بند کریں
جمعہ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
رمضان المبارک میں سیکورٹی ہائی الرٹ
رمضان المبارک کے موقع پر ایسی صورتحال نے حکومت،قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کو گہری تشویش اور اندیشوں میں مبتلا کر دیاہے۔ موجودہ حالات کی وجہ سے رمضان المبارک میں دہشت کے خطرات دوگنا ہو گئے ہیں
احسان شوکت:
پاک فوج کے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ”ضرب عضب“ کے بعد دہشت گردوں کی جانب سے بڑی انتقامی کارروائیوں اورحملوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔رمضان المبارک کے موقع پر ایسی صورتحال نے حکومت،قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کو گہری تشویش اور اندیشوں میں مبتلا کر دیاہے۔خفیہ اداروں نے اطلاع کی ہے کہ موجودہ حالات کی وجہ سے رمضان المبارک میں دہشت کے خطرات دوگنا ہو گئے ہیں۔
دہشت گردرمضان المبارک میں خودکش بمبار خواتین کے علاوہ پولیس وردیوں میں ملبوس ہو کر دہشت گردی کی بڑی کارروائی کر سکتے ہیں۔جس پر پولیس، قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے، انٹیلی جنس ایجنسیاں رمضان المبارک میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں اوررمضان المبارک کے دوران دہشت گردی کے ممکنہ خدشات کے پیش نظر سیکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔
صوبہ بھر میں سیکورٹی کے فرائض سرانجام دینے کے لئے ایک لاکھ 20ہزار سے زائدسیکورٹی اہلکاروں کی ڈیوٹیوں لگائی گئی ہیں۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں سیکورٹی ہائی الرٹ ہے جبکہ مساجد اور امام بارگاہوں کی سیکورٹی کے علاوہ مزاروں کی سیکورٹی کے بھی سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں اور وہاں پولیس کی بھاری نفر ی تعینات کر دی گئی ہے۔ حساس مساجد اورامام بار گا ہو ں میں لوگوں کو میٹل ڈ یٹکٹر سے تلا شی اور واک تھرو گیٹس سے گزار کر اندرداخل ہونے دیا جارہا ہے۔
حساس مساجد اورامام بار گا ہو ں سے ملحقہ اونچی عمارتوں پر بھی پولیس اہلکار اورماہرنشانہ باز بندوقچی تعینات ہیں جبکہ مساجد اورامام بار گا ہو ں کے قریب گاڑیوں اور مو ٹر سا ئیکلوں کی پارکنگ کی اجازت نہیں ہے۔بڑے شہروں میں اہم مقامات پر بھی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور پولیس گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ حساس اداروں و پولیس افسروں کے دفاتر اور اہم عمارتوں و مزاروں کے باہر سکیورٹی انتظامات سخت کرتے ہوئے وہاں پر بھاری رکاوٹیں کھڑی کرنے کے ساتھ ساتھ مسلح اہلکاروں کو بھی تعینات کیاگیا ہے۔
علاوہ ازیں سیکورٹی خدشات کے پیش نظر دینی درسگاہوں،مسا جداورامام بار گا ہو ں کی انتظامیہ کو اپنے طور پر بھی سخت سکیو ر ٹی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حساس اضلاع میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے رینجرز کے دستوں کو بھی سٹینڈبائی رکھا گیاہے۔حساس اداروں کی اطلاع کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ پولیس و دیگر سرکاری اداروں کی گاڑیوں کی بھی چیکنگ کی جائے جبکہ شہروں میں پولیس، موبائل سکواڈ،ایلیٹ فورس کی گاڑیوں کا گشت بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
اہم مساجد اور امام بارگاہوں میں سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کئے گئے ہیں جبکہ پولیس دفاتر میں مانیٹرنگ کے لئے خصوصی کنٹرول روم قائم کئے گئے ہیں۔
رمضان المبارک میں موجودہ حالات کے پیش نظر پولیس میں چھٹیوں کے ساتھ ساتھ تبادلوں پر بھی پاپندی عائد کردی گئی ہے جبکہ صوبہ بھر میں تھانے کی سطح پر 714امن کمیٹیوں کے ممبران کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ فیلڈ پولیس افسروں کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں اہم مذہبی شخصیات، رہنماؤں اور لیڈروں کی سیکیورٹی کو بھی یقینی بنائیں۔ پولیس افسران کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سیکورٹی پلان پر سختی سے عمل درآمد کرائیں اور ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے اپنے علاقوں میں مسلسل گشت کریں۔ لاہور میں امن و امان کی فضاء بر قرار رکھنے اور شہر کی 3586 مساجد اور امام بارگاہوں کو فول پروف سیکورٹی مہیا کر نے کیلئے لاہور پولیس کے12ہزار سے زائد افسران اور جوان شہر میں سکیورٹی اور پٹرولنگ کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
شہر کی 268 حساس مساجد کی چھتوں پر سنائپرز تعینات کئے گئے ہیں۔ ان حساس مساجد اور امام بارگاہوں کے اردگرد پٹرولنگ کے لئے بالخصوص نماز فجر اور تراویح کے وقت کمانڈوز تعینات کئے گئے ہیں۔ دینی عبادت گاہوں کے منتظمین کی جانب سکیورٹی ڈیوٹی اور نمازیوں کی تلاشی کے لئے فراہم کیے جانے والے رضا کاروں کو شناختی کارڈز بھی جاری کیے جارہے ہیں۔
تمام ڈویڑنل ایس پیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے علاقے میں تمام حساس دینی عبادت گاہوں کے منتظمین اور امن کمیٹی کے ممبران سے رابطہ رکھیں تاکہ سکیورٹی ڈیوٹی کے لئے ان کی تجاویز کو بھی مدنظر رکھا جائے علاوہ ازیں پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشکوک افرادکے خلاف کریک ڈاوٴن کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے اور بڑے شہروں میں بغیر نمبر پلیٹ اور کاغذات والی گاڑیوں ود موٹر سائیکلوں کو تھانوں میں بند کیا جا رہا ہے۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھی اس موقع پر حکومت کا اتھ دیتے ہوئے جہاں کہیں بھی کوئی مشتبہ شخص یا کوئی چیز دیکھیں فوراً 15پر اطلاع دیں۔ حکومت نے فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی کڑی نگرانی کے ساتھ ساتھ ان جرائم میں ملوث افراد کے خلاف فوری طور پر مقدمات درج کر کے انہیں بلاتخصیص گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-07-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان