بند کریں
جمعہ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
رضا مندی کے بغیر گرفتاریاں
زرداری کو منانے کی کوشش۔۔۔ 31اگست کو پیپلز پارٹی کی شریک چیئرمین کی دھاڑ کے بعد حکومت کے ایوانوں میں ارتعاش کی کیفیت ہے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے پیپلز پارٹی کو نہ گنوانے کا فیصلہ کیا ہے‘ اور پارٹی کو مسلم لیگ ن کی پالیسی سے آگاہ کردیاہے
شہزاد چغتائی:
16جون کو سابق صدر آصف علی زرداری کے دھواں دھار بیان کے بعد سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف جاری آپریشن اچانک دھیما پڑ گیا تھا اور اب 31اگست کو پیپلز پارٹی کی شریک چیئرمین کی دھاڑ کے بعد حکومت کے ایوانوں میں ارتعاش کی کیفیت ہے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے پیپلز پارٹی کو نہ گنوانے کا فیصلہ کیا ہے‘ اور پارٹی کو مسلم لیگ ن کی پالیسی سے آگاہ کردیاہے۔
وزیراعظم محمد نواز شریف نے پیپلز پارٹی کو منانے اور ہر صورت میں ساتھ رکھنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ لیکن مسلم لیگ کی مفاہمت کی پالیسی کے برعکس اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ پیپلز پارٹی اتنا زیادہ نقصان اٹھانے کے بعد مسلم لیگ ن کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری کے پاس آپشن ختم ہو چکے ہیں۔ آصف علی زرداری اب وزیراعظم نوازشریف کی جانب دیکھ رہے ہیں۔
مسلم لیگ ان کا آخری سہارا ہے۔ گزشتہ دورہ کراچی کے موقع پر وزیراعظم محمدنواز شریف نے کراچی آپریشن پر سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان کیا تھا سیاسی حلقوں کے مطابق وزیراعظم نے اس موقع پر کراچی آپریشن میں مداخلت کی اور پیپلز پارٹی کو ریلیف دیا تو ان کی پوزیشن بہت نازک ہوجائے گی۔ اس لحاظ سے مسلم لیگ ن کی مشکلات بہت بڑھ گئی ہیں۔ وزیراعظم اپنی فرینڈلی اپوزیشن کو بحران سے بھی نکالنا چاہتے ہیں اور ان کی کچھ مجبوریاں بھی ہیں تاہم پیپلزپارٹی کو منانے کیلئے وزیراعظم نوازشریف نے کسی بھی حد تک جانے کا فیصلہ کرلیا ہے،کیونکہ مسلم لیگ ن آصف علی زرداری کی مخالفت مول نہیں لے سکتی۔
پیپلز پارٹی تو اپنا سب کچھ لٹا بیٹھی ہے‘ اور 90ء کی دہائی کی سیاست شروع ہوئی تو سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ کی حکومت کو ہوگا۔ سیاسی حلقوں کا موقف ہے کہ پیپلز پارٹی کو بچانے کیلئے وزیراعظم محمد نواز شریف کو بہت محتاط انداز میں آگے بڑھنا ہوگا اور اپنے عہدے اور وقار کا خیال رکھنا ہوگا۔ وزیراعظم نوازشریف نے رینجرز آپریشن کی براہ راست نگرانی کا تو فیصلہ کرلیا ہے‘ لیکن ان کو کراچی آپریشن کے کپتان کی بے بسی کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا‘ مناسب یہ ہوگا کہ وزیراعظم اس معاملہ میں نہ پڑیں۔

سیاسی حلقوں کا یہ بھی خیال ہے کہ پیپلز پارٹی نہیں بچی تو پھر بھی مسلم لیگ ن خسارے میں رہے گی۔ کراچی آپریشن نازک اور حساس مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کے خلاف آپریشن رکوانے میں ناکام ہوئی تو اس کو سیاسی قیمت چکانا ہوگی۔ لیکن وزیراعظم محمد نواز شریف کیلئے طمانیت بخش بات یہ ہے کہ ان کو دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔
پیپلز پارٹی اگر حکومت سے راہیں جدا کر تی ہے تب بھی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں اور آپریشن مسلم لیگ ن کی جانب بڑھنے کی صورت میں حکومت برقرار رہے گی کیونکہ وزیراعظم خود کرپشن کے خلاف کارروائی کرتے رہے ہیں اور انہوں نے قریبی ساتھیوں پر واضح کردیا ہے کہ بدعنوان عناصر کو برداشت نہیں کریں گے۔
ادھر پیپلز پارٹی وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے ناراض ہے اور ڈومور کا مطالبہ کررہی ہے۔
ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری پر قائم علی شاہ دو دن تک سکتہ میں رہے پھر انہوں نے کہاکہ میں آپریشن کا کپتان ہوں مجھ سے ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کی منظوری نہیں لی گئی لیکن پیپلز پارٹی قائم علی شاہ کے شوروشرابے سے مطمئن نہیں۔ قائم علی شاہ پر دباوٴ ڈالنے کیلئے جیالوں نے ان کی تبدیلی کا شوشا چھوڑا ہے تاکہ وہ عسکری قوتوں کے سامنے ڈٹ جائیں اور سخت موقف اختیار کریں ادھر اسٹیبلشمنٹ نے قائم علی شاہ کو تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور ان کی پیٹ تھپکی ہے کہ ہم ساتھ ہیں۔
آپ مزے سے حکومت کریں۔ ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کا سب سے زیادہ فائدہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو ہوا اور ان کی گرفتاری موخر کردی گئی وزیراعظم محمدنوازشریف نے جہاں پیپلز پارٹی کے سربراہ کو منانے کی کوششیں شروع کردیں۔ وہاں پہلی بار انہوں نے مداخلت کرکے یوسف رضا گیلانی کو ہزیمت سے بچالیا۔ وزیراعظم نے صدر آصف علی زرداری کے بیان کو نظرانداز کردیا اور ان کو منانے کیلئے بہت آگے جانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے ساتھ ڈاکٹر عاصم حسین کی رہائی کے امکانات پائے جاتے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ڈی جی رینجرز نے جو ثبوت پیش کئے وہ ناکافی ہیں منگل کو کور کمانڈر کراچی نے بھی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کی۔ سابق صدر آصف علی زرداری کے بیان کے تناظر میں اس ملاقات کو بہت اہم قرار دیا جارہا ہے۔ لیکن بعض حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ آپریشن حسب معمول جاری رہے گا۔ آصف علی زرداری کے بیان کے بعد مسلم لیگ ن نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اور پیپلز پارٹی کو منانے کا اعلان کیا ہے جوکہ خوش آئند ہے۔
سندھ سے جہاں بعض وزراء اور اہم شخصیات کے فرار ہونے کی اطلاعات آرہی ہیں وہاں یہ باتیں بھی ہورہی ہیں کہ ڈاکٹر عاصم کو ایک سابق صوبائی وزیر نے ثبوت دے کر گرفتار کروایا اور خود ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ تجزیہ کار یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ اب پیپلز پارٹی کے لوگوں میں اندررونی اختلافات بہت بڑھ گئے ہیں۔ کئی وزراء پر الزام ہے کہ وہ سراغ رساں اداروں کے پروردہ ہیں اور ان کے ساتھ اربوں روپے کے بز نس میں بیرون ملک پارٹنر ہیں۔

ایک ایسے موقع پر جب وزیراعظم نے پی پی پی کے غم و غصہ کا نوٹس لے لیا ہے کئی وفاقی وزراء ڈاکٹر عاصم حسین پر برس پڑے ہیں۔ وہ ڈاکٹر عاصم کو کرپشن کی ماں قرار دے رہے ہیں کرپشن دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے ساتھ ان پر پاکستان میڈیکل اینڈ کونسل اور طب کی تعلیم اور پیشہ کو تباہ کرنے کا الزام بھی ہے۔ وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف کارروائی میں پی ایم ڈی سی کا اپنا قانون رکاوٹ بنا ہوا تھا۔
تاہم ڈاکٹر عاصم پر کرپشن کا الزام اگر ثابت نہیں ہوا تو میں ان پر یہ الزام کیسے لگاسکتی ہوں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر سائرہ نے چند گھنٹوں میں یوٹرن لے لیا۔ صبح وہ ڈاکٹر عاصم پر برسیں، جبکہ آصف علی زرداری کے بیان پر وفاقی وزیر پرویز رشید کی معذرت خواہانہ پریس کانفرنس کے بعد شام کو ڈاکٹر سائرہ نے بھی یوٹرن لے لیا۔ حالانکہ اس سے قبل انہوں نے ڈاکٹر عاصم حسین کو پاکستان نرسنگ کونسل کے عہدے سے برطرف کرنے کا اعلان کیا تھا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما وزیراعظم نواز شریف کی حکومت پر برہم ہیں اور ان کا موقف ہے کہ حالیہ آپریشن حکمرانوں کی مرضی سے کیا جارہا ہے جبکہ مسلم لیگ صفائی پیش کر رہی ہے کہ آپریشن کو مسلم لیگ کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ جیالے ان وضاحتوں پر یقین کرنے کیلئے تیار نہیں اور سوال کر رہے ہیں وزیراعظم نے 22 اہم شخصیات کی گرفتاری کی منظوری کیوں دی ہے جن میں سابق صدر سابق وزراء اعظم سمیت سندھ کے بعض وزراء کے نام شامل ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کراچی آپریشن بلدیاتی انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کیلئے زحمت کے روپ میں رحمت بن گیا اور اس سے دونوں جماعتوں کی پوزیشن مستحکم ہوگئی ہے۔ بلدیاتی انتخابات کیلئے پیپلز پارٹی بہت فعال ہے اور اس نے انتخابی اشتراک کیلئے رابطے بھی کئے ہیں۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی پوزیشن خراب اور مسلم لیگ ن کی پوزیشن بہت مستحکم تھی مگر اب مسلم لیگ ن بلدیاتی انتخابات سے غافل دکھائی دیتی ہے۔
مسلم لیگ ن سندھ کے رہنما علی اکبر گجر کی کوششوں سے پارٹی نے دوسرے نمبر پرکراچی میں میدان مار لیا تھا پورے سندھ میں مسلم لیگ ن کے 6 امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے نتائج کے بعد خیال کیا جارہا تھا کہ مسلم لیگ بلدیاتی انتخابات میں زیادہ بہتر نتائج دے گی‘ لیکن مسلم لیگ سندھ نے بلدیاتی انتخابات کیلئے جو کمیٹی بنائی اس میں علی اکبر گجر کا نام ہی شامل نہیں کیا گیا 11 رکنی کمیٹی میں 9 ارکان ایسے ہیں جوکہ دوسری جماعتوں سے آئے ہیں صرف سینیٹر نہال ہاشمی اور امداد چانڈیو کا نام میرٹ پر ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں امن کی بحالی کے بعد مسلم لیگ کی پوزیشن بہت مستحکم ہوگئی ہے اور وہ بلدیاتی انتخابات میں کراچی آپریشن کی کامیابی کے ثمرات سمیٹ سکتی ہے لیکن مسلم لیگ کی قیادت لاپرواہ دکھائی دیتی ہے حالانکہ کراچی کو امن کا گہوارہ بنانے کا کریڈٹ شہری وزیراعظم محمد نواز شریف کو دیتے ہیں اور کراچی کے دوبارہ روشنیوں کا شہر بن جانے کے بعدمحمد نواز شریف کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہواہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-04

(0) ووٹ وصول ہوئے