بند کریں
جمعہ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قومی مفادکے منصوبے کو رکھنے کی حکومتی پالیسی ناقابل فہم
کالا باغ ڈیم اور اقتصادی راہداری کی مخالفت ‘بھارتی عزائم کی تکمیل۔۔۔ اقتصادی راہداری کو شکوک وشبہات کا شکار کر کے منتازعہ بنانے کی سازش
اسرار بخاری:
پاکستان چین سرمایا کاری منصوبہ ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے میں نے چین کے دورے کر کے دوستی کو آگے بڑھایا اب چین کی سرمایا کاری کا تحفظ کریں ۔ہم ملک میں کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہو نے دین گے۔
یہ الفاظ پیپلز پارٹی کے سریک چیر مین آصف علی زرداری نے لیاری کے جلسے میں خطاب کرتے ہو ئے کہے ہیں ۔یہ چند جملے بڑی معنویت رکھتے ہیں ‘ چینی سرمایا کاری کے تحفظ کا عزم لا ئق تحسین ہے۔
ملک میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہو نے دیں گے۔یہ اقتصادی راہداری کے حوالے سے پیدا کئے جانے والے شکوک وشبہات کا حصہ ہے اگرچہ حکومتی عہدیداروں کی طرف سے باربار اعلان کیا جا رہا ہے کہ یہ اکنامک روٹ چاروں صوبوں سے گزرے گا اس کے باوجود”حقوق “کے نام پر شور شراباجاری ہے حالانکہ جب یہ روٹ بننا شروع ہو گا تو باقاعدہ سروے ہو گا زمین ہمورا کی جا ئے گی تواز خود ظاہر ہو جائے گا تب شور شرابے کا جوازہو گا ؟قبل ازوقت شور شرابے کا مقصد چاہے اسے سبو تاژکر نا ہو تب بھی شکوک وشبہات اور متناز عہ بنانے سے سبوتاژ کرنے ناپاک ارادے رکھنے والوں کو تقویت ضرور ملے گی۔
دوسرے یہ حکومتی عہدیداروں کی بھی نااہلی ہے کہ مسلسل یہ اعلانات تو کر رہے ہیں کہ اقتصادی راہداری میں تمام صوبوں کا مفاد کا تحفظ کی گیا ہے مگر اس روٹ کا نقشہ شائع نہیں کر رہے اور اے این پی کے اسفند یا رولی اور ان کے ساتھیوں نے تو جیسے قسم کھارکھی ہے کہ ہراس کام کی حفاظت کی جائے گی جس سے پاکستان کا اجتماعی مفاد وابستہ ہے ان کے کے داداغفار خان نے پاکستان کی مخالفت کی والد صاحب ولی خان نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کا جنون اختیار کیا اور اب وہ خود اقتصادی راہداری کی مخالفت میں سر گرم ہوگئے ہیں۔
پاکستان کی مخالفت کالاباغ ڈیم کی مخالفت اور اب اقتصادی راہداری کو متنازع بنانے کی کوشش یہ سب پختونوں کے مفاد کے تحفظ کے لئے کیا جارہا ہے حالانکہ یہ تینوں پختونوں کے اس طرح مفاد میں ہیں جس طرح دیگر صوبوں کے مفاد میں ہیں۔ تحریک استقلال کے صدر رحمت خان وردگ متعدد بار ٹھوس دلائل سے ثابت کر چکے ہیں کہ کالا باغ ڈیم سے بہت زیادہ فائدہ خبیربی کے کو ہوگا اور اس سے بھی زیادہ سند ھ کو چار سدہ کے رہائشی آبی ماہرین انجینئرشمس الملک نے باربار واضح کیا اس ڈیم سے چار سدہ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
یہ تو ہر گز نہیں کہا جاسکتا کہ کالا باغ ڈیم اور اقتصادی راہداری کی مخالفت کرنے والے بھارت کے عزائم کی تکمیل ضرور کر رہے ہیں ۔
آصف زرداری نے چار جماعتوں کے دوسری سطح کے لیڈروں کی نفرنس بلا کر اقتصادی راہداری کا معاملہ پا رلیمنٹ میں پیش کر نے کا جو مطالبہ کیا تھا اچھا کیا نوازشریف نے یہ مطالبہ نہیں مانا ورنہ نہ سعودی عرب کی حمایت کی طرح اس اہم قومی معاملہ کو بھی متناز عہ بنادیا جاتااور جس انداز کے خطابات ہوتے اس سے چنیوں کو بھی شایدرونا آجاتا کہ کس قوم کا بھلا کرنے چلے ہیں۔
قومی وطن پارٹی کے چیئر مین آفتاب شیرپاؤ نے دعویٰ کہ اگر وفاتی حکومت نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں ردوبدل کی نو پختوں قوم سروں پر کفن باندھ کر ان کی قیادت میں احتجاجی تحریک چلانے نکلے گی۔عوامی نیشنل پارٹی نے گوادر کا شغرروٹ کی تبدیلی کے خلاف بلوچستان میں کل جماعتی کا نفرنس کا اعلان کیا ہے اور حکومت سے تمام جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
آصف زرداری پہلے ہی پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کر چکے ہیں ۔میڈیارپورٹس کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے چین کے ساتھ طے پانے والے منصوبوں پرلیمانی رہنماؤں کو اعتماد میں لینے کے لیے وزارتی کمیٹی تشکیل دی جو مختلف سیاسی رہنماؤں آصف زرداری خورشید شاہ عمران خان سراج الحق اعتزاز احسن شاہ محمود قریشی محمود اچکزئی حاصل بزنجو اور دیگر سے رابطہ کرے گی۔
ان کیمرہ بریفنگ میں چاروں وزراء اعلیٰ بھی شریک ہوں گے ہوسکتا ہے ان سطور کی اشاعت تک اس بریفنگ کا اہتمام کیا جاچکا ہو البتہ اقتصادی راہداری کے حوالے سے خفیہ بریفنگ ناقابل فہم ہے ۔اول تو یہ راز نہیں رہے گا بلکہ ممکن ہے اجلاس کے دوران ہی ٹی وی چینلوں پر اس کے ٹکر چل رہے ہوں ۔دوسرے یہ راہداری تو کھلے آسمان تلے بنے گی پھر خفیہ رکھنے کی کیا ضرورت ہے ۔
تیسرے حکومت سیا ستدانوں کو اعتماد میں لینے کی بجائے براہراست قوم کو اعتماد میں لے اور بریفنگ کی بجائے اگر کوئی نیاروٹ بنایا گیاہے تو نیا اور پر انا دونوں اخبارات میں شائع کر دئیے جائیں ساتھ ہی نئے روٹ کی افادیت تفصیل سے بیان کر دی جائے ۔کسی سیا ستدان کے لیے عوام کو گمراہ کرنا ممکن نہیں رہے گا ۔جبکہ خفیہ بریفنگ عوامی سطح پر شکوک وشبہات پیدا کرے گی ۔
آخر میں برادر م نذیر ناجی کے کالے سویرے سویرے کا ایک اقتباس “ یہ اعزاز صرف ہماری جمہوریت کو حاصل ہے حکومت جیسے چاہے عوام کی کھال کھنچتی رہے پارلیمنٹ میں سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا لیکن جب ملک میں کوئی سرمایا کاری ہورہی ہوتو اپوزیشن کو فورا اپنی ذمہ داریاں یاد آجاتی ہیں ذمہ داریاں کیا ہوتی ہیں ؟کہ باہر سے جو مال آیا ہے اسے اکیلے مت کھاؤ ہمیں بھی حصہ دو آنے والی چینی سرمایا کاری پر بھی سب کی نظر یں گڑی ہیں تمام میٹنگوں، بیانات اور مطالبوں کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے اکیلے نا کھانا ان دنوں میں بھی اپوزیشن پارٹیوں کے مضطرب اجلاسوں کا ایک ہی پیغام ہے اکیلے نہ کھانا۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-05

(0) ووٹ وصول ہوئے