بند کریں
جمعہ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
رمضان بازار۔۔غیر معیاری اشیاء کے مراکز
عام مارکیٹ اور رمضان بازارایک ہی سکہ کے دورُخ۔۔۔ جروں، ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے رمضان المبارک کو سیزن قرار دیاہے خوردو نوش اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ حد سے زیادہ ہو جاتا ہے
احمد کمال نظامی:
غیرممالک کے بڑے شہروں جن میں مسلمانوں کی بڑی تعداد ہے ان کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو رمضان پیکج سٹال لگاتے ہیں ،دس سے پچیس فیصد رعایت ہوتی ہیں ان تمام مالکان سٹورز کی اکثریت عیسائیوں اور یہودیوں پر مشتمل ہے، سٹورز میں جس قدر غیرمسلم خریداری کے لئے آتے ہیں ان میں ایک شخص بھی رمضان سٹال کا رخ نہیں کرتا۔ یہ غیرمسلمانوں کا احترام رمضان کا فقیدالمثال مظاہرہ ہے۔
پاکستان کی حکومت کے طرزعمل اور احترام رمضان پر ایک نظر ڈالیں کہ تاجروں، ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے رمضان المبارک کو سیزن قرار دیاہے خوردو نوش اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ حد سے زیادہ ہو جاتا ہے،کرنا اپنی تجارت کا اصول بنایا ہوا ہے ، موجودہ حکومت بھی ذخیرہ اندوزوں، منافع خوروں، بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں سے سبقت لیتے ہوئی رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی یکم جولائی سے گیس قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے،قدرتی وسائل کے وفاقی وزیر خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ اس کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں۔
گیس کسی ملک سے درآمد نہیں کرنی پڑتی بلکہ یہ عطیہ خداوندی ہے۔ اس کے باوجود عوام مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں۔ گیس کی قلت ہمارے حکمرانوں کی کرپشن کی وہ داستان ہے۔ ایک سازش اور ذاتی مفاد کو تقویت پہنچانے کے لئے پہلے گاڑیاں گیس پر شفٹ کی گئیں پھر افسر شاہی اور حکمرانوں نے اپنی تجوریاں بھرنے کے لئے سی این جی اسٹیشنز کروڑوں روپے کی رشوت وصول کرنے کے بعد لائسنس جاری کئے اور ان تمام اقدامات کی ملک کے سنجیدہ حلقوں نے شدید مخالفت کی۔
یہ حکمرانوں اور نوکرشاہی کی ملی بھگت تھی جس کا نتیجہ آج عوام بھگت رہی ہیں۔
رمضان بازار تماشہ یہیں پر اختتام پذیر نہیں ہوتا بلکہ اس کی مانیٹرنگ کے لئے چودہ صوبائی وزراء کو مامور کیا گیا ہے جو مختلف شہروں کا دورہ کریں گے ،رمضان بازار مانیٹرنگ کے نام پر قومی خزانہ کو انجکشن لگائیں گے تمام رمضان بازاروں میں امن و امان کا مسئلہ حل کرنے کے نام پر سول ڈیفنس کے چاروں کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں جنہیں دو سو روپے یومیہ اعزازیہ دیا جائے گا کیونکہ ان رضاکاروں نے صوبائی وزیر کی رمضان بازار آمد کے موقع پر نعرہ بازی کا فریضہ بھی ادا کرنا ہے۔
ایک طرف رمضان بازاروں کا قیام دوسری طرف حکومت پنجاب نے فیصل آباد ڈویژن کے چاروں اضلاع میں گندم کے رمضان کوٹہ میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ خوراک پنجاب نے فیصل آباد کی فلور ملز کو حسب سابق شیڈول کے مطابق گندم کا کوٹہ فراہم کرنے کے فیصلہ کو برقرار رکھا ہے۔ یوں فیصل آباد کے رمضان بازاروں میں اور عام مارکیٹ میں دس کلو گرام آٹے کا تھیلہ 310 روپے اور 330روپے میں فروخت کیا جائے گا، حکومت جو گندم میں سبسڈی دینے کی قوالی کرتی ہے بیچ چوراہے ڈھول کا پول دکھائی دیتی ہے۔
گذشتہ سال تو رمضان بازاروں کے لئے 78ہزار 554بوری گندم پر رعایت نرخوں پر فراہم کی گئی تھی امسال کون سی کالی بلی حکمرانوں کا راستہ کاٹ گئی کہ رعایتی نرخوں پر رمضان بازاروں کے لئے گندم فراہم نہیں کی جا رہی جبکہ ہم اسلامی انقلاب برپا کرنے کی باتیں کرتے ہیں اور اس پر مرنے مارنے کو تیار ہو جاتے ہیں جبکہ اسلام کے بنیادی رکن زکواة کی ادائیگی سے یوں بھاگتے ہیں جیسے چور پولیس کو دیکھ کر بھاگتا ہے۔
پاکستان میں نظام زکواة نافذ ہے حکومت ماہ رمضان زکواة وصول کرتی ہے۔ ہمارا وطیرہ اور عالم یہ ہے کہ شیڈول کے مطابق پاکستان کے تمام شیڈول بینکوں نے اپنے کھاتہ داروں کی رقوم سے زکواة کی کٹوتی کی خاطر یکم رمضان المبارک بینک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے سرمایہ دار بھی زکواة کی کٹوتی سے بچنے کے لئے اپنی رقوم بینکوں سے نکلوالیتے ہیں اور اتنی ہی رقم اپنے کھاتے میں رہنے دی ہے۔
یہ قول و فعل کا یہ تضاد اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ ہم نعروں پر رقص کرنے کے فیشن کے اسیر ہیں اور عملاً نظام اسلام اور نفاذ اسلام ہمارا مطمع نظر نہیں ہے محض سیاسی نعرے کے طور پر اسے بلند کرتے ہیں۔ اس وقت ڈی سی او، ڈویڑنل کمشنر اور تمام انتظامی مشینری رمضان بازاروں کے اہتمام کی طرف اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے مارکیٹ میں اگر روز مرہ اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہے اور وہ مستحکم ہوں تو رمضان بازاروں کی ضرورت ہی نہیں رہتی رمضان بازار تاجر اور دکاندار ہی لگاتے ہیں انتظامیہ میں حکومت کے من پسند افراد شامل ہوتے ہیں رمضان بازار میں جو پرائس لسٹ آویزاں کی جاتی ہے وہ مارکیٹ کمیٹی جاری کرتی ہے۔
اشیاء کا معیار اوپن مارکیٹ سے بدرجہ ہا کمتر ہوتا ہے۔ عام مارکیٹ میں خریدار اگر پھل یا سبزی خریدتا ہے تو وہ اپنی پسند کو سامنے رکھ کر۔ لیکن رمضان بازاروں کا مشاہدہ ہے کہ دکاندار ہاتھ نہیں لگانے دیتا،اس کی مرضی پر صارف کو چلنا پڑتا ہے اور پھر رمضان بازار میں معیار بھی عام مارکیٹ کے مقابلہ میں پست ہوتا ہے۔ مشروبات بھی برائے نام ہوتے ہیں۔ حکمرانوں نے رمضان بازاروں میں اپنی تصاویر کی نمائش کرنی ہوتی ہے ورنہ عام مارکیٹ اور رمضان بازار ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-07-02

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان