تازہ ترین : 1
Ramzan bazar Sajj Gaye

رمضان بازار سج گئے ،خفیہ رپورٹ پر چہروں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت

سستی اشیا کے دعوے اور ذخیرہ اندوزوں کا محاسبہ؟۔۔۔ میٹروبس منصوبوں سے رقم بچا کر موسم گرما میں سکولوں کی تعمیرومرمت کرائی جائے

احمد کمال نظامی:
پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں محمد شہبازشریف کی ہدایت پر رمضان بازار پوری آن بان شان سے قائم ہو چکے ہیں اور ان بازاروں کو قائم کرنے میں فیصل آباد ڈویڑن کی ضلعی حکومتوں نے خصوصی اقدامات اٹھائے ہیں اور ان بازاروں میں سیکورٹی کو فول پروف بنانے کے لئے پولیس نے بھی خصوصی سیکورٹی پلان مرتب کیا اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے پولیس فورس کے ساتھ سپیشل برانچ کو بھی متحرک رہنے اور حالات پر کڑی نگاہ رکھنے کا خصوصی ٹارگٹ دیا گیا ہے۔
جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبازشریف جن کی تصاویر تمام رمضان بازاروں میں بڑی نمایاں دکھائی دیتی ہیں جو وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبازشریف کے رمضان بازاروں کے حوالے سے مختلف بیانات کے بینرز کی تشہیر کا ذریعہ ہیں۔ میاں محمد شہبازشریف کا کہنا ہے کہ رمضان بازاروں کا شیڈول کے مطابق آغاز ہو چکا ہے جن میں آٹا، دالیں، چینی، گوشت اور دیگر اشیاء مارکیٹ کے مقابلہ میں سستی دستیاب ہوں گی اور پنجاب کے سابق حکمرانوں نے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا اور پامال کیا اور ہماری حکومت نے اس لوٹ مار کے کلچر کا خاتمہ کیا ہے اور حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے اربوں روپے کا تاریخی رمضان پیکج دیا ہے۔
سستے اور معیاری آٹے کی فراہمی تین ارب اور پچاس کروڑ روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے جبکہ فیصل آباد ڈویڑن میں ایک رپورٹ کے مطابق 37 تاجروں کی ایک فہرست مرتب کی ہے جن کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تاجر ذخیرہ اندوز ہیں جن میں بارہ کا تعلق فیصل آباد سے ہے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبازشریف کو خفیہ اداروں کی جونہی رپورٹ موصول ہوئی انہوں نے ڈی سی او اور پولیس چیف کو ان کے خلاف سخت ترین آپریشن کرنے کا حکم جاری کیا لیکن رمضان بازاروں کے فنکشنل ہونے کے باوجود ابھی تک کوئی ذخیرہ اندوز تاجر کو قانون نے ہتھکڑی نہیں لگائی۔
خفیہ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ان ذخیرہ اندوز تاجروں نے سفید چنے، دال چنا اور بیسن کا ذخیرہ کیا ہوا ہے۔ رمضان المبارک میں بیسن بنیادی طور پر لازمی خوراک کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ ہر گھر میں افطار کے وقت پکوڑے جزولازم کا درجہ رکھتے ہیں۔ کیا ان ذخیرہ اندوزوں کے خلاف رمضان کے بعد آپریشن ہو گا جو عید کے بعد پاجامہ جلانے والی بات ہے۔ جن ذخیرہ اندوز فیصل آباد کے تاجروں کی نشاندہی کی گئی ہے فیصل آباد میں ان دنوں جنگ تاجر بھی جاری ہے اور تاجر لیڈر اپنی اپنی لیڈری کی بقاء کی جنگ لڑنے دکھائی دیتے ہیں جن بارہ تاجروں کو ذخیرہ اندوز خفیہ اداروں نے قرار دیا اس جنگ تاجر میں ان میں کتنے شریک ہیں جن کے چہرے عوام میں بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے جبکہ اشیائے زندگی کی قیمتوں کا تعلق ہے ان میں اس قدر اضافہ ہو چکا ہے کہ دونمبری مال بھی اصل مال کی قیمت سے زیادہ فروخت ہو رہا ہے۔
پھلوں کی قیمت تو آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور مرغی کے گوشت کی قیمت میں یکدم اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے اور اس وقت تین سو روپے میں فروخت ہو رہا ہے اور اس پر ظلم کی انتہا کہ مرغی کے گوشت کے نام پر لوگوں کو جو گوشت فراہم کیا جا رہا ہے وہ اس زاویہ نگاہ سے بھی ناقص ہے کہ اس میں پولٹری فارمنگ اصول اور سائنس کے مطابق ان کی پرورش نہیں کی جا رہی۔
خوراک کے نام پر مرغیوں کو مصنوعی اجزاء اس قدر زیادہ مقدار میں دیئے جاتے ہیں کہ وہ وقت سے قبل ہی پروان چڑھ جاتی ہے اور ان کا گوشت بھی انسانی خوراک کے لئے پروٹین اور وٹامن فراہم کرنے کی بجائے بیماریوں کا موجب بن رہا ہے۔ حکومت نے سستی اشیائے زندگی فراہم کرنے کے جس قدر دعوے کئے ہیں وہ نقش برآب ثابت ہوئے ہیں جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے جو بجٹ پیش کئے ہیں انہوں نے بھی مہنگائی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق فیصل آباد، جھنگ، سرگودھا اور چنیوٹ کے 6514 سکولوں میں بجلی نہیں اور 612سکولوں میں ٹائیلٹ نہیں ہے اور پینے کا پانی بھی نہیں ہے اور حیران کن بات ہے تین ہزار کے قریب سرکاری سکولوں کی چار دیواری بھی نہیں ہے اور وزیراعلیٰ کہتے ہیں کہ پنجاب میں مزید چار دانش سکول کھولنے کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ میٹروبس کا جرم وزیراعلیٰ شوق سے کریں لیکن تعلیمی بجٹ میں اضافہ کے دعووں اور میٹروبس کو عشق جنون ثابت کرنے والے اس امر پر غور کیوں نہیں کرتے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں بجلی نہیں، پینے کا پانی دستیاب نہیں بیت الخلاء نہیں حتیٰ کہ چار دیواری سے محروم ہیں۔
پنجاب کے دوسرے بڑے شہر فیصل آباد میں بھی تعلیم کو صوبے کے دیگر حصوں کی طرح نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ کیا میٹرو بس منصوبوں سے کچھ رقم بچا کر موسم گرما کی ان چھٹیوں میں بھوتوں کے بنگلوں کا منظر پیش کرنے والے ان تعلیمی اداروں پر چند کروڑ خرچ نہیں کئے جا سکتے اور حکمران اپنے نعرے تعلیم ہر ایک کے لئے کو عملی کارکردگی کا حسن نہیں بخش سکتے۔ وزیراعلیٰ پنجاب اس طرف بھی توجہ کریں کہ اگر تعلیمی ادارے ہی ویران ہوں گے اور کروڑوں بچے اس خوف میں مبتلا رہیں گے کہ سکولوں کی خستہ حال عمارتیں ہی ان کیلئے ”دہشت گرد“ نہ بن جائیں۔ موسم گرما کی چھٹیوں میں یہ کام کرایا جا سکتا ہے جو تعلیمی میٹرو چلانے کے مترادف ہو گا۔
وقت اشاعت : 2015-06-19

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں