بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
راوٴ انوار سے ’را ‘تک ، گرمی بازار سیاست میں ابھار
راوٴ انوار کی پریس کانفرنس سے پہلے اور بعد میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو سندھ حکومت میں شمولیت کی دعوت دی تھی۔
شہزاد چغتائی
سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف قرارداد منظور نہیں ہو سکی۔ یہ قراردادتین جماعتوں تحریک انصاف‘ مسلم لیگ اور فنکشنل مسلم لیگ نے پیش کی تھی جس کے بعد اپوزیشن کے ارکان صوبائی اسمبلی نے ایوان میں احتجاج کیا اور واک آوٴٹ کر گئے۔ ارکان نے قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ ملنے پر اسپیکر کے ڈائس کے سامنے زبردست نعرے بازی کی۔
اس دوران پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے ارکان خاموش بیٹھے رہے۔ اپوزیشن چیختی دھاڑتی رہی۔ شہر یار مہر‘ نند کمار‘ نصرت سحر عباسی‘ لیاقت جتوئی اور سید حفیظ الدین نے اسپیکر کے فیصلے کو چیلنج کیا۔ جس پر اسپیکر آغا سراج درانی نے کہاکہ آپ لوگوں کی یہ پرانی عادت ہے ، آپ تو اسمبلی قواعد کی کاپیاں تک پھاڑ دیتے ہیں۔ صوبائی وزیر نثار کھوڑو نے فنکشنل مسلم لیگ کو مشورہ دیا کہ وہ حکومت کی اتحادی ہے اس لئے وہ قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کریں انہوں نے یہ بھی کہاکہ وزیراعظم محمد نوازشریف نے الطاف حسین کی معافی کو تسلیم کیا ہے تو سندھ اسمبلی میں وہ مسلم لیگ (ن) کی پالیسی پر کیوں نہیں چل رہی۔
مسلم لیگ (ن)‘ تحریک انصاف اور فنکشنل مسلم لیگ نے گزشتہ روز ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے ساتھ ماہرین نے یہ پیشین گوئی کر دی تھی کہ قرارداد منظور نہیں ہو سکے گی۔ قرارداد کی منظوری کا انحصار پیپلز پارٹی کی حمایت پر تھا۔ لیکن اس دوران یہ اطلاعات آ گئی تھیں کہ آصف علی زرداری قرارداد کی منظوری کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ ان کا خیال تھا کہ جو لوگ قرارداد پیش کر رہے ہیں وہ ذوالفقار مرزا کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں جو کہ ایک ماہ سے دن رات آصف علی زرداری کا میڈیا ٹرائل اور کردار کشی کر رہے ہیں۔
کراچی میں افواہیں اْڑ رہی ہیں کہ پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ اور ایم کیو ایم ایک صفحہ پر ہیں۔ بلوچستان اسمبلی نے ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف قرارداد منظور کرنے میں پہل کر دی اور متحدہ قومی موومنٹ پر پابندی کا مطالبہ کر دیا۔ اس کے بعد کے پی کے اسمبلی نے متفقہ قرارداد منظور کر کے ایم کیو ایم کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔ ایم کیو ایم اس وقت اپنی تاریخ کی سب سے بڑی آزمائش سے گزر رہی ہے اور اس کے رہنماوٴں کو حالات کی سنگینی کا احساس ہے۔
سیاسی پنڈت کہتے ہیں سب سیاستدانوں پر برا وقت ہے۔ سیاسی حلقوں کا موقف ہے کہ سیاسی جماعتیں ایم کیو ایم کو نہیں جمہوری اور سیاسی عمل کو بچانا چاہتی ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تحریک انصاف‘ جماعت اسلامی سمیت کئی سیاسی جماعتیں ایم کیو ایم سے سیاسی انتقام لینے کے لئے بے چین ہیں۔ ان کی رال کراچی کے مینڈیٹ کے کیک پر ٹپک رہی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ 1993ء میں کراچی کا مینڈیٹ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان تقسیم ہوا تھا‘ ایم کیو ایم پر پابندی لگی تو تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے بجائے مسلم لیگ (ن) کو بہت کچھ مل جائے گا۔
خواجہ سعد رفیق کی نشست پر دوبارہ انتخاب کے حکم کے نتیجے میں ان کی وزارت بھی گئی۔ کراچی کے قہوہ خانوں میں اس معاملے کا تعلق کراچی سے جوڑ دیا گیا اور یہ تبصرے کئے گئے کہ مسلم لیگ کو ایم کیو ایم کے خلاف قرارداد منظور نہ کرنے کی سزا دی گئی۔ سندھ اسمبلی میں قرارداد کی عدم منظوری پر جیالوں نے واضح کر دیا کہ ہم مہم جوئی کی سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہتے‘ سیاسی جماعتوں کا سیاسی جماعت کے خلاف قرارداد منظور کرنا اچھی بات نہیں۔
جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا سیاسی جماعتیں ایک ہیں تو جیالوں نے اثبات میں جواب دیا کہ سیاسی اور جمہوری قوتیں ایک صفحے پر ہیں۔ درحقیقت سندھ اسمبلی میں قرارداد کا منظور نہ ہونا بھی اسی پیغام کا اظہار ہے۔ لیکن پنجاب اسمبلی میں قرارداد منظور ہونے کے بعد وزیراعظم نوازشریف پر دباوٴ کم ہو جائے گا۔ سندھ میں ایم کیو ایم کے ساتھ پیپلز پارٹی پر بھی احتساب کی تلوار لٹک رہی ہے اور بلاامتیاز آپریشن کے لئے دباوٴبڑھ رہا ہے۔
اخبارات میں روز یہ خبریں آتی ہیں کہ اہم شخصیت کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے اور سیاستدانوں سمیت صوبائی وزراء کو گرفتار کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ یوں یہ اطلاعات 11 مارچ سے آ رہی ہیں لیکن اب ان میں شدت آ گئی ہے۔ اس وقت کوچہ سیاست میں سب کی زلفیں پریشاں ہیں اور گرمیء بازار میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، صرف عمران خان فرحاں و شاداں ہیں۔
ایم کیو ایم منہ چھپاتی پھر رہی ہے۔ ذوالفقار مرزا ایک ماہ سے آصف علی زرداری کی پگڑی اْچھال رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کو دھاندلی کے الزامات کا سامنا ہے۔ الیکشن کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے۔ کراچی میں یہ باتیں تو پہلے ہی ہو رہی ہیں کہ آصف علی زرداری اور الطاف حسین کے درمیان مفاہمت موجود ہے۔ راوٴ انوار کی پریس کانفرنس سے پہلے اور بعد میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو سندھ حکومت میں شمولیت کی دعوت دی تھی۔
راوٴ انوار کی پریس کانفرنس کے دو دن بعد سابق صدر آصف علی زرداری دوبارہ گورنر ہاوٴس گئے تھے اور انہوں نے اپنی پوزیشن کی وضاحت کر دی تھی اور کہا تھا کہ پیپلز پارٹی نے راوٴ انوار کو ایم کیو ایم کے خلاف استعمال نہیں کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی حیران کن طور پر پیپلز پارٹی کی قیادت ایم کیو ایم کے ساتھ کھڑی ہو گئی تھی جس پر سیاسی حلقے حیران ہیں۔
ایس ایس پی ملیر راوٴ انوار کی دھماکہ خیز پریس کانفرنس بدستور معمہ اور موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے بغیر اجازت پریس کانفرنس کرنے کی پاداش میں ایس ایس پی ملیر کا تبادلہ کر دیا تھا جس کے خلاف اتوار کو ملیر میں مظاہرے اور دھرنے ہوئے جس کے بعد قومی شاہراہ ٹریفک کے لئے بند کر دی گئی۔ مظاہرین نے ملیر پریس کلب‘ قائد آباد اور قومی شاہراہ پر دھرنے بھی دئیے۔
ایس ایس پی ملیر راوٴ انوار نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایم کیو ایم کو آئندہ ہڑتال نہیں کرنے دیں گے لیکن بدین میں نئی تعیناتی کے بعد چارج سنبھالتے ہی ان کا استقبال کامیاب ہڑتال سے ہوا۔ راوٴ انوار کو ایس ایس پی بدین مقرر کرنے پر پیپلز پارٹی کے رہنماء ذوالفقار مرزا برہم ہو گئے اور انہوں نے نہ صرف راوٴ انوار کو گرفتاری دینے سے انکار کر دیا بلکہ خدشہ ظاہر کیا کہ راوٴانوار جعلی پولیس مقابلوں کے ماہر ہیں اور ان کو پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیں گے۔
شوہر کو بچانے کیلئے سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا بھی میدان میں آ گئیں اور انہوں نے کہاکہ ذوالفقار مرزا کی زندگی کو خطرہ ہے۔
دریں اثناء صوبائی وزیر جاوید ناگوری کے بھائی کی بم دھماکے میں ہلاکت کے بعد صوبائی وزراء‘ مشیروں اور بیوروکریسی میں جہاں خوف و ہراس پھیل گیا وہاں ان کو حکومت نے محتاط رہنے کا مشورہ بھی دیدیا۔
صوبائی وزیر جاوید ناگوری پر لیاری میں پیپلز پارٹی کے کامیاب جلسہ عام کی پاداش میں بموں سے حملہ کیا گیا اور ان کے آفس پر بم برسائے گئے۔ اس حملے میں جاوید ناگوری تو بچ گئے لیکن ان کے بھائی اکبر ناگوری ہلاک اور کئی افراد زخمی ہو گئے ۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ دنوں کامیاب جلسہ عام کی خوشی میں جیالوں پر انعام و اکرام کی بارش کر دی اور پیپلز پارٹی کے کئی رہنماوٴں کو وزارتوں اور کئی سو نوکریوں سے نواز دیا۔
سابق صدر نے صوبائی وزیر جاوید ناگوری پر حملے کی مذمت کی اور اس کو بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔ وزیر بلدیات شرجیل میمن نے کہاکہ دہشت گردوں کا نشانہ صوبائی وزیر تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے مخالفین نے جلسہ کامیاب کرنے پر لیاری کے لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا جہاں حالات اس قدر بگڑ گئے تھے کہ رات ہوتے ہی لوگ گھروں میں محصور ہو جاتے ہیں اور خوف و ہراس کی فضا قائم کر دی جاتی ہے۔
صوبائی وزیر جاوید ناگوری پر حملہ اور ڈی ایس پی کا قتل ایک روز ہوا۔ صبح ڈی ایس پی فتح محمد سانگری ٹارگٹ کلنگ کی نذر ہوئے تو شام کو اکبر ناگوری زندگی کی بازی ہار گئے۔ اکبر ناگوری کو گینگ وار کے لاکھو گروپ نے قتل کیا۔ اس واقعہ کے بعد سے لیاری پر قبضے کی جنگ جاری ہے، ساتھ ہی مبصرین دعویٰ کر رہے ہیں کہ حالات گورنر راج کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اس صورت حال میں جب ایم کیو ایم پھڑ پھڑاتے پرندے کی مانند پلٹ اور جھپٹ رہی ہے پیپلز پارٹی سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں اور یہ عرصہ ایم کیو ایم کیلئے مزید آزمائش ثابت ہو رہا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-08

(0) ووٹ وصول ہوئے