تازہ ترین : 1
Qoumi Idaroon Ka Takrao

قومی اداروں کا ٹکراؤ

یہ ریاست کی بقاء کے لئے خطرہ بن سکتا ہے عدلیہ کے اپنے اختیارات او دائرہ کار ہے۔ میڈیا کو بھی طاقتور اداروں میں سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ میڈیا بھی قوانین کا پابند ہے

مصنف : سید بدر سعید
سید بدر سعید:
پاکستان کی تعمیر و ترقی کیلئے ہر ادارے کا اپنا مخصوص کردار ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے طاقتور ادارے محاذ آرائی میں الجھے ہوئے ہیں اور ہر ادارہ دوسرے پر اپنی برتری ظاہر کرنے کی تگ و دو میں ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ان اداروں کیلئے نقصان دہ ہے بلکہ وطن عزیز کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
پاکستان کو اس وقت مختلف بحرانوں کا سامنا ہے ۔
دہشت گردی سے لے کر قومی اداروں کی ساکھ تک کی صورتحال زیادہ اچھی نہیں ہے۔ اسی طرح دیگر کئی مسائل بھی جڑ پکڑتے جارہے ہیں۔ بعض تجزیہ نگاروں کو حکومت ڈولتی نظر آرہی ہے تو کسی کو مارشل لاء کے بادل چھاتے نظر آرہے ہیں۔ کوئی عسکریت پسندوں کی طاقت سے خوفزدہ ہے تو کسی کو ان کے خلاف فوجی آپریشن میں ملک و قوم کی تباہی نظر آرہی ہے۔ غربت، مہنگائی، خودکشیاں اور بیروزگاری اس کے علاوہ ہے۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ طاقتور افراد اور ادارے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے نظر آتے ہیں جبکہ عوام اس ساری صورتحال میں بے بسی کے عالم میں صورتحال کو سمجھے کی کوشش کرررہے ہیں۔ پاکستان سے محبت کرنے والا ہر شخص موجودہ صورتحال پر تشویس کا شکار ہے اور اس صورتحال کو ملک و قوم کیلئے نقصان دہ قرار دے رہا ہے۔
موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وطن عزیز میں طاقت کا کھیل کھیلاجارہا ہے۔
ریاست کا ہر ستون اپنے آپ کو دوسرے سے برتر اور طاقتور منوانے کی کوشش میں ہے حالانکہ ستون برابری کی بنیاد پر کھڑے ہوں تو ہی عمارت مضبوط، پائیدار اور خوبصورت نظر آتی ہے۔ ہم نہ تو پارلیمنٹ کے اختیارات اور وقارکو نظر انداز کرسکتے ہیں اور نہ ہی فوج کے وقار پر سمجھوتہ ممکن ہے۔ اسی طرح عدلیہ اور میڈیا بھی اپنی جگہ بھرپور اہمیت کے حامل ادارے ہیں۔
بدقسمتی سے پارلیمنٹ کو یہ زعم ہے کہ فوج چونکہ ایک ریاستی ادارہ ہے، اسی لئے اسی پر پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم کی جائے۔ یہ درست ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوسکتا ہے کہ فوج کے خلاف بیان بازی شروع کردی جائے۔ اسی طرح یہ بھی درست ہے کہ فوج وزیر اعظم ، صدر اور وزارت دفاع کے ماتحت تو ہوسکتی ہے لیکن ہر رکن اسمبلی یا ہر وزیر کے ماتحت نہیں ہے۔
یہ بات ہمارے سیاستدانوں خصوصاََ وزراء کو بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ان کے ماتحت صرف وہی ادارہ وہتا ہے جس ک ی وزارت انہیں سونپی جائے اور انکا اصل کام قانون سازی ہے نہ کہ دیگر ریاستی اداروں پر حاکمیت جتلانا۔ اسی طرح عدلیہ کے اپنے اختیارات او دائرہ کار ہے۔ میڈیا کو بھی طاقتور اداروں میں سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ میڈیا بھی قوانین کا پابند ہے۔
یہ ممکن نہیں کہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں قومی اداروں پر کیچڑ اچھالنے کی اجازت بھی ہو۔
ہمارے ہاں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ طاقتور ادارے اپنے درائرہ کارمیں کام کرنے کی بجائے دیگر اداروں کے کام میں مداخلت کرنے اور خود کو ان سے برتر ثابت کرنے میں مگن ہیں اور اسے انا کا مسئلہ بنالیا گیا ہے۔ میڈیا گروپس کا خیال ہے کہ وہ سب سے بدتر ہیں اور اصل طابق ان کے پاس ہے۔
سیاست دانوں کا خیال ہے کہ وہ عوام نمائندے ہیں، اس لئے ہر معاملے میں ٹانگ اڑانا ان کا حق ہے۔ اسی طرح عدلیہ اور فوج بھی بعض معاملات میں خود کو طاقت کا سرچشمہ ثابت کرتے نظر آتے ہیں۔ اگر ہمارے تمامادارے اپنا اپنا کام مکمل ایمانداری سے کریں تو یقینا عام شہری کے مسائل کافی حد تک حل ہوسکتے ہیں ۔ سیاستدان اگر فنڈ ز حاصل کرنے کی بجائے اپنے آپ کو قانون سازی تک محدود رکھیں تو نہ صرف انتظامیہ بہتر ترقیاتی کام کرسکے گی اور ملک میں بروقت اور بہتر قانون سازی بھی ممکن ہوگی۔
اسی طرح فوج کا فرض ہے کہ سرحدوں کے ساتھ ساتھ جن علاقوں میں فوجی آپریشن کا کہا گیا ہے ، ان علاقون کو شدت پسندوں سے محفوظ بنا کر وہاں کے اصل عوام کو پر سکون زندگی گزارنے میں مدد فراہم کریں۔ میڈیا کو بھی جج اور پولیس کی بجائے صرف وہی کردار ادا کرنا چاہئے جو اس کا فرض ہے۔
اس میں دو رائے نہیں کہ ریاست کے سب ادارے محترم ہیں اور ان کی الگ الگ ذمہ داریاں ہیں۔
ریاستی ادارے اگر صرف اپنی ذمہ داریوں تک محدودہیں تو نہ ان میں ٹکراؤ ممکن ہے اور نہ ہی اختلافات جنم لے سکتے ہیں۔ صورتحال خراب اسی وقت ہوتی ہے جب کوئی ادارہ اپنی حدود سے تجاوز کرتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ادارے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیں اور پاکستان کی تعمیر و ترقی کو مقدم رکھیں۔ اسی طرح نہ صرف پاکستان کے حالات بہتر ہوسکتے ہیں بلکہ ملک ترقی کی جانب بھی گامزن ہوسکتا ہے۔
وقت اشاعت : 2014-05-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

Syed Badar Saeed

مصنف کا نام : سید بدر سعید

سید بدر سعید کی مزید تحریریں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

اپنی رائے کا اظہار کریں