تازہ ترین : 1
Qoumi Idaroon Ki Loot Sell

قومی اداروں کی لوٹ سیل

نجکاری کے نام پر عوام کو بیوقوف بنایا جارہا ہے گزشتہ بیس سال میں جن اداروں کی نجکاری کی گئی وہ ایک طویل داستان ہے۔ ان کی فروخت سے نہ ہم غیر ملکی قرضوں سے نجات حاصل کر پائے، نہ ہی عوام کی غربت میں کمی ہوئی

اعجاز شیخ:
مالیاتی سکینڈلوں،کرپشن اور نجکاری کے نام پر قومی اداروں کی فروخت سے سیاستدانوں اور حکمرانوں نے جو دولت اکٹھی کی ہے۔ وہ کسی مغل شہزادے کے پاس نہیں تھی۔ جس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ اب وہ شاندار رہائش گاہوں اور غیر ملکی بینکوں میں کثیر دولت کا مالک ہے۔ یہ سب کچھ موجودہ فرسودہ طرز حکومت کی بدولت انہیں میسر ہے۔
مزید دولت کی ہوس بڑھتی ہی جارہی ہے۔
ایک عرصہ سے سیاستدانوں اور حکومتی نمائندوں کے گٹھ جوڑ سے ملک کو مزید لوٹنے کا عمل جاری ہے۔ موجودہ حکومت پھر سے ملکی اداروں کو نجکاری کے ذریعے فروخت کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ فی الحال نجکاری کیلئے اڑتالیس قیمتی اداروں کو فروخت کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ان اداروں کی بنیادوں میں عوام کا خون اور پسینہ شامل ہے۔
ان میں پی آئی اے، سٹیل ملز، پاکستان سٹیٹ آئل جیسے اہم ادارے بھی شام ہیں۔
گزشتہ بیس سال میں جن اداروں کی نجکاری کی گئی وہ ایک طویل داستان ہے۔ ان کی فروخت سے نہ ہم غیر ملکی قرضوں سے نجات حاصل کر پائے، نہ ہی عوام کی غربت میں کمی ہوئی ۔ اتنا ضرور ہوا ہے کہ نام نہاد خریداروں نے جو فائدہ حاصل کیا ہے وہ ان کی آئندہ نسلوں کیلئے کافی ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کی نجکاری کے معاہدے کے مطابق یہ طے تھا کہ بولی منظوری ہونے کے بیس دن میں کل قیمت کا دس فیصد اور نوے فیصد چالیس دنوں میں پی ٹی سی ایل کے مالک نے ادا کرنے تھے۔ مگر اس نے 29جون 2012ء کو متحدہ عرب امارات سے صرف دو سو بیس ملین ڈالر کی رقم نیشنل بینک آف پاکستان میں جمع کرائی۔چالیس ملین ڈالرز ربیعانہ بولی کا دس فیصد سٹیٹ بینک کو دے کر اتصلات (کمپنی) پی ٹی سی ایل کا مالک بنا دیا جو نوے فیصد رقم تیس دنوں میں جمع کروانی تھی۔
وہ بر وقت جمع نہیں کرائی گئی۔ اصولی طور پر یہ معاہدہ کینسل کردینا چاہئے تھا مگر سابقہ حکومت نے پی ٹی سی ایل کو اتصلات کی جھولی میں ڈالنا تھا۔ مزید ساٹھا دنوں کی مہلت لینے کے باوجود بھی بقیہ رقم حکومت خزانے میں جمع نہ ہوسکی۔ اس کے برعکس حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ 2.6ارب ڈالر میں خاطر خواہ کمی کی جائے یا پوری رقم ادا کرنے کے لئے پانچ سال کا وقت دیا جائے اور مذکورہ رقم اقساط میں وصولی کی جائے۔

سوال اٹھتا ہے کہ 2003ء میں انتیس ارب سالانہ منافع کمانے والے اس ادارے کو آخر کار دسمبر 2005ء میں 15ارب 60کروڑ روپے میں فروخت کر کے کمپنی کو مکمل کنٹرول دینے کی آخر کیا جلدی تھی؟ اس کا جواب سابق وزیر اعظم شوکت عزیز اور پرویز مشرف ہی دے سکتے ہیں۔ 570ارب روپے کے سب سے بڑے نیٹ ورک رکھنے والے حبیب بینک کو صرف ساڑھے بائیس ارب روپے میں فروخت کرکے آغا خان کی خوشنودی حاصل کر نے کیلئے تقریباََ500ارب روپے کا فائدہ پہنچایا گیا۔
حبیب بینک کی بولی دی گئی تو اس فرم(آغا خان فنڈ برائے معاشی ترقی) کے کل اثاثے تقریباََ 90ارب روپے کے تھے۔
1450برانچیں اور 55غیر ملکی برانچیں کے بینک کو صرف 22ارب 40کروڑ روپے میں فروخت کرنا کسی لحاظ سے بھی مناسب نہیں تھا۔فروخت کے وقت حبیب بینک کے اثاثوں کی مالیت 146ارب روپے تھی۔ اور اس بڑے بینک کا 2002ء سے 2004ء تک اوسطاََ خالص منافع 20ارب روپے تھا۔
آج تک یہ بات بینک کے سینئرافسران اور معاشی مینجروں کے زیر بحث ہے کہ جب سب کچھ آغا خاں گروپ کو دینا تھا پھر انکم ٹیکس ریبیٹ کے نام پر2005ء میں 9ارب روپے حکومت نے کیوں واپس کیے۔
بات یہاں تک رہتی تو بینک کی نجکاری پر شکوک کم ہوتے مگر جرنیلی حکومت نے 8ارب روپے حکومتی خزانے سے ادا کردئیے اور 17ارب روپے کا نقصان اٹھا کر صرف 6ارب روپے کے لئے ان بینک کو فروخت کردیا۔
اسی طرح کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی نیلامی میں پاکستان میں سب سے بڑے بجلی پیدا کرنے والے ادارے نے معاہدہ نجکاری کے ساتھ جو کیا اس کی بدولت آج تمام کراچی اندھیروں میں ڈوب گیا ہے اور بجلی کے آئے دن نرخوں میں ضافہ کی بدولت پیداواری یونٹ بند ہوگئے ہیں۔
صورتحال یہ ہے کہ آج کیسکو جب چاہے جتنی چاہے بجلی پیدا کر یہ سب کچھ ان پر منحصر ہے۔
وہ بجلی کی پیداوار کو کسی لمحے کم کر کے حکومت سے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کروالیتی ہے۔ اس کے باوجود نجکاری کے نام پر ملکی اثاثوں کی لوٹ سیل کیلئے حکومت پھر تیار بیٹھی ہے۔ عوام نہ چاہتے ہوئے بھی بے بس اور لاچار ہے۔ ماہرین معاشیات کہتے آرہے ہیں کہ قومی اداروں کی فروخت سے معیشت بہتر نہیں ہوسکتی جسے نظر انداز کیا جارہا ہے۔
آج تک قومی قیمتی اداروں کی فروخت سے جو کچھ حاصل کیا ہے اور اس رقم کو کہا خرچ کیا گیا یہ بتانے کو کوئی تیار نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی اثاثوں کی فروخت کی بجائے ایسی معاشی پالیسیاں بنائی جائیں جن کے ذریعے ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکیں۔ اس سلسلے میں ماہرین معاشیات کی خدمات سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔
وقت اشاعت : 2014-04-28

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں