تازہ ترین : 1
Qiadat Ka Bohran

قیادت کا بحران

سب سے پہلی بات تو حکمرانوں کو سمجھنی چاہیے کہ دہشت گردی سے لڑنا صرف فوج کا کام نہیں۔ جنگ کوئی بھی ہو،ہمیشہ پوری قوم لڑتی ہے۔ یہاں فوج نے فاٹا میں ضرب عضب شروع کیا، دہشتگرد وہاں سے نکل کر پورے ملک میں پھیلیں گے

سکندر خان بلوچ :
سانحہ واہگہ بارڈر پر جتنا بھی افسوس کی جائے کم ہے۔ اس سانحہ کے متعلق اخبارات اور ٹی وی پر ہونے والے تمام تبصرہ اور دلائل اپنی جگہ درست ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سانحہ کی وجہ صرف اور صرف ہماری نا اہلی ہے ۔ ہم میں حا لات سے مقابلہ کرنے کی جرات ہی نہیں رہی۔ ہر واقعہ کے بعد ایک جانا پہچانا سا ردعمل سامنے آتا ہے اور پھر ایک خاموشی چھا جاتی ہے۔
اس سانحہ کے بعد بھی یہی کچھ ہو گا۔ وزیر داخلہ صاحب کی طرف سے بیان آیا کہ اس سانحہ کی اطلاع پہلے ہی دیدی گی تھی۔ حکام بالا کی طرف سے بیان آیا ہماری شاندار سیکورٹی کی وجہ سے دہشتگرد فلیگ پریڈ تک نہیں جا سکا ورنہ نقصان بہت زیادہ ہوتا اور ہمارے قلمکاروں نے دہشتگرد کو ” سفاک ظالم، ننگ انسانیت اور درندہ صفت “ جیسے القابات سے نوازا اور سانحہ ڈانڈے ”را“،”موساد“ اور ”سی آئی اے“ سے جا ملا ہے۔
ہماری عظیم قیادت پہلے بھی کبھی حرکت میں نہیں آئی اور توقع ہے کہ اس مرتبہ بھی حسب روایت خاموش اور بے حرکت ہی رہے گی جبکہ اس سانحہ میں 02 بیگناہ پاکستانی شہید ہو گئے جن میں رینجرز ، بیگناہ خواتین اور بچے بھی شامل تھے اور 125 زخمی ہو گئے۔
دہشتگردوں کیلئے ظالم سفاک جیسے القابات قابل اعتراض ہیں۔کیا ہم دشمن سے پھولوں کے گلدستوں کی توقع رکھتے ہیں۔
ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ دشمن صرف دشمن ہوتا ہے اور وہ ہی کچھ کرتا ہے جو ایک دشمن کو کرنا ہوتا ہے۔ اگر ہم میں ہمت ہے ، جرات ہے تو ہمیں دشمن کو وہ سبق سکھانا چاہیے جو دشمن کا سکھایا جاتا ہے۔جیسے ایران یا سعودی عرب کرتے ہیں۔ کیا ہم دہشتگردوں کو مثال عبرت نہیں بنا سکتے؟ اس وقت وطن عزیز میں دہشتگردی زور شور سے جاری ہے۔ فاٹا کی تمام ایجنسیوں میں، بلوچستان ، کراچی اور ملک کے دیگر حصوں میں زورانہ دہشتگردی کے واقعات ہو رہے ہیں اور اب واہگہ بارڈر کا افسوسناک بلکہ شرمناک واقعہ۔
افسوس اس بات کا ہے کہ اس واقعہ کو بھی چند دنوں بعد بھول جائینگے اور پھر خدانخواستہ کسی نئے سانحہ کا انتظار ۔ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ہم جرآت سے عاری قوم بن چکے ہیں۔ کسی سانحے کا نہ بدلہ لیتے ہیں نہ ہی اس منطقی انجام تک پہنچاتے ہیں۔ دہشت گردی کا مقابلہ کنا بنیادی طور پر قیادت کا کام ہے۔ یاد رہے کہ قوم وہی کچ ہوتی ہے جو کچھ اُن کا قیادت ہوتی ہے۔
قوم کو مشکلات کیلئے تیار کرنا قیادت کاکا م ہوتا ہے لیکن ہماری قیادت تو سوائے عوام کیلئے مشکلات پیدا کرنے کے کچھ کرتی ہی نہیں ، نہ ہی اُسے عوام کے جان ومال اور روزمرہ زندگی سے کوئی تعلق ہے ۔ میری نظر میں ہماری قیادت میں تین بڑی خامیاں ہیں۔
سب سے پہلی بات تو حکمرانوں کو سمجھنی چاہیے کہ دہشت گردی سے لڑنا صرف فوج کا کام نہیں۔ جنگ کوئی بھی ہو، ہمیشہ پوری قوم لڑتی ہے۔
یہاں فوج نے فاٹا میں ضرب عضب شروع کی ، دہشتگرد وہاں سے نکل کر پورے ملک میں پھیل گے۔ فوج وہاں توکامیابی سے لڑ رہی ہے۔ اب تک دو ہزار دہشتگرد مارے بھی جا چکے ہیں۔ انکے ٹھکانے تباہ کر دئیے گئے ہیں گولہ بارود بنانے والی فیکٹریاں بھی تباہ کر دی گئی ہیں لیکن انہیں ملک کے دیگر حصوں میں پھیلنے سے نہیں روکا جا سکا نہ ہی یہ فوج کیلئے ممکن ہے۔
ملک کے دیگر حصوں میں دہشتگردی سے مقابلہ کیلئے قوم کو تیار کرنا چاہیے تھا۔ اس میں ہماری مساجد اور علماء کرام اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔پھر ہماری کئی ایک سراغرساں ایجنسیاں ‘ پولیس‘ رینجرز‘ ایلیٹ فورس ‘ ٹیررزم ‘ انٹی ٹیررزم اور کاوٴنٹر ٹیررزم جیسے ادارے موجود ہیں جن کی کارکردگی صفر ہے اور نہ ہی حکومت نے عوام کو دہشتگردی سے لڑنے کیلئے تیار کیا ہے۔

حکومت اگر ساتھ دے اور جرات دکھائے تو عوام بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دوسری بڑی خامی ہماری وزرات داخلہ کا کردار ہے۔ ہر بڑے سانحہ کے بعد بتایا جاتا ہے کہ وزارت داخلہ نے متعلقہ ادارے کے دہشتگردی کی اطلاع دی تھی۔ اگریہ درست ہے تو پھر عمل کیوں نہیں ہوتا۔ عمل کرانا کس کا کام ہے ؟ جنگ یا دہشتگردی کیلئے سٹینڈرڈ پروسیجرز ہوتے ہیں جنہیں سٹینڈنگ اپریٹنگ آرڈرز کہا جاتا ہے۔
ان سٹینڈنگ آرڈرز کے تحت فوری طور پر تما متعلقہ ادارے الرٹ ہو جاتے ہیں اور وہ دہشتگردی روکنے کیلئے عمل شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے واقعات کو وقت سے پہلے روک لیا جاتا ہے ۔اسی مقصد کیلئے NACTA بنا تھا۔ افسوس کہ بڑے بڑے دعوں کے باوجود اداروں کی کارکردگی صرف کا غذات تک ہی محدود ہے۔
تیسری بڑی خرابی سزا کا نہ ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہان جنت بنائی تھی وہاں جہنم بھی بنا دی تھی تاکہ سرکش لوگوں کو مثال عبرت بنایا جا سکے۔
کوئی معاشرہ بغیر سزا کے مضبوط نہیں ہو سکتا۔ برائی سزا کے بغیر ختم نہیں ہو سکتی۔ دنیامیں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں سزا کا عمل نہ ہو۔کسی نہ کسی شکل میں جرائم کی سزا ضرور ملتی ہے لیکن یہاں غنڈے ہیرو بنے پھرتے ہیں۔ دہشتگرداپنی دہشتگردی پرفخر کرتے ہیں بلکہ حکمرانوں کے پہنچے بن جاتے ہیں۔ اسلئے کسی کو سزا کاخوف نہیں اور سزا کے خوف کے بغیر معاشرتی برائیاں بشمول دہشتگردی ختم نہیں ہو سکتی۔
پھانسی کا عمل کئی سالوں سے معطل ہے۔ جن دہشتگردوں کوسزائے موت ملی ہوئی تھی وہ امیر پنجابی طالبان کی ایک دھمکی پر روک دی گئیں تو پھردہشتگر ہیرو نہیں بنیں گے تو کیا ہوگا۔ جنرل مشرف پر الزام لگا تھا کہ امریکہ کی ایک فون کال پر لیٹ گیا۔ مانا کہ وہ بزدل تھا لیکن وہ توسپر پاور کی کال پرخاموش ہوا۔ ہماری دلیر قیادت صرف ایک شخص کی دھمکی پر کیوں مفلوج ہو گئی؟
اسلام میں کہیں یہ سبق نہیں ہے کہ ایک زخم کھانے کے بعد دوسرے زخم کھانے کیلئے انتظار کیا جائے ۔
ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسرا خسار خود پیش کر دیں۔ ہماری بد قسمتی کہ یہی کچھ ہماری قیادت کر رہی ہے۔ قیادت کا رویہ افسوسناک ہے جس نے پوری قوم کو بزدل بنا دیا ہے رونہ جس قوم نے انگریزوں اور ہندووٴں کے منہ سے چھین کر پاکستان بنایا تھا وہ بخوبی اسکی حفاظت بھی کر سکتی ہے ۔بطور مسلمان کی موت حرام ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
وقت اشاعت : 2014-11-18

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں