تازہ ترین : 1
Qayyam e Aman Ki Kunji

قیام امن کی کنجی پاک افغان سرحد پر بسنے والے پشتونوں کے پاس ہے

افغانستان اورپاکستان میں قیام امن کیلئےایک بہت اہم پہلوکونظراندازکیا گیا ہے۔ قیام امن کا خوب دیکھنے والے پالیسی ساز غالباََ تصور کا اہم رخ دیکھنے سے قاصر رہے یا پھر جان بوجھ کر اس پہلو کو نظر انداز کردیا گیا ہے

مصنف : سید بدر سعید
افغانستان میں طالبان اورو القاعدہ کے خلاف امن کے نام پر شروع ہونے والی جنگ میں 47سے زائد ممالک شامل ہوئے تھے۔ اب اس جنگ کو دس سال سیزائد عرصہ ہوچکا ہے۔ لہٰذا سوال اٹھ رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں اصل مجرم کون ہے اور امن کی کنجی کس کے ہاتھ میں ہے؟ اگر افغانستان ایک مرتبہ پھر اسی صورتحال سے دوچار ہوجائے گا جو سوویت یونین کی واپسی کے بعد شروع ہوئی تو پھر اسے کسی بھی طرح امریکہ یا نیٹو کی کامیابی قرار نہیں دیا جاسکتا ۔
اگر افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کی آمد اور بعد کی صورتحال کا جائزہ لیں تو اس بھیانک صورتحال کاادراک ہوتا ہے کہ افغانستان میں امن کے نام پر آنے والی افواج نے اس ملک کو تباہ حال بنا دیا ہے۔ اسی طرح افغانستان کی تعمیر و ترقی کیلئے بھی اہم اقدامات نہیں کئے جاسکے۔
اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم (FAO)کی رپورٹ کے مطابق سوویت یونین کے حملے سے پہلے افغانستان کی تین چوتھائی آبادی کاشتکاری سے جڑی تھی اور یہ ملک ایسی زرعی معیشت کے طور پر جانا جاتا تھا جو ترقی کی جانب گامزن تھا لیکن اب صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ کھیت کھلیان اجڑ چکے ہیں۔
زرعی زمینیں بارود کی ملاوٹ سے بنجر ہوچکی ہیں۔ موجودہ افغانستان کو دیکھتے ہوئے یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اس ملک کا بڑا حصہ زراعت سے منسلک ہے۔ اسی طرح صنعت کے حوالے سے بھی افغانستان پہلے کی نسبت کہیں بدتر حالات کا شکار ہے۔ سوویت یونین کے حملے سے پہلے افغانستان میں سیمنٹ کی چھ فیکٹریوں سمیت ٹیکسٹائل کی متعدد فیکٹریاں موجود تھیں۔
اسی طرح دیگر فیکٹریاں اور کاروبار بھی بہترین حالت میں تھے۔ اب صورتحال اس کے برعکس ہے۔ افغانستان پر مسلط کی گئی جنگ نے اس ملک سے یہ سب چھین لیا۔ ہزاروں لوگ بے روزگار ہوگئے اور کاروبار ٹھپ ہوگئے۔ افغانستان کی ترقی کیلئے اربوں ڈالر کی امدادکے وعدے کئے گئے تاکہ عوام کو سہولیات مل سکیں لیکن یہ امداد کہاں گئی؟ اس حوالے سے عوام لاعلم ہیں۔
افغان عوام کے حصے میں روس کی آم دے لے کر آج تک محرومی ، مایوسی اور مصائب کے سا کچھ نہ آیا۔ امریکہ کے آنے سے پہلے افغانستان جن حالات سے گزر رہا تھا، اب اسے اس سے بھی کہیں بدتر حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ افغانستان میں بے گھر، رباہ حال اور معزور افرادکی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ متعدد گھر اجڑ چکے ہیں۔ اسی طرح امریکہ طالبان کے خاتمے کیلئے آیا تھا لیکن اب پھر طالبان کا دائرہ کاربڑھ رہا ہے اور غالب امکان یہی ہے کہ امریکی انخلا کے بعد وہ دوبارہ بھرپور انداز میں منظر نامے پر ابھر آئیں گے۔
اس وقت بھی متعدد دیہی علاقے امریکی کنٹرول سے نکل چکے ہیں اوروہاں عملاََ طالبان کا نظام رائج ہے۔ دس سال سے زیادہ عرصہ چلنے والی اس جنگ میں نہ تو طالبان کا خاتمہ ہوسکا نہ القاعدہ کا اور افغانستان میں امن بھی قائم نہیں ہوا۔
افغانستان اور پاکستان میں قیام امن کیلئے ایک بہت اہم پہلو کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ قیام امن کا خوب دیکھنے والے پالیسی ساز غالباََ تصور کا اہم رخ دیکھنے سے قاصر رہے یا پھر جان بوجھ کر اس پہلو کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔
افغانستان میں اتحادی افواج کی ناکامی کی بڑی وجہ وہ ساڑھے چار کروڑ پشتون قبائلی ہیں جو پاک افغان سرحد کے دونوں اطراف میں بستے ہیں۔ یہ وہ قبائل ہیں جنہوں نے نہ صرف 1842ء، 1879ء اور 1920ء کی تین اینگلو افگان جنگیں مل کر لڑیں بلکہ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں بھی ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ اس کے درمیان دُکھ سُکھ کا یہ رشتہ ابھی تک قائم ہے۔
انہیں اعتماد میں لئے بغیر نہ تو پاک افغان سرحد کو محفوظ قرار دیا جاسکتا ہے ، نہ ہی عسکری کارروائیوں کے خاتمے کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔
2010ء میں پاکستانی سرحد کے قریب موجود شنواری قبیلے کے راہ نماؤں نے ایسا ف فورس کا حصہ بننے کی خواہش ظاہر کی جبکہ کچھ اور قبیلے بھی ایساف میں بھرتی ہونے کیلئے تیار تھے لیکن ایساف نے اسے رد کردیا۔ ایساف کو خطرہ تھا کہ ان قبائل کو فورسز میں شامل کرنے سے افغان حکومت کے تحفظات مزید بڑھ جائیں گے اور یہ قبائل صورتحال کی خرابی کا باعث بن سکتے ہیں۔
اتحادی افواج کا مقامی قبائل کون نظر انداز کرنا صورتحال میں مزید خرابی کا باعث بنا۔ اس سے واضح طورپر اتحادی افواج کی حمایت میں کمی آئی جبکہ طالبان کی حمایت میں اضافہ ہوا۔
فائلوں اور کاغذات میں مختلف منصوبے پیش کئے جاسکتے ہیں لیکن زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوت ہے کہ افغانستان ہی نہیں بلکہ پاکستان میں بھی قیام امن کی کنجی انہی قبائل کے ہاتھ میں ہے۔
انہیں قومی دھارے میں شامل کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف تعاون پر آمادہ کرلیا جائے تو بہت حد تک عسکریت پسندوں کو اپنی پناہ گاہوں سے محروم ہونا پڑے گا۔ پاکستان نے مختلف قبائل اور امن جرگوں کے ذریعے صورتحال کو بڑی حد تک بہتر بنایا ہے لیکن مجموعی طور پر قیام امن کے لئے ان قبائل کی خدمات سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جارہا۔ یہ ایک نیم عسکری فورس ہیں جو نہ صرف شورش زدہ علاقوں سے بخوبی واقف ہیں بلکہ لڑنا بھی جانتے ہیں۔ ان میں سے متعدد قبائل عسکریت پسندوں کے خلاف اٹھنا چاہتے ہیں اور اپنے علاقوں میں امن چاہتے ہیں لیکن نیٹو کی منظوری کے بغیر وہ ایسا نہیں کرسکتے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قیام امن کیلئے انہیں ساتھ ملایا جائے اور ان کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جائے۔
وقت اشاعت : 2014-02-25

(0) ووٹ وصول ہوئے

Syed Badar Saeed

مصنف کا نام : سید بدر سعید

سید بدر سعید کی مزید تحریریں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں