2014-04-16

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں